تحریک انصاف الیکشن سے پہلے ہار گئی ۔۔

(Arshad Sulahri, )

تحریک انصاف کا بہت چرچا رہا ہے۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اشرافیہ کے ممی ڈیڈی بچوں سمیت برگر بوائیز کیسی سیاسی جماعت میں اتنی بڑی تعداد میں ناصرف شامل ہوئے بلکہ انہوں نے پی ٹی آئی کے جلسوں کو شاندار ونق بخشی ہے۔دوسری جانب وطن کی سیاسی تاریخ کے پینتیس سال بعد نوجوان سیاست کی جانب راغب ہوئے۔تحریک انصاف حقیقی طور پر نوجوانوں کی پارٹی نظر آنے لگی تھی۔پی ٹی آئی کو دیکھ کر دوسری سیاسی جماعتوں نے بھی نوجوانوں کو اپنی جانب راغب کرنے کے جتن کیے مگربات نہیں بن پائی اور یہ اعزاز تحریک انصاف کے پاس ہی رہا ہے۔یہ عمل بہت بڑی سیاسی تبدیلی تھی ۔ جس نے سیاسی جمود کو توڑ دیا اور سیاست ایک بار پھر ہر خاص اور عام کا موضوع سخن بن گی۔قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کے بعد عمران خان نے نوجوانوں سمیت ہر طبقہ فکر کے لوگوں کے دل جیت لیے اور فاتح نظر آنے لگے تھے۔ہائے بدقسمتی۔پھر کچھ یوں ہوا کہ دھیرے دھیرے عمران خان نے نوجوانوں کو نظرانداز کرتے ہوئے جیتنے والے گھوڑوں کی بھرتی شروع کر دی ۔ جو تا حال جاری ہے۔ پارٹی عہدے اور ٹکٹ کی یقین دہانی کے بعد پیپلزپارٹی ،مسلم لیگ ن اورمسلم لیگ ق سمیت دیگر چھوٹی جماعتوں اور گروپس سے الیکشن جیتنے والوں نے تحریک انصاف کا رخ کیا ۔دیکھتے ہی دیکھتے عمران کے ساتھ اور پیچھے والی تمام صفیں نئے آنے والوں کے پروٹول میں بھری گئیں۔تحریک انصاف کی نوجوان قیادت اور دیرینہ کارکنان نئے آنیوالوں کیلئے جگہ بناتے بناتے آخری صفوں پر جاپہنچے اور کئی باہر نکل گئے ہیں۔حالیہ الیکشن میں حصہ لینے کی خواہش رکھنے والوں نے حصول ٹکٹ کیلئے ہر حلقے سے سیکڑوں امیدوار وں نے درخواستیں بمع فیس جمع کرائی ہیں۔ایک لمبی لین ہے۔ لیکن ٹکٹ ان میں تقیسم ہورہے ہیں جو شریک سفر ہی نہ تھے۔عمران خان کے اس عمل سے ایک طرف تو تحریک انصاف کے اندر بے چینی اور مایوسی نے جنم لیا ہے ۔ نوجوانوں سمیت نئی ابھرنے والی قیادت پارٹی اور عمران خان سے نہ صرف بدظن ہوئی ہے بلکہ پچھے ہٹتی جا رہی ہے۔دوسری جانب جو پرانے چہروں کی بجائے نئے چمکتے دمکتے ،کرپشن اور بدعنوانی کے ناسور سے پاک چہرے پارلیمان کی رونق دیکھنے کی آس لگائے بیٹھے تھے۔پاکستان کے وہ عام اور خاص عوام جو تبدیلی کی راہ دیکھ رہے تھے۔انہیں شدید دھچکا لگا ہے۔جب وہ عمران خان کے ارد گرد گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے کے مصداق پارٹیاں بدلنے والے،رشوت وکمیشن خور،اخلاقی مقدمات میں ملوث کھڑے دیکھتے ہیں ۔تو انہیں نیا پاکستان کانعرہ جھوٹ اور فریب لگتا ہے۔انہیں اپنی امید ٹوٹتی ہوئی نظر آتی ہے۔وہ نوجوان جو پارٹی ٹکٹ کیلئے خود کو سب سے زیادہ مستحق سمجھ رہا تھا۔جس نے پورے پانچ سال پارٹی کی پرموشن کی اور پارٹی کا دفاع کیا۔دھرنوں میں حاضر رہا ۔دھرنوں میں آنسو گیس برادشت کی اور پولیس کے ڈنڈے کھائے۔مقدمات کا سامنا کیا۔آج جب اسے معلوم ہوتا کہ میرا ٹکٹ تو کل تحریک انصاف میں شامل ہونے والے مسلم لیگ ن کے رہنما چودھری اشرف گجرکو دے دیا گیا ہے۔عمران خان اندازہ کر سکتے ہیں۔اس نوجوان کے دل پر کیا بیتی ہوگی اور اس کے دوستوں ،رشتہ داروں ،اس کی بیوی بچے کیا کہتے ہوں گے۔ جن کووہ اکثر کہا کرتا کہ اس دفعہ اس کا پارٹی ٹکٹ پکا ہے۔کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ آج یہ نوجوان 2013-2014-2015والی پوزیشن پر ہی کھڑا ہے۔اس کے دل میں تحریک انصاف اور عمران خان کیلئے پہلے جیسا ہی جذبہ ہے۔پی ٹی آئی کا وہ پہلے کی طرح ہی دفاع کرے گا۔ نہیں۔بالکل نہیں۔عمران خان جیت کر ہار چکے ہیں۔الیکشن سے پہلے ہی تحریک انصاف ہار گئی ہے۔تحریک انصاف میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن فرنٹ پر کھڑی ہے۔انصافین اترے چہروں کے ساتھ شکست خوردہ پچھے کہیں دور ٹوٹے بینچوں پر نوحہ کناں بیٹھے ہیں۔
 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
04 Jun, 2018 Total Views: 997 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Arshad Sulahri

I am Human Rights Journalist , columnist ,Songwriter .. View More

Read More Articles by Arshad Sulahri: 48 Articles with 11430 views »
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB