قانون سازی عدالتوں کا نہیں پارلیمنٹ کا کام ہے، چیف جسٹس

13 Jan, 2018 ڈان نیوز
کراچی: چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ عدالتیں مقننہ نہیں ہیں، قانون بنانے کا اختیار قانون سازوں کے ہاتھ میں ہے۔ کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ لوگوں کو انصاف کی فراہم میں شکایت ہیں، عوام کو ملک میں سستا انصاف ملنا چاہیے۔انہوں نے سوال کیا کہ پاکستان کا جو قانون پاکستان کے وجود میں آنے سے قبل سے موجود ہے کیا اس میں کبھی پارلیمنٹ سے کوئی تبدیلی کرائی گئی؟انہوں نے پاکستان میں انصاف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کرایہ دار کو پتا ہے کہ اگر مالک مکان کیس کرتا ہے تو اسے کم از کم 5 سال کے لیے ایک تحٖفظ مل جائے گا اور مجھے اس جگہ سے بے دخل نہیں کیا جائے گا۔ میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ کسی شخص کا سب سے بڑا غم اس کے عزیز کے جانے کا ہے اور ان کی زندگی رک جاتی ہے تاہم بعد میں وہ آہستہ آہستہ زندگی میں بحال ہوجاتے ہیں لیکن مجھے سمجھ نہیں آتی کہ لوگ جو آج عدالت میں جاتے ہیں اور ان کے کیس کی تاریخ بڑھ جانے تو وہ مایوس ہوکر کس کرب سے گزرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افسوس ناک بات ہے کہ پاکستان میں صوبہ پنجاب کے علاوہ کسی بھی دوسرے صوبے میں معیاری فرانزک لیب ہی موجود نہیں ہیں جہاں سے کیسز کی بہتر رپورٹس بنائی جاسکیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دنیا میں کہیں بھی کوئی آدمی دوسرے سے کہے کہ آپ نے میرا حق مارا ہے اس کے لیے میں عدالت جاؤں تو اس کا فریق فوری مسئلہ حل کر دیتا ہے جبکہ پاکستان میں ایسی صورتحال میں مدعی شخص خوش ہوتا ہے اور کہتا ہے ’چلو! تمہیں عدالت میں بھی دیکھ لیں گے۔‘ Email
 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: