جام اور جیلی میں کیا فرق ہے

15 May, 2019 وائس آف امریکہ اردو
واشنگٹن — 

پاکستان میں بہت سے لوگ صبح ناشتے میں ٹوسٹ، پراٹھے یا روٹی پر جام یا جیلی لگا کر کھاتے ہیں۔ یہاں امریکہ میں خصوصی طور پر پھلوں سے بنی یہ دونوں چیزیں بہت مقبول ہیں۔ ان میں تیسرا اضافہ مارملیڈ کا ہے۔

مگر کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ ان تینوں میں فرق کیا ہے؟ کیونکہ بعض اوقات تو آپ بوتلوں میں بند جام اور جیلی کے ذائقے میں فرق تک بھی محسوس نہیں کر سکتے۔ تو پھر کیا ان دونوں کا رنگ، ذائقہ اور گاڑھا پن اگر ایک جیسا ہو سکتا ہے تو پھر ان میں فرق ہے کیا؟

ٹوسٹ یا پراٹھے یا روٹی پر لگائے جانے والے جام اور جیلی میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ جیلی کسی پھل کے رس سے بنتی ہے جب کہ جام پھلوں کے گودے سے۔ دوسرا بڑا فرق ان کے بنانے کے طریقے میں ہے۔ اگرچہ ان دونوں مصنوعات کے اجزا تو ایک جیسے ہوتے ہیں، لیکن ان دونوں میں اجزا کا تناسب مختلف ہوتا ہے۔

جیلی کو پھل کے رس سے بنایا جاتا ہے۔ پہلے پھل کے جوس کو ابالا جاتا ہے، اور اس میں چینی اور پیسٹین شامل کیا جاتا ہے۔ پیسٹین کھانے کی چیزوں میں پایا جانے والا تیزابی خاصیت کا ایک خاص جُزو ہے جو رس کو گاڑھا کرنے میں مدد دیتا ہے اور پھل کا رس پیسٹ یا گوند جیسی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہ دھیان میں رہے کہ پیسٹین صرف جیلی میں ہی ڈالا جاتا ہے اور جیلی جام کے مقابلے میں قدرے سخت ہوتی ہے۔

جام ہوتا تو جیلی جیسا ہی ہے، لیکن اسے کسی پھل کے گودے سے بنایا جاتا ہے اور اس کی ساخت بھی قدرے گاڑھی ہوتی ہے۔ جام میں جیلی کے مقابلے میں پھل کا تناسب کچھ زیادہ ہوتا ہے۔ جام میں آپ کو پھل کا ذائقہ بھی نسبتاً زیادہ ملتا ہے اور اس میں پھل کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بھی موجود ہو سکتے ہیں۔

مارملیڈ ہمیشہ ترش پھلوں سے بنتا ہے یعنی، مالٹے، لیموں، چکوترے یا نارنگیوں سے۔ اس میں پھل کے گودے یا ٹکروں کا تناسب جام یا جیلی کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔ مارملیڈ میں آپ کو مالٹے کے کٹے ہوئے پتلے چھلکے بھی مل سکتے ہیں۔


WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels
 
« مزید خبریں