چرنوبل پلانٹ: جہاں 24 ہزار سال تک انسان آباد نہیں ہو سکتے

 

یوکرین کی حکومت کا کہنا ہے کہ چرنوبل کے اس متروک علاقے میں لوگ آئندہ 24 ہزار سال تک آباد نہیں ہو سکیں گے لیکن وہاں اس نے جوہری توانائی کی تباہ کاریوں کے بعد اب شمسی توانائی کا پلانٹ لگایا ہے۔
 

یوکرین میں سابقہ چرنوبل جوہری پاور سٹیشن کے مقام پر ایک نیا شمسی توانائی کا پاور پلانٹ بنایا گیا ہے۔ خاردار تاروں کے درمیان سے یہ پاور پلانٹ یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔
 
یہ وہ مقام ہے جہاں سنہ 1986 میں جوہری تباہی آئی تھی۔
 
اس جوہری پلانٹ سے ریڈیو ایکٹو یعنی تابکار شعائيں نکل پڑیں تھیں جو یورپ کے بعض علاقوں کی فضا میں پھیل گئی تھیں اور جس کی وجہ سے تھائرائڈ کینسر میں اضافہ دیکھا گیا۔
 
اس پلانٹ کے پاس کے ایک ہزار مربع میل پر پھیلے وسیع علاقے کو علیحدہ رکھا گیا ہے اور یہ ممنوعہ علاقہ ہے جہاں کوئی نہیں رہتا۔
 
چرنوبل جوہری پلانٹ کے منصوبے کو واپس لے لیا گيا اور اسے سنہ 2000 میں بند کر دیا گیا۔
 
یوکرین نے اب اس بڑے متروکہ وسیع علاقے میں اپنے پہلے شمسی توانائی کے پلانٹ کا پروجیکٹ شروع کیا ہے۔

 
یوکرین کی حکومت چاہتی ہے کہ قابل تجدید توانائی کی کمپنیاں اس متروک زمین کو فروغ دیں۔
 
اس پاور پلانٹ سے اتنی بجلی پیدا ہوگی جو تقریبا دو ہزار گھروں کو توانائی فراہم کرے گی۔
 
یوکرین کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس متروک علاقے میں لوگ آئندہ 24 ہزار سال تک آباد نہیں ہو سکیں گے لیکن یہاں شمسی توانائی کے پلانٹ پر چمکتے ہوئے سورج کو دیکھا جا سکتا ہے۔


Partner Content: BBC URDU

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
10 Oct, 2018 Total Views: 6532 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
A new solar power plant has been built at the site of the former Chernobyl nuclear power station. The Chernobyl plant was the site of a catastrophic nuclear disaster in 1986.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB