3آبی منصوبوں کا دورہ کرایا جائے پاکستان : حالات ساز گار نہیں بھارت

21 Mar, 2017 نوائے وقت
اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی+ خبرنگار خصوصی+ نوائے وقت نیوز+ نیوز ایجنسیاں) پاک بھارت انڈس واٹر کمشن کے پہلے روز کے مذاکرات ختم ہو گئے۔ پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں دریائے چناب پر بھارت کے 3 متنازعہ آبی منصوبوں کے ڈیزائنزپر اعتراضات اٹھائے۔ پاکستان نے تینوں منصوبوں کے حوالے سے بھارتی وفد سے بریفنگ بھی مانگ لی ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارتی وفد نے یقین دہانی کرائی کہ تینوں منصوبوں پر پاکستان کے اعتراضات کا جائزہ لیں گے۔ بھارتی وفد آج پاکستانی اعتراضات کا جواب دے گا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ پکل‘ لوئر کلنائی اور میار پاور منصوبوں کے مقامات کا دورہ کرنا چاہتے ہیں۔ بھارتی وفد نے جواب دیا کہ مقبوضہ کشمیر میں منصوبوں کے مقامات کے دوروں کیلئے حالات سازگار نہیں ہیں۔ بھارتی کمشن نے فلڈ ڈیٹا پر اضافی معلومات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ پاک بھارت انڈس واٹر کمشنرز کے 2 روزہ مذاکرات کا دوسرا دور آج ہو گا۔ قبل ازیں پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ بھارت سے سندھ طاس کمشن کی سطح پر ہونے والے دو روزہ مذاکرات میں پکل دل‘ لوئر کلنائی اور میار پاور پلانٹ کے ڈیزائن‘ سیلاب کے پانی کے بہاﺅ کا ڈیٹا فراہم کرنے‘ زیر تعمیر منصوبوں کے دوروں اور آئندہ اجلاسوں کی تاریخوں پر بات چیت کی جائے گی۔ سندھ طاس کمشن کا بھارتی وفد پاکستان میں قیام کے دوران دو روزہ مذاکرات کرے گا۔ بھارتی وفد کی قیادت بھارتی کمشنر پی کے سکسینہ جبکہ پاکستانی کمشنر مرزا آصف بیگ پاکستانی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔ ان دو روزہ بات چیت میں تین مجوزہ پاور پلانٹ کے منصوبوں پکل دل‘ لوئر کلنائی اور میار کے ڈیزائن پر بات چیت ہوگی اس کے علاوہ سیلاب کے پانی کے بہاﺅ کا ڈیٹا فراہم کرنے اور زیرتعمیر منصوبوں کے دوروں اور آئندہ میٹنگوں کی تاریخوں پر بھی بات چیت ہوگی ماضی میں کشن گنگا ڈیم پر تحفظات ثالثی عدالت میں لے جانے میں تاخیر سے پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچا تاہم ہم نے رتلے ڈیم پر بروقت تحفظات اٹھائے پوری امید ہے فیصلہ ہمارے حق میں آئے گا۔ پاکستان کو رتلے پاور پروجیکٹ کے ڈیزائن پر تحفظات ہیں‘ امریکہ کی مداخلت کے باعث رتلے ہائیڈرو پاور پروجیکٹ پر پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات عالمی بنک کی ثالثی میں 11,12 اور 13اپریل کو واشنگٹن میں ہوں گے‘ امریکہ میں ہونے والے مذاکرات سیکرٹری سطح کے ہوں گے‘ پاکستان کے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کےا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کشن گنگا ڈیم پاور پروجیکٹ پر ہمارے تحفظات میں پانی کی کمی شامل نہیں تھا پانی واپس دریا میں آجاتا ہے تاہم ہمیں اس سے دس فیصد بجلی کا نقصان ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ نیلم جہلم پاور پروجیکٹ مارچ 2018ءمیں مکمل ہوگا۔انہوں نے سندھ طاس معاہدے پر پاک بھارت انڈس کمشن کی سطح پر مذاکرات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات حکومت پاکستان کی کوششوں سے شروع ہوئے‘ کشن گنگا ڈیم پر ثالثی عدالت پاکستان کے حق میں فیصلہ دے چکی‘ عملدرآمد کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ حکومت پاکستان کی کاوشوں سے سندھ طاس معاہدے پر بات چیت کا سلسلہ پھر سے شروع ہوگیا ہے۔ یہ مذاکرات مارچ 2015ءسے تعطل کا شکار ہوگئے تھے جب پاکستان کی جانب سے کشن گنگا اور رتلے پاور پراجیکٹ پر کمشن کی سطح کے مذاکرات کو ناکام قرار دیتے ہوئے ثالثی کی طرف جانے کا عندیہ دیا گیا۔ 14اور 15جولائی 2016ءکو پاکستان کے سیکرٹری پانی و بجلی کے بھارتی ہم منصب سے نیو دہلی میں ہونے والے مذاکرات کے بعد پاکستان نے ان دو تنازعات پر ثالثی کا راستہ اپنایا۔ وزیر پانی و بجلی نے کہا کہ کشن گنگا پاور پراجیکٹ جس کو دریائے نیلم پر تعمیر کیا جارہا ہے پر ثالثی عدالت پاکستان کے حق میں فیصلہ دے چکی ہے جس پر پاکستان عمل درآمد کا تقاضا کررہا ہے۔ رتلے پاور پراجیکٹ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اس کے ڈیزائن پر بھی پاکستان کو تحفظات ہیں۔ ان دونوں تنازعات کو ثالثی کے لئے عالمی بینک کی سطح پر اٹھالیا گیا ہے۔ اس دوران پاکستان مسلسل کوشش کرتا رہا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت دیگر معاملات پر بات چیت کو جاری رکھا جائے مگر بھارت کی جانب سے اس پر اتفاق نہ ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ بالآخر بھارت اب سندھ طاس معاہدے کے تحت کمشن کی سطح کے مذاکرات پھر سے شروع کرنے پر آمادہ ہوگیا ہے ہم بھارتی حکومت کے اس فیصلے اور بھارتی وفد کی پاکستان آمد کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ وزیر پانی و بجلی نے کہا کہ پاکستان کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ان چند عالمی معاہدوں میں سے ایک ہے جو دو ملکوں کے مابین آبی ذخائر کے استعمال سنجیدہ معاملات کو پرامن ذرائع سے طے کرنے کا طریقہ کار فراہم کرتا ہے اس معاہدے کی پاسداری اور اسکے ذریعے مسائل کا حل دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔ خواجہ آصف نے کہا امریکہ کی مداخلت پر رتلے پاور پراجیکٹ اور آبی تنازعات پر پاکستان اور بھارت کے درمیان سیکرٹری کی سطح پر تین روزہ مذاکرات عالمی بنک کی ثالثی میں امریکہ میں ہوں گے‘ ماضی میں کشن گنگا ڈیم کا معاملہ ثالثی عدالت میں لے جانے میں دس سے بارہ سال کی تاخیر کی گئی جس سے ہمارا موقف کمزور تا تاہم پھر بھی فیصلہ ہمارے حق میں آیا اب رتلے ڈیم پر ہم نے بروقت تمام سنگ میل عبور کئے ہیں اور تحفظات اٹھائے ہیں ہمارا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ڈیم کا ڈیزائن ہم سے شیئر کیا جائے اور اسے دیکھنے کے بعد پتا چلے گا کہ ہمارے کیا کیا تحفظات ہیں ہمیں پوری امید ہے کہ رتلے ڈیم کا فیصلہ بھی پاکستان کے حق میں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے پاکستان نے ہمیشہ بھارت سے سندھ طاس سمیت ہر معاملے پر مذاکرات کی خواہش کا اظہار کیا سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد پاکستان اور بھارت دونوں کے مفاد میں ہے۔علاوہ ازیں کنٹرول لائن کی مسلسل خلاف ورزی پر بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج کیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل جنوبی ایشیا ڈاکٹر فیصل نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کودفتر خارجہ میں طلب کیا اور سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی پر احتجاجی مراسلہ دیا۔ مراسلے میں کہا گیا بھارت بلا اشتعال فائرنگ سے باز رہے ،سیز فائر معاہدے کی پابندی کرے۔ 17 مارچ کو لائن آف کنٹرول پر بھارتی فائرنگ کے نتیجے میں ایک خاتون شہید ہوئی جبکہ 18 مارچ کو نکیال سیکٹر میں بھارتی فائرنگ سے دو بچے زخمی ہوئے تھے۔سیالکوٹ (نامہ نگار) اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدہ کے حوالے سے بھارت اور پاکستانی واٹر کمشنروں کی دوروزہ میٹنگ کے باوجود بھارت نے سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 46 ہزار 826 کیوسک پانی مقبوضہ کشمیر میں دریائے چناب پر بنائے گئے بگلیہار ڈیم پر روک لیا ہے جس کی وجہ سے دریائے چناب میں ہیڈمرالہ کے مقام پر پانی کی آمد صرف 8 ہزار 174 کیوسک رہ گئی ہے، تاہم ہیڈمرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں شامل ہونے والے دو دیگر دریاﺅں جموں توی میں 2 ہزار 186 کیوسک پانی اور دریائے مناور توی میں صرف 1049 کیوسک پانی کی آمد ہے ۔ محکمہ ایری گیشن کے مطابق بھارت کی طرف سے کئی سالوں سے سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دریائے چناب کا پانی بھارت نے روک رکھا ہے اور پانی کی شدید کمی کی وجہ سے دریائے چناب کا ستانوے فیصدسے زیادہ حصہ خشک ہوچکا ہے اور ہیڈمرالہ کے مقام پر دریائے چناب سے نکلنے والی دو نہروں میں ایک نہر مرالہ راوی لنک بند ہے جبکہ دوسری نہر اپرچناب میں 6 ہزار 909 کیوسک پانی ہے اور پانی کی کمی کی وجہ سے سیالکوٹ سمیت صوبہ کے مختلف اضلاع کی لاکھوں ایکٹر زرعی رقبہ پر فصلوں کو نقصان پہنچ رہا ہے اور کسان وکاشتکار ٹیوب ویلوں کا پانی فصلوں کیلئے استعمال کررہے ہی۔

Watch Live News

بلاول بھٹو نے نوازشریف کی نااہلی کوجمہوریت، ملکی بقاء کا فیصلہ قراردیدیا

28 Jul, 2017 چینل24

کراچی (24 نیوز): پاکستان پیپلزپارٹی نے نئے وزیراعظم کیلئے اپنا امیدوار لانے کا اعلان کردیا ... مزید

نئی وڈیو میں داعش کی ایران کو دھمکیاں

28 Jul, 2017 وائس آف امریکہ اردو

منگل کو جاری کی گئی اس وڈیو میں ایک نوجوان فوجی وردی پہنے کھڑا ہے، جو کیمرہ پر نظریں جمائے ... مزید

سپریم کورٹ کا فیصلہ ٹوئٹر کا ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

28 Jul, 2017 نیو

لاہور: ملکی تاریخ کے سب سے بڑے پاناما کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ  ... مزید

پانامہ لیکس سے متاثرہ شخصیات کے نام

28 Jul, 2017 نیو

دنیا کی بڑی شخصیات کو شرمند گی کامنہ تب دیکھنا پڑا جب اپریل 2016 میں جرمن اخبار نے پاناما  ... مزید

سری لنکن کرکٹ بورڈ نے ٹیم پاکستان بھیجنے سے انکار کردیا

28 Jul, 2017 نیو

لاہور: سری لنکا نے گزشتہ دنوں ہونے والے لاہور دھماکے کے بعد پاکستان میں ٹی ٹوئنٹی سیریز سے ... مزید

امجد صابری قتل کیس فوجی عدالت منتقل کرنیکا فیصلہ

28 Jul, 2017 نیو

کراچی: سندھ حکومت نے امجد صابری قتل کیس فوجی عدالت منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ میڈیارپورٹ ک ... مزید

Load More
Post Your Comments
Select Language:    
MORE ON NEWS
MORE ON HAMARIWEB