ڈاکٹر سَتیہَ پَالؔ آنند ۔ دنیائے ادب کی قدآور شخصیت

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

ڈاکٹر ستیہ پال آنند عالمی شہرت یافتہ ادیب اور شاعر ہیں، یہ نظم کہنے کے حوالے سے اپنی ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ وہ چھ سے سات سو نظمیں کہہ چکے ہیں، گزشتہ دنوں وہ پاکستان تشریف لائے اور انجمن ترقی اردو کی جانب سے پاکستانی ادیبوں سے گفتگو کی۔ راقم کو ان کی گفتگو سننے اور انہیں قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ یہ مضمون اسی گفتگو کا نتیجہ ہے۔ڈاکٹر آنند بنیادی طور پر پاکستانی ہیں تقسیم کے وقت وہ مشرقی پنجاب منقل ہوئے، اب امریکہ میں مقیم ہیں۔

مصنف ڈاکٹر رئیس صمدانی، ڈاکٹر ستیہ پال آنند کے ساتھ

ڈاکٹر سَتیہَ پَالؔ آنندکا نام تو سنا تھا ، یہ بھی معلوم تھا کہ وہ انگریزی اور اردو ادب کی ایک قد آور شخصیت اور نظم کے لاجواب شاعر ہیں۔ خدا بھلاکرے انجمن ترقی اردو کے منتظمین کا کہ انہوں نے کہ جب ڈاکٹر صاحب کراچی آئے توان کے ساتھ ایک ادبی نِشَست کا اہتمام کر کے ادب کی بلند مرتبہ شخصیت کو قریب سے دیکھنے اورشاعری کے حوالے سے ان کی گفتگو سننے کا موقع فراہم کیا۔ڈاکٹر صاحب کے تعارف میں انجمن ترقی اردو کی معتمد ڈاکٹر فاطمہ حسن نے اچھی بات کہی کہ ’ ہم تقریبات نہیں کراتے بلکہ ملاقات کراتے ہیں اُن سے جو اپنے علم اور اپنے قلم سے خدمت کر رہے ہیں‘۔ واقعی اس ادبی نشست کی یہی صورت تھی ، وہ تقریب ہر گز نہیں تھی بلکہ اردو نظم کے بڑے شاعر سے ایک خوبصورت و خوش گوارملاقات تھی۔ یہ ادبی نِشَست 9اپریل 2016کو انجمن ترقی اردو گلشن اقبال کے دفتر میں منعقد ہوئی۔ گفتگو کاموضوع تھا ’شعری لوازمات۔ عصر ِحاضر کے تناظر میں‘‘۔ نِشَست کی ابتدائی تفصیل کے بعد ڈاکٹر سَتیہَ پَالؔ آنند کی شخصیت ، علمی و ادبی خدمات اور شاعری پر کچھ باتیں ہوں گی۔

آج مجھے ڈاکٹر سَتیہَ پَال آنند کو پہلی مرتبہ قریب سے دیکھنے کا اتفاق ہورہا تھا۔ لانبا قد، صحت مند جسم، ہنستا مسکراتا چہرہ، کشادہ پیشانی، روشن آنکھیں جن میں سوجھ بوجھ کی چمک ، چشمے نے آنکھوں کو اور بھی حسین بنا دیا تھا،سر پر کچھ کچھ سفیدبال ، ستواں ناک جس کے نیچے قینچی استرے کی دسترس سے محفوظ سپاٹ میدان یعنی نہ موچھ نہ داڑی، گوری رنگت، سفید چمک دار دانت، سنجیدہ طرز گفتگو، دل میں اتر جانے والی مسکراہٹ، چال میں سبک رفتاری اور ڈھیلا پن، ہالف سلیپ شرٹ اورپینٹ میں ملبوس ڈاکٹر سَتیہَ پَال آنند85 برس کی عمر میں بھی کسی انڈین ہیرو سے کم خوبصورت نہیں لگ رہے تھے۔ چال میں ڈھیلے پن کی وجہ ڈاکٹرصاحب نے بیان کی کہ ان کے دونوں گٹھنے مصنوعی لگے ہوئے ہیں اور پھر عمر بڑی ظالم شہ ہے بڑوں بڑوں کو جھکا دیتی ہے۔ المختصر صورت شکل، وضع قطع،چہرے مہرے سب سے شرافت ، تحمل ، وضع داری ، علمیت و قابلیت اور معصومیت کا خوشگوار اظہار۔گفتگو سے اندازہ ہوا کہ ڈاکٹر سَتیہَ پَال کی ظاہری شخصیت ہی جاذب نظر نہیں وہ اندر سے بھی ایک اچھے انسان ہیں ،بہ اخلاق ہیں، خوش گفتار ہیں، خوش مزاج ہیں ، خوش خوراکی کا اندازہ نہیں ، سب سے بڑھ کر یہ کہ اچھا انسان ہونا بڑی بات ہے۔ علامہ اقبال نے کہا ہے ؂
خدا تو ملتا ہے ، انسان ہی نہیں ملتا
یہ چیز وہ ہے جو دیکھی کہیں کہیں میں نے

مجھے ڈاکٹر سَتیہَ پَال کی شخصیت میں ایک علم دوست، علم پرور،شاعر و ادیب ، ماہر لسان و ادب ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھا انسان بھی دکھائی دیا جس نے اپنی زندگی کا مطمع نظر حصولِ علم و ادب ، ترسیل ِ علم وادب اور ادب کا فروغ بنایا اور وہ اپنے اسی مقصد پر آج بھی کاربند ہے۔ معروف شاعر و ادیب معراج جامی نے میزبانی کے فرائض خوبصورت انداز سے انجام دیے۔ انہوں نے بتا یا کہ ڈاکٹر سَتیہَ پَالؔ آنند امریکہ سے تشریف لائے ہیں ، یہ بنیادی طور پر پاکستانی ہیں ، تقسیم ہند کے وقت یہ بھارت تشریف لے گئے پھر انگلستان اوراب امریکہ میں مقیم ہیں۔ ڈاکٹر صاحب بنیای طور پر نظم کے شاعر ہیں، افسانہ نگار بھی ہیں اور تنقید نگار بھی۔ ادب کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب کی مختلف جہتیں گفتگو میں سامنے آئیں۔ انہوں نے ڈاکٹر آنند کو ادب کا آفتاب قراردیا۔ اظہار خیال کرنے والوں میں انجمن ترقی اردو کی معتمد ڈاکٹر فاطمہ حسن کے علاوہ انجمن کے صدر ذوالقرنین جمیل ، پروفیسر سحرؔ انصاری، ڈاکٹر شارق علی شامل تھے۔

ڈاکٹر سَتیہَ پَالؔ آنند نے اپنی گفتگو کا آغاز اپنی عمر بتا کر کیا ان کہنا تھا کہ وہ اسی ماہ 85بر س کے ہونے والے ہیں، انہوں نے کہا کہ وہ بنیادی طور پر پاکستانی ہیں ، پاکستان کے شہر چکوال کے ایک قصبے ’کوٹ سرنج‘ میں 24 اپریل 1931ء میں پیدا ہوئے، میٹرک پنجاب سے کیا ، حالات کے پیش نظر تقسیم کے وقت اپنے خاندان کے ہمراہ مشرقی پنجاب کے شہر لدھیانہ منتقل ہوگے۔ اُن کی مادری زبان پنجابی ہے، ایم اے انگریزی میں پنجاب یونیورسٹی چندری گر سے کیا،اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان گے اورپہلی ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ،ان کے مقالے کا عنوان تھا "Changing concept of the nature of reality and literacy techniques of expression"ڈاکٹر صاحب نے دوسرا ڈاکٹریٹ ٹرینیٹی یونیورسٹی ، ٹیکساس سے فلسفے میں کیا۔ ڈاکٹر سَتیہَ پَالؔ آنند کا کہنا تھا کہ انہوں نے 13مختلف جامعات میں انگریزی ادب پڑھایا۔ اب امریکہ میں مستقل قیام ہے، لکھتے ہیں، پڑھتے ہیں اور شاعری کرتے ہیں۔ڈاکٹر سَتیہَ پَال کو انگریزی اور اردو کے علاوہ عربی، فارسی، ہندی، بحور، چھند جیسی دیگر زبانوں پر بھی عبور حاصل ہے۔اسی حوالے سے وہ تقابلی ادب کے اچھے استاد تصور کیے جاتے ہیں۔ڈاکٹر آنند نے 1957میں پرومیلا آنند Promila Anandسے شادی کی ان کے دو بیٹے پراموڈPramod اور سچن Sachinہیں۔

’شعری لوازمات عصر ِحاضر کے تناظر میں‘ کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر آنند کا کہنا تھا کہ اردو کو اس قدر اہمیت اس کے لیے کام کرنے کے باوجود جو بابائے اردو مولوی عبد الحق اور جمیل الدین عالیؔ جیسے اردو سے محبت کرنے والوں نے کیا اردو کو وہ مقام و مرتبہ نہیں مل سکا۔ انہوں نے عہد بہ عہد اردو ادب کے حوالے سے گفتگو کی، انہوں نے شاعری میں استعاروں کی بات کی، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شاعری میں آمد کی کوئی حیثیت نہیں ، ان کے خیال میں شعر کہنے والا اپنی ذہنی کیفیت یا شعور کوالفاظ میں ڈھالتا ہے جسے شاعری میں آمد سے تشبیح دی گئی ہے ، ان کا کہنا تھا کہ آمد اور آورد کا عمل موجودہ دور کی شاعری میں دخل نہیں ، بنیاد استعارہ ہوتا ہے جسے مختلف اور نیا ہونا چاہیے، ان کا کہنا تھا کہ کہنے والا اپنے ارد گرد کے ماحول سے متاثر ہوتا ہے، وہی موضوعات جنہیں وہ محسوس کرتا ہے ان میں سے ہی کسی استعارے کو بنیاد بنا کر آگے بڑھتا ہے۔ گویا وہ استعارہ کو شاعری کی بنیاد تصور کرتے ہیں۔ اس کے برعکس شاعری میں آمد اور آورد کی اصطلاحیں عام ہیں، غالبؔ نے تو بہت پہلے شاعری میں آمد کے حوالے سے کہہ دیا تھا کہ مضامین غیب سے خیال میں آتے ہیں،ممکن ہے کہ ڈاکٹر آنند کے نذدیک غالبؔ کے غیبی مضامین استعارہ ہوں۔غیبی خیالات کی بات غالبؔ نے اپنے اس شعر میں کہی ؂
آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں
غالب ؔسریرِ خامہ نوائے سروش ہے

ڈاکٹر سَتیہَ پَال نے چھ سے سات سو نظمیں لکھی ہیں۔ان کے بارے میں یہ تاثر بھی ہے کہ وہ غزل کے مقابلے میں نظم کے قائل ہیں۔بلکہ بعض ناقدین نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ڈاکٹر آنند غزل کے خلاف ذہن رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر آنند سب سے زیادہ نظمیں کہنے والے شاعر ہیں ۔ ڈاکٹر فاطمہ حسن نے ڈاکٹر آنند کی چھ سو نظموں میں سے ساٹھ نظموں کا انتخاب کیا جو بعنوان ’ستیہ پال آنند کی ساٹھ منتخب نظمیں ‘ کے عنوان سے انجمن ترقی اردو نے شائع کیا۔ مولفۂ کے مطابق اس انتخاب میں بیسویں صدی کی ساٹھ کی دہائی سے لے کر آج اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کے وسط تک لکھی گئی نظمیں شامل ہیں۔ انہوں نے ستیہ پال کو زود گو شاعر قرار دیا ، ان کا کہنا ہے کہ’ شاعری میں ڈاکٹر ستیہ پال آنند کا رویہ روایت سے بلند آہنگ انحراف کا ہے اور اس رویے کو ان کا معاصر نقادوں نے بھی پوری طرح اُجاگر کیا ہے‘۔ڈاکٹر فاطمہ حسن نے کتاب کے پیش لفظ میں ڈاکٹر آنند کی شاعری کے حوالے سے مختلف شعرا ء کے خیالات قلم بند کیے ہیں۔ ڈاکٹر وزیر آغا مرحوم کا کہنا ہے کہ ’ڈاکٹر سَتیہَ پَالؔ آنند نے تمثیل سے باہر کھڑے ہوکر تمثیل کے کرداروں کو دیکھا نیز خود سے باہر نکل کر خود کا نظارا کرنے کی جو روش اختیار کی ہے وہ اردو نظم کو ایک انوکھی قوت عطا کر رہی ہے‘۔ ڈاکٹر گیان چند جین کا خیال ہے کہ’ ڈاکٹر سَتیہَ پَالؔ آنند بہت صحیح وقت پر اردو میں ظاہر ہوئے‘، جب کہ اختر الا یمان کا کہنا ہے کہ ’ڈاکٹر سَتیہَ پَالؔ آنند کی نظمیں ، غزل کی لفظیات ، استعارات اور زبان سے چپک جانے والی مٹھاس سے یکسر پاک ہیں‘، ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نے کہا کہ ’ ڈاکٹر سَتیہَ پَالؔ آنند نے یک صدنظمیں اس بات کے عملی ثبوت کے طور پر لکھیں کہ مغربی قارئین ان جیسی نظموں کو انگریزی یا دیگر یورپی زبانوں میں پڑھ کر محسوس کریں گے کہ موضوعاتی ، معانیاتی اور اسلوبیاتی سطحوں پر یہ کسی طرح بھی مغربی شاعری سے کم درجے کی نہیں ہیں۔ ان میں جو معانیاتی قوس قزح ہے، مشرقی اور مغربی شعری روایت کے درمیان جو جمالیاتی پُل بنانے کی کوشش ہے، انگریزی سوچ، ہندوستانی مزاج اور اردو اظہار کا جو جزرومد ہے، ہندوستانی تناظر کی جو چھائیں ہے ، جو انوکھا اور نیا ذائقہ ہے وہ اپنی الگ نوعیت رکھتا ہے‘۔ معروف شاعر پروفیسر سحرؔ انصاری کا خیال ہے کہ ہم کلاسیکی رویوں کے بغیر تجربے نہیں کر سکتے۔ ڈاکٹر سَتیہَ پَالؔ آنندنے اہم نظمیں لکھی ہیں جو ہر قسم کے تعصبات سے پاک ہیں ۔ انہوں نے جدید زندگی کو لکھا ہے اور عالمی ذہن تو اسی طرح بنتا ہے۔ ڈاکٹر شکیل الرحمٰن نے ڈاکٹر آنند کی شاعری کے حسن کی تعریف ان الفاظ میں کی ۔’ڈاکٹر سَتیہَ پَالؔ آنند جدید اور شاعری میں جمالیاتی رومانی حیثیت کے ایک ممتاز شاعر ہیں۔ ان کی نظموں کا مطالعہ کرتے ہوئے شدت سے محسوس ہوتا ہے کہ انھوں نے اس رومانیت کے مفہوم میں بڑی وسعت اور گہرائی پیدا کی ہے کہ جو جمالیات کی سب سے تابناک جہت ہے۔ یہ رومانیت تجربوں کی وسعت اور تہہ داری کا جمالیاتی احساس بخشتے ہوئے جمالیاتی انبساط عطا کرتی ہے۔ یہ رومانیت اکثر جمالیاتی انکشافات کرتی ہے اور ماضی اور حال کے تجربوں کو عموماً اس طرح چھوتی ہے کہ جمالیاتی اور ارتعاشات Aesthetic vibrationsپیدا ہونے لگتے ہیں۔ اس طرح ستیہ پال آنند ایک منفرد شاعر کی حیثیت سے سامنے آجاتے ہیں‘۔ڈاکٹر شارق علی کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر سَتیہَ پَالؔ آنند کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ غزل کے مخالف ہیں لیکن یہ غلط ہے وہ جوشؔ کی مانند جس موضوع پر کہتے ہیں کہتے چلے جاتے ہیں، تقابل ادیان ان کا خاص موضوع ہے، وہ جو کچھ نظم میں کہتے ہیں عہد حاضر کو سامنے رکھ کر کہتے ہیں،انہوں نے افسانے بھی لکھے، غزل بھی کہی اب نظم کہہ رہے ہیں۔

ڈاکٹر سَتیہَ پَالؔ آنند کو ان کی علمی و ادبی خدمات پر اعزازات سے بھی نوازا گیا، جواہر لعل نہری فیلو شپ، اردو مرکز ایوارڈ ، لاس اینجلز اور حکومت پنجاب، بھارت کی جانب سے Shiromani Sahityakar Award سے نوازا گیا ہے۔ ڈاکٹر سَتیہَ پَالؔ آنند کی تصانیف میں اردو، انگریزی اور ہندی کی کتب شامل ہیں۔ اردو میں شائع شدہ مجموعوں میں ’دل کی بستی، دست برگ، پھول پھول نظم، وقت لاوقت، شہر کا ایک دن، کتھا چار جنموں کی، تتھاگت نظمیں، جو نسیم خندہ چلے، میرے اندر ایک سمندر، لہو بولتا ہے، مجھے نہ کر وِداع شامل ہیں۔ مختصر کہانیاں :جانے کے لیے، اپنے مرکز کی طرف، دل کی بستی، اپنی اپنی زنجیر، پتھر کی سلیب۔ناول: آہٹ، چوک گھنٹا گھر، عشق موت اور زندگی، شہر کا ایک دن۔ہندی مطبوعات: یوک کی آواز، پینٹر باوری، آزادی کی پکاربھوری، دل کی بستی،چوک گھنٹہ گھر۔ گیت اور غزلیں۔پنجابی میں: سویر دوپہر شام، مکھو مٹھا، غزل غزل دریا،غزل غزل ساگر،غزل غزل لہر۔انگریزی میں:Life's a jtale, Some shallow, ssome deep, sunset Starands, If Winter Comes, One Hundred Buddhas, A Vagrant Mirror and The Dream Weaverشامل ہیں۔

ڈاکٹر سَتیہَ پَالؔ آنند کی ایک نظم جس کے بارے میں ڈاکٹر آنند نے لکھا کہ مرزا غالبؔ کے مصارع پر مبنی میری تیس مختصر نظموں میں سے یہ نظم ڈاکٹر آنند نے حال ہی میں اپنے فیس بک میں پوسٹ کی ہے ؂
ہے کائنات کو حَرکت تیرے ذوق سے
پر تو سے آفتاب کے ذرے میں جان ہے
ذرہ․․․اقل اقل ، فقظ اک نقطہ، طمعہ، جزو
ذرہ خنیف، ہیچ، فردست، کفِ کاک
ذرہ قلیل سالمہ ، ایٹم، الیکٹران!
اور آفتاب ․․․بر تر و ممتاز، بالا تر
فوق ا لنظیر، لاجواب وبے مثال کُل
ہاں آفتاب، جامع، جمیع، جملہ مطلقاً !
ذروں کا مجموعہ ہے مگر آفتاب بھی
اس کاثبات ذروں کے ادغام میں ہے بست
ہر ذرہ غیر منقسم، واحد اکائی ہے
یہ بستگی، پیوستگی ذروں کی دین ہے
ورنہ یہ آفتاب تو ہے ریت کی دیوار
غالبؔ کو کوئی کیسے بتاتا یہ واقعیت
انیسویں صدی میں تو کوئی جانتا نہ تھا

ڈاکٹر سَتیہَ پَالؔ آنند کی نظم ’خود نوشت سرگشت‘ سے انتخاب ؂
جو مسئلے تھے، حل ہوئے
جو راستے تھے، کٹ گئے
جو منفلیں تھیں، طے ہوئیں
جو خارزار آبلوں کی آبرو بنے ہوئے بچھے تھے
اب چبھن کی میٹھی ید بن کے رہ گئے

ڈاکٹر سَتیہَ پَالؔ آنند کی ایک نظم مقروض سے انتخاب ؂
بھاگتا ہوں
کوئی تیزی سے تعقب میں لگا ہے
مجھ پہ پیچھے سے جھپٹا چاہتا ہے
لڑکھڑاتا ، ڈگمگاتا، پھر سنبھلتا
تیز تر قدموں سے آگے بھاگتا ہوں
میرا کالر اُس کے ہاتھوں کی پکڑ میں آتے آتے
پھٹ گیا ہے

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
16 May, 2016 Total Views: 781 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 559 Articles with 340606 views »
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB