ہم کسی عالمی عدالت کے غلام نہیں، ہم ایک آزاد ملک ہیں ، سراج الحق

19 May, 2017 نیو
کراچی :کلبھوشن کے حوالے سے بین الاقوامی عدالت اور انڈیا کا موقف مسترد کرتے ہیں،ہم کسی عالمی عدالت کے غلام نہیں، ہم ایک آزاد ملک ہیں ،کلبھوشن کے معاملہ پر حکومت کی پالیسی ناکام ہوگئی۔کے الیکٹرک سمیت کراچی کے تمام ادارے عوام کو سہولت فراہم کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں،کے الیکٹرک کے خلاف جماعت اسلامی 24مئی کو شاہراہ فیصل پر ایک بار پھر دھرنا دے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی بار کونسل کی دعوت پر جناح آڈیٹوریم کراچی بار سٹی کورٹ میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن، جنرل سکریٹری روبینہ جتوئی اور دیگر بھی موجود تھے۔سینیٹر سراج الحق جب کراچی بار پہنچے تو وکلا نے ان کا پرتپاک استقبال کیا اور ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔قبل ازیں خیر مقدمی کلمات ادا کرتے ہوئے کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر نعیم قریشی نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ہمیشہ عوام کی آواز اٹھائی ہے.کے الیکٹرک کے حوالے سے جماعت اسلامی کا احتجاج عوامی احساسات و جذبات کا عکاس ہے،آج خوشی کا دن ہے کہ سراج الحق کراچی کے مسائل کے لیے یہاں موجود ہیں ،کراچی کے مسائل کے لیے جماعت اسلامی نے آواز اٹھائی اور ہم ہمیشہ ان کے شانہ بشانہ رہے.انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اس ملک میں صرف سراج الحق ہی دفعہ باسٹھ تریسٹھ پر پورا اترتے ہیں۔ سراج الحق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک امتی کی حیثیت سے آپ لوگوں سے مخاطب ہوں ،ہمارا رشتہ ایک امتی کا ہے ،میں ان لوگوں کے درمیان ہوں جنہوں نے ہاکستان بنایا،پاکستان کسی چوہدری وڈیرے نے نہیں بنایااسے ایک وکیل قائد اعظم محمد علی جناح نے بنایا،پاکستان ایک فلسفے ایک نظریہ کا نام ہے،بابائے قوم نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ منشور قرآن کی شکل میں موجود ہے ،بابائے قوم کے وعدہ پر پورے برصغیر کے مسلمانوں نے ہجرت کی لوگوں نے اپنی جان و مال قربان کیئے ماں باپ نے اولادوں کی قربانیاں دیں.انہوں نے کہا کہ لوگوں نے اگر قربانی دی تو اسلامی اور خوشحال پاکستان کے لیے دیںلبرل ازم اور سیکولر ازم کے لیے اتنی بڑی قربانی کی ضرورت نہ تھی،یہ قربانی غلامی سے نجات کے لیے تھی،یہ حکمران انتہا پسند ہیں جو لوگوں کی غلامی کی بات کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج بھی پاکستان کی طاقت کسی چیز میں ہے تو وہ نظریہ پاکستان ہے،الیکشن میں ہماری پالیسی یہ ہوگی کہ ہم کسی کرپٹ شخص کو ٹکٹ نہیں دیں،جو نظریہ پاکستان کو مانتا ہے اس پر پارلیمنٹ کے دروازے کھلنے چاہیے۔ سراج الحق نے کہا کہ دہشت گردوں نے تمام اداروں کو یرغمال بنالیا ہے ان دہشت گردوں کی وجہ سے آج ترقی نہیں ہورہی ہمارے پاس وسائل کی کمی نہیں اس کے باوجود ہم آئی ایم ایف کے غلام ہیں،ہماری بجلی، تیل اور گیس کی قیمتیں آئی ایم ایف طے کررہا ہے ہمیں منزل کا تعین کرنا ہے. انہوں نے کہا کہ جب تک قانون کی بالادستی نہ ہو ہم ترقی نہیں کرسکتے،آج آپ کو چار صوبے ملیں گے پاکستان نہیں ملے گاآج بھی ہم فیصلہ نہ کرسکے کہ ہم نے اپنی زبان یا اغیار کی زبان لاگو کرنی ہے ۔آج میں وکلاء برادری کے ساتھ مشاورت کرنا چاہتا ہوں کہ ہم نے روشن مستقبل کے لیے کیا کرنا ہے،نام نہاد اشرافیہ سرخ بتی کا احترام نہیںکرتا،اشرافیہ قانون سے بالا تر ہے،جس ملک میں قانون کی بالادستی نہ ہو وہ جنگل بن جاتا ہے،آج کسی پارٹی میں الیکشن نہیں ہوتا، پہلے باپ پھر بیٹا پھر نواسا منصب سنبھالتا ہے،مگر جماعت اسلامی جمہوریت پر یقین رکھتی ہے،انہوں نے کہا کہ غریب کا کام جس معاشرے میں ووٹ دینا اور ٹیکس دینا ہو وہ معاشرہ نہیںچل سکتا،ملک میں انصاف کا فقدان ہے،انہوں نے کہا کہ ملک اسلحہ کے زور پر نہیں چلتا اگر چلتا تو روس کے ٹکڑے نہ ہوتے۔انہوں نے کہا کہ چوہدری افتخار نے اس خون کے بارے میں نہیں پوچھا جو بارہ مئی 2007کو بہا،یہاں قانون بھی اس نظام کے سامنے بے بس کھڑا ہے،چھوٹے سے مسئلہ پر پچیس سال گزر جاتے ہیں فیصلے نہیں ہوتے،لوگ زیور بیچ دیتے ہیں مگر فیصلے نہیں ہوتے،جس ملک کی عدالت کے دروازے سونے کی چابی سے کھولے جائیں وہ عدالتیں کیا انصاف کریں گی ،یہاں چیف جسٹس افتخار چوہدری کے استقبال میں 54 لوگ مرے دس سال گزر گئے انصاف نہیں ملا۔ سراج الحق نے کہا کہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری واقعہ کو عرصہ بیت گیا لیکن آج تک کوئی انصاف نہیں ملا قانون بھی ظالم حکمرانوں کے خلاف بے بس ہے،وکلاء کو زندہ جلایا گیا مگر کیا کسی کو سزا ملی؟کرپشن کیلئے سب سے پہلے جماعت اسلامی نے آواز اٹھائی،میں جو بات مسجد میں کرتا ہوں وہ بات باہر بھی کرتا ہوں،میرے ظاہر اور باطن میں فرق نہیں ہے۔لوگوں نے گلہ کیا کہ آپ سپریم کورٹ کیوں نہیں جاتے ہم کرپشن کے خلاف سپریم کورٹ گئے پانامہ پر فیصلہ آیا ایک لفظ ایسا نہیں جو نواز شریف کے خلاف نہ ہو،70 دن میں مسلسل کورٹ میں رہا پانامہ کیس کا فیصلہ جاننے کے لئے ،میں چہروں کو پڑھنا جانتا ہوں،ہر شخص اپنی جان چھڑانا چاہ رہا تھا،پانامہ کے معاملے پر کسی جج نے وزیر اعظم کو صادق و امین نہیں کہا،ملک میںسب کا احتساب ہونا چاہیے ،جس جس نے اس ملک کو لوٹا ہے ان سب کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں دیکھنا چاہتا ہوں،ہم ملک کی عدالت میں ہیں تو ججز اللہ کی عدالت میں ہیں،پوری قوم وزیر اعظم سے مطالبہ کرے جب تک پانامہ کیس کی تحقیقات ہو رہی ہیںاپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں .آج سیاست دان جمہورت کے نام پر عوام کو دھوکہ دیتے ہیں،آج ایک خاص طبقے کی ملک میں حکمرانی ہے،ہمارے سیاست دان پارٹیاں بدلتے ہیں لیکن کردار نہیں،کونسا وزیر آج اپنے فرائض منصبی صحیح ادا کر رہا ہے ،ملک میں طبقاتی نظام معیشت، طبقاتی نظام تعلیم اب مزید نہیں چل سکتا، ملک میں سماجی انصاف ملنا ضروری ہے ورنہ اس ملک کو تباہی سے نہیں بچایا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کا مسئلہ وسائل کی کمی نہیں ہے،میں حکومت سندھ سے پوچھتاہوںکہ وہ کراچی کے مسائل پر کیوں توجہ نہیں دیتے ،کراچی کے حقوق کے لئے ہم لڑینگے ہمیں کوئی ڈرا نہیں سکتا۔کے الیکٹرک کے خلاف ہم نے24مئی کوکراچی میں ایک بار پھر دھرنے کا اعلان کیا ہے،کراچی کا مسئلہ صرف کراچی والوں کا مسلئہ نہیں پورے پاکستان کا مسئلہ ہے،ہیٹ اسٹروک کے باعث 5 ہزار اموات ہوئی تھی،کے الیکٹرک کے مسئلے پر ہم خاموش نہیں رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لئے پانچ کروڑ ای میل بھیجے جانے چاہیئں،وزیر اعظم پاکستان کئی بار امریکہ گئے مگر انہوں نے عافیہ کے لئے کچھ نہیں کیاانہوں نے چار سال پہلے کہا تھا کہ سو دن میں عافیہ کو واپس لائوںگا مگر لانا تو دورکی بات ہے امریکی صدر کو خط تک نہیں بھیجا۔انہوں نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب آپس میں لڑیں گے تو ختم ہو جائیں گے ،ہم نے حکومت پاکستان کو کہا ہے کہ ان دو ممالک کا معاملہ افہام تفہیم سے حل کیا جائے، سراج الحق نے کہا کہ مشال خان کے معاملے پر لوگ سیاست کی کو شش کررہے ہیں .مشعال خان کیس کے پس منظر میں 295 c کو ختم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں،اس شق کو تو ابھی تک کسی پر لاگو ہی نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کلبھوشن کے حوالے سے بین الاقوامی عدالت اور انڈیا کا موقف مسترد کرتے ہیں،ہم کسی عالمی عدالت کے غلام نہیں، ہم ایک آزاد ملک ہیں ،کلبھوشن کے معاملہ پر حکومت پالیسی ناکام رہی،جس طرح ریمنڈ ڈیوس کو رہا کیا گیا یہ معاملہ بھی ایسا ہی لگ رہا ہے ۔ نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں
 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: