اقبال کا شاہین اور آج کا نوجوان

(Safdar Awan, Faisalabad)

علامہ محمد اقبال ؒ وہ عظیم ہستی ہیں جنہوں نے ہمیں قومی تشخص کی پہچان کرائی ۔ اقبال نے مسلمان لوگوں کی راہنمائی اس وقت کی جب ہمارا سورج زوال کے بعد گہن میں آ چکا تھا۔ اقبال نے ایک باطل کے مقابلے میں دوسرے باطل کی طرف داری کرنے سے انکار کیا اور واشگاف لہجہ میں کہا کہ ہم کسی باطل کا اس لیے ساتھ نہیں دیں گے کہ وہ جد و جہد کر رہا ہے اور حریف باطل کو شکست دے کر اس کی جگہ لینا چاہتا ہے۔

علامہ اقبال کے حوالے سے میرے آج کے اہم موضوعات ہیں کہ دورِ حاضر کا نوجوان اقبال کا شاہین کیسے!!! دورِ حاضر کا نوجوان کہاں کھڑا ہے؟؟؟

اقبال امید کے پیا مبر تھے۔ نہ خود مایوس ہوئے نہ دوسروں کو مایوس ہونے دیا بلکہ مایوس عوام کو امید کی ایک کرن دکھائی۔ انہیں ناامیدی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے سے نکال کر شاہراہَ امید پرگامزن کردیا۔ایمان و یقین کی لازوال دولت سے نوعِ انسانی کو متعارف کرواتے ہوئے اقبال فرماتے ہیں۔
؂ نہ ہو نو مید نومیدی زوال علم و عرفان ہے
امید مردِ مومن ہے خُدا کے رازدانوں میں

اقبال ایک سچے مسلمان اور عاشقِ رسول تھے۔ حضورِ اقدس ؐ کا نامِ مبارک سنتے ہی ان پر بے قراری کی فضا چھا جاتی اور دل مضطرب ہو جاتااور یوں گویا ہوتے کہ ہر طرف محبت اور عقیدت کی بجلیاں گونجنے لگتیں۔ فرماتے ہیں:
؂ وہ دانائے سُبل ، ختم الرسل مولائے کل جس نے
غبارِ راہ کو بخشا ، فروغِ واد یِ سینا

حضرت اقبال کو اس بات پر بہت فخر تھا کہ میں مسلمان ہوں۔اورحضور ؐ کا امتی ہوں۔ مغربی تہذیب کا رنگ اور اس کی ترقی اور خوشحالی کی ظاہری چمک دمک اس مردِ درویش کو متاثر نہ کر سکی۔اقبال انگلستان کی یونیورسٹیوں میں پڑہتے ہوئے اور مغربی تہذیب و تمدن کی رنگین فضاؤں میں رہتے ہوئے بھی اپنی تہذیب کونہیں بھولے ۔ وہ اپنی ایمانی کیفیت کا اظہار اس طرح کرتے ہیں
؂ خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ دانشِ فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ طیبہ و نجف
؂ زمستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی
نہ چھوٹے مجھ سے لندن میں بھی آدابِ سحر خیزی

اقبال رسولِ خدا کی محبت میں بے قرار بھی رہتا ہے اور خدائے عظیم الشان کے حضور سجدہ ریز بھی۔ اقبال اسلام کی عظمتِ رفتہ پر آنسو بہاتا ہے اور اسلام کے مستقبل سے پُر امید بھی نظر آتا ہے۔
؂ پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ

جہاں وہ اسلامی نظامِ حیات کے غم میں گھلتا ہے وہاں وہ مومن کے جدل و جدال کے ترانے بھی گاتا ہے۔
؂ جہاں تمام ہے میراث مردِ مومن کی
میرے کلام پہ حجت ہے نکتہ لولاک کی
پھر فرماتے ہیں:
؂ عالم ہے فقط مومن جانباز کی میراث
مومن نہیں جو صاحبِ لولاک نہیں

اقبال دانائے راز تھے۔ اس بات کا اعتراف انھوں نے خود انتقال سے آدھا گھنٹا قبل ان الفاظ میں کیا تھا۔
؂ سرودِ رفتہ باز آید کہ نہ آید
نسیمے از حجاز آید کہ نہ آید
سر آمد روز گار ایں فقیرے
دِگر دانائے راز آید کہ نہ آید

اقبال امتِ مرحومہ کی عظمت رفتہ کا چراغِ آخرِ شب تھا۔ اقبال زمین رہتا تھا اور آسمان کی وسعتوں پر محوِ پرواز رہتا تھا۔ وہ خود فرماتے ہیں۔
؂ فطرت نے مجھے بخشے ہیں جوہر ملکوتی
خاکی ہوں مگر خاک سے رکھتا نہیں پیوند

اقبال کا شاہین:
حضرت علامہ محمد اقبال کا شاہین خوددار اور غیرت مند ہے۔ وہ کسی کے ہاتھ کا مارا ہوا شکار نہیں کھاتا۔وہ وسیع النظر ہے۔ گنبد و پہاڑ پر بسیرا کرنا گوارا نہیں کرتا۔بلکہ تنہائی میں پہاڑوں میں رہنا پسند کرتا ہے۔
؂ نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
توشاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
؂ گذر اوقات کر لیتا ہے یہ کوہ و بیاباں میں
کہ شاہیں کے لیے ذلت ہے کارِ آشیاں بندی

اس کے حوصلے جوان، عزائم بیدار اور منزلیں عظیم ہوتی ہیں۔
؂ شاہیں کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا
پردم ہے اگر تو، تو نہیں خطرہ افتاد

اور پھر اس کا شاہین اقبال کا بھرم اس طرح رکھتا ہے کہ:
؂ حمام و کبوتر کا بھوکا نہیں میں
کہ ہے زندگی باز کی زاہدانہ
جھپٹنا، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں
کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ

دورِ حاضر کا نوجوان:
اقبال کا شاہین جسے وہ آسمان کی رفعتوں میں دیکھنا پسند کرتے تھے، آج اس کی یہ حالت ہو چکی ہے:
؂ وہ فریب خوردہ شاہین کہ پلا ہو کر گسوں میں
اسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ و رسم شاہبازی؟

آج کا وہ شاہین اپنا مقام کھو چکا ہے۔ بلندیوں سے اتر کر پستیوں میں آگرا ہے۔ حالات کی تیز آندھیاں اس کے بال و پر نوچ لینے پر اُتر آئی ہیں دریاہائے حوادث اس کو نگل جانے کے لیے بے تاب ہیں۔ قوم آوارہ اس کی سر بلندیوں کو ترس گئی ہے۔
اقبال چیخ اٹھتا ہے:
؂ آتی ہے دمِ صبح صدا عرشِ بریں سے
کھویا گیا کس طرح تیرا جوہرِ ادراک
کس طرح ہوا کُند تیرا نشترِ تحقیق
ہوتے نہیں کیوں تجھ سے ستاروں کے جگر چاک
مہر و مہ و انجم نہیں محکوم تیرے کیوں
کیوں تیری نگاہوں سے لرزتے نہیں افلاک
باقی نہ رہی، وہ تیری آئینہ ضمیری
اے کشتہءِ سلطانی و ملاّئی و پیری

وہ نوجوان کو جو تہذیبِ حاضر کی تجلیوں میں کھو کر اپنی تہذیب و اخلاق کو بھول گیا ہے اور اپنی تابناک تاریخ اور شاندار روایات سے منہ موڑ کر مغرب کی نقالی کر رہا ہے۔ اس کے ضمیر پر دستک دیتے ہوئے اقبال فرماتے ہیں
؂ اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی
اور ایک دوسری جگہ ڈنکے کی چوٹ پر اعلان کرتے ہیں اور نوجوان کو اس کا ماضی یاد دلاتے ہیں
؂ کبھی اے نو جواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے؟
وہ کیا گردوں تھا توجس کا ہے اِک ٹوٹا ہوا تارا
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
14 Nov, 2014 Total Views: 3889 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Safdar Awan

Read More Articles by Safdar Awan: 5 Articles with 9331 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
It is a good speech and I love it
By: Muhammad Ibrahim , Tajori lakki marwat on Nov, 06 2018
Reply Reply
0 Like
I love it
Its a great essay for me its good
I've never study such an essay i love it so much
And thnx bro for uploading it and for helping me
You may live long!
( ' , ' )
By: Noman khubaz, Gujranwala on Nov, 24 2016
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB