دو قومی نظریہ۔۔۔ قوم مذہب سے ہے

(Naghma Habib, Peshawar)

712 عیسوی کا سال تھا جب سترہ سالہ نوجوان محمد بن قاسم کی فوج نے تجربہ کار راجہ داہر کی فوج کو ان کے اپنے ہی ملک میں شکست دیکر یہاں اسلام کا پرچم لہرا دیا۔ محمد بن قاسم کے حسن انتظام اور حسن سلوک سے متاثر ہو کر سندھ کے بہت سارے خاندان مسلمان ہو گئے روایت یہ بھی ہے کہ راجہ داہر کا ایک بیٹا بھی مسلمان ہو گیا۔ یوں بقول قائداعظم برصغیر میں دو قومی نظریے کی بنیاد رکھ دی گئی۔ ظاہر ہے جس شخص نے بتوں کی پرستش کو چھوڑ کر ایک اللہ کو اپنا معبود مان لیا تو اس نے ان تمام رسوم و رواج اور تہذیب و ثقافت کو چھوڑ دیا جس پر وہ عمل پیرا تھا۔ اس نے اس نام تک کو ترک کر لیا جو اسے پیدائش پر دیا گیا تھا۔ یہی کچھ بر صغیر میں ہوا اور ایک نئے نظریہ زندگی نے جنم لے لیا جو موجود طرز زندگی سے با لکل مختلف تھا۔

اسلام اور ہندومت دو مختلف سمتوں چلتی ہوئے دو قوموں کی صورت میں موجود رہے۔ مسلمانوں نے محمود غزنوی اور قطب الدین ایبک سے لیکر تا وقت اپنا تشخص برقرار رکھا کیونکہ ان کے پاس ایک دین، مذہب اور اصول تھے۔ اس کے برعکس ہندو مذہب مخص رسوم و رواج کا ایک مجموعہ ہی ہے وہ ہر اس چیز کو معبود بنا دیتے ہیں جو انکے فائدے یا نقصان کا باعث بنے۔ اسلام مساوات کا داعی ہے جسمیں کالے کو گورے اور عربی کو عجمی پر برتری نہیں۔ یہاں ہر انسان اپنے اعمال کی بنا پر عزت یا ذلت کا حقدار ہے۔ جبکہ ہندو مت میں عزت و ذلت خاندان اور ذات پات کی بڑائی پر ہے۔ صدیوں تک ساتھ رہنے کے باوجود ہندو اور مسلمان اپنے اپنے مذہب اور رہن سہن پر مکمل طور پر قائم رہے۔ البیرونی اپنی مشہور کتاب، کتاب الہند میں1001میں لکھتے ہیں ہندوستان میں ہندو اور مسلمان صدیوں تک ساتھ رہنے کے باوجود دو الگ الگ دھاروں کی طرح اپنی اپنی راہ چل رہے ہیں جو کبھی کبھی ایک دوسرے کو چھو تو لیتے ہیں لیکن مدغم نہیں ہوتے۔ البیرونی کے صدیوں بعد بھی یہی صورتحال قائم رہی۔ اور ہندو اور مسلمان اپنے اپنے طرز زندگی پر قائم رہے۔ دراصل یہ معاملہ دو مذاہب کا تھا۔ سرسید احمد خان جو ایک عرصہ تک ہندو اور مسلمان کو ایک ہندوستانی قوم کے افراد سمجھتے رہے لیکن اردو ہندی تنازعے کے بعد نہ صرف یہ کہ انہوں نے اپنے خیالات بدلے بلکہ بڑی شدت سے ہندو اور مسلمان کو پہلی بار دو قوموں کے طور پر پیش کیا اور اعتراف کیا کہ ہندو اور مسلمان کبھی ایک قوم نہیں بن سکتے کیونکہ ان کے مذہب اور زندگی گزارنے کا طریقہ ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہے۔ سید امیر علی اور کئی دوسرے اکابرین نے اس نظریے کی بڑی مدلل اور منطقی انداز میں تشریح کی۔ اقبال کی آواز قوم مذہب سے ہے نے برصغیر کے مسلمانوں کے شعور کو مزید جلا بخشی۔ قائد اعظم نے اس نظریے کو سیاسی طور پر اتنے مضبوط انداز میں پیش کیا کہ انگریز کو پاکستان کے مطالبے کے سامنے ہار ماننا ہی پڑی۔ قائد نے کہا مسلمان اقلیت نہیں وہ قوم کی ہر تعریف کے مطابق ایک قوم ہیں۔۷۳۹۱ﺀ میں قائد نے کہا کہ ہندوستان کبھی ایک ملک نہیں رہا اور نہ ہی اس کے رہنے والے ایک قوم۔ یہ بر صغیر ہے جس میں بہت ساری قومیں بستی ہیں جن میں مسلمان اور ہندو دو بڑی قومیں ہیں۔

آج جب ہم ایک آزاد ملک میں آزاد شہری کی حیثیت سے رہ رہے ہیں تو کچھ ناشکرے اور احسان فراموش لوگوں کی دو قومی نظریے پر تنقید بھی سنائی دے دیتی ہے اور چند لوگوں سے منسوب اس بیان کی طرح کہ بنگلہ دیش کے قیام نے اس نظریے کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ میرے خیال میں تو یہ وہ بدقسمت لوگ ہیں جو تاریخ سے بالکل بے بہرہ ہیں ورنہ وہ جانتے کہ چوہدری رحمت علی نے پاکستان کے ساتھ ساتھ بنگال میں بانگ اسلام کے نام سے مسلم مملکت کا منصوبہ پیش کیا تھاا ور ابھی بھی ان کا ایک منصوبہ تشنہ تکمیل ہے یعنی حیدر آباد دکن میں عثمانستان کا قیام۔ وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ ہندوستان میں پاکستان سے زیادہ مسلمان رہ گئے وہ بھی اپنا ریکارڈ اگر درست کر لیں تو بہتر ہوگا کہ اس وقت مغربی اور مشرقی پاکستان میں مسلمان ہندوستان سے دو گنا تھے۔ اور جو لوگ پاکستان نہ پہنچ سکے وہ بھی مجبوراً وہاں رہ گئے اور آج بھی کوئی اچھی زندگی نہیں گزار رہے۔ وہ لوگ اب بھی ہندوستان میں دو قومی نظریے کے ثبوت کے طور پر اپنے مذہب اور طرز زندگی پر قائم ہیں وہ آج بھی عید میلاد النبی اور عاشورہ محرم مناتے ہیں دیوالی اور ہولی اب بھی ان کے مذہبی تہوار نہیں ان کے مہینے آج بھی محرم، صفر اور ربیع الاول ہیں، ماگھ اور جیٹ نہیں اگرچہ وہ ان ناموں کو استعمال کرتے ہیں لیکن ان کا کیلنڈر ہجری ہے ہندی نہیں لباس کے معاملے میں بھی وہ ہندوں سے بالکل مختلف بلکہ متضاد ہیں۔ اور تو چھوڑیے طرز تعمیر ہی کو لیجئے جہاں روایتی طور پر ہندو تنگ اور ہوا بند گھروں میں رہتے ہیں وہیں مسلمان کھلے اور ہوادار گھر بناتے ہیں ان کے روایتی برتن اور ان کے رسم و رواج آج بھی یکسر مختلف ہیں۔ پیدائش، شادی اور موت ہر ہر طریقہ آج بھی ایک دوسرے سے جدا ہے۔ ماڈرن ازم کے نام پر رسم و رواج کے ہندو ملغوبے کو اگرچہ میڈیا سے دیکھ دیکھ کر ہم میں سے بھی کچھ لوگ اپنانے پر تلے ہوئے ہیں لیکن سنجیدہ طبقوں میں یہ سب کچھ آج بھی نا پسندیدہ ہے۔ جو لوگ قوم کو مذہب سے الگ کر کے اس نظریے کو باطل ثابت کر رہے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ قومیں بنتی ہی مذہب کی بنیاد پر ہیں ورنہ آج امریکہ مسیحی صدر کی شرط نہ رکھتا اور اسرائیل میں بھی مسلمان صدر ہونا ممکن ہوتا۔ لہٰذا اس انتہائی نا معقول نظریے پر بجائے فخر کے ندامت ان کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ بھارت میں مسلمان صدر بن جانا اس بات کی دلیل نہیں کہ اب وہاں دو قومیں نہیں بستی گجرات، بہار اور احمد آباد بھی بھارت ہی کے شہر ہیں جہاں مسلمان کے خون کی کوئی قیمت نہیں اور انہیں ان کی مسلمانی کی شدید سزا دی جاتی ہے۔ گائے کی تقدیس کے لیے اب بھی انہیں مجبور کیا جاتا ہے۔ لہٰذا یہ سوچ لینا کہ دو قومی نظریہ کوئی فرسودہ نظریہ ہے میرے خیال میں یہ خیال ہی فرسودہ ہے۔ دو قومی نظریہ آج بھی اتنا ہی جواز رکھتا ہے جتنا آج سے سو یا تریسٹھ سال پہلے رکھتا تھا۔ دو قومی نظریے نے ہی برصغیر کے عوام کو وہ توانائی عطا کی جس نے پاکستان کی بنیاد رکھی اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی پاکستان کے دشمن جب پاکستان کے خلاف سازش کرتے ہیں تو سب سے پہلے جو بھارت سے محبت اور دوستی کا ثبوت دینے کی کوشش اس بنیاد پر کی جاتی ہے کہ ہمارا کلچر یعنی ثقافت ایک ہے اور اس کے لیے چھوٹی چھوٹی علاقائی مماثلتوں کا سہارا لیا جاتا ہے جیسے پتنگ بازی۔ اب اگر سوچا جائے تو پتنگ بازی تو چین میں بھی ہوتی ہے چائے پاکستان سمیت پوری دنیا میں پی جائے تو کیا ساری دنیا کو ایک ہی ملک تصور کر لیا جائے گا۔ بات آج بھی وہی ہے جو البیرونی نے ہزار سال پہلے کہی تھی کہ مسلمان اور ہندو دھارے ایک دوسرے کو چھوتے ضرور ہیں آپس میں مدغم نہیں ہوتے۔

ایک دوسرے کے ساتھ دوستی کے معاہدے یا دوستی کی کوشش میں کوئی حرج نہیں لیکن ایک تو اپنی غیرت ملی کی قیمت پر نہیں یعنی اتنا نہ جھکا سر کو کہ دستار سر سے گر پڑے اور دوسرے اپنی قومی شناخت کی قیمت پر بھی نہیں۔ آخر میں میں اس اہم ترین تقسیم کا ذکر کرونگی جو رب کائنات نے کی ہے یعنی مسلمان ایک ملت ہے اور غیر مسلم دوسری ملت۔ اور یہی حقیقت بر صغیر میں بھی ہے کہ مسلمان ایک قوم اور ہندو دوسری قوم ہے۔
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
12 Jun, 2010 Total Views: 4995 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Naghma Habib

Read More Articles by Naghma Habib: 415 Articles with 217958 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
mai aap ke is Mazmoon se bilkul ittefaq rakhta hun.....
By: tanweer, New Delhi on Aug, 10 2015
Reply Reply
1 Like
مجترمہ نغمہ حبیب صاحبہ ۔ سالامت باشد ، میں نے آپکا مضمون پڑھا، ، آپکا مضمون، بہت مدلل، اور جامع ہے۔ میں نے آپکا مضمون بغور پڑھا، اور اسپر ہونے والےتمام تبصرے بھی پڑھے،اور اندازہ ہوگیا، کہ ہم کس مرض کا شکار ہیں، دراصل بات یہ ہے کہ، ہماری قوم ویسے تو پڑی عالم فاضل ہے، اور شعور رکھتی ہے۔ لیکن اپنے تشخص اور وقار کو کھو چکی ہے۔ ایک وقت تھا ، کہ بغداد علم و فضل کا گہوارہ ہوا کرتا تھا۔ اور گلی گلی کوچے کوچے میں شام ہوتے ہی، علماء مناظرے ، اور مزاکرے کیا کرتے تھے۔ اور اپنے علمی نطریات کو پیش کرتے، اور دلیلیں دتے، اور انکا اکثر اختتام ، ہاتھا پائی اور مارکٹائی پر ہوتا تھا۔ اور یہی وہ دور تھا، جب چنگیز خان نے بغداد کو تباہ کیا، اور کتب خانوں سے کتابون کو نکال دریا میں پھنکوا دیا ۔ عرض یہ کرنا چاہتا ہون، ( علم تھا لیکن عمل نہیں تھا) آج بھی ہمارا وہی حال ہے۔ ہمیں ٹی وی دیکھنے کا شوق ہے، اعتراض کر نے اور الزامات لگانے کا شوق ہے۔ نشاندہی کرنے کا شوق ہے۔ بحث کرنے کا شوق ہے ۔ اگر نہیں ہے تو تحقیق کرنے کا شوق نہیں ہے۔ ہم غلطی کی نشاندہی تو کرتے ہیں ۔ لیکن عملی طور پر درست نہیں کرتے۔ اگر میں اسے منافقت کہوں تو غلط نہیں ہوگا ۔ آج ہمارا یہ حال ہے۔ کہ جس دین کے ہم ماننے والے ہیں۔ جس کتاب کو ہم چومتے ہیں آنکھوں سے لگاتے ہیں۔ کبھی اسکو کھول کر دیکھتے تک نہیں۔ آج ہم نماز تو پڑھتے ہیں، لیکن اسکے جزیات، اور مکروہات سے ناواقف ہیں۔ آج ہم اور ہماری اولادین ، جس نظریاتی جنگ کا شکار ہیں۔ اسکا اندازہ آپ کو بھی اچھی طرح ہے،اور مجھے بھی۔ آج میں نے کسی اپنے مسلمان بھائی کو یہ کہتے نہیں سنا کہ میں الحمدو للہ مسلمان ہون، اور مجھے اپنے مسلمان ہونے پر فخر ہے۔ ہاں، ہمیں خالد بن ولید، صلاح الدین ایوبی، طارق بن زیاد کی فتوحات پر فخر ہے۔ لیکن اسبات پر فخر نہیں ۔ کہ ہاں ہم وہی مسلمان ہیں جنہوں نے اکیسویں صدی کی دو پڑی سپر پاور کو شکست دی ہے ۔ اور انکے ٹکڑے اڑا دئے ہیں۔ آج ہم ایک قوم کی حیثیت سے اپنے ان شہدون اور مجاہدین کی کسی قسم کی اخلاقی، طور پر ہی ہمت افزائی کرنے کو تیار نہیں ، جنہوں نے نامساعد حالات میں روس اور امریکہ کو خاک چاٹنے پر مجبور کردیا ہے ۔ آج ہم انہیں دہشت گرد، کے الفاظ سےیاد کرتے ہیں،،، کیونکہ میڈیا ہمیں یہی بتاتا ہے۔ امن کی آشا ہمیں اپنی طرف بلاتی ہے۔ آج ہم اپنے آپ کو خود کمزور کئے ہوئے ہیں۔
ورنہ ہمارے حکمرانوں کو اس بات پر فخر ہونا چائیے۔ اور قوم کو بھی، اسلام بانج نہیں ہوا ہے۔ آج بھی اللہ پاک ہماری مدد کے لئے تیار ہے۔بشرطیکہ ہم اپنے ایمان کو مظبوط کرین۔ اور گھروں میں بیٹھ کر مزاکرے، اور مباحثے دیکھنے کی بجائے اپنی آنکھوں کو کھولیں۔ اور میدان عمل میں اتریں۔
By: فاروق سعید قریشی, Karachi on May, 24 2014
Reply Reply
0 Like
ایک اللہ کو ماننے والے ایک طرف، زیادہ خداؤں کو ماننے والے دوسری طرف۔ مسلمان جہاں بھی ہو گا۔ اس کی الک پہچان ہوگی۔ دوستو تاریخ گواہ ہے۔جہاں جہاں میں میرے محمد(ص) گئے لوگ اپنے رسم و رواج بھول گئے ، زبان بھول گئے۔یہ مذہب ہی تو ہے جس نے میرے دل میں انڈیا کے مسلمانوں اور چچنیا کے مسلمانوں اور دنیا کے تمام مسلمانوں کے لیے محبت پیدا کر دی۔ میں میانوالی کا رہنے والا سرائیکی اور پنجابی کہلوانے کو اپنے لیے گالی تصور کرتا ہوں۔ میرے لیے مسلمان ہونا، اللہ کا ماننے والا اور کفر کو رد کرنے والا ہونا باعث فخر ہے۔ قومیں مذہب سے ہوتی ہیں خطے سے نہیں۔ جو دو قومی نظریہ کو نہیں مانتا، مجھے اللہ کی قسم اس کے ایمان پر شک ہے۔ اللہ ہمیں لسانیت سے بچائے۔ اللہ ہمیں صراط مستقیم پر چلنے والا بنائے۔ اللہ اکبر۔ علامہ اقبال زندہ باد۔ پاکستان پائندہ پاد
By: Abid, Rawalpindi on Jul, 23 2013
Reply Reply
2 Like
Pakistan me secular nizam e taleem khatam kia jaye. q k ye taleemi nizam gaddar peda kar raha he. talba ko be eman or rishwat khor bana raha he . in ko deen ki samaj booj kam hoti he is lye chori chakari in k lye koi zyada buri bat nahin hoti. larkon , larkion ko be-haya bana raha he.
By: shoaib, lahore on Jul, 01 2013
Reply Reply
0 Like
محترمہ نغمہ صاحبہ ...میں آپ کی باتوں سے اتفاق کرتا ہوں اور دو قومی نظریے کا قائل اور داعی ہوں. لیکن ایک بات جو میں کرنا آپ کے گوش گزار کرنا ضروری سمجھتا ہوں وہ یہ کہ مذہب اسلام نے جو قوم کی بات کی ہے وہ تو کسی ایک ملک تک محدود نہیں ہےبلکہ پوری امت مسلمہ ایک جسد واحد کی طرح گردانی جاتی ہے.اللہ کےنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جسکا مفہوم ہے کہ تمام مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں اگر کسی ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو پورا جسم بے قرار ہوتا ہے.خود اقبال علیہ رحمت فرماتے ہیں کہ چین وعرب ہمارا ہندوستاں ہمارا مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا........بہرحال اگر میں غلطی پر ہوں تو دلیل سے میری بات رد کر کے شکریہ کا موقع دیں.
والسلام
By: Abdul Basit Farooqi, Rawalpindi on Jun, 29 2013
Reply Reply
0 Like
محترم فاروقی صاحب! اپنے مضمون پر آپ کا سنجیدہ تبصرہ اچھا لگا آپ کے سوال کے میرے مضمون کے تناظر میں کئی پہلو نکلتے ہیں جن کا میں اپنی سمجھ کے مطابق الگ الگ جواب دینے کی کوشش کروں گی سب سے پہلے تو یہ کہ مجھے آپ کے کہے سے کوئی اختلاف نہیں کہ یہ اختلافی مسئلہ ہے ہی نہیں اور یہی میں نے اپنے مضمون کے آخر میں لکھا ہے کہ مسلمان ایک ملت ہیں اور غیر مسلم دوسری ، اسی نظریے نے برصغیر کے حالات میں دوقومی نظریے کا نام پا یااور یہ مضمون اسی تناظر میں لکھا گیا۔کیونکہ جہاں تک بات مسلمانوں کے ہندؤں کے ساتھ مل کر رہنے کی ہے تویقینا وہ ایسا کر سکتے تھے لیکن تعداد میں ان سے بہت کم ہونے کی وجہ سے کیا وہ حکومت میں کوئی بااثر حصہ پا سکتے تھے اور یاان کے نظریات کو وہ ترویج مل سکتی تھی جو ان کا حق تھا تو کیا یوں ان کا تشخص مجروح نہ ہوتا ۔
اگر میں آپ کے سوال کے دوسرے پہلو کو لوں جہاں یہ سوچ کار فرما نظر آتی ہے کہ کیاپھر ایران ،افغانستان، عراق ،مراکش اور تمام اسلامی ممالک ا یک قوم ہیں تو ظاہر ہے کہ امت اور ملت کی تعریف کے مطابق ایسا ہی ہے لیکن کیاانتظامی لحاظ سے ایسا ممکن ہے کہ ڈیڑھ ارب مسلمان ایک انتظامی حکومت کے تحت آجائیں وہ بھی جب علاقہ اور زبان مختلف ہو اور فاصلے اتنے زیادہ ہوںکہ اس تفریق کومٹایا بھی نہ جا سکے لیکن جغرافیائی لحاظ سے ایک دوسرے سے متصل علاقوں میں ان مملکتوں کے قیام میں بھی کوئی غیر اسلامی نکتہ نہیں اٹھتا ۔تسلیم !کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں بھی اور خلافت راشدہ میں بھی ایسا نہ ہوا اور گورنروں کے ذریعے ہی ان علاقوںکا انتظام چلایا جاتا رہا لیکن کیاآج ہم امت مسلمہ میں کوئی ایسی شخصیت پاتے ہیں جو امت کی وحدت کو قائم رکھ سکے۔ میں جانتی ہوں کہ میرے مضمون کے حوالے سے یہ اعتراض اٹھایا جائے گاکہ پھر پاکستان کے ہر صوبے کو ایک الگ ملک کیوں نہیں بنا دیا جاتا تو عرض ہے کہ جہاں ہم ایک ملت کی بات کرتے ہیں وہاں ایک جغرافیائی اکائی کو ایک مملکت کیوں نہیں مان لیتے جو اتنا رقبہ اور طاقت رکھتا ہو کہ مسلمانوں کویکجا بھی رکھ سکے اور ان کا دفاع بھی کر سکے۔
By: Naghma Habib, Nowshera on Jul, 07 2013
0 Like
Mr. From where, i study the two nation theory? from those so-called books which were myth designed by scholars. We have to consult the nation theory from "Holy Quran and Hadith", and 1000 years of Muslim ruling history, with practical approach. Unfortunately we haven’t consult anything from Quran or Hadith and neglect everything to design a theory to protect UK and US interests, which ultimately made the Muslims weak due to sub-continent’s division, this was the planning of Britain imperialist power and we were trapped. Pakistan’s first governor general Mr. Jinnah took the oath under the constitution of Britain and Oath to loyal with the Queen of Britain. The condition and performance of Pakistan in the current situation, its basics have to be found from its birth. Pakistan never seen stability since 1947,
By: razeen, lahore on Jul, 18 2011
Reply Reply
0 Like
why to say ,we r balochies r sindies r pashtons r punjabies r mohajars ..etc bcz what ever u may be..we r muslim.This is what islam tought us ,and we belongs to a muslim nation,muslim country ,which does not belong to any sect or caste. provincialism has been one of curses and so is sectionalism, exploited by our enmies to harm us dis integrate us..so stay united to counter enemies evil design/agenda and be able to defend our mother land.The enemies r already having access to all walk of life and cultivated moles for their help..we need to be on watch... plz do not hate each others do not hate each other language do not hate each other way of life/culture we all are member of one family one mother land..called momliqath e khudad for which thousands of our bros/sis already scarified their life ..GOD BE WITH US ALL
By: zaveyar khan , lahore on Jul, 16 2011
Reply Reply
0 Like
Respected Razeen ! Two Nation Theory has to do nothing with terrorism, our adverse economic conditions, corruption in our system, corrupt politicians and with our education system. It just tells us the difference between “Hindus” and “Muslims”. Get hold of any book and go through the Two Nation Theory once again just to refresh your knowledge and memories. Moreover, war has been imposed on us and Pakistan is fighting its “War of Survival” against RAW, MOSAD and CIA.
By: Habib Ullah Khan, Swat, Pakistan on Jul, 13 2011
Reply Reply
0 Like
محترمہ یہ بات انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتی ہے کہ اس خطہ میں سی آئے اے کا مرکز شاہ ایران کی حکومت کے خاتمہ کے بعد پاکستان ہی رہا۔افغانستان میں روس کے خلاف جنگ میں جس طرح پاکستان اور امریکہ کا ہنی مون چلتا رہا یہ ہر ریاست جانتی ہے۔ دنیا کی ریاستیں بطور ریاست ہمارے کرتوتوں سے خوب واقف ہیں۔
ہمیں آج ضرورت ہے کہ ہم اپنی بنیادوں میں پڑی خامیوں کو درست کریں پھر ہی آگے بڑھ سکتے ہیں، اسلامی شدت پسند جو کچھ کررہے ہیں یہ بھی دو قومی نظریہ کی مہربانی ہے۔ بلوچستان اور کراچی کی آگ بھی اسی دوقومی نظریہ کی دی ہوئی محرومی ہے۔
آج ہمیں اپنے پیارےوطن پاکستان کو بچانا ہے۔یہ نظریاتی طور پر ایک یتیم ملک ہے۔یہاں تھانوں میں انگریز کا قانون ہے،جو کہ جرائم کو روکنے کی بجائے مجرم پیدا کرتے ہیں۔
یہاں کے عصری تعلیمی ادارے خود غرض ،رشوت خور پیدا کرتے ہیں، یہاں کے مذہبی تعلیمی ادارے فرقہ وارانہ ذہنیت اور تشدد پیدا کرتے ہیں۔اب آپ بتائیں قوم کے معمار کہاں پیدا ہوں گے۔
موجودہ نظام کو چلانے والی ہماری مستقبل کی قیادت بلاول بھٹو اور حمزہ کی ذہنی تشکیل برطانیہ میں ہوئی وہ کل کو گوروں کی طرح ہم پر آکر حکومت کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
کیا کرپشن زدہ اور الزام زدہ لوگوں پر انحصار کر کے ہم آگے جاسکتے ہیں ۔
معاف کرنا پچھلے چونسٹھ سالوں سالوں سے یہاں دو قومی نظریہ کا غلبہ ہے،کوئی اور نظریہ نہیں آیا، اسی کے نتائج ہم بھگت رہے ہیں۔
خدارا ہمارے اس تار تار ملک کیلئے کچھ عقل اور دانش سے اور تحقیق کے ساتھ ٹھوس بنیادوں پر کچھ دے دیں،اپنی غلطیوں پر اصرار کرنے والی اور اترانے والی قومیں بنی اسرائیل کی طرح کے انجام سے دو چار ہوتی ہیں،قرآن میں بنی اسرائیل کے واقعات کو پڑھیں اور اپنے حکمرانوں اور دانشوروں کے رویے دیکھ لیں۔
By: razeen, lahore on Jul, 13 2011
Reply Reply
0 Like
ap ki baton se lagta he k ap ko do qaumi nazaria malum hi nahi k kya he. ye bat quran ki he k muslim or non muslim do alag quaumen hen. kisi bat par rai dena bura nahi lekin kuch hadood b hoti hen
By: shoaib, lahore on Jul, 01 2013
0 Like

برادر عزیز! آپ نے میرے مضمون کو شا ید غور سے پڑھا نہیں میں نے یہی لکھا ہے کہ آج بھی بھارتی مسلمان اپنا تشخص قائم رکھے ہوئے ہیں۔ اگر میں نے رمضان کا ذکر نہیں کیا بلکہ عید میلاد النبی اور عاشورہ محرم کا کیا تو میری مراد تمام دینی فرائض اور تہواروں سے ہے۔ آپ نے آج بھی عید اور شب برات کی تاریخیں یاد رکھی ہوئی ہیں کیونکہ آپ نے یہی منانی ہیں ۔ مجھے آپ کے ان سارے مصائب پر آج بھی شدید تکلیف ہوتی ہے جن کا آپ نے ذکر کیا کیوں یہی اسلامی اخوت ہے کہ اگر ایک مسلمان ہندو کے ہاتھوں مصیبت میں پڑیں یا کسی اور مذہب کے ہاتھ تو دوسرا مسلمان تڑپ اٹھتا ہے۔ میرے بھائی ! جہاں تک قوانین کی بات ہے تو کم از کم ہمارا کوئی قانون اسلام سے متصادم نہیں اور اگر ہو بھی تو اس کی اسلامائزیشن کے کوئی خلاف نہیں ۔ آپ نے جو کہا کہ آپ ہندوؤں کے غلام نہیں تو پھر فسادات میں کیوں ان کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں ﴿ مجھے آپ کے دکھ کا شدید احساس ہے ﴾ آپ نے ہمیں ہمارے حکمرانوں کا غلام کہا ہے تو کیا امریکہ ، برطانیہ اور آپ کے بھارت میں ہر ہندو بھی غلام ہے کیونکہ حکمران تو ان ممالک میں بھی ہیں اور بغیر حکمران تو جنگل بھی نہیں ہوتا۔پاکستان میں جس بدامنی کا آپ نے ذکر کیا ہے تو یقیناً پوری دنیا کی طرح آپ بھی جانتے ہیں کہ آپ کے غیر مسلم حکمرانوں نے RAW اسی مقصد کے لیے بنائی تھی اور اسی نے سی آئی اے اور موساد جیسے قاتلوں کے ساتھ مل کر ہمارے ملک کا امن تہہ و بالا کیا ہوا ہے لیکن میرے اللہ کا وعدہ ہے کہ فتح اہل ایمان ہی کی ہوگی چاہے وہ تعداد میں تھوڑے ہی ہوں۔
جہاں تک آئینے میں اپنی شکل دیکھنے والی بات ہے تو یہ آئینہ ہر وقت میرے ہاتھ میں ہے جس میں میں نہ صرف اپنے عیوب و محاسن دیکھتی ہوں بلکہ اپنے حکمرانوں کو بھی مستقل دکھاتی رہتی ہوں اور ہاں جیسا آپ نے شروع میں لکھا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ضرور ہیں لیکن اپنی شناخت قائم رکھے ہوئے ہیں یعنی بقول البیرونی مسلمان اور ہندو دھارے ایک دوسرے کو چھوتے ضرور ہیں آپس میں مدغم نہیں ہوتے ۔ اللہ ہم سب مسلمانوں کی حفاظت کرے اور راہ ہدایت کی طرف رہنمائی فرمائے۔

By: Naghma Habib, Peshawar on Jul, 12 2011
Reply Reply
0 Like
EK Muslim chahe woh kahin bhi rahe, muslim hi rehta hai. Muslim hona alag baat hai aur Ahle Imaan hona alag baat hai, Pakistan mein aaj kal sirf muslim hi dikhai dete hain, Pakistan banane ke liye kitni qurbaniyan dee gayi hain, yeh aaj ke Pakistan mein rehne walon ko yaad bhi hai ki nahin. Pakistan, Islam mazhab ke naam par banaya gaya hai, Lekin kitni Islamiyat hai wahan per yeh to roz-e-roshan ki tarah zaahir hai.
Kiya aaj bhi wahan per bahu beti ki izzat mehfuz hai?
Kiya aaj bhi ek muslim bhai dusre muslim bhai ka khoon nahin kar raha hai?
Kiya aaj bhi wahan ke hukmaran Islam ke naam per logon ko loot nahin rahe hain aur yeh lootne wale aur lootane wale muslim nahin hain?
Kiya aaj bhi wahan per begunah muslim ka khoon muslim police ke haathon nahin bahaya jaa raha hai?
Kiya eik Choudhari Muslim pure village ke muslamanon ko gulam banaya nahin hai?
Kiya Chori karne walon ke haath kate jaate hain?
Kiya zina karne walon ko sangsaar kiya jaata hai?
Kiya begunaah ko qatal karne walon ko Jaan badle jaane ke hisab se jusitce diya jata hai?

Main mushrikon ke zulm o sitam ki baat nahin karta hoon, mushrikon ke gunahon ki baat nahin karta hoon, mushrikon ke kaale karnaamon ki baat nahin karta hoon kiyon ki waise bhi mushrik ke sawal jawab ka sawaal hi nahin hota hai roz-e-mohshir. Un ka to faisla pehle hi Allah ne bata diya hai.

Lekin hum Musalman hain, Allah taala sab jaanta hai dilon ki baat ko bhi jo zaahir kar dete hain aur jo posheeda rakhte hain.
Hamara Imaan hai ki Allah taala ko hamare dilon ki baat ki khabar hai,
hamara imaan hia ki roz-i-mohshir sawaal jawaab hone wala hai,
hamara imaan hai ki nek kaam karne waale Jannat mein aur badi karne waale Jahannum mein jaayen ge,
hamara imaan hai ki haraam kaari gunah hai, zina karna gunah hai, chori karna gunaah hai, maasoom logon ko satana gunaah hai, shaitaan ka saath dena gunaah hai, mulim ko beizzat karna gunaah hai,

Jab ham musalmanon ko sab kuchh pata hai,
aur eik azaad desh aap musalmanon ke haathon mein hai to phir Islaam ke naam par, Islaam ke manne waale, Islam ke manne walon ke saath kiyon yeh sab kar rahe hain ki Aaj saari duniya ki paanchon ki paanchon ungliyan Pakistan aur Pakistaniyon ki taraf uthi huyi hain.
Qaum per naaz karna achhi baat hai lekin qaum ki laaj rakhna bahut badi baat hai,
Aadmi se mahol banta hai, mahol se muashraa aur muashre se qaum banti hai,

Jab roz-i-mohshir Allah taala aap Pakistaniyon se poochhe ga to kiya jawaab den ge, ki
Hum doosre ke haathon mein khelte rahe aur yeh sab galat kaam hota raha.

Shaitaan bhi azaad hai, musalmanon ko gumrah karne ka chellange oos ne Allah Taala ko diya hua hai,
to kiya hum shaitaan ki baat mante rahen Allah Taala ko chhod kar, hum musalman gunaah karte rahain aur ilzaam shaitan per daal kar seedha Jannat mein Chale jayen ge?

Mujhe dukh Pakistan ka nahin hai lekin eik musalman ke rishte se musalmon ke gumraah hone ka hai woh bhi eik Islaami mulk mein. Farq hindu, christian, jews, paarsi etc. qaum ke saath eik muslim qaum ka nahin, farq karna hai to eik muslim qaum ka mushrik qaum ke saath, eik Ahle Imaan ka musahib-e-shaitan ke saath, ek momin ka (jiski tafseer Quraan Sharif mein hai) doosre insaan ke saath karna chahiye. Allah Taala se duago rahen ki musalmanon ko Imaan ke raaste per chalne ki taufeeq ataa farmaye (Ameen)
By: Mushtaque Gafur Ansari, Mumbai on Jul, 12 2011
Reply Reply
0 Like
Aap ne jo kuchh likha hai woh bilkul bhi sahi nahin hai, aaj bhi hamare ramzan, ramzan hi hotey hain, aaj bhi hamari Eid, shawwal ke mahine main hoti hai, Hindu muslim do quomein zaroor hain lekin muslim ki apni shanaakht hai aur Insha Allah taa qayamat rahe gi, Hum musalman yahan India mein bahut achhi zindagi guzaar rahe hain. Kam iz kam aap Pakistani Musalmanon se to bahut hi achhi. Ham yahan per fasaad ke waqt hinduon ke hathon mare jaate hain aur aap Pakistani apne hi muslimon ke haathon mare ja rahe ho. Hamare per hindu hukmaraan hain to aap logon per Muslim Hukmaraanon ke hote huye qatlo gaarat giri aam hai. Hamare yahan koi muslim kisi hindu ka gulaam nahin hai, Pakistan mein ek muslim dusre muslim ka gulaam hai. Pakistan mein ek muslim dusre muslim se rishwat leta hai. Hum hindu ko rishwat dete hain. India mein Judge hindu hai to Indian Penal code ke tahat sazaa deta hai. Pakistan mein Judge muslim hote huye bhi Quraan ke ahkaamat per amal nahin kar sakta. Muslim hindu do quom agar hai to aap musalman log kaun si quom ke qanoon per amal kar rahe ho.
Aiene mein apni shakal zara achhe se dekh lijiye phir dusri quom ki buraayi kijiye.
By: Mushtaque Gafur Ansari, Mumbai on Jul, 10 2011
Reply Reply
0 Like
a gud reminder to ppl forgotten the hist or not willing to accept the realities and under cover of diff name trying to proof that pak india can be same........frndship forum,aman ke asha..ppl forum..etc..muslim and handu can not be same .....
By: zaveyar, rawalpindi on Jul, 08 2011
Reply Reply
0 Like

محترم حبیب اللہ صاحب اس لئے کہ یہی دو قومی نظریہ آج ہماری خارجہ پالیسی کے راستے میں رکاوٹ ہے ۔ ہم اپنے خطہ کے ممالک سے تعلقات بنانے کی بجائے سات سمندر پار کے امریکہ کے ساتھ بناتے ہیں۔دو قومی نظریہ کے علمبردار قائد اعظم نے امریکہ کو یقین دہانی کروائی تھی کہ ہم سرمایہ دارانہ نظام کے تحفظ کے لئے کیمونزم کے خلاف فصیل ثابت ہونگے۔(کتاب پڑھئے “پاکستان میں امریکہ کا کردار“)(روزنامہ ایکسپریس کے کالم)
دو قومی نظریہ دھرتی سے انکار پر مبنی ہے۔ یہ انسان کا رشتہ اس کی زمین سے کاٹتا ہے ۔ حضور اکرم نے فرمایا کہ “حب الوطن من الایمان“۔
کیا ہم نے پچھلے ساٹھ سالوں میں امریکہ اور اس کے سرمایہ دارانہ نظام کی چاکری نہیں کی؟کیا دو قومی نظریہ کی تلوار سے ہم نے بنگالیوں،پٹھانوں،سندھیوں،بلوچیوں کے حقوق کو ذبح نہیں کیا؟جو کچھ آج پاکستا ن میں ہورہا ہے یہ اسی دو قومی نظریہ کی برکت ہے۔کیونکہ کوئی اور نظریہ تو یہاں آیا نہیں ، نہ چلنے دیا گیا۔آج بلوچستان تباہی کے دہانے پر ہےاور علیحدگی کی آگ میں سلگ رہا ہے اور آپ دھرتی سے کاٹنے والے دو قومی نظریہ کی پوجا کرتے رہیں جس کا ہمارے دین سے کوئی تعلق نہیں۔
افسوس صد افسوس کہ ہمارا پاک پوتر مذہب اسلام دو قومی نظریہ کی آڑ میں بدنام ہوا۔فرقہ وارانہ مذہب بنا دیا گیا۔ جو مکمل ضابطہ حیات تھا،تمام قوموں کے حقوق دینے والا تھا،اجتماعیت کے حقوق دینے والا تھا۔
خلیل صاحب کی بات کو بھی مد نظر رکھیے گا

By: razeen, lahore on Jul, 06 2011
Reply Reply
0 Like
کتاب اللہ میں درج ہے کہ جھوٹ بولنے والوں اور شاعروں پر شیطان نازل ہوتے ہیں ِ وہ وقت اور حالات کے مطابق اپنے شعروں میں تبدیلی کر کے انہیں بے وقف بناتے ہیں اور مال یا نام کماتے ہیں ۔

طوائفوں کے کوٹھوں پر جاتے ہیں ِ ضرورت پڑے تو انکار کرنے والی کو قتل بھی کر دیتے ہیں ۔ اس قتل کو اسلامی رنگ دے کر مذہبی شاعری کرنے لگتے ہیں اور بڑھاپے میں مذہبی شاعر کا روپ ڈھال لیتے ہیں اور محمد الرسول اللہ کی یہ سنائی ہوئی آیت سے منکر ہو جاتے ہیں ِ۔

والذين لا يدعون مع الله الها اخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله الا بالحق ولا يزنون ومن يفعل ذلك يلق اثاما [25:68]۔

اور وہ لوگ اللہ کے ہمراہ کسی دوسرے کو نہیں پکارتے اور نہ ہی کسی نفس کو جسے اللہ نے حرام کر دیا ہو بغیر الحق کے قتل کرتے ہیں اور نہ ہی زنا کرتے ہیں اور جو یہ عمل ( پکارنا۔ قتل کرنا اور زنا کرنا) کرے گا وہ گناہ اس پر معلق رہے گا ۔

کبھی سارا ہندوستان بلا تخصیص مذہب ان کا ہوتا اور جب ضرورت پڑتی ہے تو ۔ قوم مذہب سے مذہب جو نہیں کچھ بھی نہیں ِ اور تم شیخ بھی ہو مرزا بھی ہو اور افغان بھی ہو ِ لیکن جب اولادوں کے رشتوں کی بات آتی ہے تو چوہدریوں َ راجپوتوں ۔ کشمیریوں ۔ میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ فلموں کی بات ہوتی ہے تو انڈین فلموں کا جواب نہیں اور گانے تو لاجواب ہیں اور کرکٹ میچ ھو تو ہندوستان کو ہرانا ہے ۔ دو قومی نظریہ انسانوں کی تخلیق ہے قادر مطلق کو یک قومی نظریہ پسند ہی نہیں ہم یک قومی نظریہ پر اپنی اپنی دکانداری چمکا رہے ہیں ۔ ہر ملک ملک ماست کہ ملک خدائے ماست کا غلغلہ بلند کرنے والوں کو تو سعودی عرب بھی بغیر ویزا کے بنیادی اسلامی ملک میں داخل نہیں ہونے دیتا ۔

آہ خوابوں اور خیالوں میں رہنے والی اس قوم کے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ ناول نگاروں ۔ شاعروں اور سیاست دانوں کے ہاتھوں کس خوبصورتی سے بے وقوف بنائے جاتے ہیں ۔
By: M.N.Khalid, Islamabad on May, 07 2011
Reply Reply
0 Like
pakistan k kiyam ki waja se pakistani akser'yet walay muzhab aur fiqa nay, akliyet main rehne walay mazahab aur muslim akliyet ko kahe ka bhi nahi chora.aaj jo zulum pak main muslim ak'liyet k sath horaha hai,dukh is baat ka hai,k ager koi non muslims marta,to aur baat thi,ab to muslim hi muslim k khon ka piasa hai
By: sheraz, multan.pakistan on May, 05 2011
Reply Reply
0 Like
محترم رزین صاحب ! مجھے حیرت ہو رہی ہے کہ آپ ہر صورت کیوں دو قومی نظریے کو غلط ثابت کر نے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ آپ پاکستان کے اندر تو پنجابی, پٹھان, بلوچی اور سندھی کو قوم گردان رہے ہیں اور ان کی حقوق کی بات کر رہے ہیں لیکن ہندو کے ساتھ ایک قوم بن کر رہنے پر آپ کو کوئی اعتراض نہیں۔ جہاں تک ملت اور قوم کی اصطلاحات کو گڈ مڈ کرنے کی بات ہے تو میں ایک عام آدمی کے طور پر یہی سمجھتا ہوں کہ بہت ساری مسلمان اقوام مل کر ملت اسلامیہ بناتی ہیں اور آپ ہی کے تعاریف کے مطابق دہلوی, آسامی, لکھنوی بھی پنجابی اور پٹھان کی طرح مسلمان اقوام ہیں لہٰذا ملت اسلامیہ کا حصہ ہیں لیکن ان کی بدقسمتی کہ ان کی حکومت غیر مسلم ہے۔ ایک مسلمان حکومت اگر غیر ضروری ہے تو مدینہ کو کیوں مسلم مملکت قرار دیا گیا اور کیوں قرون اولی کے مسلمانوں نے مسلمان حکومتیں بنائیں کیوں نہ صرف مفتوحہ علاقوں کے لوگوں کو مسلمان کیا اور غیر مسلم حکومتوں کے زیر سایہ چھوڑ دیا۔ کیا تاریخ مسلسل غلط کرتی رہی ہے۔
By: Habib Ullah Khan, Swat, Pakistan on Feb, 20 2011
Reply Reply
1 Like
صدیوں پہلے کی بات ہے عربی تاجر جہاں جاتے وہاں کی خواتین سے شادیاں رچاتے اور مسلمان پیدا کرتے جاتے ِ یہ اور بات کہ “جمائما خان “ کی طرح “ مرگ مفاجات “ کے تحت مسلمان ہونے والیاں اپنی کوکھ سے پیدا ہونے والے بچوں کو اپنی زبان اور اپنا مذہب سکھاتیں ِ چنانچہ ایسی ہی عورت کی کوکھ سے پیدا ہونے والی ایک خوبصورت عورت کو بحیرہ عرب کے کنارے حکومت کرنے والے بادشاہ نے اپنے حرم میں مقید کر لیا ِ چنانچہ نسیم حجازی ٹائپ داستان گو نے ا‘س وقت کی سپر پاور کے گوش گزار یہ دکھ بھری داستان پیش کی اور آخر میں اس درد بھری پکار کا تڑکا لگایا “ المدد المدد یا امیر ِ تو سپر پاور کے امیر نے جس نے بے تحاشا مسلمانوں کا قتل کیا اور ان کے لاشے ایک محترم عمارت کی دیوار سے بطور عبر ت ٹانگے ِ اور اس نے ا‘س وقت کے “ بلاول زرداری “ کو فوج کے ساتھ اس لڑکی کو رہائی دلانے کے لئے بھیجا ِ بے وقف بادشاہ “انا پرست “ میں مارا گیا ِ تاریخ یہ نہیں بتاتی کی وہ لڑکی کہاں گئی ؟ البتہ یہ ضرور بتاتی ہے کہ اس وقت کے “ بلاول زرداری “ نے سپر امیر کو تحفہ میں بھیجی گئی دو “غیر مسلم “ لڑکیوں کو پہلے خود آزمایا اور پھر آگے روانہ کر دیا ۔ سپر امیر کو معلوم ہوا کہ اس کے تحفے پر پہلے ہی ہاتھ صاف کیا جا چکا ہے تو اس نے اس وقت کے “ بلاول زرداری “ گائے کی کھال میں سلوا کر واپس منگوا لیا ۔
By: M.N.Khalid, Islamabad on Feb, 18 2011
Reply Reply
0 Like
بہت اچھا اور معلوماتی مضمون ہے شاباش
By: Sameea Zeb, Quetta on Feb, 17 2011
Reply Reply
0 Like
All Pakistanis are equal and should not be discriminated on basis of religion. There are two states in the world created on the basis of a religion. Pakistan and Israel and both are groping in dark to find some cogent reason to establish themselves. To become a country or a nation it requires more than just religion...land , history, culutre & traditions etc. History sugessts we are scions of Moen jo Daro and Harapa, Were they muslims? Yes we are muslims now without a doubt but still I think religion is personal matter and differnt from state affairs. If we want to see Pakistan a prosperous and peaceful place we must think beyond the traditional thinking that is there for last 63 years. Lets admit Pakistan is a multi ethnic and multi religious state (Like Malaysia, Switzerland etc)where all should get equeal chance as given in some speeches of Quaid-e-Azam.
By: Junaid, Karachi on Feb, 09 2011
Reply Reply
0 Like
Displaying results 1-20 (of 31)
Page:1 - 2First « Back · Next » Last
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB