کیا کل بھارتی ٹیم پاکستان کے خلاف دباؤ میں کھیلے گی؟

(Syed Yousuf Ali, Karachi)

ایشیا کپ 2018

15 ستمبر کو شروع ہونے والے چھ ملکی ایشیا کپ 2018 کرکٹ ٹورنامنٹ کا سب سے دلچسپ اور اہم میچ کل روائتی حریف بھارت اور پاکستان کے درمیان کھیلا جارہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان آخری مقابلہ گزشتہ سال چمپیئنز ٹرافی میں ہوا جس میں پاکستان نے 180 رنز سے فتح حاصل کی ۔ پاکستان کی اس فتح میں حسن علی نے تین وکٹیں لے کر اہم کردار ادا کیا تھا۔ پاکستان کے سپر فٹ فاسٹ بالر حسن علی نے بھارت سے میچ کے دوران ویرات کوہلی کی وکٹ لینے کی خواہش کا اظہار کیا مگر بدھ کے روز ہونے والے میچ میں ریگولر کپتان اور لیجنڈ کرکٹر ویرات کوہلی بھارتی اسکواڈ کا حصہ نہیں ہیں ۔
 


یہ امر قابل ذکر ہے کہ حسن علی کو ویرات کوہلی کی طرح عالمی سطح پر اس وقت شہرت ملی جب فٹنس چیک کے دوران اس کا یو۔یو ٹیسٹ میں اسکور19.5 پایا گیا جو کہ پاکستان ٹیم انتطامیہ کی جانب سے کھلاڑیوں کے ٹیم میں سلیکشن کیلئے مقررہ 17.4 سے کافی زیادہ تھا۔ حسن علی کا کہنا ہے کہ کوہلی کی عدم موجودگی پاکستان ٹیم کیلئے فائدہ مند ہو گی۔ ان کا خیال ہے کہ کوہلی کی انتہائی پریشر میں بھی اپنی ٹیم کیلئے اسکور کرنے کی اہلیت دوسرے کھلاڑیوں میں موجود نہیں ہوگی۔ پاکستان ٹیم نے اس حساس مقابلے میں شرکت کیلئے پہلے ہی 11 ستمبر کو دبئی پہنچ کر13 ستمبر سے پریکٹس سیشن کا آغاز کیا۔

کوہلی کو اس ٹورنامنٹ میں آرام دیا گیا ہے۔ روہیت شرما ان کی بجائے ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں جبکہ شیکھر دھون روہیت کے نائب ہیں۔ بعض کرکٹ مبصرین کا خیال ہے کہ گزشتہ سال چمپیئنز ٹرافی فائنل میں شکست کی وجہ سے بھارتی ٹیم اگلے روز ہونے والا میچ دباؤ میں کھیلے گی۔ دوسری جانب کوہلی کی عدم موجودگی بھی بھارتی ٹیم کی پرفارمنس پر اثر انداز ہوگی۔ تیسری بات یہ کہ دبئی پاکستانی ٹیم کیلئے ہوم گراؤنڈ کی حیثیت رکھتا ہے جس کا براہ راست فائدہ پاکستان ٹیم کو ہوگا۔

تاہم سابق آسٹریلین فاسٹ بالر بریٹ لی نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ بھارت کے عارضی کپتان روہیت شرما اور نائب کپتان شیکھر دھون ویرات کوہلی کی کمی محسوس نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے اس خیال کو بھی مسترد کر دیا کہ روہیت کو بائیں ہاتھ سے گیند کرنے والے فاسٹ بالر کو کھیلنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ ادھر سابق آسٹریلوی کرکٹر ڈین جونز نے کہا ہے کہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ امباتی رایودو اور منیش پانڈے اپنی مضبوط پارٹنر شپ کے ذریعے مخالف بالرز کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
 


گو کہ یہ پہلا موقع نہیں جب کوہلی بھارت کا کل وقتی کپتان بننے کے بعد اپنی ٹیم سے باہر رہے ہوں، تاہم دونوں روائتی حریف ممالک میں موجودہ ٹورنامنٹ کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور کوہلی کی کمی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت میں کرکٹ کے انتہا پسند شائقین کوہلی کو ایشیا کپ کھیلنے کیلئے دبئی بھیجنے کے مطالبات کر رہے ہیں۔تاہم اصل حقیقت یہ ہے کہ اپنی انجری کی وجہ سے کوہلی اس وقت انٹرنیشنل کرکٹ نہیں کھیل سکتے۔

2017 میں بھی ٹیسٹ میچ کے دوران کاندھا زخمی ہونے کے باعث وہ مقابلے سے باہر ہو گئے تھے۔ ان کی جگہ اجنکیا راہنے کو قیادت سونپی گئی جنہوں نے بھارت میں ہونے والی ٹیسٹ سیریز میں ٹیم کو ایک کے مقابلے میں دو ٹیسٹ میچز سے فتح دلوائی۔ اسی انجری کے باعث کوہلی انڈین پریمیئر لیگ میں رائل چیلنجرز بنگلور کے ابتدائی چار میچز نہیں کھیل سکے۔کوہلی دسمبر 2017 میں بالی ووڈ اداکارہ انوشکا شرما سے شادی کی وجہ سے بھی کرکٹ کے میدانوں سے دور رہے۔

وہ فروری2018 میں جنوبی افریقہ کے خلاف میدان میں آئے مگر پہلے ٹی20 انٹرنیشنل کے دوران گھٹنے کی چوٹ کی وجہ سے تیسرا ٹی20 نہیں کھیل سکے۔ وہ مارچ میں انڈیا کی نداہاس ٹرافی بھی نہیں کھیل سکے مگر اپریل میں انڈین پریمیئر لیگ میں واپس آ گئے۔ انہوں نے آئر لینڈ اور انگلینڈ ٹور کی تیاری کیلئے انگلش کاؤنٹی سرے کی جانب سے کھیلنے کیلئے افغانستان کے افتتاحی ٹیسٹ میں بھی شرکت نہیں کی۔ تاہم انڈین پریمیئر لیگ کے ایک میچ میں زخمی ہونے کے باعث وہ اپنے کسی بھی طے شدہ مقابلے میں شرکت نہیں کر سکے اور بحالی مرکز چلے گئے۔

انگلینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ کے دوران بھی وہ اپنی انجری کے باعث باہر جانے پر مجبور ہوئے جبکہ اگلے روز بھی فیلڈنگ کیلئے نہیں آئے۔ ان کی جگہ بھوبنیشور کمار کو طلب کیا گیا۔بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ لیجنڈ کھلاڑی ویرات کوہلی اور بی سی سی آئی بھی ان کی انجری کا جانب سے بہت احتیاط سے کام لے رہے ہیں ۔ انہیں خطرہ ہے کہ تھوڑی سی لاپرواہی انہیں مستقل طور پر گراؤنڈ سے باہر کر سکتی ہے۔ پاکستانی اسکواڈ سرفراز حمد، فخر زمان، شعیب ملک ، محمد عامر ، شاداب خان ، امام الحق ، شان مسعود ، بابر اعظم ، آصف علی ، حارث سہیل ، محمد نواز ، فہیم اشرف ،حسن علی ، جنید خان ، عثمان شنواری اور شاہین آفریدی پر مشتمل ہے۔
 


تجربہ کار کھلاڑیوں محمد حفیظ اور یاسر شاہ کو ٹیم میں شامل نہ کیا جانا حیران کن ہے، تاہم بورڈ نے دونوں  کھلاڑیوں کو 7 اکتوبر سے دبئی میں آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ میں شریک کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ بورڈ نے مزید کھلاڑیوں کو اسکواڈ میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے مگرحتمی ٹیم کا اعلان میچ سے قبل ہی کنڈیشنز دیکھ کر کیا جاسکے گا ۔بھارت نے بھی گزشتہ دنوں اپنی ٹیم کا اعلان کیا جس میں روہیت شرما ، شیکھردھون ، کے ایل راہول ، امباتی رایودو ، منیش پانڈے ، کیدر جادھیو ، ایم ایس دھونی ،ڈینش کرتھک ، کلدیپ یادیو ، ہردیک پانڈیہ ، یزوندرا چھاہل ، ایکسر پٹیل ، بھونیشورکمار ، جسپریت بمرا ، شردول ٹھاکر اور خلیل احمد شامل ہیں۔
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
01 Sep, 2018 Total Views: 5986 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
The India-Pakistan rivalry has very few parallels in the world of sport. The mere hint of an upcoming encounter between the two sub-continental giants of cricket seems to capture the imagination of fans in both countries and the many thousands of their supporters outside the region.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB