طنز و جزا

(Abdul Jabbar Khan, Rajan Pur)

دو دن پہلے موسم میں بدلاؤ ہوا ‘ جس کی وجہ طبیعت کی بھی ترتیب الٹ گئی بس صرف ترتیب ہی الٹی تھی اور کوئی الٹی وغیرہ نہیں تھی‘ حالانکہ ظالم موسم کی فرارٹے بھرتی تیز ہوا نے ہماری دیوار تو الٹی کر دی۔ جو مزید طبیعت کے ساتھ جیب پر بھی ناگوار گزری شکر ہے جو چیز اچھی نہ لگے اسے ناگوار گزارنا کہا جاتا ہے‘ پر میرے ایک دوست ہیں جن کو ان زوجہ محترم صرف گوار کہتی ہیں لیکن وہ بچارے بڑے خوشگوار موڈ میں رہنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ان کی بیگم صاحبہ ان کے ساتھ جو رویہ اختیار فرماتی ہیں تو وہ موصوف کو ناگوار گزرتا ہے‘ اب بچارہ گوار، ناگوار اور خوشگوار میں پھنس کر رہے گیا ہے ۔

میرے یہ دوست محترم بہرے بھی ہیں‘ لیکن میں نے اسے کبھی ہوٹل کے ٹیبل صاف کرتے نہیں دیکھا ،ایک دن خود ان کی زوجہ محترمہ نے فرمایا یہ بہرے بھی ہیں میں نے کہا نہیں بھابی جی یہ تو اچھے خاصے پڑے لکھے اور ڈاکٹر ہیں آپ نے ان کو بہرا کیسے بول دیا انہوں نے فرمایا بھیا بہرے مطلب کم سنتے ہیں‘ میں عرض کی بھابی جی جب ڈاکٹر صاحب کم سنتے ہیں تو آپ کم بولا کریں جتنا وہ سن سکتے ہیں ویسے بھی ہسپتال میں مریضوں کی کم سنتے ہیں جیسے آپ کو کم سنتے ہیں۔ لیکن اس سب کے باوجود شام کو اپنے پرائیویٹ کلینک پر مریضوں کو توجہ سنتے ہیں اور اپنی سٹاف کو غور سے دیکھتے ہیں‘ کہ وہ مریضوں کی دیکھ بھال ٹھیک سے کررہی ہیں یا نہیں۔

میں نے جب طبیعت کی الٹی ترتیب کا سارا قصہ اپنے بہرے ڈاکٹر دوست کو ان کے پرائیویٹ کلینک پر جا کر سنایا تو موصوف نے کم سننے کا تو محسوس ہی نہ ہونے دیا میں نے بھی سارا درد بیان کر دیا‘ حالانکہ درد محسوس کیا جاتا ہے جو میں تھوڑی دیر بعدا نجکشن کا محسوس کرنے والا تھا بس موصوف ٹیکہ لگانے میں مہارت رکھتے ہیں‘ جیسے بغیر سوئی کے سیاست دان قومی خزانے کو ٹیکہ لگاتے ہیں ‘اور دوسرا درد میں اندر ہی اندر محسوس کررہا تھاکہ اسے فیس بھی دینی ہے، میں نے ڈاکٹر سے کہا جناب گلہ بھی دکھ رہا ہے انہیں کہا دکھ ہمیں بھی ہو رہا ہے میں عرض کیا کہ آپ کو کس بات کا دکھ ، حالانکہ کے آپ دکھ دیتے ہیں انہوں نے فرمایا ہم کونسا دکھ دیتے ہیں میں نے عرض کی جناب آپ میرے دوست ہوکر بھی مجھ سے فیس کا مطالبہ کریں گے تو یہ میرے لیے کتنی دکھ کی بات ہو گی‘ انہوں نے کہا جناب ہمیں جو فیس نہیں دیتا ہم اس کا پائیدار علاج کرتے ہیں کہ اسے بعد میں کسی علاج ضرورت ہی نہیں رہتی۔ میں عرض کی ڈاکٹر یار یہی علاج تو کرانا ہے میں ہر ہفتے آپ کا مہکتا چہرہ نہیں دیکھ سکتا انہوں نے فرمایا ہم اپنے گاہک ضائع نہیں کرتے۔

خیر دوائی لے کر کلینک سے نکلا تو سوچا گھر پیدل ہی جاتا ہوں آج تو بس جیب ہی کٹ گئی ہے دیکھو کیسا دوست ہے جو فیس لے چکا ہے ایک بھلا ہو حکیم یار کا جو نئے نئے نسخے مجھ پر مفت آزماتا رہتا ہے اور وہ نسخے میں اپنے بکرے پر آزماتا رہا ہوں بس بچارے کو ناغے والے دن ذبح کرنا پڑا ، ناغہ والے دن گوشت ہمارے گھر تھا یا اس ہوٹل پر جہاں ناغے والے دن اکثر گوشت ہوتا ہے۔

بس دل اداس حالت میں تھا میں اپنی گیارہ نمبر پر سوار تھا یعنی پیدل تھا حالانکہ میں عقل سے پیدل ہوں کسی سے لفٹ لے لیتا ، لیکن اچانک پھر دل میں خیال آیا لفٹ اوپر لے جاتی ہے ‘ میں تو ابھی اوپر نہیں جانا چاہتا ،ابھی میں نے دنیا میں دیکھا ہی کیا ہے، میرے دماغ کے پچھلے خانے سے پیغام موصول ہوا لفٹ بلڈنگ والی بھی ہوتی ہے جو آخری منزل تک لے جاتی ہے لیکن میں تو نے منزل مقصود تک جانا تھا اور راستے میں مقصود کی دوکان سے چکن بھی لینیتھی ، مقصود کی دوکان سے چکن کا دام معلوم کیا تو دام تیز تھے میں کہا مقصود بھیا ہمارا بائیکاٹ چل رہا ویسے بھی چکن کھانا بیماری ہے اور میں ہوں بھی بیمار ، مقصود نے کہا بس جناب گزشتہ چھ میں سے آپ دام ہی معلوم کرتے ہیں لگتا ہے آپ چھ ماہ سے بیمار ہیں اور بائیکاٹ پر بھی، تیز دام کے اثرات سے میں تیز قدموں سے چلنے لگا اورجلد ہی گھر پہنچ گیا۔

بیگم نے کہا آ گئے ہیں خیر سے ، میں کہا خیر تو نہیں ہے پھر یک دم بیگم بولیں یااﷲ خیر کیا ہوا ‘ڈاکٹر نے کوئی بڑی بیماری تو نہیں بتائی ، نہیں بیگم بڑی بیماری نہیں لیکن بڑی فیس بتائی ہے جس نے طبیعت اور بھی خراب کر دی ہے ، چلیں کوئی بات نہیں طبیعت ٹھیک ہو جائیگی ‘ پیسے کی کوئی بات نہیں ، بیگم بات تو ساری یہی ہے طبیعت میں ناسازی کی ، بیگم نے کہا اچھا آپ کو یہ کہنا تھا آپ کی طبیعت کے ساتھ پانی والے پمپ کی بھی طبیعت بگڑی ہوئی ہے ، صبح سے آپ کی طرح خراٹے ہی دیے جا رہا ہے پانی کی ٹوٹی کھولیں تو سانپ جیسی آواز آتی ہے پرپانی نہیں، میں نے کہا اچھا پھر بیگم یہ تو زیادتی ہے پانی نہ بھی آئے تو کوئی حرج نہیں سانپ کو تو آنا چاہیے ، آپ کا کیا مطلب کہ مجھے سانپ ڈنس لے اور تمہاری جان چھوٹ جائے ، بیگم یہی تو بات ہے جان ہی نہیں چھوٹتی بیماری سے اور اس پانی والے پمپ سے دونوں پے پیسہ لگا لگا کر تھک چکا ہوں۔

بیگم نے کہا تم کیسے ٹھیک ہو سکتے ہوں جس دن آپ نے قلم چلانا چھوڑ دیا آپ بھی ٹھیک ہوجائیں اور پانی کی ٹوٹی سے سانپ کی آوازیں بھی بند ہوجائیں گی ، پتہ نہیں آپ کب سدھریں گے اب میں بولے جا رہی ہوں آپ لکھے جا رہے ہیں بس آپ کو اﷲ جزا دے اور آپ کو ایسے مشورے دینے والے کو سزا دے ‘جو اس کام پر آپ کو لگا دیا۔ میں کہا بیگم کیسی باتیں کرتی ہو طنز بھی کرتی ہو اور جزا کی بات بھی کرتی ہو یعنی تم نے طنز و مزاح کو طنزو جزا بنا دیا ہے۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
16 May, 2018 Total Views: 139 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Abdul Jabbar Khan

Read More Articles by Abdul Jabbar Khan: 116 Articles with 30960 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB