علم غیب مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم اور حج کے افعال کا ثواب

(Rabi Ul Alam, )

حضرت سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالی عنہماسے مروی ہے کہ ایک انصاری نے سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوکر عرض کی : ''یارسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم! چنداشیاء کے متعلق آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے پوچھنے کے لئے حاضر خدمت ہوا ہوں۔'' آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ''بیٹھ جاؤ۔'' تھوڑی دیر میں قبیلہ ثقیف سے بھی ایک شخص حاضر ہو کر عرض گزار ہوا:''یارسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم! چند اشیاء کے متعلق سوال کرنا چاہتا ہوں ۔'' توآپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نےارشادفرمایا:''انصاری تجھ پرسبقت لے گیا ہے۔'' تواس انصاری نے عرض کی:''یہ شخص مسافرہے اور مسافر زیادہ حق دار ہے۔ آپ اسی سے ابتداکیجئے۔'' آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم ثقفی کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا: ''اگر تم چاہو تو میں ہی تمہیں بتا دوں کہ کیا پوچھنے آئے ہو اور اگر چاہو توتمہی سوال کرو میں جواب دیتا ہوں۔''اس نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم!میں جوپوچھنے آیا ہوں آپ خود ہی فرما دیجئے کیونکہ یہ زیادہ حیرا ن کن ہے۔

آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ''تم مجھ سے رکوع و سجوداورنماز روزے کے متعلق پوچھنے آئے ہو ۔''تواس نے عرض کی: ''اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا!آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے وہ بتانے میں کچھ بھی خطا نہ کی جو میرے دل میں تھا۔'' پھرآپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ''جب تم رکوع کرو تو ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر رکھ کر انگلیوں کو کشادہ کرو پھر اتنا ٹھہرو کہ ہر عضو اپنی جگہ قرار پکڑ لے۔ سجدہ کرتے وقت پیشانی کو اچھی طرح جماؤ اور چونچ نہ مارو اور دن کے اول و آخر میں نماز ادا کرو۔'' عرض کی:''یانبی اللہصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم!اگر میں ان کے درمیان (وقت) پاؤں؟''تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:'' تو اس وقت نماز پڑھ لو اور ہر مہینے کی تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کا روزہ رکھو۔رات کے پہلے حصے میں ارام، درمیانے میں قیام اور آخری میں پھر سو جاؤ، اگر تم درمیان سے آخر تک جاگتے رہوتوبھی نماز پڑھتے رہو۔''وہ ثقفی اٹھ کھڑا ہوا۔

پھرآپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم انصاری کی طرف متوجہ ہوئے اوراسے بھی ارشاد فرمایا:'' ''اگر تم چاہو تو میں ہی تمہیں بتا دوں کہ کیا پوچھنے آئے ہو اور اگر چاہو توتمہی سوال کرو میں جواب دیتا ہوں۔''اس نے عرض کی: ''یا نبی اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم!میں جوپوچھنے آیا ہوں آپ خود ہی فرما دیجئے ۔''تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا:''تم یہ پوچھنے آئے ہو کہ حاجی کے لئے کیا اجروثواب ہے جب وہ گھرسے نکلے؟ وقوف عرفہ کا ثواب کیا ہے؟ رمئ جمار کرنے(یعنی شیطان کو کنکریاں مارنے) کا اجر کیاہے؟ سر کا حلق کروانے کا اجر کیاہے؟اورآخری طواف کرنے کا کیا ثواب ملے گا؟''تو اس نے عرض کی: ''قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! آپ نے میرے دل کی بات بتانے میں کچھ خطا نہ کی ۔''پھر آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ''جب حاجی گھر سے نکلتاہے تو اس کے ہر قدم کے عوض ایک حسنہ(نیکی) لکھ دی جاتی اور ایک گناہ مٹا دیا جاتاہے۔وقوف عرفہ کے وقت اللہ تعالیٰ آسمان دنیاپرخاص تجلی فرما کر ارشاد فرماتاہے:''میرے غبار آلوداور پراگندہ سر بندوں کو دیکھو!گواہ ہو جاؤ کہ میں نے ان کے گناہوں کو بخش دیا اگر چہ بارش کے قطروں اور ریت کے ذروں کے برابر ہوں ۔'' اور جب وہ جمروں پرکنکریاں مارتا ہے توکوئی نہیں جانتا کہ اس کا کیا اجر ہے؟ یہاں تک کہ روز قیامت اس کو پورا بدلہ دیا جائے گااور جب آخری طواف کرتا ہے تووہ گناہوں سے ایسا پاک ہو جاتا ہے جیسے اس دن کہ اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔''
(الاحسان بتر تیب صحیح ابن حبان ،کتاب الصلاۃ ، باب صفۃ الصلاۃ،الحدیث۱۸۸۴،ج۳،ص۱۸۱)

یہی حدیث حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے جس میں حج میں ادا کئے جانے والے افعال کے ثواب کو ان الفاظ میں ذکر فرمایا: چنانچہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا : ''تمہارے مسجد حرام کے لئے گھر سے نکلنے پر ہر قدم پر ایک حسنہ(نیکی) لکھی جائے گی ،ایک گناہ مٹا دیا جائے گا اور ایک درجہ بلند کر دیاجائے گا اور تیرا طواف کی دو رکعتیں پڑھنا غلام آزاد کرنے کے برابر ہے،اور صفاومروہ کے درمیان سعی ستر غلام آزاد کرنے کی طرح ہے اور تیرا عرفات میں ٹھہرنے کی فضیلت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل عرفات پر خاص تجلی فرماتااور ارشاد فرماتا ہے :''میرے بندے دور دور سے پراگندہ سر اور غبار آلود میری بارگاہ میں حاضر ہوئے ہیں۔''پس اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کے سامنے ان پر فخر فرماتا اور ارشاد فرماتا ہے: ''اگرچہ تمہارے گناہ ریت کے ذروں، آسمان کے ستاروں، سمندر اور بارش کے قطروں کے برابر بھی ہوں تب بھی میں انہیں بخش دوں گا۔''اور رمئ جمارتیرے رب عزوجل کے ہاں تیرے لئے ذخیرہ ہے جس کی تجھے سب سے زیادہ بروز قیامت حاجت ہوگی۔ سر کاحلق کروانے میں ہر بال کے عوض قیامت کے دن نور ہو گا۔اور اس کے بعد تو طواف صدر (یعنی طواف زیارت جو عرفات سے واپسی کے بعد کیا جاتاہے) اس حال میں کریگا کہ تجھ پر کوئی گناہ باقی نہ ہوگااورایک فرشتہ آکر اپنا ہاتھ تیرے کندھوں کے درمیان رکھ دے گا پھر کہے گا: ''اللہ تعالیٰ نے تیرے گذشتہ گناہوں کو بخش دیا ہے پس آئندہ دنوں میں اچھے اعمال کراور واپس لوٹ جا کیونکہ تجھے بھی بخش دیا گیااوراسے بھی بخش دیاجائے گا جس کی تو شفاعت کریگا۔''
(المعجم الکبیر، الحدیث ۵۶۶ ۱۳، ج۱۲،ص۳۲۵۔)
یا مالکِ کریم ! ہمیں بھی حج بیت اللہ کی سعادت نصیب فرما۔ (آمین)

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
16 Jul, 2018 Total Views: 1263 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Rabi Ul Alam

Read More Articles by Rabi Ul Alam: 15 Articles with 10747 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
جزاک اللہ خيرا جناب ربیع العالم صاحب، ذرا ایک اور رہنمائ فرما دیں۔ آرٹیکل میں آپ نے کچھ ایسے لکھا تھا۔ ((الاحسان بتر تیب صحیح ابن حبان ،کتاب الصلاۃ ، باب صفۃ الصلاۃ،الحدیث۱۸۸۴،ج۳،ص۱۸۱)))))) اور یہاں آپ نے فرمایا ہے کہ صحیح ابن حبان الحدیث 1884۔ لیکن جو نسخہ صحیح ابن حبان کا تیٹ پر موجود ہے اس میں حدیث نمبر 1884 کچھ ایسے ہے۔ (
رقم الحديث: 1884
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى يُحَدِّثُ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَلَّى الظُّهْرَ ، فَجَعَلَ رَجُلٌ يَقْرَأُ خَلْفَهُ بِ : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ : " أَيُّكُمُ الَّذِي قَرَأَ ؟ أَوْ أَيُّكُمُ الْقَارِئُ ؟ " . فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ : " قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا " .))))) اور یہی حدیث نسائ 918 میں بھی ہے۔ بہر حال جیسے کہ میں نے اوپر کہا کہ الاحسان فی ترتیب ابن حبان میں صفۃ الصلاۃ میں حدیث نمبر 1884 کچھ ایسے ہے(((((((((((1884 - أخبرنا عمر بن محمد الهمداني قال : حدثنا محمد بن بشار قال : حدثنا محمد قال : حدثنا شعبة عن الحكم عن عبد الرحمن بن أبي ليلى
عن البراء بن عازب قال : كان ركوع رسول الله صلى الله عليه و سلم ورفعه رأسه بعد الركوع وسجوده وجلوسه بين ا لسجدتين قريبا من السواء تحقيق شعيب الأرنؤوط: إسناده صحيح على شرطهما ))))))))))))

اب آپ سے یہ درخواست ہے کہ بتادیں کہ آپ کی پیش کردہ عبارت اس کتاب کے کس نسخہ میں موجود ہے؟ شکریہ
By: Baber Tanweer, Karachi on Jul, 21 2018
Reply Reply
0 Like
بابر صاحب!
آرٹیکل میں جو حوالہ موجود ہے وہ دار الکتب العلمیہ بیروت کا ہے۔
By: Rabi Ul Alam, Karachi on Jul, 23 2018
0 Like
السلام علیکم۔ جناب بابر صاحب! آپ نے جو حدیث لکھی ہے"(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى يُحَدِّثُ ، الیٰ اٰخرہ )" میں نے نسخہ میں تلاش کیا درحقیقت آپ کی لکھی ہوئی حدیث، حدیث نمبر 1844 ہے۔ غالبا ًآپ کو نمبر میں مغالطہ ہوگیا ۔آپ اپنے نسخہ میں حدیث نمبر 1884 ملاحظہ کریں۔
صحيح ابن حبان بترتیب الامیر علاء الدین علی بن بلبان الفارسی المتوفی سنۃ 739 ھ المسمى الاحسان بترتيب صحيح ابن حبان جبکہ بعض نسخوں میں نام صحيح ابن حبان المسمى الاحسان فی تقریب صحيح ابن حبان ہے ۔انٹرنیٹ پر جو نسخہ موجود ہے مطبوعہ بیت الافکار الدولیۃ کا صفحہ نمبر 360 حدیث نمبر 1884 دیکھیں۔
http://ia801000.us.archive.org/14/items/WAQ105928/105928.pdf
By: Rabi Ul Alam, Karachi on Jul, 23 2018
0 Like
جناب آپ کا عنوان قرآن کی آیت سے انکار ہے ۔۔۔ اللہ نے تمام انسانوں کو نبی ؐ کی زبان مبارک کے ذرئعے بتا دیا ہے کہ " (اے نبی ) آپؐ کیہ دیجئے کہ زمین و آسمان مین غیب کا جاننے والا اللہ کے سوا کوئی نہیں اور( جنہیں اللہ کے سوا ایسا سمجھا جاتا ھے ) انہیں تو یہ بھی شعور نہیں کہ انہیں کب دوبارہ زندہ کیا جائے گا ۔۔(النمل آیت نمبر 65) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور دوسری جگہ اللہ فرماتا ھے ۔۔۔۔۔(اے نبی ؐ !) آپ کیہ دیجئے کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب کا جاننے والا ہوں اور نہ میں تم سے یہ کیتا ہوں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں ۔۔۔(الانعام آیت نمبر ۔۔50) --------------- بالکل اسی طرح بخاری کی مشہور حدیث ہے ۔۔۔" جو تم میں سے یہ کہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنے رب کو دیکھا تو بے شک اس نے جھوٹ کہا۔۔۔اور جو تم میں سے یہ کہے کہ وہ غیب جنتے تھے ، توبے شک اسنے جھوٹ کہا ۔۔۔( صحیح بخاری : جلد : 3 ، کتاب التوحید)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسری جگہ ۔۔۔۔۔۔ "جو تم میں سے یہ کہے کہ نبیؐ کو خبر تھی کہ کل کیا ھونے والا ھے ۔ تو بے شک اس نے اللہ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا۔۔۔( صحیح مسلم : جلد 1 : کتاب الایمان)
By: کامران , Rawalpindi on Jul, 19 2018
Reply Reply
0 Like
جناب کامران
مندرجہ بالا عنوان قرآن اور احادیث کے عین مطابق ہے۔ اسکی دلیل مندرجہ بالا حدیث ہے۔ جسکا آپ نے انکار کیا مزید آپ کے اعتراضات کے جوابات اور انبیاء کرام کو اللہ جل جلالہ نے علم غیب عطا فرمایا ہے اس کے دلائل ان شاء اللہ قرآن کریم اور احادیث کریمہ کی روشنی میں دیئے جایئں گے۔
جبکہ بابر نے جو سوال کیا اس کا جواب میں نے دے دیا تھا جو کہ 3 دنوں کے بعد پوسٹ ہوا۔ معاذاللہ یہ میری افتراع نہیں ہے۔ حدیث پاک کے الفاظ میں نے لکھ دیئے ہیں اگر عربی سے واقف ہیں تو پڑھ لیں ورنہ کسی عربی جاننے والے سے ترجمہ کروالیں۔
By: Rabi Ul Alam, Karachi on Jul, 22 2018
0 Like
جزاک اللہ خيرا۔ بالکل درست فرمایا۔ بنیادی بات یے کہ انبیاء کو علم غیب نہیں بلکہ غیب سے خبر دی جابی ہے۔ اور جب تک خبر نہیں دی جاتی۔ اانبیاء کو اس بات کی خبر نہیں ہوتی۔ سورہ ھود میں اللہ تعالی فرماتے ہیں (((((یہ خبریں غیب کی خبروں میں سے ہیں جن کی وحی ہم آپ کی طرف کرتے ہیں انہیں اس سے پہلے آپ جانتے تھے اور نہ آپ کی قوم، ))))))))
ان صاحب نے ایک حدیث کا حوالہ دیا تھا۔ میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تھا کہ کیا انہوں نے یہ حدیث دیکھی ہے ۔ لیکن میرا خیال ہے کہ انہوں نے نہیں دیکھی۔ اور اس حدیث کے حوالے سے جو کچھ یہ فرمارہے ہیں۔ وہاں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ حدیث تو دراصل رکوع، سجود اور جلسہ بین سجدتین کے بارے میں ہے۔ یہ جو کچھ انہوں نے لکھا ہے یا کاپی کیا ہے اور میرے خیال میں ان کی اپنی اختراع ہے۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Jul, 20 2018
0 Like
جناب ربیع العالم صاحب، کیا آپ نے صحیح ابن حبان کی جلد نمبر میں اس حدیث کو دیکھا ہے۔ اور اگر دیکھا ہے تو اس اس حدیث کے مکمل الفاظ یہاں تحریر فرما دیں۔ شکریہ۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Jul, 17 2018
Reply Reply
0 Like
کیا آپ نے صحیح ابن حبان کی جلد نمبر میں اس حدیث کو دیکھا ہے؟
جی ہاں! حدیث مبارکہ کا عربی متن ملاحظہ کریں۔
اخبرنا الحسین بن محمد بن مصعب السنجی، حدثنا محمد بن عمر بن الھیاج، حدثنا یحیی بن عند الرحمن الارحبی، حدثنی عبیدۃ بن الاسود، عن القاسم بن الولید، عن سنان بن الحارث بن مصرف، عن طلحۃ بن مصرف، عن مجاھد، عن ابن عمر قال: جاء رجل من الانصار الی النبی ﷺ فقال: یارسول اللہ ﷺ! کلمات اسال عنھن، قال : اجلس، وجاء رجل من ثقیف، فقال: یارسول اللہ ﷺ کلمات اسال عنھن، فقال: سبقت الانصاری،۔ فقال الانصاری۔ انہ رجل غریب، وان للغریب حقا، فابدا بہ، فاقبل فقال، ان شئت اجبتک عما کنت تسأل، وان شئت سألتنی واخبرک۔ فقال یارسول اللہ ﷺ بل اجبنی عما کنت اسٔلک۔ قال جئت تسألنی عن الرکوع، والسجود، والصلوۃ، والصوم۔ فقال لا و الذی بعثک بالحق ما اخطأت مما کان فی نفسی شیٔا۔ قال فاذا رکعت فضع راحتیک علی رکبتیک ثم فرج بین اصابعک، ثم امکث حتی یاخذ کل عضو ماخذہ، واذا سجدت فمکن جبھتک، ولا تنقر نقرأ، وصل اول النھار واخرہ، فقال : یانبی اللہ ﷺ فان صلیت بینھا؟ قال: فانت اذا مصلی، وصم من کل شھر ثلاث عشرۃ، واربع عشرۃ، وخمس عشرۃ، فقام الثقفی ثم اقبل علی الانصاری فقال: ان شٔت اخبرتک عما جئت تسأل، وان شئت سألتنی فاخبرک، فقال لا یا نبی اللہ ﷺ اخبرنی عما جئت اسألک،قال جئت تسألنی عن الحاض ما لہ حین یخرج من بیتہ، وما لہ حین یقوم بعرفات، وما لہ حین یرمی الجمار، ومالہ حین یحلق راسہ، وما لہ حین یقضی اخر طواف بالبیت فقال: یا نبی اللہ ﷺ والذی بعثک بالحق ما اخطأت مما کان فی نفسی شیئا۔ فقال: فان لہ حین یخرج من بیتہ ان راحلتہ لا تخطو خطوۃ الا کتب لہ بھا حسنۃ، او حطت عنہ بھا خطیئۃ، فاذا وقف بعرفۃ فان اللہ تعالیٰ ینزل الی السماء الدنیا، فیقول : انظروا الی عبادی شعثا غیرا، اشھدوا انی قد غفرت لھم ذنوبھم، وان کان عدد قطر السماء، ورمل عالج، واذارمی الجمار لا یدری احدا ما لہ حتی یوفاہ یوم القیمۃ، واذا حلق راسہ فلہ بکل شعرۃ سقطت من رأسہ نور یوم القیامۃ، واذا قضی اخر طوافہ بالبیت خرج من ذنوبہ کیوم ولدتہ امہ۔
صحیح ابن حبان ،کتاب الصلاۃ ، باب صفۃ الصلاۃ،الحدیث۱۸۸۴،

By: Rabi Ul Alam, Karachi on Jul, 20 2018
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB