آپ کے خیال میں تبدیلی آگئی ہے یا انتظار باقی ہے؟

 

بچے ہمیشہ اپنے والدین کے نام سے جانے جاتے ہیں لیکن زندگی چند مواقع ایسے بھی آتے ہیں جب والدین اپنے بچوں کے نام جانے جاتے ہیں- انہی مواقعوں میں سے ایک موقع وہ ہوتا جب کوئی بچہ تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابی یا پوزیشن حاصل کرتا ہے اور اس دن پوزیشن ہولڈر کے والدین کا سر اپنے ذہین اور ہونہار بچے کی وجہ سے فخر سے اونچا ہوجاتا ہے- ایسے ہی چند مناظر 25 ستمبر 2018 کو اس وقت دیکھنے میں آئے جب کراچی انٹرمیڈیٹ بورڈ نے پری انجنئیرنگ اور جنرل سائنس کے سالانہ امتحانات برائے 2018 کے پوزیشن ہولڈرز کے ناموں کا اعلان کیا- اس موقع پر انٹرمیڈیٹ بورڈ کی جانب سے ان پوزیشن ہولڈرز طلبا کے اعزاز میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جہاں ان طلبا کو انعام و اکرام سے بھی نوازا گیا- فرسٹ٬ سیکنڈ اور تھرڈ پوزیشن حاصل کرنے والے طلبا کو بالترتیب 30 ہزار٬ 20 ہزار اور 10 ہزار روپے کے چیک دیے گئے- ہماری ویب نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے پری انجنئیرنگ کے پوزیشن ہولڈرز سے خصوصی بات چیت کی- یہ بات چیت اب نذرِ قارئین ہے تاکہ وہ بھی مستقبل کے ان معماروں کی روزمرہ کے تعلیمی امور اور ان کے خوبصورت خیالات کے بارے میں جان سکیں- واضح رہے کہ اس انٹرویو کے دوران نئی حکومت کے تبدیلی کے نعرے اور اقدامات کے حوالے سے ایک خصوصی سوال بھی کیا گیا-

سب سے پہلے ہم بات کریں گے پری انجنئیرنگ کے سالانہ امتحانات میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی خوش نصیب طالبہ حنا خادم سے- حنا خادم نے یہ پوزیشن 1100 میں سے 997 نمبر حاصل کر کے اپنے نام کی-
 


ہماری ویب: کالج کا نام؟
حنا خادم= بحریہ میڈیکل کالج-

ہماری ویب: پوزیشن حاصل کرنے پر کیا احساسات ہیں؟
حنا خادم= بہت اچھا محسوس کر رہی ہوں٬ بہت خوش ہوں اور میرے والدین بھی بہت خوش ہیں-

ہماری ویب: کیا کالج روزانہ جاتی تھیں؟
حنا خادم= جی ہاں روزانہ جاتی تھی-

ہماری ویب: کیا کوچنگ بھی جوائن کیا؟
حنا خادم= جی ہاں میں آدمجی کوچنگ سینٹر کیمپس 13 میں تھی-
 


ہماری ویب: آپ نے پری انجنئیرنگ کا انتخاب کیوں کیا؟
حنا خادم= مجھے میتھ اور کیمسٹری میں دلچسپی تھی- اس کے علاوہ اکثر لڑکیوں کا رجحان میڈیکل کی جانب ہوتا ہے لیکن میں کچھ الگ کرنا چاہتی تھی-

ہماری ویب: آپ کے خیال میں مستقبل میں پری انجئینرنگ کی فیلڈ کا کیا اسکوپ ہے؟
حنا خادم= اس کا مستقبل روشن ہے کیونکہ پری انجنئیرنگ میں بےشمار شعبے ہیں اور ہمارے ملک کو بھی اس وقت سب سے زیادہ اسی شعبے میں ترقی کی ضرورت ہے-

ہماری ویب: آپ کے والدین کیا کرتے ہیں؟
حنا خادم= میرے والد نیوی میں سیلر ہیں جبکہ والدہ ہاؤس وائف ہیں-

ہماری ویب: آپ کی نظر میں ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟
حنا خادم= ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ غربت ہے جسے ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے-

ہماری ویب: آپ کے خیال میں کیا نئی حکومت تبدیلی لے آئی ہے یا ابھی انتظار باقی ہے؟ کیا اقدامات کرنے چاہئیں؟
حنا خادم= ابھی تک کوئی تبدیلی نہیں آئی- غریب آدمی کے لیے کوئی آسانی پیدا نہیں ہوئی- حکومتی اقدامات میں تعلیم کو اہمیت ملنی چاہیے اور اسے مفت کرنا چاہیے- طلبا کو اسکالر شپ دینی چاہیے تاکہ وہ آگے بھی پڑھ سکیں-

ہماری ویب: آپ دوسرے طالبعلموں کو تعلیم میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے کے لیے کیا پیغام دیں گیں؟
حنا خادم= روز کا کام روز کریں- کالج روزانہ جائیں٬ کالج کی سطح پر ہونے والے امتحانات میں بھی لازمی شرکت کریں-

اب ہم بات کریں گے انٹر پری انجنئیرنگ کے سالانہ امتحانات میں دوسری پوزیشن کا اعزاز حاصل کرنے والے خوش نصیب طالبعلم محمد حمزہ شہاب سے- محمد حمزہ شہاب نے یہ پوزیشن 1100 میں سے 991 نمبر لے کر حاصل کی-
 


ہماری ویب: کالج کا نام؟
محمد حمزہ شہاب= آدمجی گورنمنٹ سائنس کالج-

ہماری ویب: پوزیشن حاصل کرنے پر کیا احساسات ہیں؟
محمد حمزہ شہاب= نہایت خوش ہوں اور اس موقع پر میں اپنے والدین اور اساتذہ کا انتہائی شکر گزار ہوں جن کی کاوشوں سے مجھے یہ مقام ملا-

ہماری ویب: کیا اس سے قبل بھی آپ نے کسی کلاس میں پوزیشن حاصل کی ہے؟
محمد حمزہ شہاب= اسکول میں میری ہمیشہ پوزیشن ہی آتی تھی- اور میٹرک بورڈ میں بھی میں نے 92 فیصد نمبر حاصل کیے تھے-

ہماری ویب: کیا کالج روزانہ جاتے تھے؟
محمد حمزہ شہاب= جی ہاں روزانہ جاتا تھا اور دیگر والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو لازمی روزانہ کالج بھیجا کریں کیونکہ کالج کے اساتذہ بہت محنت سے پڑھاتے ہیں-
 


ہماری ویب: آپ نے پری انجنئیرنگ کا انتخاب کیوں کیا؟
محمد حمزہ شہاب= مجھے اس میں زیادہ دلچسپی تھی اور انٹر کے بعد بھی میرا اسی شعبے کے انتخاب کا ارادہ تھا-

ہماری ویب: تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے حکومت کو کیا اقدامات کرنے چاہئیں؟
محمد حمزہ شہاب= حکومت کو چاہیے کہ طلبا کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرے اور امتحانات کا پیٹرن ایسا بنایا جائے جو کہ مکمل نصاب کا احاطہ کرسکے-

ہماری ویب: آپ کے خیال میں کیا نئی حکومت تبدیلی لے آئی ہے یا ابھی انتظار باقی ہے؟ کیا اقدامات کرنے چاہئیں؟
محمد حمزہ شہاب= تبدیلی ابھی نہیں آئی٬ ابھی ہمیں حکومت کو کچھ وقت دینا ہوگا کیونکہ ابھی بہت سے مسائل ہیں- حکومت کو چاہیے کہ وہ مسائل پر توجہ دے- بالخصوص کراچی شہر کے مسائل پر جو کہ ملک کا تجارتی مرکز بھی ہے-

پری انجنئیرنگ کے سالانہ امتحانات میں تھرڈ پوزیشن سید محمد علی رضوی نے حاصل کی تاہم چند وجوہات کی بنا پر ان سے رابطہ نہیں ہوسکا- سید محمد علی رضوی آدمجی گورنمنٹ سائنس کالج کے طالبعلم ہیں اور انہوں نے 1100 میں سے 986 نمبر حاصل کیے اور یہ پوزیشن اپنے نام کی-
 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
26 Sep, 2018 Total Views: 2396 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
Hamariweb conducted special interviews of Position holder’s students of Inter Pre-Engineering of Board of Intermediate Education Karachi (BIEK). Hina Khadim, Muhammad Hamza Shahab, and Syed Muhammad Ali Rizvi are the brilliant students as first, second and third position respectively. Position holders share their feeling on success, about their teachers, education system, parents and their time table.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB