کیا پاکستان میں ہوم اسکولنگ ممکن ہے؟

اُستاد اور شاگرد کا رشتہ عرصہ دراز سے ختم ہو چکا ہے۔ اب تو ایک ملازمت پہ ٹیچر ہے اور ایک پیڈ سروس کا طالب ۔ پڑھائی محض نوکری کے لیئے کی جاتی ہے. اس نئے دور کے استاد کا بچوں کی تربیت منشور نہیں رہا۔ تربیت صرف ماں کرتی ہے۔ سو معلموں کے برابر ایک اچھی ماں ہوتی ہے۔ جبکہ آج کی ماں کے پاس بچوں کی تربیت کا وقت ہی نہیں ہے۔ یو ٹیوب ٹک ٹاک ہی ‘تربیت‘ کر رہے ہیں۔

مہذب معاشروں میں اب ہوم اسکولنگ کا تصور عام ہوتا جا رہا ہے. امریکہ، یورپ تو کیا انڈیا تک میں ہوم اسکولنگ کے حق میں قوانین پاس ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں اگرچہ حکومتی سطح پر ہوم اسکولنگ کے لیے باقاعدہ کوئی ٹھوس پالیسی اور قوانین ابھی تک نہیں بنے البتہ معاشی طور پر خوشحال طبقات میں ہوم اسکولنگ بتدریج پنپ رہی ہے.

مختصر الفاظ میں ہوم اسکولنگ روایتی تعلیم کے برعکس بچوں کو گھر پر تعلیم دینا ہے۔ اس میں والدین ہی استاد، پالیسی ساز، نصاب ساز، فزیکل انسٹرکٹر، سکاؤٹ لیڈر اور پرنسپل ہوتے ہیں۔ گویا ہوم اسکولنگ کا دارومدار اس بات پر منحصر ہے کہ والدین یہ سب ذمہ داریاں کس حد تک اور کس خوش اسلوبی سے ادا کر سکتے ہیں۔ والدین اپنے بچوں کی دلچپسیوں، رحجانات، نفسیات اور جمالیات کو مدنظر رکھتے ہوئے نصاب مرتب کرتے ہیں۔ ایسا نصاب بچوں کے تخیل و تصور کو ترقی دیتا ہے اور ذہنی، جسمانی اور نفیساتی تربیت مہیا کرتا ہے۔ بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشتا ہے۔

تعلیم کا بنیادی اور ارفع مقصد بچوں کی کردار سازی ، درستگی اخلاق اور تعمیرَ انسانیت ہے۔ ہدقسمتی ہمارا نظام تعلیم ان مقاصد کے حصول میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو پایا۔ اور یہ سب ‘ڈالروں کی سیاست‘، ‘ دھرنوں‘، ‘ایم ڈی کیٹ میں گھپلوں‘، ‘پریشر گروپوں‘، ‘میرٹ کے قتلَ عام‘ ‘نو مئی‘ اور ‘جڑانوالہ واقعہ‘ سے واضح ہے۔ ۔ ‘انسان سازی‘ کی طرف ہمارے نصاب سازوں، تعلیمی ماہرین، بیوروکریسی اور سیاستدانوں نے کبھی اہمیت نہیں دی۔ سائنس میں جب ایک تجربہ ناکام ہو جاتا ہے تو پھر اسے دہرایا نہیں جاتا بلکہ ناکامی کی وجوہات جانچ کر ایک نیا تجربہ کیا جاتا ہے۔ تو پھر کوئی وجہ نہیں ہونی چاہیے کہ اب ‘ہوم اسکولنگ‘ کا تجربہ کرنے میں ہچکچاھٹ برتی جائے۔

روایتی اسکولوں میں سارا سال وقفے وقفے سے چھٹیاں ہوتی رہتی ہیں۔ آئے روز وبائی امراض پھوٹتے رہتے ہیں، کبھی کرونا کی وبا تو کبھی ڈینگی۔ شدید موسمی حالات یعنی سخت گرمی اور شدید سردی، اور کبھی سموگ کی وجہ سے روایتی سکولوں میں چھٹیاں کر دی جاتی ہیں اگرچہ فیسوں اور ٹرانسپورٹ چارجز کی کوئی بھی سکول ‘چھٹی‘ نہیں کرتا۔ یوں والدین کو مفت میں ہزاروں روپیہ سکول مالکان کی جیبوں میں ٹھونسنا پڑتا ہے۔ ان حالات کے پیش نظر ہوم اسکولنگ کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔

بیک وقت بہت سی زبانوں کا بوجھ بچوں کے معصوم اذہان پر لاد دیا جاتا ہے۔ بچے زبانیں سمجھنے میں ہی اپنی ساری توانائیاں صرف کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ نتیجتآ بچے نفس مضمون میں دلچپسی کھو دیتے ہیں۔ اور تو اور زبانوں کی بھرمار کی وجہ سے بچہ کسی بھی زبان میں ماہر نہیں ہو پاتا یہاں تک کہ اپنی مادری زبان میں بھی دیگر زبانوں کے الفاظ شامل کر کے اسے بگاڑ دیتا ہے۔ گویا بچہ فٹ بال بن جاتا ہے کبھی اَدھر کو رَڑتا ہے تو کبھی اُدھر کو۔ غیرجانبدار مبصرین تعلیمی نظام میں دھڑا دھڑ زبانوں کو جگہ دینے کو اشرافیہ اور بیوروکریسی کی ایک سازش قرار دیتے ہیں تاکہ غریب عوام کے بچے اپنی تمام صلاحیٹیں زبانوں کو سمجھنے میں ہی صَرف کرتے رہیں، نفسَ مضمون پر توجہ دینے کی طاقت ہی نہ باقی رہے تاکہ اشرافیہ کے اپنے بچے ‘ٹاپ‘ پر جائیں، ان کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی موجود ہی نہ ہو۔ جبکہ ماہرین تعلیم اس بات پر متفق ہیں کہ بچوں کو ان کی مادری زبان میں تعلیم دینا بچوں کا حق ہے اور اس سے بچوں میں تعلیم کے لیے دلچسپی بڑھتی ہے اور مادری زبان میں تعلیم جلد اور دیرپا اثر کرتی ہےاور یہ سب ہوم اسکولنگ کی بدولت عمدہ طریقے سے ممکن ہو سکتا ہے۔

دوسری طرف نرسری سے پرائمری تک خوامخواہ مضامین کی تعداد بڑھا دی جاتی ہے۔ غیرضروری مضامین کو لاد کر بچوں کی توجہ کو منشتر کر دینے کا سامان کیا جاتا ہے۔ حالانکہ بہت آسانی سے تمام مضامین ایک ہی کتاب میں خوش اسلوبی سے بیان کیے جا سکتے ہیں۔ ہمارے تعلیمی ادارے سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے آلہ کار بن چکے ہیں، بچوں کو ایک مخصوص نظریاتی و سیاسی سانچے میں ڈھالا جاتا ہے۔ کمرہ جماعت میں بچوں کی بھرمار سے انفرادی توجہ بچوں کو نہیں مل پاتی جو کہ لازمی عنصر ہے کیونکہ ہر بچہ دوسرے بچے سے ہر لحاظ سے الگ شخصیت کا مالک ہوتا ہے۔ اس تناظر میں دیکھیں تو ‘ہوم اسکولنگ‘ کسی نعمت غیرمترقبہ سے کم ہرگز نہیں ہو گی۔

اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ تدریسی ادارے بچوں کو درست سمت میں داخل کرنے میں مکمل کامیاب نہیں ہو پائے ہیں۔ ایسے میں ہوم اسکولنگ کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ کامیابی کے لیے صرف باقاعدہ رسمی تعلیمی ادارے ہی صف اول کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ جب ہم تاریخ پر ایک سرسری سے نظر دوڑاتے ہیں تو علم ہوتا ہے کہ برقی مقناطیست دریافت کرنے والے فیراڈے ،معروف ناول نگار اگاتھا کرسٹی اور جین آسٹن، خدمت خلق کےسرتاج عبدالستار ایدھی جسی کئی شخصیات نے کوئی باقاعدہ رسمی اور روایتی تعلیم حاصل نہیں کی بلکہ جو بھی تعلیم لی وہ ‘ہوم اسکولنگ‘ تھی مگر پھر بھی دنیا بھر میں ان کے چرچے زبان زد عام ہیں۔ لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر ہوم اسکولنگ باقاعدہ ایک لانگ ٹرم پالیسی اپنا کر بروئے عمل لائی جائے تو یہ رسمی تدریس گاہوں سے بہتر نتائج پیش کر سکتی ہے۔ سب سے بڑی خصوصیت اس کی یہ ہے کہ سب بچوں کو انفرادی توجہ مل پائے گی۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں ہوم اسکولنگ کی داغ بیل ممکن ہے؟ اس سے قبل کی جواب تلاش کیا جائے، یہ ضروری ہے کہ ہوم اسکولنگ کی عام بنیادی شرائط پر ایک سرسری نظر ڈالی جائے۔ ہوم اسکولنگ کے لیے والدین کا تعلیم یافتہ ہونا، بچوں کے لیے وافر وقت نکالنا، نصاب کا بندوبست کرنا، گھر پر ضروری سہولیات کا انتظام کرنا، بچوں کی سوشل لائف کے لیے آؤٹنگ کے لیے وقت نکالنا، سپورٹس اور غیرنصابی سرگرمیوں کے لیے خصوصی طور پر انتظام و انصرام کرنا اور ان سب کے لیے بہت سے پیسوں کا موجود ہونا بنیادی باتیں ہیں۔

ایک طرف مہنگائی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ جیسے بقول نظام دین‘گنڈے کرسی تے چڑھ گئے نیں‘، اسی طرح آج آنڈے کرسی ہی نہیں بلکہ آسمان پر چڑھ چکے ہیں۔ مہنگائی کی شدید لہر کی وجہ سے ہوم اسکولنگ تو دور کی بات، رسمی اسکولوں سے بھی والدین اپنے بچوں کو اٹھوانے بارے غور کرنے لگ پڑے ہیں۔

اسی طرح پاکستان میں والدین کی اکثریت تعلیم یافتہ نہیں ہے کیونکہ وہ ایسے نظام تعلیم سے لبریز ہو کر نکلے ہیں جہاں تعلیم کی بجائے محض جوابات ازبر کروائے جاتے ہیں نہ کہ جوابات خود تلاش کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے، جہاں وہی جوابات درست مانے جاتے ہیں جو سرکاری کتابوں میں موجود ہوں، نصاب سے ھٹ کر دلیل کو رد کر دیا جاتا ہے۔

لہذا اب ہم یہ کہنے کی پوزیشن میں ہیں کہ جب تک والدین تعلیم یافتہ نہ ہوں گے، ان کی معاشی حالت بہتر نہیں ہو گی، ان کے پاس بچوں کے لیے وقت نہیں ہو گا تب تک پاکستان میں ہوم اسکولنگ کی روایت کا عام ہونا بہت مشکل ہے۔ ۔ نیز یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ اگر ہوم اسکولنگ حکومتی سطح پر متعارف کروا بھی دی جائے تو حکومتی اور بیوروکریسی کے ‘نظریات‘ کی پرورش و بڑھوتری کیسے ممکن ہو گی؟ جی ہاں، اپنے پاؤں پر خود ہی کلہاڑی مارنا بھی تو دانشمندی نہیں ہے!

چین کی ایک قدیم حکایت ہے کہ ‘دو گڈریئے، کو اور ژانگ اکٹھے بھیڑیں چرانے نکلے اور دونوں نے بھیڑیں کھو دیں۔ مالک نے ژانگ سے پوچھا کہ جب بھیڑیں لاپتہ ہوئیں تو وہ کیا کر رہا تھا۔ اس نے جواب دیا کہ وہ پڑھ رہا تھا۔ کو سے پوچھا گیا تو اس نے جواب دیا وہ شطرنج کھیل رہا تھا۔ دونوں مختلف کام کر رہے تھے، مگر ایک ہی وجہ “لا پروائی“ سے ان کی بھیڑیں کھو گئیں‘۔

اس سے قبل کہ ہم اپنے نونہالوں کو ‘کھو‘ دیں، حکومت، بیوروکریسی، ماہرین تعلیم ، نصاب سازوں اور والدین سب کو ‘لا پروائی‘ سے اجتناب کرتے ہوئے بچوں کی حقیقی اور درست انداز میں تعلیم و تربیت کے لیے ایک مدلل، ٹھوس اور لانگ ٹرم پالیسی بنانی چاہیے، چاہے وہ ہوم اسکولنگ ہو یا رسمی سکولنگ اور جس کا مقصد بچوں میں تخلیقی صلاحیتں، اخلاق سازی، جذبہ انسانیت، تعمیری کردار، قوم سازی، حب الوطنی، حب الثقافت پیدا کرنا ہو۔ “حُسنِ تدبیر سے بن جاتی ہے بگڑی تقدیر“۔

Najeeb-ur-Rehman
About the Author: Najeeb-ur-Rehman Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.