دہشت گردی کا مسئلہ اور ریاست کی بے ڈھنگی چالیں

(ڈاکٹر سید وسیم اختر, بہاولپور)

بعض مقتدر ادارے ایسی جماعتوں کو ہیرو بنانے پر تلے ہوئے ہیں اس کی وجہ سمجھ میں آتی ہے مقصد صرف ایم ایم اے کا راستہ روکنا ہے بعض شدت پسند جماعتوں کے لوگ بڑے بڑے دہشت گردی کے واقعات میں ملوث تھے لیکن ان کو ایم ایم اے کے سامنے لا کھڑا کیا گیا عوام بے وقوف نہیں ہیں وہ سب سمجھتے ہیں۔ گزشتہ رات پاکستان کی ہی شدت پسند جماعتوں کے دہشت گردوں نے ہارون بلور پر حملہ کیا اس لئے کہ ایسی جماعتوں کو عوام کی طرف سے مطلوبہ پذیرائی نہیں مل رہی جس کی وجہ سے یہ لوگ بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر ایک بار پھر بندوق اٹھا رہے ہیں۔ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ وطن عزیز کے مقتدر ادارے اپنا کھیل ختم کریں اور ایسے تمام عناصر کی پشت پناہی ختم کریں جو ریاست اور عوام کے دشمن ہیں کتنے دکھ اور افسوس کا مقام ہے کہ ایک ایسے شخص کو دہشت گردوں نے نشانہ بنایا ہے جس کا خاندان پہلے ہی اپنے غم سے نڈھال تھا ہارون بلور کی موت ایک بار پھر متتدر اداروں سے یہ تقاضہ کر رہی ہے کہ اپنی پالسیوں پر نظر ثانی کریں اور ایم ایم اے جیسے اتحاد کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے شدت پسندوں کی حوصلہ شکنی کریں اسی صورت میں دہشت گردی کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے

ہارون بلور شہادت

وطن عزیز کے بعض مقتدر اداروں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان ایک عرصے سے دہشت گردی کا شکار ہے اب تک ہزاروں افراد دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔گزشتہ شب خیبر پختونخواہ کے سیاستدان مرحوم بشیر بلور کے بیٹے ہارون بلور پر دہشت گردانہ حملہ ہوا جس میں ان سمیت بیس سے زائد لوگ جاں بحق ہو گئے۔موجودہ حالات میں ایسے واقعات پاکستان کے لئے بہت خطرناک ہیں انتخابات کے ایام میں ایسے واقعات پاکستان کے لئے عدم سیاسی استحکام کا موجب بنیں گے۔

افغانستان میں ایک ڈکٹیٹر نے امریکہ کا ساتھ دیا تو اس کے بعد پاکستان غیر معمولی حد تک دہشت گردی کا شکار ہو گیا تب سے لے کر اب تک اس مسَلے کے سنجیدہ حل کی طرف توجہ ہی نہیں دی گئی وہ عناصر جو بالواسطہ یا بلا واسطہ دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث تھے ان کو ریاست نے اپنے مفادات کے لئے استعمال کیا لیکن اس وقت یہ عناصر ریاست کےلئے خطرہ بن گئے جب ان عناصرکی ڈوریاں ہمسایہ ممالک سے ہلائی جانے لگیں اس کے بعد ہم نے دیکھا کہ بڑے بڑے سیاستدان دہشت گردی کی کاروائیوں میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے لیکن ستم بالائے ستم یہ ہے کہ جو لوگ دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے گئے ان کے قاتلوں کو کبھی گرفتار نہ کیا گیا اور ریاستی مقتدر اداروں نےاپنی سابقہ پالیسی کو جاری رکھتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف راست اقدام نہ کیا نوبت یہاں تک آپہنچی کہ مولانا فضل الرحمان تک کو دہشت گردی کی کاروائیوں میں راستے سے ہٹانے کی کوششیں کی گئیں اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے تمام دینی جماعتوں کو ساتھ ملا کر ایک سیاسی اتحاد تشکیل دے کر ملک و ملت کی بڑی خدمت کی ہے اس حوالے سے مولانا فضل الرحمان،امیر جماعت اسلامی سراج الحق اور ایم ایم اے کا کردار بڑا واضح ہے ایم ایم اے کے قائدین نے ان لوگوں کو ساتھ ملانے سے قطعا معذرت کی جن کے حوالے سے تھوڑا سا بھی شائبہ تھا کہ ان لوگوں کے دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات ہیں اسی لئے جماعت اہل سنت اور راہ حق جیسی پارٹیوں کو خواہش کے باجود اتحاد میں شامل نہیں کیا گیا تا کہ عوام ایم ایم اے پر یہ سوال نہ اٹھا سکیں کہ اس اتحاد میں شدت پسند جماعتیں بھی موجود ہیں لیکن دوسری طرف بعض مقتدر ادارے ایسی جماعتوں کو ہیرو بنانے پر تلے ہوئے ہیں اس کی وجہ سمجھ میں آتی ہے مقصد صرف ایم ایم اے کا راستہ روکنا ہے بعض شدت پسند جماعتوں کے لوگ بڑے بڑے دہشت گردی کے واقعات میں ملوث تھے لیکن ان کو ایم ایم اے کے سامنے لا کھڑا کیا گیا عوام بے وقوف نہیں ہیں وہ سب سمجھتے ہیں۔ گزشتہ رات پاکستان کی ہی شدت پسند جماعتوں کے دہشت گردوں نے ہارون بلور پر حملہ کیا اس لئے کہ ایسی جماعتوں کو عوام کی طرف سے مطلوبہ پذیرائی نہیں مل رہی جس کی وجہ سے یہ لوگ بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر ایک بار پھر بندوق اٹھا رہے ہیں۔ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ وطن عزیز کے مقتدر ادارے اپنا کھیل ختم کریں اور ایسے تمام عناصر کی پشت پناہی ختم کریں جو ریاست اور عوام کے دشمن ہیں کتنے دکھ اور افسوس کا مقام ہے کہ ایک ایسے شخص کو دہشت گردوں نے نشانہ بنایا ہے جس کا خاندان پہلے ہی اپنے غم سے نڈھال تھا ہارون بلور کی موت ایک بار پھر متتدر اداروں سے یہ تقاضہ کر رہی ہے کہ اپنی پالسیوں پر نظر ثانی کریں اور ایم ایم اے جیسے اتحاد کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے شدت پسندوں کی حوصلہ شکنی کریں اسی صورت میں دہشت گردی کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
11 Jul, 2018 Total Views: 41 Print Article Print
NEXT 
About the Author: ڈاکٹر سید وسیم اختر

Read More Articles by ڈاکٹر سید وسیم اختر: 19 Articles with 2692 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB