چاند رات اور عید سعید

(Mehwish Ahsan, )

چاندہماری زندگی کا وہ انمول تحفہ ہے جو بنا مانگے ملا ہے جس کو دیکھنے کیلئے ہمیں کوئی قیمت ادا نہیں کرنی پڑتی جس کی ملائم خوبصورت دلکش چاندنی کو بنا کچھ ادا کیے ہم محسوس کر سکتے ہیں دیکھ سکتے ہیں اور ہزاروں دلنشیں خوابوں کو سنجو سکتے ہیں ان گنت وعدوں کا ان گنت محبتوں کی رات میں اپنا فرض سر انجام دینے والوں کی محنت کاگواہ ہے یہ واقعی اﷲ کا بہت قیمتی اور انمول تحفہ ہے ۔ چاند سے ہماری محبت کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے ہمیں چاند اسقدر خوبصورت نظر آتا ہے کہ ہم اسکو پانے کی چاہت رکھتے ہیں اپنے دل پسند اور عزیز لوگوں کو اس سے تشبیہ دیتے ہیں ،لیکن کیا واقعی ہی ہمیں قدر ہے اس چاند کی کیا واقعی ہی یہ جو ہم شاعری کی بھر مار کرتے ہیں
اک چاند ہے آوارہ و بیتاب و فلک تاب
اک چاند ہے آسودگئی ہجر کا مارا

کیا یہ لگاؤ حقیقی ہے مجھے نہیں لگتاکہ یہ محبت یہ لفظ یہ بے نہاں چاہت سچی ہے جانتے ہیں کیوں..؟؟ سب کچھ جانتے ہیں پر سمجھنا نہیں چاہتے ماننا نہیں چاہتے پھر بھی بتا دیتی ہوں کہ ،کیوں جس شب یہ واقعی ہی تحفہ بن کے ابھرتا ہے آسمان کی آغوش میں جس شب اس کی چاندنی اور بھی زیادہ روشن اور حسین ہوتی ہے جس شب چاند مسکرا رہا ہوتا ہے اس شب کی ہمیں کوئی قدر ہی نہیں رہی ہم Hollow Men ہو گئے ہیں احساس سے عاری جذباتوں سے خالی وہ سادگی وہ خوشیاں وہ سچی میٹھی مسکراہٹیں گم سی ہو کہ رہہ گئی ہیں، ہماری پرفیشنل اور امیری کی طرف بڑھنے والی بھاگ دوڑ میں،جی جی میں چاند رات کی بات کر رہی ہوں وہ چاند رات جس کے انتظار میں کلینڈر پر دائرہ بنایا جاتا تھا ،وہ چاند رات جس کے سائے میں ہماری چھتیں نیک دعاؤں کی گونج سے جھوم رہی رہی ہوتی تھیں وہ چاند رات جو ہمیں ایک دوسرے سے جوڑ دیتی تھی ،وہ چاند رات جس کی مبارکباد سے محلہ گونج رہا ہوتا تھا، وہ چاند رات جو حنا کی خوشبو سے مہک رہی ہوتی تھی، وہ چاند رات جو بچیوں کی کلکاریوں میں ڈوبی ہوتی تھی، مہندی چوڑیاں عید کارڈ سے بھری وہ ٹوکریاں جو ہم اپنی ہم جولیوں کو عیدی میں دیتے تھے جانے کہاں کھو گئی پورا سال ہم انتظار کرتے تھے عید کا اور مہینہ پہلے گھومنے پھرنے کے پلان بنائے جاتے تھے یوں تو سال میں کئی سوٹ میسر ہوتے تھے ہمیں وہ عید کے سوٹ کی ضد کا تو کوئی جواب نہیں،اب تو ڈیڑھ سو والے کارڈ کے ساتھ چاکلیٹ نہ ہو تو پینڈو کہلائے جاتے ہیں ہم ،کل تک دو روپے والی دو خوبصورت ہاتھوں میں پھول والی فوٹو ہمیں دنیا کے ہر خزانے سے قیمتی ترین لگتی تھی اب تو بھئی ہم اتنے ماڈرن سٹبلیش اور زہین ہو گئے ہیں کہ ایک ویٹس ایپ میسج سے ہی خوش ہو جاتے ہیں وہ رونقیں کہیں کھو سی گئی ہیں ہماری بے حسی اور کھوکھلی دوڑ میں دب سی گئی ہیں معصومیت کی انتہا تو یہ تھی کہ ملنے والی عیدی ایک خواب ہوتا تھا بچوں کامانو زندگی کا حاصل ہو گھر پہ آنے والا ہر مہمان واقعی ہی خدا کی رحمت لگتا تھا جب پانچ کا نوٹ نکلتا دیکھائی دیتا تھا اسکی جیب سے ہر تین سے چھ نوٹوں کی ری کاؤنٹینگ ہوتی تھی اور ماؤں کی نظر بھی بچوں کے پاکٹس اور پرس پہ ہوتی تھی اور ہم رو رو کے برا حال کر دیتے تھے کہ نہیں ہم اپنے پیسے اپنے ہی پاس رکھیں گے آخر پورے سال کا وہ سرمایہ جو ہوتا تھا کئی بچوں کو تو مار بھی پڑتی تھی کتنی محبت سے شادی شدہ بہنوں کے گھر عید بھیجتے تھے بھائی ،اب تو بس سوائیوں کی فارمیلٹیز ہی رہ گئی ہیں۔کیسے دن تھے وہ جب ہم اپنے کپڑے جلدی سے پریس کروا کر اور میچنگ جیولیری نکال رکھ دیتے تھے اور ھاتھ مہندی سے بھر کے سو جاتے تھے چاہے نیند آئی ہو یا نہیں ہمیں سونا اسلیے ہوتا تھا کہ بندہ سویا تے مویا مثال ہے۔ہم صبح کے لئے اتنے بے چین ہوتے تھے اتنی بیقراری ہوتی تھی کہ رات کے دو بجے آنکھ کھل جاتی تھی اور جب وقت کا پتا چلتا تھا تو ہم تڑپ سے جاتے تھے کہ یہ کیا ابھی صرف دو ہی بجے ہیں عید کی وہ صبح کتنی حسین ہوتی تھی جس کو میرے لفظ تو بیاں کرنے سے قاصر ہیں اٹھتے ساتھ ہی وہ زور سے چیخنا عید مبارک۔وہ جوش وہ خوشی اب نہیں ہے ہم میں ،اب ہمارے لیے عید کا دن عید نماز کے ساتھ ہی ختم ہو جاتا ہے اب ہم بے چین نہیں ہوتے اب اس دن کے لئے دن نہیں گنے جاتے اب عید کارڈز نہیں دیے جاتے اب وہ محبتیں نہیں بٹتی بچپن کے وہ لاجواب دن تو یاد ہی ہوں گے گلی کوچوں کی ہر نکر پہ کوئی نا کوئی سٹال والا کھڑا ہوتا تھا کہیں پہ چناچاٹ کہیں پہ چاول چھولے کہیں پہ گول گپے ہر چیز مانو گھر کے دروازے پہ ہی مل رہی ہوتی تھی رنگ برنگے کپڑوں میں ملبوس پیارے پیارے بچوں سے گلیاں بھری پڑی ہوتی تھیں گھروں میں تو مانو شادی سا ماحول ہوتا تھاعید سعید ہی ہوتی تھی عید سے ایک ہفتہ قبل ہی عید کو ہم منانا شروع کر دیتے تھے ایک دوسرے کو تحفے تحائف دے کراب تو عید کا دن آ کر گزر بھی جاتا ہے اور ہم باقی کے دنوں کی طرح ہی ہوتے ہیں ہمارے روزوں کا پھل اتنا پھیکا کیوں لگنے لگا ہے ہمیں عید کے فطرانے تک اب ہم دل سے ادا نہیں کرتے اتنے کھوکھلے کب سے ہو گئے ہم؟ عیدالفطر تو محبتوں کا امن کا خوشیوں کا تہوار ہے اس دن تو دشمن کو بھی دوست کی مانند قرار دیا گیا ہے اور ہمارے پاس تو ہمارے اپنوں کے لیے بھی اپنائیت نہیں بچی ،یہی وجہ ہے کے اب ہمیں وہ مسکین غریب لوگ نظر ہی نہیں آتے جو صیح معنوں میں عیدی کا حق رکھتے ہیں جہاں ہم ہمارا اہل و عیال کے ساتھ بن ٹھن کے عید مانا رہے ہوتے ہیں وہاں یتیم فقیر بچے اسی غربت کے عالم میں بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں اور حسرت بھری نگاہوں سے ہمارے چوڑیوں سے بھرے ہاتھوں کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

تھوڑا سا امیج ن تو کریں یہی حالت اگر ہم میں سے کسی کی ہو ہمارے بچے اسی جگہ ہوں کیا بیتے گی ہمارے دل پر ایک لمحہ بھی سانس لے پائیں گے کیا ہم دم گھٹ نہیں جائے گااگر گھٹ جائے گا تو گھٹتا کیوں نہیں ہے اتنے معصوم پھولوں کو بے ابرو رسوا اور بے لباس دیکھ کر کیسے گھٹے گا ہمیں اب فرق ہی کب ہے عید سے؟ ہم ویلن ٹائن لازمً لازمً منانا چاہتے ہیں اسکو جائز قرار دینے کے لیے لاکھوں دلیلیں ہیں ہمارے پاس بس ایک اپنے ہی مذہبی تہواروں کی اہمیت ختم کر دی ہے ہم نے، خدارااب تو ہوش میں آئیں زندگی کی اتنی گہماگہمی میں ہمیں یہ ایک دن مل رہا ہے جب سیاست اردگرد کی ناچاکی بدمزگی اور مذہب کے نام پہ بناء تفرقہ کی بیڑیوں کو توڑ کے ہم ایک ساتھ ایک ہی آسمان کے نیچے پرامن سانس لے سکتے ہیں کون سنی کون شعیہ یہ تو سب کا تہوار ہے سب ایک برابر ہیں اس دن اب تو بھول جائیے اپنی مصروفیت کو اور اس بار وہ دن پھر سے جی لیجیے ہمارا بچپن ہمارے اندر دھاڑیں مار کے رو رہا ہے آزاد کر دیجیے اسے،حقیقی معنوں میں مسلمان ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے ایک چھوٹا سا قدم بڑھائیے ان غریب فقیر لوگوں کی طرف جن کی کوئی عید ہی نہیں ہوتی اٹھیں بھی مسکرانے کی وجہ دیجیے گلے لگائیے مٹھائی چوڑیاں ان میں بھی بانٹیے ایک سیٹ چوڑیوں کا ایک چھوٹے سے باکس میں تین لڈو مٹھائی کے رکھ کر بانٹیں گے تو مجھے نہیں لگتا کہ ہم غریب ہو جائیں گے بلکہ اﷲ کی بارگاہ میں بلند ہو جائیں گے زیادہ کچھ نہیں جتنا ہم کر سکتے ہیں اتنا تو کریں نایقیناً آپکی نظر میں زندگی میں آپکے محلے میں کافی ایسے بچے ہوں گے جو مستحق ہوں گے ان کی طرف بس ایک نظر پیار کی دیکھ لیجیے اپنا سمجھ کے وہ اپنے ہی تو ہیں ہماری ہی مٹی سے بنے ہیں ہم بہت کچھ کر سکتے ہیں کرنا چاہیں تواولڈ ایج ہوم کو دیکھیں جن میں پڑھے ماں باپ کو انکی اولادوں نے بے سہارا کر کے پھینک دیا ہے اپنی ایک ٹیم بنا کہ ہر سوسائٹی سے 10 لوگ بھی جائیں انکو عید ملنے، عیدی دینے ،تو خدا کی رحمت کھل اٹھے ہم میں بھائی چارے کی لڑی واپس پرؤی دیکھائی دے گی آپ خود ہی محسوس کریں گے کہ کتنا سکون ہے اس احساس میں کسی کا غم بانٹ لینا کسی کو محبت دیناسچ مانیے بہت سکون ہے بہت سے ایسے پوائینٹ ہیں جن کو پورا کر کے ہم عید اور خاص بنا سکتے ہیں بس ایک قدم ایک مثبت سوچ کی دوری ہے۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
14 Jun, 2018 Total Views: 66 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Mehwish Ahsan

Read More Articles by Mehwish Ahsan: 2 Articles with 107 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB