دنیا کے بہترین پاسپورٹ اور وہ 32 ممالک جہاں پاکستانی شہری بغیر ویزے کے بھی جاسکتے ہیں

image
 
دنیا بھر کے ممالک میں رہائش اور شہریت کے حوالے سے سروسز فراہم کرنے والی لندن کی معروف فرم ہینلے گلوبل نے دنیا بھر کے پاسپورٹس پر ایک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ 106ویں نمبر پر ہے اور دنیا کا چوتھا ’بدترین‘ پاسپورٹ قرار دیا گیا ہے۔
 
بدترین پاسپورٹ کی رینکنگ میں پاکستان سے نیچے صرف تین ممالک ہیں جن میں شام، عراق اور افغانستان شامل ہیں۔
 
اور دنیا بھر میں محض 32 ممالک ایسے ہیں جہاں پاکستانی پاسپورٹ کے حامل افراد ’ویزا آن آرائیول‘ یعنی اس ملک کے ائیرپورٹ پر پہنچ کر ویزا حاصل کر سکتے ہیں (بشرطیکہ وہ تمام ضوابط پر پورے اترتے ہوں) یعنی ان ممالک میں جانے کے لیے پہلے سے ویزہ لینے کی ضرورت نہیں۔
 
ہمسائیہ ملک انڈیا اس فہرست میں 85ویں نمبر پر ہے اور انڈین پاسپورٹ کے حامل افراد 59 ممالک میں بغیر پیشگی ویزا کے سفر کر سکتے ہیں۔
 
ہینلے پاسپورٹ انڈیکس 199 مختلف پاسپورٹس کی ویزا فری رسائی کا 227 سفری مقامات سے موازنہ کرتا ہے۔ اگر کسی ملک کے پاسپورٹ کے لیے کہیں بھی ویزا کی ضرورت نہیں ہے، تو اس پاسپورٹ کو ’ایک‘ کا سکور دیا جاتا ہے۔
 
اور یہی فارمولا اس صورت میں بھی لاگو ہوتا ہے اگر آپ کسی پاسپورٹ پر ویزا آن آرائیول، وزیٹر پرمٹ، یا الیکٹرانک ٹریول اتھارٹی (ای ٹی اے) کے ذریعے ویزا حاصل کر سکتے ہوں۔
 
2023 میں دنیا کے سب سے بہترین پاسپورٹ
 
image
 
ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کے حساب سے دنیا کے سب سے بہترین پاسپورٹ ان ممالک کے ہیں:
 
جاپان (اس ملک کا پاسپورٹ رکھنے والے افراد 193 ممالک کا سفر بغیر کسی ویزا کے کر سکتے ہیں)
سنگاپور، جنوبی کوریا (192 ممالک)
جرمنی، سپین (190 ممالک)
فن لینڈ، اٹلی، لگژمبرگ (189 ممالک)
آسٹریا، ڈنمارک، نیدرلینڈز، سویڈن (188 ممالک)
فرانس، آئرلینڈ، پرتگال، برطانیہ (187 ممالک)
بیلجیم، نیوزی لینڈ، ناروے، سوئٹزرلینڈ، امریکہ، جمہوریہ چیک (186 ممالک)
آسٹریلیا، کینیڈا، یونان، مالٹا (185 ممالک)
ہنگری، پولینڈ (184 ممالک)
لتھوینیا، سلوواکیہ (183 ممالک)
 
پاکستانی پاسپورٹ کے حامل افراد کن 32 ممالک مں پہنچ کر ’ویزا آن آرائیول‘ کی سہولت سے مستفید ہو سکتے ہیں؟
 
image
 
پاکستانی پاسپورٹ کے حامل افراد اوپر دی گئی فہرست میں شامل 32 ممالک میں پہنچ کر ویزا آن آرائیول حاصل کر سکتے ہیں مگر اس کے لیے چند شرائط پر پورا اترنا ضروری ہے۔
 
مثلاً سیاحت کے لیے مالدیپ جانے کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے ضروری ہے کہ:
ان کے پاسپورٹ کی معیاد ختم ہونے میں کم از کم ایک مہینہ باقی ہو
30 دنوں کے اندر اندر واپسی کا ٹکٹ موجود ہو، یا اگر وہاں سے آگے کسی اور ملک کا سفر کرنا ہے تو وہاں کا ٹکٹ موجود ہونا ضروری ہے
رہائش کے لیے ہوٹل یا ریزارٹ کی جانب سے بکنگ کی تصدیق یا مالدیپ میں اخراجات پورا کرنے کے لیے کافی فنڈز کا ثبوت فراہم کرنا ضروری ہے (کم از کم 150 ڈالر یومیہ نقد یا بینک سٹیٹمنٹ)۔
اس کے علاوہ مشرقِ وسطی میں قطر بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں پاکستانی شہریت کے حامل افراد پہنچ کر ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔
 
image
 
اس کے لیے ضروری ہے کہ:
 
آپ کے پاسپورٹ کی معیاد ختم ہونے میں کم از کم چھ مہینے باقی ہوں
آپ کے پاس پولیو کارڈ ساتھ ساتھ واپسی کا ٹکٹ موجود ہو
آپ کے پاس قطر میں رہائش کا ثبوت یا ہوٹل کی بکنگ کی تصدیق موجود ہو
آپ کے بینک یا کریڈٹ کارڈ میں قطر میں رہائش اور کھانے پینے وغیرہ کے اخراجات کے لیے رقم موجود ہو
 
اگر آپ اوپر دیے گئے 32 ممالک کی فہرست میں سے کسی بھی ملک میں جا کر ویزا حاصل کرنا چاہتے ہیں تو سفر کرنے سے قبل اس ملک کے سفارت خانے کی ویب سائٹ سے ضروری کاغذات اور شرائط کے متعلق معلومات ضرور حاصل کر لیجیے گا، بصورت دیگر ایسا نہ ہو کہ آپ کو ائیرپورٹ سے ہی واپس لوٹا دیا جائے۔
سنہ 2010 سے 2020 کے درمیان اس طرح کے شدید موسمی واقعات میں 1312 افراد ہلاک ہوئے اور تقریباً 400 دیہات کو رہائش کے لیے غیر محفوظ قرار دیا گیا ہے۔
 
Partner Content: BBC Urdu
YOU MAY ALSO LIKE: