وزیر اعلیٰ بلوچستان کا انتخاب آج‘ مزید6 لیگی ارکان نے عبدالقدوس بزنجو کی حمایت کر دی

13 Jan, 2018 نوائے وقت
کوئٹہ (بیورو رپورٹ+ نوائے وقت رپورٹ) وزیراعلیٰ بلوچستان کا انتخاب آج ہوگا۔ بلوچستان میں وزیراعلیٰ کے انتخاب کیلئے 3 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔ (ق) لیگ کے رکن میر عبدالقدوس بزنجو نے پانچ کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔ پختونخواہ میپ کے عبدالرحیم زیارتوال اور آغا لیاقت نے بھی کاغذات جمع کرائے۔ سپیکر بلوچستان اسمبلی راحیلہ درانی نے میڈیا بریفنگ میں بتایا ہے کہ تینوں کے کاغذات نامزدگی منظور ہوگئے ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کے انتخاب کیلئے الیکشن ہفتے کی صبح ساڑھے 11 بجے ہوگا۔ دوسری طرف پشتونخوا میپ اور ق لیگ کے منحرف ارکان کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے۔ پشتونخواہ میپ نے اپنے امیدوار کو قدوس بزنجو کے حق میں دستبردار کرنے سے انکار کردیا۔ وزارت اعلیٰ کے امیدواروں پر کسی بھی رکن اسمبلی کی جانب سے کوئی اعتراض جمع نہیں کرایا گیا اس طرح نئے وزیراعلیٰ بلوچستان کے انتخاب کیلئے 3امیدوار میدان میں آئے ہیں جبکہ امیدوار ہفتہ کی صبح 10بجے تک اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے سکیں گے اسکے بعد اگر ایک سے زائد امیدوار باقی رہ گئے تو انکے درمیان وزارت اعلیٰ کیلئے مقابلہ ہوگا۔ میر عبدالقدوس بزنجو کے تائید کنندہ میںمیرسرفراز بگٹی جبکہ تجویز کنندہ میر جان محمدجمالی تھے اسی پشتونخواملی عوامی پارٹی کے امیدو ار عبدالرحیم زیارت وال کے تجویز کنندہ سردار غلام مصطفی خان ترین جبکہ تائید کنندہ عبدالمجید اچکزئی اور سید لیاقت آغا کے تجویز کنندہ عبیداللہ بابت اور تائید کنندہ ولیم جان برکت تھے۔ کاغذات کی جانچ پڑتال کے موقع پر ارکان صوبائی اسمبلی سردار صالح محمد بھوتانی ،میر جان محمد جمالی ، میر سرفراز بگٹی اور ایڈؤوکیٹ جنرل بلوچستان امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ بھی موجود تھے۔ نئے قائد ایوان سے گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی شام پانچ بجے گورنر ہاؤس میں حلف لیں گے۔ صوبائی اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر سیکورٹی کے سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے صوبائی اسمبلی کی اطراف جانے والی تمام شاہراہوں کو ہر قسم کی آمدورفت کیلئے رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کردیا گیا ہیں جبکہ اس موقع پر پولیس، فرنٹیر کور اوردیگرقانون نافذ کرنے والے اداروں کے 6ہزار کے قریب اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ مزید برآں مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے مزید چھ ارکان صوبائی اسمبلی نے مسلم لیگ (ق) کے رکن صوبائی اسمبلی اور وزیراعلی کے نامزد امیدوار میر عبدالقدوس بزنجو کی حمایت کر دی ،تفصیلات کے مطابق جمعہ کو وزیراعلی کے نامزد امیدوار میر عبدالقدوس بزنجو اور انکے حما یتی ارکان اسمبلی میر ظفراللہ زہری، میر امان اللہ نوتیزئی و دیگر نے میر عبدالقدوس بزنجو کی مخالفت کرنے والے مسلم لیگ (ن) کے چھ ارکان اسمبلی میر اظہار کھوسہ، سردار در محمد ناصر، حاجی محمد خان لہڑی، ثمینہ خان، کشور جتک، انیتا عرفان سے میر اظہار حسین کھوسہ کی رہائشگاہ پر ملاقات کی، ملاقات میں میر عبدالقدوس بزنجو نے مسلم لیگ (ن) کے ارکان سے حمایت کر نے کی درخواست کی جس پر (ن) لیگ کے ارکان نے انکی حمایت کا اعلان کر دیا۔ واضع رہے مذکورہ 6 ارکان اسمبلی نے سردار در محمد ناصر کو وزیراعلی کا امیدوار نامزد کر نے کا فیصلہ کیا تھا تاہم اتحادی جماعتوں نیشنل پارٹی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے انکی حمایت کر نے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد ارکان اسمبلی نے (ق) لیگ کے رکن میر عبدالقدوس کی حمایت کردی۔ نیشنل پارٹی نے وزیراعلیٰ بلوچستان کے انتخاب میں کسی بھی امیدوارکی حمایت نہ کرنے اور حزب اختلاف میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے گزشتہ روز نیشنل پارٹی کی مرکزی قیادت اورارکان پارلیمان کا اجلاس زیر صدارت سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ ہوا۔ اجلاس میں سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد اورانکے استعفیٰ کے بعد سیاسی صورتحال کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ نیشنل پارٹی نے آخری لمحے تک نظام کو بچانے کی خاطر نواب ثناء اللہ خان زہری کا ساتھ دیا اور انہیں قطعاً استعفیٰ کا مشورہ نہیں دیا کیونکہ سیاسی اخلاقیات اور اقدار کو مد نظر رکھ کر مسلم لیگ (ن) کے اتحادی کی حیثیت ہمارے ارکان اسمبلی نے اپنا کردار انتہائی شائستہ انداز میں ادا کیا۔ مزید برآں مسلم لیگ (ن) بلوچستان نے صوبائی اسمبلی میں نواب چنگیز خان مری کو نیا پارلیما نی لیڈر نامزد کردیا۔ مسلم لیگ (ن) کے 14 ارکان اسمبلی نے سیکر ٹری بلوچستان اسمبلی شمس اللہ کو تحریری درخواست دیدی ہے۔
 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: