مغربی ممالک کی سکیورٹی اور امریکی مفادات: صدر ٹرمپ کا ’نیا ورلڈ آرڈر‘ اور یورپ کے ’ٹکڑے ہونے‘ کا خدشہ

مبصرین کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو کے رکن ممالک پر حملے کی صورت میں کیا کریں گے کس کو نہیں پتا۔ لیکن بات یہ ہے کہ اب امریکی مدد کی گارنٹی پر تکیہ نہیں کیا جا سکتا۔ یورپ کو ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے کہ خود کو مناسب طریقے سے مسلح کیسے کیا جائے۔ امریکہ کی طاقت پر 80 سال کے انحصار نے بہت سے یورپی ممالک کو بے نقاب کر دیا ہے۔
ٹرمپ
Getty Images

امریکہ کا مغربی ممالک کی سیکورٹی کے حوالے سے موقف یورپی ممالک کے لیے دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد سے سب سے بڑا بحران ہے اور یہ ایک ایسا بحران ہے جو جلد ختم ہوتا نظر نہیں آتا۔ جیسا کہ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ’ٹرمپ ازم (یا ٹرمپیت) ان کے دور صدارت سے بھی زیادہ دنوں تک چلے گی۔‘

ایسے میں جب امریکہ بہت سے معاملات میں پیچھے ہٹ رہا ہے تو کون سے ممالک ہیں جو آگے آنے کے لیے تیار ہیں۔

فروری سنہ 1947 کی ایک صبح 09.00 بجے واشنگٹن میں برطانیہ کے سفیر لارڈ اینورچیپل امریکی وزیر خارجہ جارج مارشل کے دفتر پہنچے۔

ان کے پاس دو سفارتی پیغامات کے پرنٹ تھے۔ ان میں سے ایک یونان سے متعلق تھا تو دوسرا ترکی کے متعلق تھا۔ ان پیغامات کو نیلے رنگ کے صفحے پر پرنٹ کیا گیا تھا تاکہ ان کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے۔

اس وقت خستہ حال اور امریکہ کے بھاری قرضوں میں ڈوبے برطانیہ نے امریکہ سے کہا کہ وہ یونانی افواج کے لیے اپنی حمایت جاری نہیں رکھ سکتا جو مسلح کمیونسٹ بغاوت سے نبرد آزما تھی۔ اس سے پہلے ہی برطانیہ نے فلسطین اور ہندوستان سے انخلا اور مصر میں اپنی موجودگی ختم کرنے کے منصوبوں کا اعلان کر دیا تھا۔

امریکہ نے فوری طور پر بھانپ لیا کہ یہ ایک حقیقی خطرہ ہے کیونکہ یونان کمیونسٹوں کے قبضے میں چلا جائے گا جس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ سوویت یونین (روس) کے کنٹرول میں چلا جائے گا۔

امریکہ کو یہ خدشہ لاحق ہوا کہ اگر یونان سویت یونین کے پاس چلا گیا تو پھر اس کے بعد ترکی بھی اس راہ پر جا سکتا ہے جس سے ماسکو کو مشرقی بحیرہ روم پر کنٹرول مل جائے گا اور اس کی وجہ سے ممکنہ طور پر اہم عالمی تجارتی راستے سوئز کینال پر بھی کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔

تقریباً راتوں رات امریکہ نے برطانیہ کی چھوڑی ہوئی جگہ پر قدم رکھ دیا۔

ٹرومین
Getty Images
ٹرومین نے اعلان کیا کہ امریکہ کو آزاد ممالک کی حمایت ضرور کرنی چاہیے

صدر ہیری ٹرومین نے اعلان کیا کہ ’امریکہ کی آزاد لوگوں کی حمایت کرنے کی پالیسی ہونی چاہیے جو مسلح اقلیتوں یا بیرونی دباؤ کے ذریعے محکومی کی کوششوں کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔‘

یہ اس دور کا آغاز تھا جسے ’ٹرومین کے نظریے‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس نظریے میں یہ تصور تھا کہ دوسرے ممالک میں جمہوریت کے دفاع میں مدد کرنا امریکہ کے قومی مفادات کے لیے ضروری ہے۔

اس کے تحت دو بڑے امریکی اقدامات کیے گئے۔ ایک مارشل پلان بنایا گیا جس میں یورپ کی بکھری ہوئی معیشتوں کی تعمیر نو کے لیے بڑے امدادی پیکجز تھے اور دوسرا سنہ 1949 میں نیٹو کی تشکیل تھا، جسے یورپ کے جمہوری ممالک کو سویت یونین سے بچانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا جس نے اس وقت تک یورپ کے مشرقی حصے پر اپنا کنٹرول بڑھا دیا تھا۔

اسے اس لمحے کے طور پر دیکھنا آسان ہے جب مغربی دنیا کی قیادت برطانیہ سے منتقل ہو کر امریکہ کے پاس گئی۔

روایتی طور پر تنہائی پسند اور دو بڑے سمندروں کے درمیان محفوظ ملک امریکہ دوسری عالمی جنگ کے بعد آزاد دنیا کے رہنما کے طور پر ابھرا تھا۔ جنگ میں امریکہ نے جس طرح پوری دنیا پر اپنی طاقت کو ظاہر کیا تھا جنگ کے بعد کی دہائیوں میں اس نے دنیا کے زیادہ تر حصے میں اپنی ساکھبنانے میں صرف کیا۔

شرح پیدائش میں اضافے کے دور کی نسل ایک ایسی دنیا میں پروان چڑھی جو پہلے سے کہیں زیادہ امریکہ کی طرح لگتی تھی اور اسی طرح برتاؤ کرتی تھی۔ اور اس طرح امریکہ مغربی دنیا کا ثقافتی، اقتصادی اور عسکری رہنما بن گیا۔

اس کے باوجود وہ بنیادی مفروضے جن پر امریکہ نے اپنے جیوسٹریٹیجک عزائم کی بنیاد رکھی ہے اب تبدیل ہوتے نظر آتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ دوسری عالمی عظیم کے بعد پہلے امریکی صدر ہیں جنھوں نے اس کردار کو چیلنج کیا ہے جو ان کے ملک نے کئی دہائیوں قبل اپنے لیے طے کیا تھا۔ اور وہ یہ اس طرح کر رہے ہیں کہ بہت سے لوگوں کو یہ لگنے لگا ہے پرانا ورلڈ آرڈر ختم ہو گیا ہے جبکہ ابھی نئے ورلڈ آرڈر نے شکل اختیار نہیں کی ہے۔

ایسے میں سوال یہ ہے کہ کون سے ممالک اس جگہ کو پر کرنے کے لیے آگے بڑھیں گے؟ اور یورپ کی سلامتی جو تازہ یادداشت میں پہلے سے کہیں زیادہ دباؤ میں ہے اس کے رہنما جو اس وقت ادھر ادھر گھوم رہے ہیں اس کا کوئی مناسب حل تلاش کر سکتے ہیں؟

ٹرمپ
Reuters
دوسری عالمی جنگ کے بعد ٹرمپ پہلے صدر ہیں جنھوں نے امریکہ کے عالمی کردار کو بدلنے کی بات کہی ہے

ٹرومین کی میراث کو درپیش چیلنج

سنہ 1945 کے بعد کے ورلڈ آرڈر پر صدر ٹرمپ کی تنقید کئی دہائیوں پرانی ہے۔ تقریباً 40 سال قبل انھوں نے دنیا کی جمہوریتوں کے دفاع کے لیے امریکہ کے عزم کو تنقید کا نشانہ بنانے کے لیے تین امریکی اخبارات میں پورے پورے صفحے کے اشتہارات شائع کیے تھے۔

انھوں نے 1987 میں لکھا کہ ’کئی دہائیوں سے جاپان اور دیگر ممالک امریکہ سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یہ قومیں امریکہ کو انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے اربوں ڈالرز کا معاوضہ کیوں نہیں دے رہے ہیں جو ہم ان کے مفادات کے تحفظ کے لیے گنوا رہے ہیں؟‘

’دنیا امریکی سیاست دانوں پر ہنس رہی ہے کیونکہ ہم ان بحری جہازوں کی حفاظت کرتے ہیں جو ہمارے نہیں ہیں، جو تیل لے جا رہے ہیں جن کی ہمیں ضرورت نہیں ہے اور یہ ان اتحادیوں کے لیے ہے جو ہماری مدد نہیں کریں گے۔‘

یہ وہ موقف ہے جو انھوں نے اپنے دوسرے دور اقتدار میں آنے کے بعد سے پھر سے اپنایا ہے۔

اور یمن میں حوثیوں پر فضائی حملوں کے بارے میں لیک ہونے والے پیغامات میں امریکہ پر یورپی انحصار کے اظہار نے ٹرمپ کی انتظامیہ میں کچھ لوگوں کو برانگیختہ کر دیا ہے۔

نائب صدر جے ڈی وینس کے نام سے جاری پیغامات میں ایک اکاؤنٹ نے لکھا کہ یورپی ممالک کو ان حملوں سے فائدہ ہو سکتا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ’مجھے یورپ کو دوبارہ بیل آوٹ کرنے سے نفرت ہے۔‘

ایک اور اکاؤنٹ، جس کی شناخت ڈیفنس سیکریٹری پیٹ ہیگستھ کے نام سے ہوئی ہے اس سے تین منٹ بعد جواب دیا گیا ہے کہ وی پی (نائب صدر) ’میں یورپی فری لوڈنگ کے بارے میں آپ کی نفرت سے مکمل طور پر اتفاق کرتا ہوں۔ یہ بہت دلسوز ہے۔‘

ٹرمپ کا اپنا موقف ان لوگوں پر تنقید کرنے سے زیادہ نظر آتا ہے جو ان کے بقول امریکہ کی سخاوت کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اپنے دوسرے دور صدارت کے آغاز میں وہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کو گلے لگاتے ہوئے نظر آئے، روس سے کہا کہ یوکرین کو نیٹو کی رکنیت نہیں دی جائے گی اور یوکرین سے کہا کہ اسے روس کے ہاتھوں گنوایا ہوا علاقہ واپس ملنے کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔

'مجھے یورپ کو دوبارہ بیل آوٹ کرنے سے نفرت ہے
Reuters
نائب صدر کے اکاونٹ سے 'مجھے یورپ کو دوبارہ بیل آوٹ کرنے سے نفرت ہے' لکھا گيا

بہت سے لوگوں نے اسے بات چیت شروع ہونے سے پہلے ہی دو بڑی چھوٹ کے طور پر دیکھا جبکہ ٹرمپ نے بظاہر روس سے بدلے میں کچھ نہیں مانگا۔ دوسری طرف ٹرمپ کے کچھ حامی پوتن میں ایک مضبوط رہنما دیکھتے ہیں اور وہ خود بہت سی قدامت پسند اقدار رکھتے ہیں جو ان میں بھی ہے۔

کچھ لوگوں کے نزدیک پوتن ’امتیازات کے خلاف‘ جنگ میں اتحادی ہیں۔

امریکہ کی خارجہ پالیسی اب جزوی طور پر اس کی ثقافتی جنگوں کی ضرورتوں سے چلتی ہے۔ یورپ کی سکیورٹی امریکہ کے دو منقسم اور متصادم نظریات کے درمیان اٹکی ہوئی ہے۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ تبدیلی ٹرمپ کے مخصوص خیالات سے کہیں زیادہ ہے اور یہ کہ یورپ محض ان کے عہدے کی مدت ختم ہونے کا انتظار نہیں کر سکتا۔

لندن میں رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ (روسی) کے سینیئر ریسرچ فیلو ایڈ آرنلڈ کا کہنا ہے کہ ’امریکہ یورپی اقدار سے الگ ہوتا جا رہا ہے۔ اور یہ بات (یورپ کے لیے) ہضم کرنا مشکل ہے کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ یہ ثقافتی اور ممکنہ طور پر طویل مدتی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں امریکہ کی موجودہ سمت و رفتار ٹرمپ کے بعد بھی قائم رہے گی، مجھے لگتا ہے کہ ٹرمپ ازم ان کے دور صدارت کے بعد بھی جاری رہے گا۔‘

ٹرمپ نے صدر پوتن کو بتایا کہ یوکرین کو نیٹو کا حصہ نہیں بنایا جائے گا
Reuters
ٹرمپ نے صدر پوتن کو بتایا کہ یوکرین کو نیٹو کا حصہ نہیں بنایا جائے گا

نیٹو کا آرٹیکل فائیو ’لائف سپورٹ پر ہے‘

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ وہ اب یورپی سکیورٹی کے لیے بنیادی ضامن کا کردار ادا نہیں کرے گا، اور یورپی ممالک کو اپنے دفاع کے لیے خود ذمہ دار ہونا چاہیے اور اس کی قیمت ادا کرنی چاہیے۔

ٹرمپ نے رواں ماہ کے اوائل میں کہا کہ ’اگر (نیٹو ممالک) ادائیگی نہیں کرتے ہیں تو میں ان کا دفاع نہیں کروں گا۔ نہیں، میں ان کا دفاع نہیں کروں گا۔‘

تقریباً 80 برس قبل یورپی ممالک کی سکیورٹی کی بنیاد پڑی تھی جو کہ نیٹو معاہدے کے آرٹیکل پانچ میں شامل ہے۔ اس میں یہ کہا گیا ہے کہ اتحاد کی کسی بھی رکن ریاست پر حملہ سب پر حملہ ہے۔

وائٹ ہاؤس سے قبل گذشتہ ماہ برطانوی وزیراعظم سر کیر سٹارمر نے مجھے ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ وہ اس بات پر مطمئن ہیں کہ امریکہ نیٹو کا سرکردہ رکن ہے اور ٹرمپ ذاتی طور پر آرٹیکل فائیو کے پابند ہیں۔

لیکن دوسروں کو اس پر کم یقین ہے۔

پچھلی کنزرویٹو حکومت میں وزیر دفاع کے عہدے پر فائز بین والیس نے رواں ماہ کے شروع میں مجھے بتایا کہ ’میرے خیال میں آرٹیکل فائیو لائف سپورٹ پر ہے۔‘

’اگر برطانیہ سمیت یورپ آگے نہیں بڑھتا، دفاع پر بہت زیادہ سرمایہ کاری نہیں کرتا ہے اور اسے سنجیدگی سے نہیں لیتا ہے، تو یہ ممکنہ طور پر نیٹو کا خاتمہ ہو گا جو ہم جانتے ہیں اور یہ آرٹیکل فائیو کا خاتمہ ہو گا۔‘

’ابھی میں شرطیہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ روسی حملے کی صورت میں آرٹیکل پانچ کو متحرک کیا جا سکے گا۔۔۔ میں یقینی طور پر اس بات کو تسلیم نہیں کروں گا کہ امریکہ ہمارے دفاع کے لیے دوڑا آئے گا۔‘

فرانسیسی کمپنی انسٹی ٹیوٹ الابے کے ایک سروے کے مطابق تقریباً تین چوتھائی فرانسیسی یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ اب فرانس کا اتحادی نہیں رہا۔ برطانیہ میں اکثریت اور ڈنمارک میں ایک بہت بڑی اکثریت ایسے ہی خیالات رکھتی ہے جبکہ دونوں ممالک تاریخی طور پر امریکہ کے حامی ممالک رہے ہین لیکن اب امریکہ کے بارے میں وہاں بھی منفی خیالات ہیں۔

طویل عرصے سے ٹرمپ کے ناقد رہنے والے اور کنزریٹو مبصر، مصنف اور واشنگٹن ڈی سی میں بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے سینیئر فیلو رابرٹ کیگن کا کہا ہے کہ ’ٹرمپ نے نیٹو کو جو نقصان پہنچایا ہے وہ شاید ناقابل تلافی ہے۔ کم از کم یہ کہا جا سکتا ہے کہ اتحاد نے اس امریکی ضمانت پر انحصار کیا جو اب قابل اعتماد نہیں رہا۔‘

تاہم ٹرمپ کسی بھی طرح پہلے امریکی صدر نہیں ہیں جنھوں نے یورپ کو اپنے دفاعی اخراجات کو ترتیب دینے کو کہا ہے۔ سنہ 2016 میں براک اوباما نے نیٹو اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ اپنی تعداد میں اضافہ کریں۔ انھوں نے کہا کہ ’یورپ بعض اوقات اپنے دفاع کے بارے میں کافی مطمئن رہا ہے۔‘

ٹرمپ اور زیلنسکی
Reuters
صدر ٹرمپ اور زیلنسکی کی ملاقات نے کرملن کو یہ کہنے پر اکسایا کہ 'مغرب کا ٹکڑا ہونا' شروع ہو گیا ہے

کیا ’مغرب کے ٹکڑے ہونا‘ شروع ہو گئے ہیں؟

یہ سب روسی صدر پوتن کے لیے بڑی خوشخبری ہے۔ انھوں نے گذشتہ سال کہا تھا کہ ’یورو-اٹلانٹک سکیورٹی کا پورا نظام ہماری آنکھوں کے سامنے مسمار ہو رہا ہے۔ یورپ عالمی اقتصادی ترقی میں پيچھے رہ گیا ہے، نقل مکانی جیسے چیلنجز کے منجدھار میں ڈوبا ہوا ہے اور ساتھ ہی وہ اپنی بین الاقوامی ایجنسی اور ثقافتی شناخت کھو رہا ہے۔‘

مارچ کے اوائل میں وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ اور وینس کے ساتھولادیمیر زیلنسکی کی تباہ کن ملاقات کے تین دن بعد کریملن کے ترجمان نے اعلان کیا کہ ’مغرب کے ٹکڑے ہونا شروع ہو گئے ہیں۔‘

چیٹہم ہاؤس میں یورپی پروگرام کی سربراہ ارمیڈا وان رج کہتی ہیں: یورپ میں روس کے مقاصد کو دیکھیں۔ اس کا مقصد یورپ کو غیر مستحکم کرنا ہے۔ اس کا مقصد نیٹو کو کمزور کرنا ہے، اور امریکیوں کو یہاں سے اپنی فوجیں نکالنے پر مجبور کرنا ہے۔

'اور اس وقت آپ بس ’ٹک، ٹک اور صرف ٹک‘ کر سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ یورپ کو عدم استحکام سے دوچار کر رہا ہے۔ یہ نیٹو کو کمزور کر رہا ہے۔ یہ اس حد تک نہیں گیا ہے کہ امریکہ یورپ سے اپنی فوجیں واپس بلا لے، لیکن کون جانے کہ چند مہینوں میں کیا کچھ ہو سکتا ہے؟'

یورپی یونین
Getty Images
یورپی ممالک کا اب امریکہ کے بچانے آنے پر بھروسہ کم ہو رہا ہے

’ہم اپنی تاریخ کا سبق بھول گئے‘

یورپ کو خاص طور پر جس بڑے چیلنج کا سامنا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ خود کو مناسب طریقے سے مسلح کیسے کیا جائے۔ امریکہ کی طاقت پر 80 سال کے انحصار نے بہت سے یورپی ممالک کو بے نقاب کر دیا ہے۔

مثال کے طور پر برطانیہ سرد جنگ کے عروج کے بعد سے فوجی اخراجات میں تقریباً 70 فیصد کی کمی کر چکا ہے۔ (سرد جنگ کے اختتام پر یعنی 1990 کی دہائی کے اوائل میں یورپ نے خود کو امن سے فائدہ اٹھانے کا کام کیا اور دفاعی اخراجات کو کم کرنے کا ایک دہائیوں پر محیط عمل شروع کیا۔)

والیس کا کہنا ہے کہ سرد جنگ کے دوران ’ہمارے پاس بڑا بجٹ تھا اور ہم نے امن کا فائدہ اٹھایا۔ اب، آپ بحث کر سکتے ہیں کہ کیا اس کی ضرورت تھی۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم امن کے منافع سے کارپوریٹ تک پہنچ گئے۔ اور(دفاع) صرف وہ محکمہ بن گيا جہاں سے پیسہ نکالنا ہے۔ اور یہیں ہم تاریخ کا سبق بھول گئے۔‘

وزیر اعظم نے گذشتہ ماہ پارلیمنٹ کو بتایا کہ برطانیہ 2027 تک اپنے دفاعی اخراجات کو جی ڈی پی کے 2.3 فیصد سے بڑھا کر 2.5 فیصد کر دے گا۔ لیکن کیا یہ کافی ہے؟

والیس کا کہنا ہے کہ ’صرف ساکت کھڑے رہنا ہی کافی ہے۔ یہ ان چیزوں کو ٹھیک کرنے اور امریکیوں کے جانے کی صورت میں خلا کو پر کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگا جو ہمیں خود کو مزید قابل تعینات بنانے کے لیے درکار ہیں۔‘

پھر فوجی بھرتی کا وسیع تر سوال آتا ہے۔ والیس کا کہنا ہے کہ ’مغرب کو اپنی فوجوں میں بھرتیوں کی ناکامی کا سامنا ہے، اور صرف برطانیہ میں ایسا نہیں ہے۔ اس وقت نوجوان فوج میں شامل نہیں ہو رہے ہیں۔ اور یہ ایک مسئلہ ہے۔‘

لیکن جرمنی کے نئے بننے والے چانسلر فریڈرِک مرز نے کہا ہے کہ یورپ کو خود کو امریکہ سے آزاد کرنا چاہیے۔ اور 'یورپی طرز کی' نیٹو کو ایک مقامی یورپی ملٹری-صنعتی کمپلیکس کی تعمیر کی ضرورت ہو گی اور اس صلاحیت کا حامل اس وقت صرف امریکہ ہے۔

دیگر مبصرین کا خیال ہے کہ یورپ کو عسکری طور پر زیادہ خود کفیل ہونا چاہیے، لیکن کچھ کو یہ تشویش بھی ہے کہ پورا یورپ اس پر متفق نہیں ہے۔

سینٹر فار یورپین ریفارم کے ڈپٹی ڈائریکٹر ایان بانڈ کہتے ہیں کہ ’اس وقت جہاں ہم کھڑے ہیں وہ یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر مشرقی یورپی ممالک کو میمو حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن آپ جتنا مغرب میں جائیں گے یعنی سپین اور اٹلی تک پہنچنے تک یہ اتنا ہی زیادہ مشکل ہوتا نظر آتا ہے۔‘

مسٹر آرنلڈ اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’یورپ میں اب اس پر تو کوئی بحث نہیں ہے، لیکن بحث اس بات پر ہے کہ اسے کیسے کرتے ہیں اور شاید ہم اسے کتنی جلدی کرتے ہیں، لیکن ہمیں بہر حال اب یہ کرنے کی ضرورت ہے۔‘

یورپی رہنما
Getty Images
ارمڈا وین وج کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک کو اپنا دفاعی نظام بنانا ہوگا

ایک نئے ورلڈ آرڈر کو مرتب کرنا

مؤرخ ٹموتھی گارٹن ایش کا کہنا ہے کہ 'بہت اہم چیزوں' کی ایک مختصر سی فہرست ہے لیکن وہ فی الحال صرف امریکہ فراہم کرتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ نام نہاد سٹریٹجک لوازمات ہیں۔ جن میں سیٹلائٹس، انٹیلی جنس، پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس بیٹریاں جو ایسی ہیں کہ صرف وہی روسی بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کر سکتی ہیں۔ اور تین سے پانچ سال کے اندر ہمیں (امریکہ کے علاوہ دیگر ممالک) کو ان چیزوں اپنا ورژن حاصل کر لینا چاہیے۔

’اور منتقلی کے اس عمل میں امریکی زیرقیادت نیٹو سے (الگ) آپ کے پاس ایک نیٹو اتحاد ہوگا جو اتنا یورپی ہو گا کہ اس کی افواج، یورپی یونین کی صلاحیتوں کے ساتھ مل کر، یورپ کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو گیں۔

سوال یہ ہے کہ اسے کیسے حاصل کیا جائے۔

مز وین رج نے زور دیا کہ ان کے خیال میں یورپ کو اپنا یورپی دفاعی صنعتی اڈہ بنانے کی ضرورت ہے، لیکن اس کے راستے میں وہ مشکلات دیکھتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اصل مشکل یہ ہے کہ یورپ کے اندر اس بات پر اختلاف ہے کہ درحقیقت اسے کیسے کرنا ہے اور کیا واقعی ایسا کرنا ہے۔‘

یورپی کمیشن اور ماہرین کئی دہائیوں سے یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ دفاع کیسے کام کر سکتا ہے۔ ’یہ روایتی طور پر قومی مفادات کی وجہ سے بہت مشکل رہا ہے۔۔۔ لہذا یہ آسان نہیں ہو گا۔‘

اس دوران ٹرمپ سرد جنگ کے بعد کے قوانین پر مبنی خودمختار ریاستوں کے ورلڈ آرڈر کا صفحہ پلٹنے کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں جو اپنی قسمت اور اتحاد کا انتخاب کرنے کے لیے آزاد ہیں۔

ان میں اور ولادیمیر پوتن میں جو چیز قدرِ مشترک ہے وہ ایک ایسی دنیا کی خواہش ہے جس میں بڑی طاقتیں بین الاقوامی سطح پر متفقہ قوانین کی پابندی کے بغیر، چھوٹی اور کمزور اقوام پر اپنی مرضی مسلط کرنے کے لیے آزاد ہوں جیسا کہ روس نے روایتی طور پر سوویت دور میں کیا ہے۔ اس کا مطلب ’مفاد کے شعبوں‘ کے نظام کی واپسی ہوگا جو دوسری عالمی جنگ کے بعد چالیس سال تک قائم رہا۔

ہم بالکل نہیں جانتے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو کے رکن ممالک پر حملے کی صورت میں کیا کریں گے۔ لیکن بات یہ ہے کہ اب امریکی مدد کی گارنٹی پر تکیہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ یورپ کو ردعمل دکھانا ہوگا۔ ایسا لگتا ہے کہ اس کے لیے متحد رہنا، اپنے دفاع کے لیے فنڈز مہیا کرنا ہے، اور کسی بھی بڑی طاقت کے 'دائرہ اثر' میں آنے سے بچنا وغیرہ اہم چیلنج رہے گا۔


News Source

مزید خبریں

BBC
مزید خبریں
عالمی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.