رمضان مبارک ہو

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

 2018ء اور 1439ھ کارمضان المبارک شروع ہو رہا ہے۔گرمی بھی ہے۔کہیں بوندا باندی بھی ہو رہی ہے۔ بھوک اور پیاس کااحساس بھی ہوگا۔ہونا بھی چاہیئے۔ وگر نہ بھوکوں ، پیاسوں کی طرف کون متوجہ ہوگا۔ یہ تربیتی کورس ہے ۔اﷲ پاک جسے توفیق دے، اس سے وہ فیض یاب گا۔ رمضان المبارک اور روزہ کی فضیلت پر بہت کچھ لکھا گیا ہے۔اب اس کا اعادہ ہو رہا ہے۔ اس پر دینی، معاشی، معاشرتی، سیاسی اور سائنسی نقطۂ نگاہ سے بحث جاری ہے۔ٹی وی چینلز پر بھی رمضان المبارک کی خصوصی نشریات کا آغاز ہو رہاہے ۔سحری و افطار کے وقت خصوصی پروگرام ہوں گے۔ اﷲ تعالیٰ ہمارے اعمال سے زیادہ خلوص نیت جانتے ہیں۔ہمارے نفس کی تربیت، بھوک و پیاس کا احساس سے نہیں، حواس خمسہ سمیت روح اور جسم کی تربیت سے بھی ہو گا۔ بچے بھی مشق کرتے ہیں۔ایک دن میں کئی روزے رکھنے کی مشق۔ اس کے بعد عید کی خوشیاں ۔

نیکی کمانے اور مال بنانے والے بھی متحرک ہو جاتے ہیں۔یہاں یوٹیلٹی سٹور کو چھوڑ کر بازار میں چیزیں سستی ہونے کے بجائے مہنگی بلکہ نایاب ہو جاتی ہیں۔ مصنوعی قلت سے روزہ داروں کو پریشان کیا جاتا ہے۔ نیکی کے احسن جزا اور برائی کی سزا بہرحال سب کو ملے گی۔ ماہ مقدس کے آتے ہی مسلمانوں میں ایک منفرد جوش و جذبہ بیدار ہوتا ہے۔ یہ جذبہ شعور کو بیدار ہی نہیں پاکیزہ بھی کرتا ہے۔

روزہ صرف بھوک و پیاس کا نام نہیں بلکہ بھوکوں،پیاسوں کی مشکل کا احساس کرنے اور ان سے خیرات و صدقات اور فطرانہ کی صورت میں تعاون کرنے کا نام ہے۔مگر ان کی عزت نفس بھی قائم رہے۔بھوک اور پیاس کیا ہوتی ہے۔ یہ وہی جانتے ہیں جو اس سے گزرتے ہیں۔روزہ دار بلا شبہ روزہسے تزکیۂ نفس کا درس حاصل کرتا ہے ۔ یعنی نفس کو تمام برائیوں سے پاک و صاف کرنے کا سبق و مشق۔ روزہ صرف شکم کو تالا لگانے کا نام نہیں بلکہ یہ حواس خمسہ سمیت دل و دماغ کو پاکیزگی عطاکرتا ہے۔ آپ کی آنکھ برائی کو دیکھے، کان سے لوگوں کی غیبت سنی جائے، رزق حرام یعنی جھوٹ، دھوکہ دہی، ذخیرہ اندوزی ، ناجائز منافع خوری ، بد دیانتی، خیانت سے کمائے ہوئے مال سے افطاری و سحری ہو ، تو اس روزہ کا کیا فائدہ۔ ہم کھیت، کارخانے، دفاترمیں آرام ، کام چوری اور ملازمت کا حق ادا نہ کریں تو روزہ ہمارے کس کام آئے گا۔ ہاں اگر کوئی آپ سے بد کلامی کرے، تو آپ کہہ سکتے ہیں، ’’میں روزے سے ہوں‘‘۔تا کہ ایک ماہ کی تربیت و ٹریننگ سے ایک سال تربیت کے اثرات سے گزر سکے۔ روزہ انسان کواپنے نفس پر قا بو پانے اور تمام غلطیوں سے بچنے اور نیک اور اچھے کام کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد تعمیر سیرت ہے۔ انسان حرص و لالچ ، خواہشات سے بچ جاتا ہے۔ روح کو بھی تربیت ملتی ہے۔ ذہنی و جسمانی نظم و ضبط پیدا ہوتا ہے۔

نبیﷺ کا فرمان ہے ’’جو شخص روزہ رکھ کر جھوٹ اور بد عملی سے نہیں رکتا، اﷲ تعالیٰ کو اس کی بھوک اور پیاس کی ضرورت نہیں۔ ‘‘ آپﷺ نے ارشاد فرمایا ہے ’’روزہ شیطان کے حملوں سے بچنے کے لئے ایک ڈھال ہے ، روزہ دار کو چاہئے وہ بد زبانی اور جہالت سے اجتناب کرے اور اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا گالیاں دے تو اسے دو مر تبہ کہے ، میں روزہ دار ہوں۔‘‘روزہ کے باعث چادر تان کر سو جانا بھی روزہ کے فلسفہ کے منافی ہے۔ روزہ دارمعمولات زندگی ترک نہیں کرتا۔ بلکہ ان کو درست کرتاہے۔ رہبانیت اسلام میں جائز نہیں۔ کانٹے دار راستوں میں چلیں تو ایسے چلیں کہ کانٹے آپ کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔برائی سے خود کو بچانے کی یہ بہترین مثال ہے۔ یہی تقویٰ ہے۔ بھوک و پیاس اور موسمی سختی کو نظر انداز کرتے ہوئے چند سو مسلمانوں نے روزے کی حالت میں بد رکے میدان میں حضرت محمد ﷺکی زیر قیادت ہزاروں کفار کو شکست دی ۔ روزہ نے مسلمانوں کو صبر و استقامت، ایثار و قربانی، اتحاد و یگانگت، باہمی اخوت و محبت ، مساوات، ضرورت مندوں سے حسن سلوک ، انفاق، موثر پلاننگ کی تربیت دی۔ ایک ماہ میں گیارہ ماہ کی تربیت۔ آپ اپنے دسترخوان پرامیروں کے بجائے غرباء اور مساکین اور محتاجوں کو افطاری کرائیں تو اﷲ آپ کے مال میں برکت دے گا۔ آپ کا مال پاک ہو گا۔ یاد رہے اس سے کالا دھن سفید نہیں ہو سکتا۔غلط طریقوں سے کمایاہوا مال غریبوں پر خرچ کرنے سے پاک نہیں ہوتاہے نہ اﷲ اسے قبول کرتے ہیں۔ برکت اور پاکیزگی صرف حلال مال کے لئے ہے۔

روزہ صرف شکم کا نہیں بلکہ آنکھ، کان، زبان، ہاتھ، پاؤں ، دل ، دماغ غرض پوری جان کا ہے۔ انسان اپنے اعضاء کی بغاوت اور سرکشی کو کنٹرول کرتا ہے۔ وہ ایک گھر، خاندان، ادارے یا علاقے کو کنٹرول کرنے کی تربیت حاصل کرتا ہے۔ایسے انسان سے کسی مشن یا فریضہ کی ادائیگی کی توقع کی جا سکتی ہے۔ ایمان و احتساب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھنے کی تاکید ہے۔ یعنی خود احتسابی۔ لا تعداد لوگوں کی زندگی ہی بدل جاتی ہے۔ روزے کی قبولیت کا اندازہ بھی اسی سے ہوتا ہے کہ رمضان اور اس کے بعد میں ہم میں کیا تبدیلی رونما ہوئی۔اگر مثبت تبدیلی آئی ہے۔ اگرہم نیکی کرنے لگے ہیں اور برائی ترک کر دی ہے۔یا اگر ہم بھلائی کو بھلائی اور برائی کو برائی قرار دینے کے اہل بن چکے ہیں۔ تو سمجھ لیں کہ ہم رمضان المبارک کی رحمتوں اور برکتوں سے فیضیاب ہو گئے، ورنہ بھوک و پیاس کے سوا ہمارے ہاتھ کچھ نہ آیا۔ اﷲ ہمارے اس تربیتی پروگرام ، ہماری بھوک، پیاس، افطاری، سحری، تراویح اور جملہ عبادات کو قبول فرمائے۔ہمیں عباداتسمیت معاملات کو درست اور بہتر کرنے کی توفیق دے۔ امید ہے ملک میں ایک ہی دن ایک چاند دیکھ کر روزہ رکھاجائے گا۔ ایک ساتھ رمضان کا چاند نظر آئے گا۔ انشاء اﷲ شوال کا چاند بھی ایک ساتھ ہی نظر آئے گا اور سب عید بھی مل کر ایک دن ہی منائیں گے۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
16 May, 2018 Total Views: 166 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 342 Articles with 77875 views »
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB