دنیا کے طویل القامت کرکٹرز

(Rafi Abbasi, Karachi)

ان میں 5 کا تعلق برطانیہ، اور تین تین کھلاڑی آسٹریلین اور ویسٹ انڈیز کی ٹیموں میں شامل رہے
پاکستانی فاسٹ بالر محمد عرفان کو دنیا کے سب سے دراز قد کھلاڑی کا اعزاز حاصل ہے

کرکٹ میں اپنی نمایاں کارکردگی کی وجہ سے بے شمار کھلاڑی معروف ہیں لیکن بعض کھلاڑی اپنی ’’نمایاں طبعی خصوصیات‘‘ کی وجہ سے اسٹیڈیم میں بیٹھے تماشائیوں اور گھر پر ٹی وی سیٹ کے سامنے بیٹھ کر میچ دیکھنے والے شائقین کی توجہ کا مرکز ہوتے ہیں۔ دنیا کے کئی کرکٹر اپنے چھوٹے قد کے باوجود بڑے کارنامے انجام دینے کی وجہ سے معروف رہے ہیں ، جن میں سے انگلش ٹیم کے وکٹ کیپر ٹچ کارنفورڈ کا قد صرف 5فٹ جب کہ اسپن بالر ، ’’الفریڈ پرسی ٹچ فری مین ان سے دو انچ لمبے تھے، دونوں کھلاڑی کرکٹ کے ابتدائی دور یعنی بیسوی صدی کے دوسرے عشرے میں اپنے کھیل اور بونا قامتی کی وجہ سے شائقین کرکٹ کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔ دنیا کے ایک درجن سے زائد کرکٹر اپنی دیو قامت شخصیت کی وجہ سے مشہور ہیں۔ برطانوی کرکٹر انتھونی ایلم 6فٹ 11انچ قد کے ساتھ دنیا کے سب سے طویل قامت کرکٹر تھے، جو 1959سے 1961تک میری لی بون کرکٹ ٹیم کا حصہ رہے ہیں۔2010تک انہیں دنیا کے سب سے طویل قامت کرکٹر کا اعزاز حاصل رہا۔ ستمبر 2010ء میں ان کی طویل القامتی کا ریکارڈ پاکستانی فاسٹ بالر محمد عرفان نے توڑا۔ان کے علاوہ بھی کئی کرکٹرز جنہوں نے اپنے ’’جناتی قد‘‘، کی وجہ سے فاسٹ بالنگ کا شعبہ منتخب کیا تھا، مخالف بلے بازوں کو اپنی تیز گیندوں اور سر سے اونچے باؤنسروں سے ہراساں کیے رکھا۔ دیوقامت کھلاڑیوں کو بے شمار مسائل درپیش رہتے ہیں جب کہ انہیں بعض اوقات اپنی طویل جسامت کی وجہ سے مضحکہ خیز صورت حال کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ٹیم کے ساتھ بیرونی ممالک کے دورے کے دوران ان کے سائز کے بیڈ نہیں ملتے، سفر کے لیے گاڑی کی نشست پر بیٹھنے میں انہیں مشکلات پیش آتی ہیں۔ میچ کے دوران انہیں بیٹنگ کرنے کے لیے شاٹ کھیلنے کے لیے یا فیلڈنگ کے دوران گیند اٹھانے کے لیے اپنے قد کی مناسبت سے بہت زیادہ جھکنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے ان کی کمر میں جھٹکا آجاتا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر کرکٹرز کو کمر کی تکلیف اور گروئن انجریز کا سامنا رہتا ہے ، جس کی وجہ سے ان کی کرکٹ کی زندگی بہت ہی مختصر ہوتی ہے۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے ذیل میں دنیا کے چند طویل قامت کھلاڑیوں کا تذکرہ پیش کیا جارہا ہے۔
 


محمد عرفان
پاکستانی کرکٹر محمد عرفان دنیا کے دراز قامت کھلاڑیوں میں پہلے نمبر پر ہیں اور 7 فٹ ایک اتچ قد کی وجہ سے انہیں آل ٹائم کا طویل القامت کرکٹر قرار دیا گیا ہے۔ ان سے قبل یہ اعزاز 2010 تک برطانوی کرکٹر، آنجہانی انتھونی ایلم کے پاس رہا، جو 6فٹ 11انچ لمبےتھے، 2010ء میں ان کا ریکارڈ پاکستانی فاسٹ بالر،محمد عرفان نے توڑا جو ان کی بہ نسبت تین انچ لمبےہیں۔ بورے والا کے نواحی اڈا ماناموڑ کے قریبی گاؤں آنکھ کھولنے والے محمد عرفان کا تعلق ایک کاشت کار گھرانے سے ہے۔ انہیں بچپن سے ہی کرکٹ کھیلنے کا شوق تھا۔ گاؤں میں کھیل کا میدان نہ ہونے کے باعث انہوں نے9سال کی عمر میں شیشم کی لکڑی سے بنائے گئے بیٹ، ٹینس بال کے ساتھ فصل کی کٹائی کے بعد کھیتوں سے خالی ہونے والی زمین اور ریلوے لائن کے ساتھ خالی جگہ پر اپنا شوق پورا کیا۔ 13سال کی عمر میں گاؤں کی ٹیپ بال ٹیم الفرید کلب میں شامل ہوئے، 1998میں جب وہ نویں جماعت میں پہنچے تو اپنے اسکول کی کرکٹ ٹیم میں شمولیت اختیار کی اور ضلع وہاڑی کی سطح پر انٹر سکولز ٹورنامنٹ کے پہلے ہی میچ میں میں انہوں نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا۔ گگومنڈی کرکٹ اکیڈمی کے انسٹرکٹر ملک شفقت بھی اس میچ میں موجود تھے، انہوں نے عرفان کی صلاحیتوں کو دیکھ کر انہیں تربیت کے لیے اکیڈمی میں بلالیا۔ وہ چند سال تک گگو منڈی اکیڈمی کی طرف سے کھیلتے رہے ۔2004میں جب قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر، عامر سہیل نے گگو اکیڈمی کا دورہ کیا تو ملک شفقت نے انہیں محمد عرفان سے متعارف کرایا اور ان کی بالنگ کی صلاحیتوں سے آگاہ کیا ۔عامر سہیل ان کے قد کاٹھ اور بالنگ اسپیڈ سے بہت متاثر ہوئے اور انہیں نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں تربیت کا موقع فراہم کیا۔ 2009ء میں قائداعظم ٹرافی میں بلوچستان ٹیم کی طرف سے کھیلتے ہوئے عرفان نے بہترین بالنگ کا مظاہرہ کیا اور میچ میں 10وکٹیں حاصل کیں۔ بعد ازاں انہوں نے کے آر ایل کی ٹیم میں شمولیت اختیار کرلی اور ڈومیسٹک میچوں میں حصہ لیتے رہے۔2010ء میں پاکستانی ٹیم ا نگلینڈ کے دورے پر گئی۔ پاک ، برطانیہ سیریز کے دوران پاکستان کے فاسٹ بالرز محمد آصف اور محمد عامر کو اسپاٹ فکسنگ کے الزام میں معطل کردیا گیا ۔ پی سی بی حکام نے ان دو بالرز کی جگہ محمد عرفان کو برطانیہ طلب کیا۔وہ برطانیہ کے خلاف میچوں میں کوئی خاطر خواہ کارکردگی تو نہ دکھا سکے لیکن انگلش کھلاڑی ان کی ’’جناتی شخصیت ‘‘سے ضرور خائف دکھائی دیئے اور سیریز کے دوران ان کا لمبا قد موضوع بحث بنارہا۔ دسمبر 2012ء میں قومی ٹیم کے دورہ بھارت کے دوران ٹی ۔20میچوں کی سیریز میں محمد عرفان کی تیز رفتار گیندوں اور باؤنسرز نے تباہ کن کردار ادا کیا۔ انہوں نے 135سے 145کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بالنگ کرائی جب کہ بھارتی کھلاڑی ان کی خطرناک گیندوں سے زیادہ ان کی طویل قامتی کی وجہ سے بھی پریشان رہے۔2017ء میں یواے ای میں منعقد ہونے والے پاکستان سپر لیگ کے میچوں کے دوران بکیز سے رابطہ رکھنے کے جرم میں 29؍مارچ 2017 کو پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے محمد عرفان پر چھ ماہ کی پابندی عائد کردی گئی۔ پابندی ختم ہونے کے بعد انہوں نے26ستمبر2017ء سے شروع ہونے والےقائداعظم ٹرافی کے میچوں میں اپنے ادارے کی نمائندگی کی۔30؍جولائی 2018ء کو انہوں نے کیریبین لیگ کی ٹیم بارباڈوس ٹرائیڈینٹس سے کھیلنے کا معاہدہ کیا ہے۔کریبین لیگ کا آغاز اگست میں ہوگا۔محمد عرفان نے پاکستان کی جانب سے 4 ٹیسٹ میچ، 60 ون ڈے انٹرنیشنل، اور 20 ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلے ہیں جن میں ان کی بالنگ نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔محمد عرفان کو لمبے قد کی وجہ سے ابتدا میں پریشان کن صورت حال کا سامنا کرنا پڑا لیکن اب میچوں کے دوران ان سے معاہدہ کرنے والی ٹیمیں، ان کے قد کاٹھ کو مدنظر رکھ کر ان کے لیے ملبوسات اور جوتے تیار کراتی ہیں۔ انہیں ہوٹل میں قیام کے دوران سوتے وقت دقت کا سامنا کرنا پڑتا تھا، ہوٹلوں کے بیڈ، ان کی قد کی مناسبت سے چھوٹے پڑجاتے تھے جس کی وجہ سے انہیں سوتے وقت پریشانی ہوتی تھی،لیکن اب ، بہ حیثیت کرکٹر ان کی خدمات حاصل کرنے والی ٹیمیں، ان کے لیے ہوٹلوں میں خصوصی بیڈز کا انتظام کرواتی ہیں۔گراؤنڈ میں جب ساتھی کرکٹرز کے ساتھ محمد عرفان کھڑے ہوتے ہیں تودیگر کھلاڑی ان کے سامنے بچے نظر آتے ہیں۔


انتھونی ایلم
اکتوبر 1938میں’’بلے چنگ لے‘‘ سرے انگلینڈ میں پیدا ہونے والے انتھونی کیرک ایلم، برطانوی ٹیسٹ پلیئر مورس ایلم کے بیٹے تھے۔انتھونی1959ء سے 1961تک فری فورسٹر کلب، سرے کاؤنٹی اور میری لی بون کی جانب سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلتے رہے ۔ان کا شمار6فٹ 11انچ کے قد کے ساتھ،’’ آل ٹائم ‘‘ کے بلند قامت کرکٹر میں کیا جاتا تھا۔وہ انگلش ٹیم کے بہترین فاسٹ بالر تھے اور انہوں نے دوسال تک مخالف ٹیم کے بلے بازوں کو اپنی تیز رفتار گیندوں سے ہراساں کیے رکھا۔1954سے 1957تک وہ طالب عالمی کے دور میں اسکول کی ٹیم کی جانب سے کرکٹ کے میچوں میں حصہ لیتے رہے۔ جب وہ پہلی مرتبہ ’’چارٹر ہاؤس ‘‘ اسکول کی جانب سے میچ کھیلنے کے لیے آئے تو وہاں’’ وزڈن کرکٹر‘‘ کے حکام بھی موجود تھے۔ وہ اس کم عمر نوجوان کا قد کاٹھ دیکھ کرحیران ہوئے۔ دونوں ٹیموں کے کھلاڑی اور میچ آفیشلز، ان کے سامنے بونے لگ رہے تھے۔ انہوں نے انتھونی کے قد کی پیمائش کرائی، اس وقت ان کا قد6فٹ ساڑھے 10انچ تھا۔ چند سالوں میں اس میں مزید نصف انچ کا اضافہ ہوا۔ انتھونی نے اپنے کرکٹ کیرئیر کے دوران پانچ فرسٹ کلاس میچوں میں حصہ لیا جن میں انہوں نے15وکٹیں حاصل کیں جب کہ 1960ء میں اوول کے گراؤنڈ پر انہوں نے ایک اننگ میں پانچ وکٹیں لینے کا کارنامہ انجام دیا۔


پال ڈنکلز
6فٹ 10انچ قامت کے پال رنٹن ڈنکلز کا شمار انگلش کرکٹ ٹیم کے دوسرے طویل قامت کھلاڑی میں ہوتا ہے، جورائٹ آرم میڈیم فاسٹ بالر تھے ۔ ڈنکلز نے ابتدائی تعلیم ’’ہارو اسکول ‘‘ لندن میں حاصل کی جہاں وہ اسکول کی ٹیم کی جانب سے کرکٹ میچوں میں بھی حصہ لیتے رہے۔ 1969ء میں انہیں ڈیون کلب میں شامل کیا گیا،جس کے ساتھ کھیلتے ہوئے انہوں نے سمرسٹ سیکنڈ الیون کے خلاف ’’مائنر کاؤنٹیز چیمپئن شپ ‘‘ میں حصہ لیا۔ ڈنکلز نے 1971ء میں واروکشائر کی جانب سے انڈیا کے خلاف فرسٹ کلاس میچ ڈبیو کیا۔1971سے1975ءتک وہ ڈیون کلب کی جانب سے کھیلتے رہے۔ 1975ء میں انہوں نے ریٹائرمنٹ لے لی۔ 1972ء میں انہوں نے وکالت شروع کی اور 1993ء میں انہیں ’’کوئنز کونسل ‘‘ کا رکن بنایا گیا۔ ان دنوں وہ البین چیمبر، برسٹل میں بیرسٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔


ول جیفرسن
ولیم جیفر سن انگلش کرکٹ ٹیم کے سابق اوپننگ بیٹس مین ہیں جو ایسکس کاؤنٹی کرکٹ کلب، ناٹنگھم شائر اور لیسٹر شائر کی جانب سے کرکٹ کھیلتے رہے۔ان کا شمار 6فٹ 10انچ قد کی وجہ سے دنیا کے طویل قامت کرکٹرز میں کیا جاتا ہے۔ جیفرسن کا تعلق کرکٹر گھرانے سے ہے اور ان کے والد رچرڈ جیفرسن، سرے کاؤنٹی کی جانب سے فرسٹ کرکٹ کھیلتے رہے ہیں۔زمانہ طالب علمی میں، جیفرسن اسکول اور یونیورسٹی کی جانب سے کرکٹ میچوں میں حصہ لیتے تھے۔ 2000ء میں انہوں نے زمبابوے کے خلاف کھیلتے ہوئے ڈبیو کیا۔ان کا شمار بہترین بلے بازوں میں کیا جاتا ہےاور بیٹنگ کے دوران وہ اپنے دراز قد سے بھرپور فائدہ اٹھاکر باؤنس اور تیز گیندوں کو فضامیں ہی اپنے بلے پر روک کر بلند و بالا شاٹ کھیلا کرتے تھے، اس لیے ان کی بیٹنگ کی اوسط انتہائی شاندار رہی۔انہوں نے 2004ء میں 222رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی لیکن ان کا سب سے بڑا اسکور2005ء میں ٹرپل سنچری کی صورت میں میری لی بون ینگ کرکٹرز کی ٹیم کے خلاف تھا ۔2007میں انہیں بنگلہ دیش کے ٹور کے موقع پر انگلینڈ کی اے ٹیم میں شامل کیا گیا۔ 2011ء میں انہوں نے ٹی ۔20سیریز کے فائنل میچ میں لیسٹر شائر کی جانب سے کھیلتے ہوئے سپر اوور مرحلے میں لگا تار تین چھکے لگانے کا ریکارڈ قائم کیا۔ 2012ء میں وہ کرکٹ کے تمام فارمیٹس سے ریٹائر ہوگئے۔


جوئیل گارنز
جویئل گارنرر ویسٹ انڈیز کے فاسٹ بالرز تھے، جنہیں ان کی برق رفتار بالنگ کے سبب ’’بگ جوئیل‘‘ یا ’’بگ برڈ‘‘ کا خطاب دیا گیا تھا۔6فٹ8 انچ قد کی وجہ سے ان کا شمار دنیا کے درازقامت کھلاڑیوں میں کیا جاتا ہے۔ جوئیل نے کھیل میں اپنے قد سے مکمل فائدہ اٹھایا اور ایک عشرے تک بلے بازوں کو اپنی تیز رفتار گیندوں اور سر کا نشانہ لے کر پھینکے جانے والے باؤنسرز سے پریشان کیے رکھا۔1979ء کے عالمی کپ کے فائنل میں انہوں نے پانچ انگلش بلے بازوں کو آؤٹ کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔ان کا ٹیسٹ اور ایک روزہ کیریئر 1977سے 1987ء تک، ایک عشرے پر محیط رہا، جس کے دوران انہوں نے سات مرتبہ 5 سے زائد وکٹیں لیں۔ 1987ء میں وہ کھیل سے ریٹائر ہوگئے جس کے بعد انہیں سلیکٹر، کوچ سمیت دیگر ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ 2010ء میں جوئیل کو سری لنکا کا د ورہ کرنے والی کیریبین ٹیم کا منیجر بنایا گیا۔ 2013ء میں انہوں نے بارباڈوس کرکٹ ایسوسی ایشن کے امیدوار کے طور پر ویسٹ انڈین کرکٹ بورڈ کے صدارتی انتخاب میں حصہ لیا لیکن وہ ڈیو کیمرون کے مقابلے میں ہار گئے۔ 2016ء سے جوئیل بارباڈوس کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر ہیں۔


پیٹر جارج
پیٹر رابرٹ جارج آسٹریلیا کے ساق ٹیسٹ کرکٹر اور رائٹ آرم میڈیم فاسٹ بالر ہیں۔ 6فٹ 8انچ قد کے ساتھ ، ان کا شمار بھی دراز قامت کرکٹرز میں کیا جاتا ہے۔ جارج پیٹر نے فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز، ’’کوئنز لینڈبُلز‘‘ کی ٹیم کی جانب سے کھیلتے ہوئے کیا۔2008ء میں بھارت کے خلاف بنگلور ٹیسٹ میں میچ ڈبیو کیا، لیکن وہ ان کا پہلا اور آخری ٹیسٹ میچ ثابت ہوا، اس کے بعد جارج نے کسی بھی ٹیسٹ میچ میں حصہ نہیں لیا، وہ زیادہ تر فرسٹ کلاس میچ کھیلتے رہے۔ 2010ء میں جارج کو ایک زخمی بالر کے متبادل کے طور پر نیوزی لینڈ کے دورے کے دوران ٹیم میں شامل کیا گیا۔ اس کے بعد 2010ء میں پاکستان اور 2011ء میں بھارت کے دورے کے موقع پر ایک روزہ اسکواڈ میں شامل کیا گیا۔ 2011ء میں ’’بیلی رائیو اوول‘‘ میں میچ کے دوران انہوں نے انتہائی معمولی اسکور پر مخالف ٹیم کے آٹھ بلے بازوں کو آؤٹ کر کے ڈومیسٹک کرکٹ کے بہترین بالر کا اعزاز حاصل کیا۔


بروس ریڈ
بروس انتھونی ریڈ آسٹریلیا کے سابق کرکٹر اور 2004میں بھارتی ٹیم کے دورہ آسٹریلیاکے موقع پر وہ مہمان ٹیم کے بالنگ کوچ رہے۔ 6فٹ 8انچ قد کے ساتھ بروس ریڈ کا شمار بھی طویل قامت کھلاڑیوں میں کیا جاتا ہے۔ بروس، لیفٹ آرم میڈیم فاسٹ بالر تھے اور ان کی گیندیں انتہائی نپی تلی ہوتی تھیں۔ اپنے قد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ گیند کو زیادہ تر باؤنس کراتے تھے جس سے حریف بلے باز خائف رہتے تھے۔ ریڈ نے کرکٹ کیرئیر کا آغاز دسمبر 1986میں بھارت کے خلاف کھیلتے ہوئے کیا اور اس میچ میں آسٹریلین بالنگ اٹیک میں اہم کردار ادا کیا۔1988ء میں پاکستان کے دورے کےموقع پر وہ کمر کی انجری کا شکار ہوگئے۔ 1990-91ء کی ایشز سیریز میں ان کی کارکردگی بے مثال رہی اور انہوں نے پہلے چار میچوں میں انگلینڈ کے 27بلے بازوں کو آؤٹ کر کے ایشز میچوں کا نیاریکارڈ قائم کیا۔پانچویں اور آخری میچ میں انجری کی وجہ سے شرکت سے محروم رہے لیکن ان کی مجموعی کارکردگی کی وجہ سے انہیں ’’مین آف دی سیریز ‘‘ کا ایوارڈ دیا گیا۔ مسلسل انجریز کی وجہ سے وہ1992ء میں کرکٹ کے تمام فارمیٹس سے ریٹائر ہوگئے۔کھیل سے علیحدگی کے بعد بروس ریڈ نے اپنا کیریئر ،بالنگ کوچ کے طور پر شروع کیا اوربھارتی کرکٹ ٹیم، زمبابوے اور ہمپشائر کاؤنٹی کی ٹیموں میں کوچ کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے رہے۔


بوائڈ رینکن
شمالی آئرلینڈ میں جنم لینے والے،ولیم بوائڈ رینکن، بیک وقت آئرلینڈ اور انگلش کرکٹ ٹیم کی جانب سے کھیلتے ہیں۔ بوائڈ ،رائٹ آرم میڈیم فاسٹ بالر ہیں۔ان کا شمار بھی طویل القامت کرکٹرز میں ہوتا ہے۔ وہ 6فٹ 8انچ کی قامت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گیند کو منفرد انداز سے سوئنگ کراتے ہیں اور ان کی زیادہ تر گیندیں باؤنس ہوتی ہیں، جن سے بلے باز خائف رہتے ہیں ۔ 2012ء میں انہوں نے اپنا تعلق آئرش ٹیم کے ساتھ ختم کرکے صرف انگلش ٹیم کی جانب سے کھیلنے کا اعلان کیا۔ جون 2013ء میں بوائڈ نے برطانوی ٹیم کی طرف سے پہلا ٹی۔20میچ نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلا، جس میں انہوں نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور آسٹریلیا میں منعقد ہونے والی ایشز سیریز میں جگہ بنا لی۔ دسمبر 2015میں وہ دوبارہ آئرلینڈ کی ٹیم میں شامل ہوگئے اور2016 کے آئی سی سی ، ٹی۔20ورلڈ کپ میں آئرش ٹیم کا حصہ رہے۔ بوائڈ کو انگلش اور آئرش ٹیم کا میچ وننگ بالر کہا جاتا ہے۔ انہوں نے 2007 اور 2009کے عالمی کپ کے میچوں میں بھی آئرش ٹیم کے ساتھ شرکت کی تھی اور 2009میں ٹی۔20ورلڈ کپ میں اپنی ٹیم کو کوارٹر فائنل میں رسائی دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔بوائڈ زیادہ تر محدود اوورز کے فارمیٹس میں حصہ لیتے رہے جب کہ 2007سے اب تک انہوں نے صرف دو ٹیسٹ میچ کھیلے ۔ 11؍مئی 2018ء میں انہوں نے آئرش کرکٹ ٹیم کی جانب سے پاکستان کے خلاف ٹیسٹ ڈبیو میچ کھیلا اور اظہر علی کو آؤٹ کرکے پہلی ٹیسٹ وکٹ لی۔


کرس ٹریملٹ
6فٹ 7انچ لمبے، ’’کرسٹوفرتموتھی ٹریملٹ‘‘ بھی انگلش کرکٹ ٹیم سے تعلق رکھتے ہیں۔ٹریملٹ ہمپشائر اور سرے کاؤنٹی کے میچوں میں بھی حصہ لیتے رہے ہیں۔ وہ میڈیم فاسٹ بالر ہیں، اور ان کا شمار برطانوی ٹیم کے چند بہترین بالرز میںہوتا ہے۔ ٹریملٹ آخری نمبروں پر بیٹنگ بھی کرتے تھے اور انہوں نے فرسٹ کلاس میچوں میں 7نصف سنچریوں کا قومی ریکارڈ قائم کیا تھا ۔1999ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف فرسٹ کلاس میچ کھیل کر کرکٹ کیریئر کا آغاز کیااور اپنے پہلے میچ کی پہلی ہی گیند پر کیوی بلے بازمارک رچرڈسن کو آؤٹ کرکے انگلینڈ کی قومی ٹیم میں جگہ بنالی۔2001ء میں انڈر۔19ٹیم کے ساتھ بھارت کا دورہ کیا۔ 2005ء میں ایک روزہ اور دو سال بعد ٹیسٹ کیرئیرکی ابتدا کی۔ انہیں لمبے قد کی وجہ سے اکثر و بیشتر طبی مسائل کا سامنا رہالیکن جب تک وہ ٹیم میں کھیلے انہوں نے اپنی تیز رفتارسوئنگ گیندوں، باؤنسز سے حریف ٹیم کے بلے بازوں کو ہراساں کیے رکھا۔ 2005میں ٹریملٹ کو پاکستان کا دورہ کرنے والی ٹیم میں منتخب کیا گیا لیکن ایک ڈومیسٹک میچ میں انجری کی وجہ سے انہیں ڈراپ کردیا گیا جب کہ اس کے چند ماہ بعد دائیں گھٹنے اور کولہے کے آپریشن کی وجہ سے انہیں بھارت کا دورہ کرنے والی ٹیم اسکواڈ سے بھی باہر کردیاگیا۔جولائی 2007ء میں فاسٹ بالر میتھیو ہوگارڈ کو کمر کی تکلیف کی شکایت کی وجہ سے ٹیم سے ڈراپ کردیا گا اور ان کی جگہ ٹریملٹ کو بھارت کا دورہ کرنے والے اسکواڈ میں شامل کیاگیا ۔انہوں نے اپنے ڈبیو ٹیسٹ کے پہلے میچ میں ہی چار وکٹیں لیں، لیکن اس میچ میں ان کی بیٹنگ ناکام رہی اور پہلی اور دوسری اننگز میں صفر پر آؤٹ ہوکر انہوں نے ’’پیئر‘‘ کا اعزاز حاصل کیا۔ 2010-11 میں آسٹریلیا میں منعقد ہونے والی ایشر سیریز کے میچوں میں برطانوی ٹیم کی فتح میں ان کی جارحانہ بالنگ نے اہم کردار ادا کیا بلکہ ان کی بالنگ سے زیادہ ان کی دیوقامتی کی وجہ سے مخالف ٹیم کے کھلاڑی خوف زدہ رہے۔انہیں ایشز سیریز کے پہلے دو میچوں سے باہر رکھا گیاتھا۔ تیسرے میچ میں انہیں کھیلنے کا موقع دیا گیا اور میچ کے پہلے ہی دن انہوں نے آسٹریلیا کے تین ٹاپ آرڈر بلے بازوں کو آؤٹ کیا جب کہ چوتھی اننگ میں انہوں نے پانچ وکٹیں لیں۔ چوتھے اور پانچویں میچ میں ان کی شاندار کارکردگی کی بہ دولت انگلینڈ نے ایشز ٹرافی جیتی۔2015ء میں کمر اور گھٹنے کی انجری کے باعث انہوں نے کرکٹ کے تمام فارمیٹس سے علیحدگی اختیار کرلی۔


سلیمان بن
6فٹ 7انچ قامت کےک رکٹر،سلیمان جمال بن کا تعلق ویسٹ انڈیز سے ہے۔ وہ کریبین ٹیم کی جانب سے ٹیسٹ اور ایک روزہ جب کہ بارباڈوس کی طرف سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلتے تھے۔1999-2000ء میں سلیمان نے لیفٹ آرم آرتھوڈوکس اسپن بالر کے طور پر کرکٹ کھیلنا شروع کی۔ وہ بارباڈوس کی جانب سے فرسٹ کلاس میچوں میں حصہ لیتے رہے اور انہوں نے خود کو ایک بہترین اسپنر کے طور پر منوایا۔ 2007-8میں انہیں ’’کیرب بیئرکپ‘‘ کے انعقاد کے موقع پر ویسٹ انڈیز کی ٹیم میں شامل کیا گیا۔ اس ٹورنامنٹ میں ان کی شاندار کارکردگی کی وجہ سے ، سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں کھلایا گیا۔ آئی لینڈرز کے ویسٹ انڈیر کے دورے کے دوران پہلا میچ ’’پروویڈنس اسٹیڈیم‘‘ گیانا میں کھیلا گیا، جس میں سلیمان نے ٹیسٹ کیریئر کی ابتدا کی۔ انہوں نے پہلے میچ کی دوسری اننگز میں مہیلاجے وردھنے سمیت سری لنکا کے تین نمایاں بلے بازوں کی وکٹیں حاصل کیں۔ 2009ء میں آسٹریلیا اور 2010ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف میچوں میں بھی ان کی کارکردگی نمایاں رہی لیکن طبی وجوہات پر 2010ء میں انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ کو خیر باد کہہ کر اپنی توجہ فرسٹ کلاس اور ایک روزہ کرکٹ پر مرکوزکردی۔ 2016 میں سلیمان نے سری لنکا کے خلاف آخری ایک روزہ میچ کھیلا، اس کے بعد کھیل سے مکمل طور سے ریٹائرمنٹ لے لی۔


جیسن ہولڈر
جیسن عمر ہولڈر، باربادین کرکٹر اور ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر کھلاڑی اور کپتان ہیں۔ انہوں نے 2013ء میں پہلا ایک روزہ میچ آسٹریلیا کے خلاف کھیلا۔6فٹ 7انچ قامت کے باعث ان کی کارکردگی بالنگ اور بیٹنگ سمیت کے تمام شعبوں میں نمایاںہے ۔2014 کا سال جیسن کے لیے سازگار ثابت ہوا، جنوری 2014ء میں انہیں نیوزی لینڈ کے خلاف ٹی ۔20 جب کہ اس کے پانچ ماہ بعد ہی جون میں نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کیا گیا اور انہوں نے پہلی ٹیسٹ وکٹ راس ٹیلر کی حاصل کی۔ اسی سال انہیں ڈیوائن براوو کی جگہ ایک روزہ ٹیم کی قیادت سونپی گئی ۔ اس وقت ان کی عمر صرف 23سال ڈھائی ماہ تھی،وہ ویسٹ انڈیز کے دوسرے اور دنیا کے 15ویں کم عمر ترین کپتان قرار پائے۔ ستمبر 2015ء میں جیسن کو ٹیسٹ ٹیم کا بھی کپتان بنا دیا گیا۔


بلی اسٹین لیک
جنوری 2017ء میں آسٹریلین ٹیم کے سلیکٹرز نے بھی ایک طویل قامت کرکٹر کو دریافت کرلیا جس کا قد 6فٹ 8 انچ ہے۔آسٹریلین کرکٹ حکام کی جانب سے اسٹین لیک کو پاکستانی کرکٹر محمد عرفان کا ہم پلہ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا تھا کہ22سالہ کرکٹر، بلی اسٹین لیک اپنے قد اور فاسٹ بالنگ کی وجہ سے آسٹریلین کرکٹ ٹیم کا عظیم اثاثہ ثابت ہوں گے۔ انہیں آسٹریلیا کا دورہ کرنے والی پاکستانی ٹیم کے خلاف ایک روزہ اسکواڈ میں شامل کیا گیا لیکن وہ پانچ میچوں کی سیریز کے صرف دو میچ کھیل سکے۔ برسبین میں ہونے والے پہلے میچ کے دوران تین اوورز کرانے کے بعد بیماری کے باعث انہیں میچ سے باہر کردیا گیا۔ دوسرے میچ میں بھی وہ شرکت نہ کرسکے جب کہ پرتھ میں کھیلے جانے والے تیسرے میچ میں انہوں نے شعییب ملک کی واحد وکٹ لی۔ چوتھے اور پانچویں میچ میں انہیں کھلایا نہیں گیا۔ جنوری 2018ء میں انہیں آئی پی ایل کی ٹیم سن رائز میں شامل کیا گیا لیکن چنائے سپر گنگز کے خلاف میچ کے دوران ان کی انگلی میں فریکچر ہوگیا، جس کی وجہ سے انہیں وطن واپس بھیج دیا گیا۔اپریل 2018ء میں انہیں 2018-19کے سیزن میں کھیلنے کے لیے آسٹریلیا کی قومی ٹیم کی جانب سے سینٹرل کنٹریکٹ دیا گیا ہے۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
25 Sep, 2018 Total Views: 3333 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
Cricket is an interesting game which is all about skills, strength and talent. A bowler needs to bowl technically to dismiss the batsman and the batsman needs to play sensibly to defend his wicket and make sure to score more runs.Let’s discuss about most tallest cricketers in history of cricket. Have a look!
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB