چینی قرضوں نے پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس پہنچایا، امریکا

12 Oct, 2018 اب تک
چینی قرضوں نے پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس پہنچایا، امریکاواشنگٹن: (12اکتوبر، 2018) ترجمان امریکی محکمہ خارجہ ہیدرنوئرٹ نے پاکستان کے آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ایک وجہ چینی قرضے کو قرار دے دیا۔تفصیلات کے مطابق ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان امریکی محکمہ خارجہ ہیدرنوئرٹ نے کہا کہ پاکستان نے باضابطہ طور پر آئی ایم ایف سے مدد کی درخواست کی ہے، کیونکہ قرضوں کی وجہ سے پاکستان کو مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔ہیدر نوئرٹ نے کہا کہ پاکستان قرضوں میں جکڑا ہوا ہے، انہوں نے پاکستان کےآئی ایم ایف کے پاس جانے کی مبینہ وجوہات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا اس کی ایک وجہ چینی قرضے بھی ہیں تاہم انہوں نے امریکی قرضوں کی بات نہیں کی۔ہیدر نوئرٹ نے مزید کہا کہ یہ قرضہ جات پاکستان کے لیے مشکل تر ہو گئے ہیں۔گذشتہ روز عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لاگارڈے نے انڈونیشیا میں وفاقی وزیر خزانہ اسدعمر اور گورنر اسٹیٹ بینکسمیت دیگر حکام سے ملاقات کی، اس دوران پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف سے قرض کے لیے باضابطہ طور پر درخواست کی گئی۔منیجنگ ڈائریکٹر (آئی ایم ایف) کا کہنا ہے کہ پاکستان نے باضابطہ طور پرمالی امداد کے لیے درخواست دی ہے جس کے لیے آئی ایم ایف کا وفد آئندہ ہفتوں میں پاکستان جائے گا اور قرض کے حجم کے حوالے سے بات چیت کی جائے گی[email protected]: I met today with #Pakistan’s Finance Minister @Asad_Umar and his team, who requested our financial assistance to address Pakistan’s economic challenges. IMF team to visit Islamabad in the coming weeks to discuss a possible IMF-supported program https://t.co/YS7EsC2gcE pic.twitter.com/mlyRGAVFcP— IMF (@IMFNews) October 11, 2018دوسری جانب  اپنی رپورٹ میں ورلڈ بینک نے کہا کہ پاکستان کی معاشی صورت حال دو سال تک نازک رہے گی، پاکستان کو بڑھتے ہوئے خسارے کو پائیدار بنیادوں پر کم کرنے کی ضرورت ہے۔یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیےرپورٹ کے مطابق پاکستان جنوبی ایشیا کا واحد ملک ہے جس کے وسائل محدود اور اخراجات زیادہ ہیں، پاکستان چڑھتی اور گرتی معیشت کے حصار میں پھنسا ہوا ہے، اسے شرح نمو میں اضافے کے لیے مزید سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہو گا۔دوسری جانب وزیر خزانہ اسد عمر نے ورلڈ بینک کے اجلاس کے موقع پرعالمی بینک کے صدر ڈاکٹر جم یونگ کم سے ملاقات کی، ملاقات میں دو طرفہ تعاون سمیت پاکستان کے معاشی بحران پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔اسد عمر نے ورلڈ بینک کے صدر کو پاکستان کی نئی حکومت کی ترجیحات اور آئندہ کے منصوبوں سے متعلق آگاہ کیا۔اس کے علاوہ وزیر خزانہ نے عالمی ادارے او ای سی ڈی اور ایم آئی جی اے (ملٹی لیٹرل انویسٹمنٹ گارنٹی ایجنسی) کے سربراہان سے بھی ملاقاتیں کیں۔اس کے علاوہ وزیر خزانہ اسد عمر نے ورلڈ بینک کے اجلاس کے موقع پرانڈونیشیا کے وزیر خزانہ سے ملاقات کی تھی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعاون اور تجارت بڑھانے سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا،سری ملایانی انداوتی نے پاکستان کے ساتھ تجارت بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔یاد رہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے معیشت کو استحکام بخشنے کے لیے آئی ایم ایف پروگرام لینے کا فیصلہ کیا ہے،وزیر خزانہ اسد عمر بھی آئی ایم ایف پروگرام میں جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ ملک جن مشکل حالات سے گزر رہا ہے، اس کا سب کو ادراک ہے۔وزیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے ایسا پروگرام لینا چاہتے ہیں، جس سے معاشی بحران پر قابو پایا جا سکے اور جس کا کمزور طبقے پر کم سے کم اثر پڑے، واضح رہے کہ حکومت کو اس سال اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے 8 سے 9 ارب ڈالر درکار ہیں تاہم حکومت اس پروگرام کو بیل آؤٹ پیکج کا نام نہیں دینا چاہتی۔
 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: