ڈاکٹرز نے جواب دے دیا تھا، مگر ایک نیکی میرے کام آگئی ۔۔ کراچی میں مچھلی کے ذریعے کینسر کو کیسے شکست دی جانے لگی؟ ویڈیو دیکھیں

image

اللہ جسے چاہے زندگی دے اور جسے چاہے موت یہ سب اسی پاک ذات کے کام ہیں۔ وہ شدید بیمار انسان کو بھی صحت کی دولت سے نواز دیتا ہے تو صحت بخش زندگی گزارنے والے کو بھی بیماری کی آزمائش میں ڈال دیتا ہے۔

کراچی میں رہنے والے ایک ایسے ہی شخص کے بارے میں آپ کو بتانے جا رہے ہیں جو کینسر کی بیماری کا شکار تھا اور ڈاکٹرز نے اسے جواب دے دیا تھا مگر ایک نیکی کرنے کے صدقے اسے اللہ نے دوسری بار زندگی دی اور وہ ہنسی خوشی اپنا کام کر رہا ہے۔

ہم نشیر احمد کے بارے میں بات کر رہے ہیں جنہوں نے دستک ٹی وی کو انٹرویو دیا جس میں انہوں نے تفصیل سے بتایا کہ کینسر جیسی خطرناک بیماری کے منہ سے واپس کیسے آئے۔

نشیر احمد نے انٹرویو میں کہا کہ گٹکا کھانے کی وجہ سے میں منہ کے کینسر میں چلا گیا تھا۔گٹکے کا چونا منہ میں لگ لگ کر اتنا تیز ہوگیا کہ وہ ایک زخم کی شکل اختیار کر گیا۔

کراچی کے شہری نے بتایا کہ پھر عباسی اسپتال علاج کے لیے گیا وہاں ڈاکٹر نے مجھے بتا دیا تھا کہ میں کینسر کا شکار ہوچکا ہوں اور آپ کا آپریشنکر کے منہ یعنی حلق کے اندر کا ایک حصہ کاٹنا پڑے گا اور دوسرے حصے کا گوشت لگانا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ میں آپریشن کے لیے راضی ہوگیااور بیچ میں جمعرات کا ایک دن آیا جب میں بابا جی کے ڈیرے میں گئے تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تمہیں اللہ کے کلام پر یقین ہے تو میں نے جواب دیا بیشک میں یقین رکھتا ہوں۔

انہوں نے مجھ سے کہا کہ اگر تو اللہ کے کلام پر یقین رکھتا ہے تو تمام ڈاکٹروں کے پاس علاج کے لیے جانا چھوڑ دو اور اللہ کی راہ میں لوگوں کو کھلانا شروع کردو تمارا کینسر خود ہی ٹھیک ہوجائے گا۔

نشیر احمد نے بتایا کہ میں دس سال سے مچھلی کا لنگر لوگوں میں بانٹ رہا ہوں اور اللہ کا احسان کا میں لوگوں کا قرض دار تھا اور آج اللہ کا شکر ہے میرا اپنا گھر ہے۔ میری والدہ کی دعائیں بھی میرے ساتھ ہیں جن کی وجہ سے میرا کام اچھا جا رہا ہے اور ہر سال لنگر بڑھتا جا رہا ہے۔

منہ کے کینسر کو شکست دینے والے شہری کا کہنا تھا کہ میں لوگوں میں سال میں ایک بار مچھلی کا لنگر بانٹتا ہوں۔ وہ جتنا دل مرضی کرے کھاتے ہیں کہ کب کس کے دل سے میرے لیے دعا نکل جائے۔ انہوں نے بتایا کہ میں 500 روٹیاں اور 4 من مچھلی کا انتظام کرتا ہوں۔


مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.