46 حافظ قرآن بچوں کی انوکھی ماں، جس نے بچوں کی بہترین تربیت کے انوکھے راز بتا دیے

image
 
ہمارے معاشرے میں اکثر والدین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اپنے کسی ایک بچے کو ضرور حافظ قرآن بنائيں تاکہ وہ مرنے کے بعد بارگاہ خداوندی میں سرخرو ہو سکیں لیکن جن کے بچے قرآن حفظ کرتے ہیں وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ دنیاوی تعلیم کے مقابلے میں بچے کو قرآن حفظ کروانا آسان کام نہیں ہے-
 
آج ہم آپ کو ایک ایسی خاتون کے بارے میں بتائيں گے جن کے خاندان میں 46 نہ صرف حافظ قرآن موجود ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ سب پی ایچ ڈی اسکالر بھی ہیں- ان کے خاندان میں ہر نو سال کا بچہ حافظ قرآن ہوتا ہے اور یہ بات سننے میں تو آسان لگتی ہے لیکن حقیقت میں یہ عمل ایک طویل جدوجہد کا نتیجہ ہے-
 
جنابہ رضيہ مدنی آپا جی
جنابہ رضيہ مدنی جن کو لوگ آپا جی کے نام سے جانتے ہیں ان کے شوہر کا نام مولانا عبدالرحمن مدنی ہے جو معروف اسکالر ہیں- آپا جی کے والد عبداالرحمن کلانی معروف مفسر قرآن و کاتب قرآن ہیں جن کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ان کے ہاتھ کا تحریر کردہ قرآن کے نسخے کی کاپی دنیا بھر کے مسلمانوں کو حج کے بعد سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے بطور تحفہ دیا جاتا ہے جو کہ ایک بہت بڑے اعزاز کی بات ہے-
 
خاندان کے تمام بچوں کے حافظ قرآن کا سبب
آپا جی کا یہ کہنا ہے کہ ان کو اللہ نے دس بچوں سے نوازہ ہے ان کے خاندان میں بچوں کی قرآنی تعلیم کا آغاز 4 سال کی عمر سے کر دیا جاتا ہے- ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اپنے بچوں کو قرآن حفظ کروانے کے دوران پندرہ سال کے عرصے میں انہوں نے بچوں کی تعلیم کے علاوہ دنیا کی کسی اور چیز کو نہیں دیکھا-
 
image
 
آپا جی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ بچوں کو قرآن حفظ کروانے کے دوران انہوں نے بچوں کے ساتھ ساتھ ایک ایک لفظ خود بھی حفظ کیا-
 
پندرہ سال کے دوران ان کی واحد چھٹی دو ہفتوں کے بعد اپنی والدہ کے ساتھ ملاقات ہوا کرتی تھی اس کے علاوہ ان کے دیگر عزيز و اقارب کو جب ان سے ملنا ہوتا تھا وہ خود ان کے پاس آجاتے تھے- ان کی واحد مصروفیت بچوں کے کھانے پینے ان کے سونے جاگنے اور ان کی تربیت کا اہتمام تھا جس کے سبب ان کے دس کے دس بچے حافظ قرآن کے ساتھ ساتھ اسکالر بھی بنے-
 
اگلی نسل کی تربیت
بچوں کی تربیت کا سلسلہ انہوں نے اپنی ایک نسل تک ہی محدود نہ رکھا بلکہ اپنی اگلی نسل تک بھی منتقل کیا اس کے لیے انہوں نے اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کے لیے ایسے رشتے تلاش کیے جو کہ بہت امیر نہیں تھے بلکہ رشتے کے لیے ان کی سب سے پہلی ترجیح دین تھی-
 
جس کے سبب صرف ان کی نسل نہیں بلکہ حفظ قرآن کا یہ سلسلہ ان کی اگلی نسلوں تک جاری رہا اور اب ان کے خاندان میں 46 حفاظ قرآن موجود ہیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے کہ ان کے خاندان کا ہر بچہ 9 سال کی عمر تک حافظ ہوتا ہے-
 
یہاں تک کہ اب ان کی پوتی بروہ طاہر نے او لیول میں اسلامک اسٹڈیز میں دنیا بھر میں ٹاپ کیا ہے جو کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے خاندان کے بچے دین اور دنیا دونوں طرح کی تعلیم سے آراستہ ہیں-
 
آپا جی کی دینی خدمات
آپا جی سال 1989 سے لاہور میں اسلامک اسٹڈيز کے نام سے ایک دینی تعلیمی ادارہ چلا رہی ہیں جہاں پر بچیوں کو قرآن حفظ کروانے کے ساتھ ساتھ تفسیر قرآن کی تعلیم بھی دی جاتی ہے- اس کے علاوہ وہ یوٹیوب پر دینی لیکچرز کا بھی اہتمام کرتی ہیں اپنے سخت ترین شیڈول کے باوجود آپا جی وقت کی پابند ہین اور پرویز مشرف دور میں بطور ایم پی اے سیاست میں بھی حصہ لے چکی ہیں-
 
image
 
ماؤں کے لیے نصحیت
آپا جی کا تمام مسلمان ماؤں کے لیے جو کہ اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرنے کی خواہاں ہے پیغام یہی ہے کہ بچوں کو ایک سایہ دار درخت بنانے کے لیے سخت محنت کی ضرورت ہوتی ہے-
 
بچوں پر کی جانے والی محنت آنے والے وقت میں پھل کی صورت میں ملتی ہے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اچھی تربیت کے لیے ضروری ہے کہ ماں اور باپ بچوں کی تربیت کے حوالے سے ایک پیج پر ہوں اور باہمی مشاورت سے فیصلے کریں-
 
بچوں کو سب سے زيادہ ضرورت اپنی ماں کے وقت اور توجہ کی ہوتی ہے اگر بچے کو یہ تمام چیزيں فراہم کی جائيں تو کوئی وجہ نہیں کہ بچہ دین اور دنیا دونوں جگہ کامیابی حاصل نہ کرے-
YOU MAY ALSO LIKE: