آشیانہ ہاؤسنگ سکیم فراڈ کیسے کیا گیا؟

(Mian Khalid Jamil {Official}, Lahore)

یہ سوال تقریبا ہر کوئی جاننا چاھتا ہے لیکن مکمل انفارمیشن شائد کسی کو بھی نہیں- جب بھی خبر منظر عام پر آئی تو وہ ٹکڑوں کی صورت میں آئی ساری بات کسی نےنہیں بتائی- میں شہباز شریف کے لگائے ہوئے قوم کے ساتھ اس فراڈ کے بارے آسانی سے بتانے کی کوشش کرتا ہوں کیونکہ ٹیکنیکل طریقے سے فراڈ کرنے کی یہ کوشش کی گئی۔

احد چیمہ ایل ڈی اے کا ڈائریکٹر جنرل تھا- شہباز شریف نے آشیانہ ہاؤسنگ سکیم شروع کی اور اخبار میں ٹینڈر دیا گیا- ٹینڈر دینے کا طریقہ یہ ہوتا کہ پیپرا کے رولز کے مطابق کچھ سپیسیفیکیشن پوری کرکے پیپرا کو ڈیٹا دیا جاتا ہے اور پھر پیپرا اس ٹینڈر کو اخبار میں اشتہار کی صورت میں اردو اور انگلش اخبار میں پبلش کرتی ہے چنانچہ پیپرا نے ٹینڈر جاری کیا اورٹینڈر میں مختلف کوٹیشنز جمع ہوئی اور مکمل پراسس کے بعد یہ ٹینڈر "چوہدری لطیف اینڈ سنز" کو مل گیا- اب یہاں سے اصل گیم شروع ہوتی ہے-

یہاں سے سٹوری میں اینٹری " سعد رفیق" کی ہوتی ہے- شہباز شریف نے اپنی ھم برادری اور ھم سیاسی ھم آھنگی کے تحت سعد رفیق کو نوازنے کیلئے ایک میٹنگ بلائی جس میں ڈی جی ایل ڈی اے نے بھی شرکت کی فواد حسن فواد بھی اس میٹنگ میں شریک تھا- اور اس میٹنگ میں شہباز شریف نے حکم دیا کہ آشیانہ ہاؤسنگ سکیم کا ٹینڈر "چوہدری لطیف اینڈ سننز" سے کینسل کرنے کا حکم دیا- چنانچہ یہ ٹینڈر کینسل کردیا گیا۔ چوہدری لطیف نے اس کے خلاف عدالت میں کیس کردیا اور عدالت نے ٹینڈر چوہدری لطیف کو دینے یا پھر ڈیل کی منسوخی کی صورت میں "چوہدری لطیف اینڈ سننز" کو انیس کروڑ کا معاوضہ اور پچاس لاکھ کلیم کے طور پر دینے کا حکم دیا- چنانچہ یہ ڈیل کینسل کردی گئی- اور انیس کروڑ پچاس لاکھ اس قوم کے پیسے سے چوہدری لطیف اینڈ سننز کو دے کر جان چھڑائی گئی۔ اب شہباز شریف ایل ڈی اے کا کوئی سی ای او یا ڈی جی وغیرہ تو نہیں تھا اور قانون کے مطابق شہباز شریف اس حکم کو دینے کا مجاز نہیں تھا-اور نہ ہی ان معاملات میں دخل اندازی کرسکتا تھا- سرکاری ملازم جتنا کرپٹ ہو اتنا ہی زیادہ سیانا ہوتا ہے- فواد حسن فواد اور احد چیمہ جانتے تھے کہ یہ سب وہ غلط کررہے ہیں۔ اور کسی بھی وقت پکڑے جاسکتے ہیں لہذا انہوں نے اس سارے حکم نامے اور کاروائی کو ریکارڈ کیا اور شہباز شریف کی ساری کالیں ریکارڈ کی- ٹرینینگ کے دوران سب سے پہلے یہی چیز ایک گورنمنٹ ایمپلائی کو سکھائی جاتی ہے کہ دوران ایسے عمل سے اپنے آپکو کیسے بچاناھے -

اس میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ آشیانہ ہاوسنگ سکیم کو فائدہ دینے کیلئے ٹھیکہ کسی لوکل کمپنی کو دیا جایا جائے تاکہ ہمارے ملک کی کمپنیاں بھی ترقی کریں- چنانچہ لاہور کاسا ڈویلپر کے نام سے ایک کمپنی کو اس شرط پر ٹینڈر دیا گیا کہ حکومت کاسا ڈویلپرز کو گھر بنانے کا معاوضہ نہیں دے گی بلکہ معاوضے کے طور ایک ہزار کنال زمین دے گی- یعنی ٹوٹل تین ہزار کینال زمین میں سے دو ہزار کینال زمین پر پانچ سو فلیٹ بنائے گی اور باقی ایک ہزار کنال زمین کاسا ڈویلپرز کو معاوضے کے طور پر دی جائے- یہ اس نوعیت کی دنیا کی پہلی ڈیل تھی- جس میں معاوضہ پیسے کی صورت میں نہیں بلکہ زمین کی صورت میں دیا گیا- جو لوگ کامرس کے طالب علم ہیں انکو اپریسی ایشن اور ڈیپری سی ایشن کا پتہ ہوگا کہ ایسی چیز جس کی ویلیو وقت کے ساتھ کم ہوجائے اس کو ڈیپری سی ایشن کہتے ہیں جبکہ جس کی ویلیو وقت کے ساتھ زیادہ ہوجائے اس کو ایپری سی ایشن کہتے ہیں- پیسہ ایسی چیز ہے جس کی ویلیو وقت کے ساتھ کم ہوتی ہے جبکہ زمین ایسی چیز ہے جس کی ویلیو وقت کے ساتھ بڑھ جاتی- اب آپ کو سمجھ لگ گئی ہوگی کہ دنیا کی یہ انوکھی ڈیل پیسے کی بجائے زمین کی صورت میں کیوں کی گئی-بعد میں اسی زمین کو بینک میں گروی رکھ کر اس زمین کے عوض کتنا پیسہ بینکوں سے لیا گیا وہ ایک علیحدہ سکینڈل ہے۔ اور اس زمین پر مکانات بنانے کی بجائے اسی ادھار پیسے سے آشیانہ سکیم کے سامنے ایک سوسائٹی جس کا نام پیراگون ہاوسنگ سوسائٹی تھا اس کو تعمیر کیا جاتا رہا- اور یہ زمین آج بھی اسی طرح ہی بنجر پڑی رہی۔

لاہور کاسا ڈویلپرز کمپنی ایک جعلی کمپنی تھی جو کہ جان بوجھ کر کسی چیز کو چھپانے کے لیئے ایک آف شور کے طور پر بنائی گئی تھی- جھول دینے کے لیئے کاسا ڈویلیپرز میں تین پارٹنر بنائے گئے- ان پارٹنر کی جو کمپنیاں اس میں ظاہر کی گئی ان کمپنیوں کے نام مندرجہ ذیل تھے- ایک پارٹنر کا نام بسم اللہ ڈویلپرز ،دوسرے پارٹنر کا نام سپارکو ڈویلپرز اور تیسرا پارٹنر ایک چایئنز تھا اور یہ کمپنی ایک چایئنز کے نام سے شامل کی گئی تھی- بسم اللہ ڈویلپر کا اس میں شیئر 92 فیصد جبکہ سپارکو ڈویلپرز کا شیئر ۷ فیصد جبکہ چاینئز کمپنی کا شیئر صرف ایک پرسنٹ رکھا گیا تاکہ کسی کو شک نہ پڑے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ جیسے یہ بھی سی پیک کا حصہ ہے تاکہ بالفرض اگر تحقیقاتی ادارے اس فراڈ کو پکڑتے ہیں تو یہ فورا سی پیک کو خطرے کا رولا ڈال دیں اور چیف منسٹر سی پیک کو خطرے کی بو محسوس کرتے ہوئے تحقیقات رکوا سکیں۔۔ جبکہ ان تینوں سب کمپنیوں اور مین کمپنی لاہور کاسا ڈویلپرز کمپنی کے پیچھے کوئی اور نہیں بلکہ خواجہ سعد رفیق تھا- یہ کمپنیاں اسی کی تھی- جس نے جعلی ناموں سے بنا کر دھول جھونکنے کی کوشش کی-

اب یہ سازش پکڑی کس طرح گئی- انجینئرز کو پاکستان انجینئرنگ کونسل کی طرف سے ایک "سپروائزری لائسنس" ملتا ہے جو کہ تجربے کے لحاظ سے ہوتا ہے- جس کو مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کیا جاتا ہے- ان کیٹیگریز کو C1,C2,C3 سے لیکر C6 میں تقسیم کیا جاتا-ہر کیٹگری کو ایک خاص حد پیسوں کے کے لحاظ سے زیادہ کا کنٹریکٹ نہیں دیا جاسکتا- جیسے C5 کیٹگری میں آنے والا 6 کروڑ تک کا ٹھیکہ گورنمنٹ سے اٹھا سکتا ہے- اس سے زیادہ کا ٹھیکہ اس لیئے نہیں اٹھا سکتا کیونکہ ایک کیٹگری سے ہایئر کیٹگری میں جانے کے لیئے آپکو تجربے کی ضرورت ہوتی اور اس کے علاوہ آپ نے ماضی میں جتنے پراجیکٹ کامیابی سے ختم کئیے ہونگے وہ بھی اس میں شامل ہوتے ہیں۔ شہباز شریف سے غلطی یہ ہوئی کہ اس نے پیسے کمانے کی لالچ میں جلد بازی میں لاہور کاسا ڈویلپرز کی کیٹگری کو بہتر نہیں بنایا یا کوئی جھوٹے سرٹیفیکیٹ لگا کر ہی تجربہ پورا کردیتا یوں ایک لو کیٹگری والی کمپنی کو ایک ہائی کیٹگری والا ٹھیکہ دے دیا گیا- یہ کمپنی صرف دس کروڑ کی کیٹیگری کی تھی لیکن اس کو 24 بلین روپے کا ٹھیکہ دے دیا گیا اور بعد میں یہی ٹھیکہ اس کے گلے پڑگیا۔ نیب نے اس ٹھیکے کی بے ضابطگی پر تحقیق کرنے کے لیئے اس کمپنی کو پکڑا لیکن اس کمپنی کی جب تحقیق کی تو اس کے پیچھے یہ اوپر بیان کیا گیا ڈرامہ نکلا- اور یوں خواجہ سعد رفیق تک کھرے باآسانی پہنچ گئے-

2011ء میں دیا گیا یہ پراجیکٹ ابھی تک شروع نہیں ہوا- لیکن اس آشیانہ ہاؤسنگ سکیم کے ساتھ ایک سوسائٹی پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی- کرپشن کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے آپ نے جس جگہ کوئی منصوبہ بنانا ہو اس اسکے اردگرد کی زمین کوڑیوں کے بھاؤ خرید لو اور پھر اس کے قریب ایک گورنمنٹ کی بلڈنگ بنا دو اور یوں اسی کوڑیوں کے بھاؤ خریدی ہوئی زمین کی قیمت کروڑوں تک پہنچ جاتی ہے- یہ سکیم استعمال کرتے ہوئے 64 ہزار غریبوں کا نقصان کرکے آشیانہ ہاؤسنگ سکیم جو ابھی بھی نامکمل پڑی ہے لیکن اس کے ساتھ والی پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک پلاٹ ڈیڑھ کروڑ سے کم مالیت کا نہیں اور 33 ارب کا یہ پراجیکٹ اب 210 ارب تک پہنچ چکا ہے لیکن پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی دن دگنی رات چوگنی ترقی کررہا ہے-

اس سارے ڈرامے میں احد چیمہ، فواد حسن فواد پھر شہباز شریف اور اس کے بعد خواجہ سعد رفیق کی باری ہوگی- اگر نیب یہ کام سعد رفیق سے شروع کرتی تو نیب کے ہاتھ کچھ نہیں آنا تھا لہٰذا احد چیمہ کو آمدن سے زیادہ اثاثون پر پکڑا تو ایک اثاثہ زمین جو کہ پیرا گون کی تھی اور اس کی ادائیگی بھی پیراگون کے اکاونٹ سے کی گئی تھی یوں احد چیمہ کو زبان کھولنی پڑی- احد چیمہ بولا تو فواد حسن فواد کی باری آئی جس نے یہ ٹھیکہ چوہدری لطیف اینڈ سنز سے منسوخ کرکے کاسا ڈویلپرز کو دیا- یہ غیر قانونی تھا- نیب نے فواد حسن فواد کو اٹھایا- فواد حسن فواد سے پوچھا گیا کہ اس نے ٹھیکہ کینسل کیوں کیا تو اس نے بتادیا کہ مجھے شہباز شریف نے ایسا کرنے کو کہا اور ثبوت کے طور پر وہ ریکارڈ ٹیلی فون کال شہباز شریف کے سامنے رکھ دی اور یوں شہباز شریف کو گرفتار کرلیا گیا- اب اگلی باری ایک اور اھم مجرم خواجہ سعد رفیق کی ہے-

یہ ہیں شہباز شریف جنہوں نے کل عرصہ اپنے آپکو خادم اعلی پیش کیا جو اپنے کو توبہ نعوذ باللہ دور حاضر کا خلیفہ "حضرت عمر فاروق" کہلانے کیلئے ایک خاتون رائٹر کے نام سے سر ورق پر اپنی تصاویر لگوا کر دو عدد جلدوں پر مشتمل کتابیں شائع کراوائیں- اب آپکو سمجھ آگئی ہوگی کہ قومی خزانے کی بندر بانٹ کس بیدردی سے کی گئی چونکہ اب کیسز چلنا شروع ھوچکے یوں اب باری باری قانونی گرفت کا شکنجہ بلا امتیاز سب پر کسا جائے گا-
 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
09 Oct, 2018 Total Views: 348 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Mian Khalid Jamil {Official}

Independent social, electronic, print media observer / Pak Army & ISI defender/ Professional Columnist, Analyst.. View More

Read More Articles by Mian Khalid Jamil {Official}: 235 Articles with 87771 views »
Reviews & Comments
SucThe rulers who betray the people and the nation and make the country the Grey listed yell on the media and cry daily with their looters aids and their bought media houses who are almost defaulters of billions of taxes. Such people deserved for more rigorous punishment but are freed mostly like the mian, doctor asim, eaters of 80 billion of the Larkana and much more.
Their crimes and the nature of their crimes must be evaluated and how they looted the Pakistan and betrayed the their oaths and deserved for higher punishments.
By: Mohammad Baig, Rawalpindi on Oct, 10 2018
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB