فلم ٹائٹینک میں روز نے جیک کو تختے پر جگہ کیوں نہیں دی؟

 

ہالی وڈ کی مقبول فلم 'ٹائٹینک' ایک حقیقی حادثے پر مبنی ایسی فلم ہے جس میں ایک داستان محبت کو پروان چڑھتے دیکھا جا سکتا ہے۔

فلم کا انجام انتہائی دردناک ہے جس میں ہیرو اپنی محبوبہ کو بچانے کے لیے اپنی جان دے دیتا ہے اور محبوبہ اس کی محبت دل میں چھپائے زندگی گزار دیتی ہے۔
 


یہ فلم 'آر ایم ایس ٹائٹینک' نامی جہاز کی کہانی ہے جو انگلینڈ کے ساؤتھ ایمپٹن سے نیویارک کے پہلے سفر کے دوران 14 اپریل سنہ 1912 کو بحر اوقیانوس میں حادثے کا شکار ہو جاتا ہے۔

اس حادثے میں 1500 سے زائد مرد، خواتین اور بچے ہلاک ہو گئے تھے۔ ٹائٹینک کے غرق ہونے سے قبل گھنٹوں جہاز پر کیا ہوتا رہا اس کے بارے میں بہت سے افسانے اور کہانیاں ہیں۔ لیکن سنہ 1997 میں بننے والی جیمز کیمرون کی فلم سب سے زیادہ مقبول ہوئی۔

فلم میں کیا ہوا؟
اس فلم پر بے حساب پیسہ خرچ کیا گیا لیکن اس نے اس سے کہیں زیادہ کمائی کی۔ بہر حال فلم کے انجام پر بہت سے لوگوں کو شکایت تھی۔ فلم میں جب جہاز ڈوب رہا ہوتا ہے تو ہیرو جیک اپنی جان دے کر اپنی محبوبہ روز کو بچاتا ہے۔

فلم کے اختتام پر یہ منظر سامنے آتا ہے کہ جہاز کے غرقاب ہونے کے بعد جیک اور روز کو ایک لکڑی کا تختہ مل جاتا ہے جس پر دونوں سوار ہونے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ سمندر کے یخ بستہ پانی میں زیادہ دیر رہنا موت کو دعوت دینا ہے۔

لیکن جب دونوں تختے پر بیٹھنے کی کوشش کرتے ہیں تو تختہ ڈوبنے لگتا ہے اور دونوں کا وزن ایک ساتھ نہیں اٹھا پاتا ہے۔ بہرحال تختہ اتنا بڑا تھا کہ دونوں اس پر سوار ہو سکتے تھے۔
 


بہت سے ناظرین کے دل میں یہ سوال پیدا ہوئے کہ کیا واقعی دونوں کی جان نہیں بچ سکتی تھی کیا واقعی وہ تختہ ان دونوں کا وزن اٹھانے لائق نہیں تھا؟

فلم ساز جیمز کیمرون سے کئی بار یہ سوال پوچھا گیا اور اب انھوں نے اس کا جواب دیا ہے۔

وینٹی فيئر کے ساتھ ایک انٹرویو میں ان سے پوچھا گیا کہ روز نے جیک کو تختے پر جگہ کیوں نہیں دی؟

انھوں نے کہا: ’اس کا سہل سا جواب یہ ہے کہ سکرپٹ کے 147 ویں صفحے پر لکھا گیا تھا کہ جیک مر گیا۔ یہ فنی اعتبار سے کیا جانے والا فیصلہ تھا۔‘

کیمرون نے کہا: 'وہ تختہ صرف اتنا ہی بڑا تھا کہ وہ روز کو سنبھال لے، دونوں کو نہیں۔۔۔ یہ بہت بچگانہ بات ہے کہ فلم کے 20 سال بعد بھی ہم اسی کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ لیکن اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ فلم اس قدر متاثر کن رہی اور جیک لوگوں کو اتنا پیارا لگا کہ ناظرین کو اس کا مر جانا غمزدہ کر گیا۔'
 


انھوں نے کہا: 'اگر وہ زندہ رہتا تو فلم کا اختتام بے معنی ہو جاتا۔۔۔ یہ فلم موت اور علیحدگی پر مبنی تھی۔ فلم میں جیک کو مرنا ہی تھا۔ اگر اس طرح نہیں مرتا تو اس پر جہاز کا کوئی ٹکڑا گرتا، آخر میں اسے مرنا ہی تھا۔ اسے ہی آرٹ کہتے ہیں اور بعض چیزیں طبعیات کے اصول کے بجائے فنی نقطۂ نظر سے لکھی جاتی ہیں۔‘

ان سے دوسرا سوال کیا گیا جس میں پوچھا گیا کہ آپ طبعیات کے سلسلے میں بہت سنجیدہ ہیں تو پھر ایسا کیوں ہوا۔

انھوں نے جواب دیا: ’ہاں میں ہوں۔ دو دنوں تک میں لکڑی کے اس تختے پر دو لوگوں کو بیٹھا کر دیکھنے کی کوشش کرتا رہا کہ وہ دو لوگوں کا وزن نہ اٹھا سکے جبکہ ایک کا بار اٹھا لے کیونکہ یخبستہ پانی میں روز اس پر بیٹھے اور وہ نہ ڈوبے۔'
 


انھوں نے کہا: 'جیک کو پتہ نہیں تھا کہ ایک گھنٹے میں لائف بوٹ اسے بچانے آ جائے گی۔ اس سے قبل وہ مر چکا تھا۔ فلم میں آپ نے جو دیکھا اس کے بارے میں یہ خیال تھا اور آج بھی ہے کہ ایک ہی کو بچنا تھا۔‘


Partner Content: BBC URDU

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
28 Nov, 2017 Total Views: 4379 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
Twenty years after the film's release, Cameron is still fielding questions about whether or not the movie's hero, played by Leonardo DiCaprio, could have survived with Kate Winslet's Rose on the makeshift raft that kept her alive and out of the frigid waters after the ship sank — a theory he's batted down before.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB