نیویارک میں مسلم کمیونٹی سیفٹی پیڑول جاری رکھنے کا اعلان

11 Feb, 2019 وائس آف امریکہ اردو
واشنگٹن — 

سماجی میڈیا پر اعتراضات کے باوجود اسلام فوبیا اور نفرت کی بنیاد جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام کے لئے نیویارک میں مسلم کمیونٹی سفٹی پیڑول اینڈ سروس نے پولیس کے تعاون سے حفاظتی گشت کا سسلسلہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حال ہی میں انٹرنیٹ پر اس نئی تنظیم کی پوسٹ اور نیویارک ٹائم میں خبروں کی اشاعت کے بعد بعض حلقوں سے ان پر اعتراضات اٹھائے گئے تھے تاہم مسلم کمیونٹی اور پولیس دونوں ہی ان اعتراضات پر کان دھرنے کو تیار نظر نہیں آتے۔

امریکہ کے سب سے بڑے شہر نیویارک میں جرائم کی بیخ کنی کے لئے کمیونٹی کے اشتراک سے سفٹی پیڑول یا حفاظتی گشت کے نظام کی روایت بہت پرانی ہے۔ امریکہ میں جب یہودیوں کے خلاف نفرت کی بنیاد پر جرائم میں اضافہ ہوا تو سب سے پہلے یہودی کمیونٹی نے شہر میں پولیس کے اشتراک سے کمیونٹی سفٹی پیڑول کا نظام قائم کیا۔ بعد میں دیگر کمیونٹیز بھی آگے آئیں اور چار سال قبل تو بروکلین کے علاقے میں پاک امریکن سیفٹی پیڑول کا بھی آغاز ہوا جس کے روح رواں ناصر اعوان ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سفٹی پیڑول کمیونٹی اور پولیس دونوں کی مدد کیلئے ناصر اعوان کے بقول ’’چار سال پہلے پاک امریکن سفٹی پیڑول شروع کیا، ہمارے 14 رضاکار ہیں جنھیں شناختی جیکٹس اور واکی ٹاکی دئے گئے ہیں تاکہ وہ باہمی رابطے میں رہیں۔ اس کا مقصد جس طرح یہودی اور چینی کمیونٹی طویل عرصے سے اپنے لوگوں کی مدد کر رہی ہیں، اسی طرح ہم بھی اپنے لوگوں کی مدد کریں۔ حال ہی میں مسلم کمیونٹی سفٹی پیڑول اینڈ سروس کے نام سے سفٹی پیڑول شروع ہوئی ہے جس پر بعض لوگوں نے اعتراضات بھی کئے۔‘‘

مسلم کمیونٹی سفٹی پیڑول اینڈ سروس مذہب کی بنیاد پر شائد پہلی سفٹی پیڑول ہے۔ اس سے قبل قائم ہونے والے یہودیوں کی سیفٹی پیڑول شومرین کی بنیاد مذہب اور نسل دونوں پر ہے جبکہ نسلی بنیادوں پر نیویارک میں ایشین سفٹی پیڑول یا چینی سیفٹی پیڑول بھی کام کر رہی ہیں تو پھر ان پر اعتراض کیوں؟ حقیقت میں یہ صرف پولیس کی مدد کرتے ہیں۔ مسلم کمیونٹی سفٹی پیڑول اینڈ سروس کے سربراہ سمیع الدین کہتے ہیں، ’’ آپ کو تو پتہ ہی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم تو ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ پسند نہیں کرتے کہ ہم یہ سب کریں۔ ہم ان پر واضح کر رہے ہیں کہ یہ سفٹی پیڑول صرف مسلمانوں کے بارے میں نہیں بلکہ تمام کمیونٹی کے لئے ہے۔ لیکن مسلمانوں کو بھی تحفظ درکار ہے۔‘‘

ایف بی آئی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 2017 میں نفرت کی بنیاد پر جرائم میں 17 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سمیع الدین رضی کہتے ہیں کہ ان کی خدمات پر اعتراضات بلا جواز ہیں۔ اس لئے کمیونٹی یہ پروگرام جاری رکھے گی۔ سمیع الدین رضی کے بقول ’’ ان اعتراضات کے باوجود پولیس نے یا کسی اور ذمہ دار نے کام روکنے کو نہیں کہا بلکہ ہر کوئی تعاون کر رہا ہے۔ ہمیں باقاعدہ تربیت دی جا رہی ہے۔ نیویارک پولیس کی صرف خواہش ہے کہ تمام لوگ جو کام کریں وہ بے داغ لوگ ہوں اور پولیس کے تربیت یافتہ ہوں۔ یہ تربیت صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ تمام لوگوں کے لئے ہے‘‘

مسلم کمیونٹی سفٹی پیڑول میں فی الحال 35 رجسٹرڈ رضاکار شامل ہیں۔ توقع ہے کہ یہ تعداد جلد دوگنی ہو جائے گی۔ ان میں این وائی پی ڈی کے دو ریٹائرڈ افسران اور ہوم لینڈ سیکورٹی کے ایک موجودہ افسر، اصلاحی سنٹر کے ایک افسر، ایک پولیس چپلن اور کئی ایسے لوگ جنھوں نے فوج میں خدمات انجام دی ہیں، شامل ہیں۔ ان لوگوں نے ابھی علاقے میں گشت کا آغاز نہیں کیا لیکن انھوں نے ضرورت مندوں کے لئے امدادی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔

انٹرنیٹ پر پوسٹ دیکھ کر اور مقامی میڈیا میں خبریں پڑھنے کے بعد مسلم سفٹی پیڑول پر اعتراض اٹھایا گیا اور کہا گیا کہ شاید یہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ سماجی میڈیا پر بعض لوگوں نے لکھا کہ ہمیں ان کے سیفٹی پیڑول کی ضرورت نہیں۔ بعض دیگر مسلمانوں کا بھی یہی خیال تھا کہ مسلم سیفٹی پیڑول کو صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ تمام شہریوں کے لئے ہونا چاہئے۔

ایم سی پی ایس کے سربراہ سمیع الدین رضی کہتے ہیں کہ وہ کوئی شرعی قوانین کے لئے کوشاں نہیں اور نہ ہی نیویارک پولیس کی مقرر کردہ حدود کو عبور کرنے کی کوشش کے خواہاں ہیں ۔

مسلم کمیونٹی سفٹی پیڑول اینڈ سروسز کو سفٹی پیڑول کا یہ لائسنس بروکلین پولیس نے دیا ہے۔ پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیڑول صرف پولیس کے تربیت یافتہ کمیونٹی رضاکار کر سکتے ہیں جن کا پورا ریکارڈ ان کے پاس ہے۔ بروکلین بورو کے صدر ایرک ایڈم اور اٹارنی جنرل نے حال ہی ان کمیونٹی پیڑول کا شکریہ ادا کیا کہ جو کمیونٹی کو محفوظ بنانے میں پولیس کی مدد کر رہی ہیں جن میں سے ایک مسلم کمیونٹی پیڑول بھی شامل ہے۔

سفٹی پیڑول کے رضاکار پولیس جیسی گاڑیوں اور یونیفارم میں اپنے علاقوں میں گشت کرتے ہیں، انھیں یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی شہری کو روکیں یا کسی کی تلاشی لیں یا اپنے طور پر کوئی بھی کارروائی کریں۔ وہ صرف کسی بھی مشکوک سرگرمی کی پولیس کو فوری اطلاع فراہم کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ یہ تنظیم صرف سفٹی پیڑول نہیں بلکہ امدادی سرگرمی سمیت دیگر خدمات بھی انجام دیتی ہے بلکل اسی طرح جس طرح دیگر کمیونٹی تنظیمیں خدمات انجام دے رہی ہی۔ اس کے باوجود بعض حلقوں کا اعتراض مسلم کمیونٹی اور ان کے درمیان عدم اعتماد کی فضاء کا مظہر ہے ۔


 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: