اسلامی تاریخ کا پانی کے لیئے پہلا فنڈ

(Khawaja Mussadiq Rafiq, Karachi)

تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ نبوت کے تیرہوں سال میں جب مسلمان ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچے تو وہاں پینے کے پانی کی بہت قلت تھی، مدینہ منورہ میں ایک یہودی کا کنواں تھا جو مسلمانوں کو پانی مہنگے داموں فروخت کرتا، اس کنویں کا نام‘‘بئرِ رومہ’’یعنی رومہ کا کنواں تھا اور پریشانی کے عالم میں مسلمانوں نے رسول اﷲﷺ سے فریاد کی، اﷲ کے نبی ﷺ نے فرمایا‘‘کون ہے جو یہ کنواں خریدے اور مسلمانوں کے لیے وقف کر دے؟ ایسا کرنے پر اﷲ تعالیٰ اسے جنت میں چشمہ عطا کرے گا۔

حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ اس یہودی کے پاس گئے اور کنواں خریدنے کی خواہش کا اظہار کیا، کنواں چونکہ منافع بخش آمدنی کا ذریعہ تھا اس لیے یہودی نے اسے فروخت کرنے سے انکار کر دیا تو حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ نے یہ تدبیر کی کہ پورا کنواں نہ سہی، آدھا کنواں فروخت کر دو۔ آدھا کنواں فروخت کرنے پر ایک دن کنویں کا پانی تمہارا ہوگا اور دوسرے دن میرا ہوگا، یہودی ان کی اس پیشکش پر لالچ میں آ گیا۔ اس نے سوچا کہ حضرت عثمان رضی اﷲ عنہُ اپنے دن میں پانی مہنگے داموں فرخت کریں گے، اس طرح اسے زیادہ منافع کمانے کا موقع مل جائے گا، چنانچہ اس نے آدھا کنواں حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو فروخت کر دیا۔

سیدنا عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے وہ کنواں اﷲ کی رضا کے لئے وقف کر کے اپنے دن مسلمانوں کو کنویں سے مفت پانی حاصل کرنے کی اجازت دے دی، لوگ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دن مفت پانی حاصل کرتے اور اگلے دن کے لئے بھی ذخیرہ کر لیتے، یہودی کے دن کوئی بھی شخص پانی خریدنے نہ جاتا.یہودی نے دیکھا کہ اس کی تجارت ماند پڑ گئی ہے تو اس نے حضرت عثمان سے باقی آدھا کنواں بھی خریدنے کی پیشکش کر دی جس پر حضرت عثمان راضی ہو گئے اور کم و بیش پینتیس ہزار درہم میں پورا کنواں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
10 Sep, 2018 Total Views: 1891 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB