وفاقی کابینہ میں تبدیلیاں، کیا اب پنجاب کی باری ہے؟

19 Apr, 2019 وائس آف امریکہ اردو
لاہور — 

وفاقی وزیرِ خزانہ اسد عمر کے استعفے اور وفاقی کابینہ میں بڑے پیمانے پر رد و بدل کے بعد پنجاب حکومت میں بھی تبدیلیوں کی قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی ہیں۔

بعض حلقوں کا الزام ہے کہ پنجاب میں انتظامی مسائل کے ساتھ ساتھ بیوروکریسی کا عدم تعاون، پولیس حکام کی بار بار تبدیلی، ترقیاتی کاموں کی بندش اور صوبائی حکومت کے معاملات میں وزیرِ اعظم کی براہ راست مداخلت کے باعث 10 کروڑ سے زائد آبادی والے صوبے میں مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔

"پنجاب میں تبدیلی ممکن ہے"

پنجاب میں تحریکِ انصاف کی حکومت کو قائم ہوئے نو ماہ ہونے کو ہیں۔ لیکن سیاسی مبصرین کے نزدیک حکومت اس عرصے کے دوران کوئی ایسی قابلِ ذکر کارکردگی نہیں دکھا سکی جس سے عوام کو یہ تاثر ملے کہ موجودہ حکومت سابق حکومت سے بہتر ہے۔

سابق نگراں وزیرِ اعلی پنجاب اور سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری کے بقول پنجاب میں تبدیلی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ لیکن ان کے بقول تاحال یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ تبدیلی کس نوعیت کی ہو گی۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عسکری کا کہنا تھا کہ عثمان بزدار کو عمران خان کی حمایت حاصل رہی ہے اور انہیں ہٹانے کا فیصلہ بھی وزیرِ اعظم کا ہی ہوگا۔

​​پنجاب کے معاملات کون چلا رہا ہے؟

وزیرِ اعظم عمران خان نے جب عثمان بزدار کو وزیرِ اعلی پنجاب نامزد کیا تھا تو یہ کہا تھا کہ وہ "وسیم اکرم پلس" ثابت ہوں گے۔ لیکن سیاسی مخالفین کہتے ہیں کہ وزیرِ اعلیٰ کی نو ماہ کی کارکردگی ان دعووں کی نفی کرتی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما ملک احمد خان کہتے ہیں کہ پنجاب حکومت وزیرِ اعظم ہاؤس سے چلائی جا رہی ہے اور صوبے میں وزیری اعظم کے دو نمائندے وائسرائے کی طرح پنجاب کے معاملات چلا رہے ہیں۔

حال ہی میں وزیرِ اعلی پنجاب شہباز شریف کے ترجمان ڈاکٹر شہباز گل کو ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی سرکاری محکمے کی انسپیکشن کرسکتے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ اس اقدام پر پنجاب کابینہ میں بے چینی پائی جاتی ہے۔

دوسری جانب اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی، گورنر پنجاب چوہدری سرور اور پنجاب حکومت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے والے تحریکِ انصاف کے رہنما جہانگیر ترین پر پنجاب کے انتظامی معاملات میں مداخلت کے الزامات بھی زبان زدِ عام ہیں۔

ڈاکٹر حسن عسکری کہتے ہیں کہ جب قیادت کا فقدان ہو تو طاقت کے مختلف مراکز جنم لے لیتے ہیں اور پنجاب میں بھی اس وقت یہی صورتِ حال ہے۔


WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels
 
« مزید خبریں