✕
ARTICLES
Recent Articles
Most Viewed Articles
Most Rated Articles
Featured Articles
Featured Articles - English
Interviews
Featured Writers
HamariWeb Writers Club
E-Books
Post your Article
NEWS
BUSINESS
MOBILE
CRICKET
ISLAM
WOMEN
NAMES
HEALTH
SHOP
More
SHOP
AUTOS
ENews
Recipes
Poetries
Results
Videos
Calculators
Directory
Photos
Urdu Editor
Travel & Tours
English
اردو
Home
Articles
Recent Articles
Most Viewed Articles
Most Rated Articles
Featured Articles
Featured Articles - English
Interviews
Featured Writers
HamariWeb Writers Club
E-Books
Post your Article
Home
Urdu Articles
Literature & Humor Articles
ابن انشاء-شاعر ترا، انشاء ترا
(Rashid Ashraf, Karachi)
11 جنوری 1978 انشاء جی کی تاریخ وفات ہے، گزشہ کل گزرے اس دن کو پاکستان کے چند ٹی وی چینلز نے یاد رکھا اور خبر نشر کی لیکن کسی نے انشاء جی کی قبر کی تصویر نہ دکھائی، وجہ اس کی یہ ہے کہ انشاء جی کی قبر پر کتبہ نہیں ہے۔
کچھ عرصہ قبل شام مغرب کے وقت مشفق خواجہ صاحب کی لائبریری کا قصد تھا اور وہاں حآضری سے قبل خیال آیا کہ انشاء جی کو سلام کرلیا جائے۔ دو برس پیشتر آج ٹی وی کے ایک رپورٹر جن کو ہم جناب ابن صفی کی قبر پر لے گئے تھے، قریب سے گزرتے وقت ہاتھ کے اشارے سے کہا تھا
"یہ انشاء جی کی قبر ہے"
جس طرف وہ ہاتھ کا اشارہ کرتا تھا وہ قبرستان کا داخلی رستہ تھا، گاڑی چشم زدن میں اس کے سامنے سے گزر گئی تھی۔ اس روز نہ صرف انشاء جی کی بے نام و نشان قبر ملی بلکہ وہاں اطمینان سے فاتحہ پڑھنے کا موقع بھی نصیب ہوا.
سلمان علوی نے انشاء جی کے اس کلام (انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو) کے جواب میں قتیل کی غزل ‘یہ کس نے کہا تم کوچ کرو‘ گا کر حق ادا کردیا ہے
یہ کس نے کہا تم کوچ کرو، باتیں نہ بناؤ انشا جی
یہ شہر تمہارا اپنا ہے، اسے چھوڑ نہ جاؤ انشا جی
جتنے بھی یہاں کے باسی ہیں، سب کے سب تم سے پیار کریں
کیا اِن سے بھی منہہ پھیروگے، یہ ظلم نہ ڈھاؤ انشا جی
کیا سوچ کے تم نے سینچی تھی، یہ کیسر کیاری چاہت کی
تم جن کو ہنسانے آئے تھے، اُن کو نہ رلاؤ انشا جی
تم لاکھ سیاحت کے ہو دھنی، اِک بات ہماری بھی مانو
کوئی جا کے جہاں سے آتا نہیں، اُس دیس نہ جاؤ انشا جی
بکھراتے ہو سونا حرفوں کا، تم چاندی جیسے کاغذ پر
پھر اِن میں اپنے زخموں کا، مت زہر ملاؤ انشا جی
اِک رات تو کیا وہ حشر تلک، رکھے گی کھُلا دروازے کو
کب لوٹ کے تم گھر آؤ گے، سجنی کو بتاؤ انشا جی
نہیں صرف “قتیل“ کی بات یہاں، کہیں “ساحر“ ہے کہیں “عالی“ ہے
تم اپنے پرانے یاروں سے، دامن نہ چھڑاؤ انشا جی
کراچی کے دوڑتے بھاگتے بے رحم ٹریفک سے بے نیاز، لب سڑک ہمارا پسندیدہ شاعر محو استراحت ہے، ایک پختہ احاطے میں خاندان کی پانچ قبریں--- کتبہ نہ ہونے کی وجہ سے عام لوگ بے خبر - ہاں مگر ایک پھول بیچنے والا باخبر نکلا
اللہ تعالٰی جنت میں درجات بلند فرمائے
تو باوفا، تو مہرباں، ہم اور تجھ سے بدگماں؟
ہم نے تو پوچھا تھا ذرا، یہ وصف کیوں ٹھہرا ترا
ہم پر یہ سختی کی نظر؟ ہم ہیں فقیر راہگزر
رستہ کبھی روکا ترا، دامن کبھی تھاما ترا
ہاں ہاں تیری صورت حسیں لیکن تو اتنا بھی نہیں
اک شخص کے اشعار سے شہرہ ہوا کیا کیا ترا
پی آئی اے کی جس فلائٹ سے انشاء جی کا تابوت آیا تھا اس کے پائلٹ نے استاد امانت علی کی آواز میں ‘انشاء جی اٹھو‘ لگادی تھی مسافر سنتے رہے اور روتے رہے تھے۔ استاد کی گائی اس غزل کو بغیر آنسو بہائے نہیں سنا جاسکتا۔
بند آنکھیں ہوئی جاتی ہیں پساریں پاؤں
نیند سی نیند ہمیں اب نہ جگانا لوگو
ایک ہی شب ہے طویل، اتنی طویل، اتنی طویل
اپنے ایام میں امروز نہ فردا لوگو
گلوکار فیصل لطیف نے انشاء جی کا کلام ‘سب مایا ہے‘ خوب گایا ہے، احباب اسے یوٹیوب پر سن سکتے ہیں:
< PREVIOUS
کائنات کا سب سے بڑا ”معمہ“
NEXT >
سیاسی ڈائیلاگ بمقابلہ ڈرامہ اور فلمی ڈائیلاگ
Facebook
WhatsApp
Pinterest
Twitter
Comments
Print
12 Jan, 2012
Views: 6666
About the Author:
Rashid Ashraf
Read More Articles by
Rashid Ashraf
:
107 Articles with 309260 views
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile
here.
Add Your Article
Article Categories
Politics
سیاست
Society & Culture
معاشرہ اور ثقافت
Religion
مذہب
Other/Miscellaneous
متفرق
Literature & Humor
ادب و مزاح
Education
تعلیم
Health
صحت
Famous Personalities
مشہور شخصیات
Science & Technology
سائنس / ٹیکنالوجی
Novel
افسانہ
Sports
کھیل
True Stories
سچی کہانیاں
Books Intro
تعارفِ کتب
Travel & Tourism
سیر و سیاحت
Career
کیریر
Entertainment
انٹرٹینمنٹ
Kids Corner
بچوں کی دنیا
Poetry
شعر و شاعری
100 Lafzon Ke Kahani
سو لفظوں کی کہانی
Young Writers
نوجوان قلم کار
Arts
ہنر
Military Democracy
سول فوجی جمہوریت
Hamariweb Writers Club
ہماری ویب رائٹرز کلب
Recent
Literature & Humor
Articles
ڈاکٹر سرعلامہ محمد اقبال اور نظریہ مغربی جمہوریت
کسی غیر کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہوئے دیکھے وہ خود مر جانا چاہتا تھا
مزے کا رمضان
کچھ درد ختم نہیں ہوتے
View all Literature & Humor Articles
Most Viewed
(
Last 30 Days
|
All Time
)
کچھ درد ختم نہیں ہوتے
ڈاکٹر سرعلامہ محمد اقبال اور نظریہ مغربی جمہوریت
کسی غیر کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہوئے دیکھے وہ خود مر جانا چاہتا تھا
مزے کا رمضان
نام میں بہت کچھ رکھا ہے
ادب زندگی ہے
کیفیتیں - قسط نمبر ١
Allama Sir Muhammad Iqbal - Notable ideas Two-Nation Theory