امریکی ادارے نے مذہبی آزادی کی صورتحال پر اپنی تازہ رپورٹ میں انڈیا کو ’خاص تشویش والے ملک‘ میں شامل کیا ہے۔ انڈیا کی حکومت نے امریکی ادارے کی اس رپورٹ کو جانبدارانہ اور سیاسی محرکات پرمبنی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

دنیا بھر میں مذہبی آزادی کی صورتحال پر نظر رکھنے والے امریکی ادارے یو ایس سی آئی آر ایف نے امریکی انتظامیہ سے سفارش کی ہے کہ وہ انڈیا کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالیسس یعنی را کے خلاف مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے کے لیے پابندیاں عائد کر ے۔
امریکی ادارے نے مذہبی آزادی کی صورتحال پر اپنی تازہ رپورٹ میں انڈیا کو ’خاص تشویش والے ملک‘ میں شامل کیا ہے۔ انڈیا کی حکومت نے امریکی ادارے کی اس رپورٹ کو جانبدارانہ اور سیاسی محرکات پرمبنی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
مذہبی آزادی کے امریکی کمیشن نے سنہ 2025 کی اپنی سالانہ رپورٹ میں امریکی انتظامیہ سے سفارش کرتے ہوئسے کہا ہے کہ وہ وکاس یا دو ( را کے مبینہ ایجنٹ) جیسے افراد اور را جیسی ایجنسیوں پر مخصوص نوعیت کی پابندیاں عائد کرے جو امریکی سرزمین پر امریکی شہریوں کے ناکام قتل میں ملوث ہیں۔ اس نے سفارش کی ہے کہ ’امریکی انتظامیہ مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں کے ارتکاب کے لیے امریکہ میں ایسے انفرادی اشخاص اور ایجنسیوں کے اثاثے ضبط کرنے چاہئیں اور ان کے داخلے پر پابندی لگا دینی چاہئیے۔‘

را پر پابندیوں کی سفارش اس پس منظر میں کی گئی جس میں امریکہ کے محکمہ انصاف نے را اور اس کے ایک ایجنٹ وکاس یادو پر الزام عائد کیا تھا کہ انھوں نے سنہ 2023 میں امریکہ کے ایک شہری اور سکھ علیحدگی پسند لیڈر کو قتل کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔
اس واقع کے بعد نیویارک کی ایک عدالت نے انڈین حکومت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبال اور را کے سربراہ سامنت گوئل کو سمن بھیجا تھا۔ امریکہ نے اس معاملے کو ظاہر کر دیا تھا جس کے بعد انڈیا کی حکومت نے اپنے یہاں اس معاملے کی اعلی سطح پر تحقیقات کرائی تھی۔
یہ پہلا موقع ہے کہ مذہبی آزادی کے امریکی کمیشن نے مذہبی اقلیتوں پر مبینہ جبر اور مظالم کے معاملے میں انڈیا کی خفیہ ایجنسی کا نام لیا ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’انڈیا کی حکومت نے مذہبی اقلیتوں بالخصوص سکھ برادری اور ان کی حمایت کرنے والوں کو ہدف بنانے کے لیے اپنے جبر کا دائرہ غیر ممالک تک پھیلا دیا ہے۔ بین الاقوامی رپورٹنگ اور کینیڈا حکومت کی خفیہ اطلاعات سے ان الزامات کی تصدیق ہوئی تھی کہ انڈیا کی ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ، یعنی را اور چھہ سفارتکار نیویارک میں سنہ 2023 میں ایک امریکی سکھ علیحدگی پسند لیڈر کے قتل کی کوشش سے منسلک تھے۔‘
اس نے اپنی رپورٹ میں سفارش کی ہے کہ امریکی کانگریس ’مذہبی آزادی کو مسلسل نقصان پہنچانے اور اسکی خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے کے لیے انڈیا کو خاص تشویش ملکوں کے زمرے میں شامل کرے۔‘

امریکی ادارے کی اس رپورٹ میں یہ دعوی کیا گیا ہے کہ انڈیا میں حکامسول سوسائٹی کی تنظیموں، اقلیتی گروپوں کے ارکان، حقوق انسانی کے کارکنوں اور مزہبی آزادی کی خبریں دینے والے صحافیوں کو گرفتار کرنے کے لیے انسداد دہشت گردی کے قانون یو اے پی اے سمیت فارن کنٹریبیوشن ریگولیشن ایکٹ جیسے دہشت گردی اور اس کی مالی اعانت جیسے متعلقہ قوانین کا بدستور غلط استعمال کر رہی ہے۔
رپوٹ میں امریکہ کی حکومت سے یہ سفارش بھی کی گئی ہے کہ ’وہ آرمس کنٹرول ایکٹ کے تحت اس امر کا جائزہ لے کہ انڈیا کو ایم کیو-9 بی ڈرون جیسے ہتھیاروں کی فروخت سے وہاں مذہبی آزادی کی صورتحال مزید خراب تو نہیں ہو گی۔‘
یو ایس سی آئی آرایف نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سنہ 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد اپنے دس برس کے دور اقتدار میں بی جے پی ایک ایسی مذہبیت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جس کا مقصد آئین سیکولر اصولوں کے برعکس انڈیا کو واضح طور پر ایک ہندو مملکت بنانا ہے ’اس میں کہا گیا ہے جون کے انتخابات سے قبل مسلمانون اور دوسری مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقریروں، گمراہ کن اور جھوٹی خبروں کا ایک سلسلہ چلایا گیا تھا۔‘
وزیراعظم مودی نے اپنی تقریروں میں کئی بار یہ دعوی کیا کہ ’اپوزیشن جماعتیں ملک سے ہندو مذہب کو ختم کر دیں گی اور انلھوں نے مسلمانوں کا ذکر درانداز کہ کر کیا۔‘
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی اسی طرح کا دعوی کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر اپوزیشن جماعتیں اقتدار میں آگئیں تو وہ شرعی قوانین نافذ کر دیں گی۔ جبکہ اپویشن کے اننتحابی منشور میں ایسی کوئی بات نہیں کہی گئی تھی۔ اس میں کہا گیا ہے اسی طرح کے گمراہ کن اور جھوٹی خبروں، سیاسی رہنماؤں کے نفرت انگیز بیانات سے مسلسل مذہبی اقلیتوں کے خلاف مختلف نوعیت کے حملوں کو ہوا اور ترغیب ملی۔‘
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’سنہ 2024 میں مذہبی اقلیتوں اور ان کی عبادت گاہوں پر حملوں کا سلسلہ جاری رہا اور اس کے لیے کسی کو سزا بھی نہیں ملتی۔‘

انڈیا کی وزارت خارجہ نے امریکی کمیشن کی رپورٹ کو پوری طرح مسترد کر دیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایک بیان میں کہا کہ ’الگ الگ واقعات کو غلط طریقے سے پیش کرنے اور انڈیا کی ملی جلی ثقافت کو بدنام کرنے کی یو ایس سی آئی آر ایف کی مسلسل کوششیں اس بات کی عکاس ہیں کہ یہ مذہبی آزادی کے بارے میں حقیقی تشویش کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک دانستہ ایجنڈے کے تحت کیا جا رہا ہے۔‘
جیسوال نے ایک سخت بیان میں کہا کہ ’جمہوریت اور رواداری کی مشعل راہ کی انڈیا حیثیت کو زک پہنچانے کی اس طرح کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں گی۔ دراصل امریکی ادارے کو تشویش والے اداروں میں رکھنے کی ضرورت ہے۔‘
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے مزید کہا کہ ’انڈیا ایک ارب 40 کروڑ لوگوں کا ملک ہے جہاں بنی نوع انسانی کے تمام مذاہب کے ماننے والے لوگ موجود ہیں۔‘ ہمیں یو ایس سی آئی آر ایف سے بالکل یہ توقع نہیں ہے کہ وہ وہ انڈیا کی تکثییریت کے نظام کو یا محتلف مذہبی برادریوں کے ہم آہنگی اور بقائے باہم کے تصور کو سمجھ سکے گی۔‘