بھارت میں روزانہ ضمیر کی آواز بلند کرنیوالے قتل ہو رہے ہیں: ارون دتی رائے

13 Sep, 2017 نوائے وقت
بھارت کی معروف مصنفہ اور سرگرم سماجی کارکن ارون دتی رائے نے کہا ہے کہ بھارت خود کو اپنی ہی نوآبادی بناتا جا رہا ہے۔ جہاں ملکی فوج، نیم فوجی دستے اور عسکری تنظیمیں معاشرے کے غریب ترین اور سب سے پسماندہ شہریوں کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں اور جہاں ہر روز اپنے ضمیر کی آواز بلند کرنے والوں کا قتل کیا جا رہا ہے۔ اردون دتی رائے نے یہ بات برلن میں اپنے دوسرے ناول کی تعارفی تقریب سے خطاب میں کہی۔ارون دتی رائے کو 2014 میں معروف امریکی جریدے ٹائم نے دنیا کی 100 بااثر ترین شخصیات کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے انہیں بھارت کے ضمیر کا نام بھی دیا تھا۔55 سالہ رائے کے نئے ناول کا نام انتہائی خوشی کی وزارت (The Ministry of Utmost Happiness) ہے۔ رائے نے تقریب کے شرکا کو بتایاکہ جب میں نے اپنا پہلا ناول لکھا جو انتہائی کامیاب رہا تھا، تو اس کے کچھ ہی دیر بعد بھارت میں ہندوﺅں کی برتری کی حامی دائیں بازو کی ایک ایسی بنیاد پرست جماعت اقتدار میں آ گئی، جس نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اس نے کئی ایٹمی دھماکے کئے، جن پر بھارت میں بہت خوشیاں منائی گئیں۔اردون دتی رائے نے کہا، تب میری تصویریں ہر میگزین کے ٹائٹل پر شائع ہوتی تھیں اور مجھے نئی بھارتی سپر پاور کے چہرے کے طور پر مارکیٹ میں لانے کی کوشش کی گئی۔ مجھے یہ بات بہت بری لگی، میں نے اس کی مخالفت بھی کی جسے اس دور کے حکمرانوں نے پسند نہیں کیا تھا۔اردون دتی رائے کے بقول انہیں اس بات پر بھی بہت افسوس تھا کہ وہ ایک ایسے ملک میں کامیاب مصنفہ مانی جا رہی تھیں، جہاں تب بہت سی تکلیف دہ باتیں کی جا رہی تھیں اور کئی عجیب وغریب کام ہو رہے تھے۔
 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: