سیہون:مزارپرحملے،اسپتال میں سہولیات کی کمی کےخلاف مظاہرے، پولیس موبائل نذرآتش

18 Feb, 2017 اب تک
سیہون:مزارپرحملے،اسپتال میں سہولیات کی کمی کےخلاف مظاہرے، پولیس موبائل نذرآتشحضرت لعل شہباز قلندرکےمزارپرسیکیورٹی اورتحصیل اسپتال سیہون میں سہولیات کی کمی کے خلاف شہریوں نے سیہون میں احتجاج کیا،پولیس نےمظاہرین کو منتشرکرنےکیلئے ہوائی فائرنگ کی تو مظاہرین نے پولیس موبائل کو ہی آگ لگادی، ملک کے مختلف شہروں میں سیہون سانحے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔حضرت لعل شہباز قلندر کے مزار پر سیکیورٹی اور تحصیل اسپتال میں سہولیات کی کمی کے خلاف سیہون میں شہریوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔ پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ہوائی فائرنگ کی گئی۔ پولیس کی ہوائی فائرنگ پر مظاہرین مزید مشتعل ہوگئے۔ مظاہرین نے اے ایس پی آفس کے سامنے پولیس موبائل کو آگ لگادی۔مشتعل مظاہرین نے پولیس موبائل کو آگ لگانے کے بعد جہاز چوک پر ٹائروں کو آگ لگاکر ٹریفک مکمل طور پر معطل کردی۔پولیس کے لاٹھی چارج پر مظاہرین منتشر ہوگئے،پولیس نے واقعے میں ملوث 15 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔حضرت لعل شہباز قلندر کے مزار کو پاک فوج اور رینجرز اہلکاروں نے گھیرے میں لے رکھا ہے۔مزارمیں زائرین کے داخلے پر بھی پابندی عائد ہے۔فیض گنج،شکارپور،تنگوانی میں سانحہ کے سوگ میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال رہی۔ سکھر، سجاول، لاڑکانہ، بہاولپور اور شہداد کوٹ میں سیہون سانحے کے خلاف مختلف تنظیموں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: