حکومت کو درپیش چیلنجز

(Haq Nawaz Jilani, Islamabad)

ایک دفعہ ایک گھوڑا ایک گہرے کنویں میں جا گرا اور زور زور سے آوازے نکالنے لگا‘گھوڑے کا مالک کسان تھا جو کنویں کے کنارے پہ کھڑا اسے بچانے کی ترکیبیں سوچ رہا تھا‘جب اسے کوئی طریقہ نہیں سوجھا تو ہار مان کر دل کو تسلی دینے لگا کہ گھوڑا تو اب بوڑھا ہو چکا ہے، وہ اب میرے کام کا بھی نہیں رہا، چلو اسے یوں ہی چھوڑ دیتے ہیں اور کنویں کو بھی آخر کسی دن بند کرنا ہی پڑے گا، اس لیے اسے بچا کر بھی کوئی خاص فائدہ نہیں‘یہ سوچ کر اس نے اپنے پڑوسیوں کی مدد لی اور کنواں بند کرنا شروع کر دیا۔سب کے ہاتھ میں ایک ایک بیلچہ تھا جس سے وہ مٹی، بجری اور کوڑا کرکٹ کنویں میں ڈال رہے تھے گھوڑا اس صورت حال سے بہت پریشان ہوا۔اس نے اور تیز آواز نکالنی شروع کر دی،کچھ ہی لمحے بعد گھوڑا بالکل خاموش سا ہو گیا۔جب کسان نے کنویں میں جھانکا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ جب جب گھوڑے کے اوپر مٹی اور کچرا پھینکا جاتا ہے تب تب وہ اسے جھٹک کر اپنے جسم سے نیچے گرا دیتا ہے اور پھر گری ہوئی مٹی پر کھڑا ہو جاتا ہے۔یہ سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہا۔کسان اپنے پڑوسیوں کے ساتھ مل کر مٹی اور کچرا پھینکتا رہا اور گھوڑا اسے اپنے بدن سے ہٹا ہٹا کر اوپر آتا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے کنویں کے اوپر تک پہنچ گیا اور باہر نکل آیا۔یہ منظر دیکھ کر کسان اور اس کے پڑوسی سکتے میں پڑ گئے ۔ان کی حیرانی قابل دید تھی۔اس غیر متوقع نتیجے پر وہ گھوڑے سے بھی بڑھ کر مجسمہ حیرت بنے ہوئے تھے۔

زندگی میں ہمارے ساتھ بھی ایسے واقعات رونما ہو سکتے ہیں کہ ہمارے اوپر کچرا اچھالا جائے،ہماری کردار کشی کی جائے،ہمارے دامن کو داغدار کیا جائے،ہمیں طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جائے،لیکن گندگی کے اس گڑھے سے بچنے کا طریقہ یہ نہیں کہ ہم ان غلاظتوں کی تہہ میں دفن ہو کر رہ جائیں،بلکہ ہمیں بھی ان بے کار کی چیزوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اوپر کی طرف اور آگے کی سمت بڑھتے رہنا چاہیے۔زندگی میں ہمیں جو بھی مشکلات پیش آتی ہیں وہ پتھروں کی طرح ہوتی ہیں مگر یہ ہماری عقل پر منحصر ہے کہ آیا ہم ہار مان کر ان کے نیچے دب جائیں یاان کے اوپر چڑھ کر مشکل کے کنویں سے باہر آنے کی ترکیب کریں۔خاک ڈالنے والے ڈالتے رہیں مگر پرعزم انسان اپنا راستہ کبھی نہیں بدلتا۔

اﷲ تعالیٰ نے آج تک کوئی ایسا مسئلہ پیدا نہیں کیا ہے جس کا حل موجود نہ ہوبلکہ اس کا حل پہلے پیدا کیا جاتا ہے اور مسئلہ بعد میں۔ اب یہ ہم انسانوں پر منحصر ہے کہ ہم مسائل کو کیسے حل کرتے ہیں یا ہا ر مان جاتے ہیں ۔ تحر یک انصاف کی حکومت سے امید یہ تھی کہ ان کے آنے سے روایتی سیاست اور سوچ کا خاتمہ ہوگا ابھی ابتدائی دن ہے ہم یہ تو نہیں کہتے کہ تحریک انصاف کی حکومت ناکام ہوئی یا ان کی سوچ اور فکر درست نہیں لیکن بعض فیصلوں سے محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے بھی روایتی سیاست شروع کی ہے یعنی جو بھی اقتصادی مشکلات درپیش ہے ان کا بوجھ عام آدمی پر ڈالا جائے جس کی مثال ہمارے سامنے گیس ، بجلی مہنگی کرنے کی صورت میں نظر آرہی ہے ۔ اگر گیس کو سی این جی اور روٹی تنورو ں پر مہنگا نہ کرتے تو درست تھا۔ سی این جی سے ٹر انسپورٹ چلتی ہے اور تنور سے عام مزدور روٹی کھاتا ہے۔ اس طرح بجلی میں پہلے بھی مختلف ٹیکس شامل ہے اس کو ختم کرنے کی بجائے بجلی مزید مہنگی کردی گئی ہے جس سے عام آدمی براہ راست متاثر ہوگا۔ بجلی لوڈ شیڈنگ سمیت بلوں کی ادائیگی پر فوکس کرنا چاہیے تھا کہ ہر تحصیل کو ذمہ داری دی جاتی جو ناکام رہتا اس افسر کو فارغ کیا جاتا ۔ تمام چوری ایک مہینے کے اند ر اندر ختم ہوسکتی ہے جس سے پانچ سو ارب کا فائدہ ہوتا ۔ اس طرح یہ حکم تمام اداروں کو دی جاتی ، اچھے لوگ ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔ دوسرا ٹیکس جمع کرنے پر توجہ دی جاتی یعنی عوام ہر دو روپے کی چیز پر ٹیکس دیتے ہیں لیکن یہ ٹیکس آگے جمع ہوتا بھی ہے ؟ اس کا جواب اگر نفی میں نہیں تو کم ازکم نفی کے برابر ضرور ہے۔ اس طرح مختلف پورٹس پر ٹیکس چوری سمیت کرپشن روکی جاتی ۔تیسرا جن افسران پر کرپشن الزامات ہے ان سے وصولی کی جاتی ۔جہاں جہاں اداروں میں کر پشن اور لوٹ مار کی وجہ سے ادارے نقصان میں ہے وہاں ایکشن لیا جاتا کہ وہ نقصان ختم ہو اور ادارے درست سمت گامزن ہو۔ چوتھا جو رقم بیرونی ممالک منتقل ہورہی ہے اس کی روک تھام کی جاتی ۔ ایف بی آر میں چوری اور کرپشن ختم کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کیے جاتے۔سربراہوں کو دوسرے اداروں سے نہیں بلکہ اپنے ہی اداروں سے لگانا چاہیے ۔جو اپنے شعبے کا ماہر ہو۔

آئی ایم ایف کے پاس جانا کوئی برئی روایت نہیں سب اقتصادی ماہرین کی رائے یہ تھی کہ قر ض لیا جائے تاکہ کم ازکم گردشی قرضے اور ائی ایم ایف کو قر ض واپس کیا جاسکیں لیکن میں اس تھیوری اور فیصلے کے خلاف ہوں کہ آئی ایم ایف سے مزید قر ض لیا جائے جس کی خود پی ٹی آئی پہلے خلاف تھی لیکن روایتی سیاست کا مظاہر ہ کرتے ہوئے اسد عمر نے ان ہی لو گوں سے مشورہ لیا جو آئی ایم ایف سے قر ض لینے کے حق میں تھے ۔ ان سے مشورہ لیا جاتا جو دوسرے آپشن پیش کرتے ۔ یہ واقعی آسان نہیں کہ ملک جس دلدل میں پھنس ہوا ہے ان کو نکالنے کیلئے بڑے فیصلے کرنے پڑیں گے لیکن وہ فیصلے قر ضہ لینا کا نہ ہو۔ قر ض زیادہ ضروری تھا تو اپنے بنکوں سے لیا جاتا ساتھ میں چین سمیت اسلامی ممالک خاص کر سعودی عرب کے ساتھ مزید بات چیت ہوتی ان سے قرضہ لیا جاتا۔حکومت کو ترقیاتی کاموں یعنی سڑ کوں ، پلوں پر پیسہ خرچ کرنے بجائے ضروری کاموں کیلئے پیسہ دینا چاہیے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ ماضی کی طرح قر ضوں سے سڑکے ، پل اور میٹرو بنائی جائے ۔ روایتی سیاست ، سوچ اور افسروں نے ماضی کے حکومتوں کو بھی ڈوبویا ہے آج بھی وہی کچھ ہو رہاہے جو کہ حکومت کیلئے نیک شگون نہیں ۔ وزیر اعظم کی نیت پر شک نہیں لیکن وزیراعظم عمران خان کو اپنی ایک بات یا د رکھنی چاہیے کہ پی ٹی آئی کو کوئی آور شکست نہیں دے سکتا ۔پی ٹی آئی کو پی ٹی آئی ہی شکست دے گی ‘بس اس دن سے ڈرنا چاہیے۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
12 Oct, 2018 Total Views: 226 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Haq Nawaz Jillani

I am a Journalist, writer, broadcaster,alsoWrite a book.
Kia Pakistan dot Jia ka . Great game k pase parda haqeaq. Available all major book shop.
.. View More

Read More Articles by Haq Nawaz Jillani: 249 Articles with 83778 views »
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB