آخری رسومات کے راستے میں بچے کی لاش زندہ نکلی

 

انڈیا کے دارالحکومت دلی میں ایک نوزائیدہ بچے کو اس کی آخری رسومات کے لیے لے جایا جا رہا تھا جب یہ معلوم ہوا کہ وہ زندہ ہے اور ڈاکٹروں نے اسے غلطی سے مردہ قرار دیا تھا۔
 


میکس نامی نجی ہسپتال میں اس بچے کا جڑواں بچہ بھی چند گھنٹے قبل ہی مردہ پیدا ہوا تھا۔

بچے کے والدین کا کہنا ہے کہ ان کی توجہ پلاسٹک کے لفافے پر تھی جس میں طبی عملے نے بچے کی لاش انھیں دی تھی، انھیں احساس ہوا کہ اندر بچہ حرکت کر رہا ہے۔

اس واقعے کے حوالے سے بہت سے لوگوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور نجی طبی سہولیات کے بارے میں ایک بحث چھڑ گئی ہے۔

دلی کے وزیراعلیٰ کیجریوال نے بھی اس واقعے کے بارے میں ٹوئیٹ کیا ہے اور معاملے کی تفتیش کا حکم دیا ہے۔ ریاستی وزیرِ صحت نے بھی اسے مجرمانہ غفلت قرار دیا ہے۔
 

 


بچے کے دادا کا کہنا تھا کہ آخری رسومات کے راستے میں جیسے ہی انھیں احساس ہوا کہ بچہ زندہ ہے تو وہ فوری طور پر قریبی ہسپتال لے گئے۔

میکس ہسپتال کی جانب سے میڈیا کو دیے گئے بیان میں کہا ہے کہ وہ اس واقعے کے حوالے سے انتہائی پریشان ہیں اور متعلقہ ڈاکٹر کو انکوائری کے تعطیل کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

ادھر مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ شلی پولیس اس واقعے کے حوالے سے قانونی ماہرین سے بھی رابطہ کر رہی ہے۔
 


Partner Content: BBC URDU

Disclaimer: All information is provided here only for general health education. Please consult your health physician regarding any treatment of health issues.
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
01 Dec, 2017 Total Views: 3687 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
Raising question marks on the condition of healthcare in India, it has come to light that a newborn, who was found alive after being declared dead along with his stillborn twin by Delhi's Max hospital, was shockingly denied treatment by another health care institution.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB