پاکستان کو القدس کی حفاظت کے لیے قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے

(عابد محمود عزام, Lahore)
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کی دنیا کے متعدد مسلم اور غیر مسلم ممالک کی جانب سے شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اور احتجاجی مظاہرے بھی کیے جارہے ہیں۔صدر ٹرمپ نے ایک ایسی چنگاری کو ہوا دی ہے جو شعلوں میں تبدیل ہو کر آگ بن سکتی ہے۔ صدر ٹرمپ پے در پے ایسے فیصلے کر رہے ہیں جس سے اسلامی ممالک میں غم و غصہ بڑھ رہا ہے، صدر ٹرمپ کے فیصلے کی امریکا میں بھی شدید مخالفت ہو رہی ہے۔ مسلم دنیا کے اہم ترین ملک سعودی عرب نے امریکی صدر ٹرمپ کے فیصلے کو بلاجواز اور غیر ذمے دارانہ اور فلسطین عوام کے حقوق کے منافی قرار دیا ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے او آئی سی کا اجلاس 13دسمبر کو طلب کرلیا ہے۔ ترک صدر طیب اردوان نے پاکستان کے صدر ممنون حسین کو فون کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ امریکی صدر کے فیصلے سے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام پر منفی اثر پڑے گا۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس فیصلہ سے اسرائیل کے خلاف ایک اور انتفاضہ شروع ہو سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے15میں سے آٹھ ممالک نے مطالبہ کیا کہ امریکی فیصلے کے خلاف رواں ہفتے اجلاس بلایا جائے۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے فیصلے کو عالمی امن کے لیے سنگین نتائج کا حامل قرار دیا ہے۔ پاکستان نے صدر ٹرمپ کے فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے قراردادوں کے منافی قرار دیا ہے۔ پاکستان نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کرے جس سے القدس شریف کے قانونی اور تاریخی حیثیت کے علاوہ یو این چارٹر کو خطر ہ ہو۔ پاکستانی حکومت اور عوام امریکی سفارتخانہ القدس منتقل کرنے سے متعلق مجوزہ منصوبے کی غیر متزلزل مخالفت کرتے ہیں۔

پاکستان میں امریکی صدر کے فیصلے کے خلاف شدید احتجاج کیا جارہا ہے۔ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینے کے امریکی اقدام کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کیا جارہا ہے۔ ملک بھر میں مذہبی جماعتوں نے جمعہ کے روز یوم تحفظ بیت المقدس اور یوم تحفظ قبلہ اول بھرپور انداز میں منایا ہے۔ ملک بھر میں نماز جمعہ کے بعد ریلیاں اور مظاہرے کیے گئے۔ قومی اسمبلی میں امریکی صدر کے فیصلے کے خلاف متفقہ طور پر قرار داد منظور کی گئی ہے، جس میں امریکا کی طرف سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرنے اور اپنا سفارت خانہ وہان منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف متفقہ طور پر قرارداد منظور کی قرار داد میں امریکا سے یہ فیصلہ فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ جبکہ پاکستان کی صوبائی اسمبلیوں میں بھی امریکا کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو دارالحکومت تسلیم کرنے کے خلاف قرارداد جمع کروائی جاچکی ہے۔ تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کے فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔ روزنامہ اسلام نے امریکی فیصلے کے حوالے سے ملک کی متعدد مذہبی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے گفتگو کی جو نذر قارئین ہے۔
سینیٹر حافظ حمداﷲ ( رہنما جمعیت علمائے اسلام(ف)
ٹرمپ کا بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ اس سے ٹرمپ نے نہ صرف فلسطینیوں کے، بلکہ دنیا بھر میں موجود مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکا ہے۔ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا مطلب ہے کہ ٹرمپ مسلمانوں اور اسلام کا پکا دشمن ہے، اپنے عمل سے اس نے یہ ثابت کردیا ہے۔ اب اس نے یہ قدم اٹھایا ہے، اس کے بعد اﷲ نہ کرے اس کا اگلا قدم بیت المقدس کے انہدام کی کوششیں بھی ہوسکتی ہیں۔ اس فیصلے کے نہ صرف عالم اسلام، بلکہ پوری دنیا پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ پوری دنیا نے اس فیصلے کی مذمت کی ہے۔ تمام مسلم ممالک نے اس فیصلے کے خلاف سخت احتجاج کیا ہے اور دہشتگردی کی جنگ میں امریکا کے اتحادی غیر مسلم ممالک نے بھی اس فیصلے کی سخت مذمت کی ہے، جن میں روس، چین، فرانس اور برطانیہ شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بھی اس فیصلے سے متفق نہیں ہیں۔ مسلمانوں کے لیے متحد ہونے کا یہ اہم موقع ہے۔ امت مسلمہ کو اب متحد ہونا ہوگا۔ مسلم ممالک میں سعودی عرب، پاکستان، ترکی اور ایران اہم ممالک ہیں۔ ان کو آگے بڑھ کر اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی۔ تمام مسلم ممالک اپنے اختلافات بالائے طاق رکھ کر امریکا کو مجبور کریں کہ وہ اپنا فیصلہ واپس لے، بصورت دیگر پوری دنیا میں جنگ کی آگ بھڑک سکتی ہے۔ پہلے ہی امت مسلمہ بدامنی کی لپیٹ میں ہے اور خصوصاً مشرق وسطیٰ میں خونریزی اور خانہ جنگی جاری ہے، جس میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ امریکا نے اپنا فیصلہ واپس نہ لیا تو امریکا اور اسرائیل دونوں غیر محفوظ ہوجائیں گے۔ پاکستان اگرچہ ایک اہم مسلم ملک ہے، لیکن پاکستان اکیلا کچھ نہیں کرسکتا، اس لیے پاکستان کو دیگر اہم مسلم ممالک کے ساتھ مل کر قدم اٹھانا ہوگا۔ پاکستان کو ترکی، سعودی عرب اور ایران کے ساتھ مل کر اہم فیصلہ کرنا ہوگا اور امریکا کو اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور کرنا ہوگا۔ اگرچہ یہ مسئلہ تمام عالم اسلام کے ایمان کا مسئلہ ہے، لیکن عوام کچھ نہیں کرسکتے، صرف احتجاج کرسکتے ہیں۔ ہماری جماعت جمعیت علمائے اسلام سے جو کچھ ہوگا، وہ کرے گی۔
فرید پراچہ ( مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جماعت اسلامی پاکستان)
ٹرمپ کا فیصلہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ یہ سارا معاملہ اسلام دشمنی ہے۔ یہ معمولی بات نہیں ہے، یہ مسلمانوں کے خلاف کھلی دشمنی کا اظہار ہے۔ اقوام متحدہ عرصہ دراز سے جس معاملے کو حل کرنے لگی ہوئی ہے، ٹرمپ کے اقدام نے ماضی کی تمام کوششوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ ٹرمپ کا یہ فیصلہ کسی بھی اصول کے تحت دیکھا جائے تو عدل و انصاف کا قتل ہے۔ ٹرمپ خالی الذہن اور ذہنی طور پر معذور انسان ہے، جو امریکا کی رسوائی اور بدنامی کا سبب بن رہا ہے، امریکا کی انتظامیہ اور تمام پارلیمینٹرین اور دیگر شعبوں کے افراد کو چاہیے کہ ٹرمپ کو کھلی چھوٹ نہ دیں۔ امریکا میں ایک ادارہ جاتی نظام بھی ہے، اسے بھی ٹرمپ کی حرکتوں کا نوٹس لینا چاہیے۔ مسلم ممالک کو بھی سنجیدگی کے ساتھ اس معاملے کو دیکھنا ہوگا، صرف مذمتی بیانات دے کر خود کو بری الذمہ نہ سمجھیں، مذمتی بیانات تو غیر مسلم ممالک بھی دے رہے ہیں۔ مسلم ممالک کو عملی اقدام کی ضرورت ہے۔ تمام مسلم ممالک مل کر اس معاملے میں کردار ادا کریں۔ سب سے پہلے تمام مسلم ممالک کا اس معاملے میں ایک مشترکہ موقف ہونا چاہیے، سب کے سب اپنے تمام اختلافات بھلا کر اکھٹے ہوجائیں۔ سب سے اہم مسلم ممالک سعوی عرب، ترکی، پاکستان اور ایران ہیں، یہ ممالک اپنے اختلافات بالائے طاق رکھ کر بیت المقدس کی خاطر آگے بڑھ کر کردار ادا کریں۔ امریکا کے خلاف سخت ترین احتجاج کریں، کم سے کم درجہ یہ ہے کہ امریکی بینکوں سے اپنا پیسہ نکال لیں۔ اس سے اگلا مرحلہ یہ ہے کہ امریکا کی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔ امریکا سے سفارتی تعلقات ختم کریں۔ پاکستان ایک ایٹمی مسلم ملک ہے۔ اس کی سب سے زیادہ ذمہ داری بنتی ہے۔ ترکی کی طرح پاکستان اور سعودی عرب کو بھی پہل کرنی چاہیے۔ مسلم ممالک کی مشترکہ فوج کی کمانڈ بھی پاکستان کے پاس ہے، پاکستان کو کردار ادا کرنا چاہیے۔ پاکستان کے عوام کو اپنا احتجاج ریکارڈ کروا کر بیت المقدس سے اپنا تعلق ظاہر کرنا چاہیے۔ مکہ اور مدینہ کی طرح بیت المقدس بھی ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ عوام کو باہر نکل کر احتجاج کرنا چاہیے۔ جماعت اسلامی اس حوالے سے بھرپور احتجاج کر رہی ہے۔ جمعہ کو ملک بھر میں احتجاج کیا ہے اور مزید احتجاج کے لیے پروگرام تشکیل دیے جائیں گے۔
صاحبزادہ ڈاکٹرابو الخیر زبیر ( صدر جمعیت علمائے پاکستان)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ظالمانہ فیصلے سے پوری دنیا میں افراتفری پھیل جائے گی۔ یہ فیصلہ پوری دنیا میں جنگ بھڑکانے کے مترادف ہے۔ اس فیصلے سے پوری دنیا میں بدامنی کی آگ پھیل جائے گی۔ یہ فیصلہ دنیا بھر میں 57مسلم ممالک کے لیے چیلنج ہے۔یہود و نصاریٰ مسلمانوں کے خلاف ایک ہوچکے ہیں، اب مسلمانوں کو بھی ایک ہوجانا چاہیے۔ امت مسلمہ کو ایک ہوجانا چاہیے۔ بیت المقدس کا تحفظ مسلمانوں کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ تمام مسلم ممالک کے حکمرانوں کو اب بہت سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ القدس کا تحفظ کرنا ہوگا۔ پاکستان ایک اہم مسلم ملک ہے، اس لیے پاکستان کی اس حوالے سے زیادہ ذمہ داری بنتی ہے۔ پاکستان آگے بڑھ کر قائدانہ کردار ادا کرے اور امریکا کے خلاف بھرپور احتجاج کرے۔ خالی خولی مذمت سے کیا ہوتا ہے، مذمت تو غیر مسلم ممالک بھی کر رہے ہیں، اگر پاکستان یا دیگر مسلم ممالک نے بھی صرف مذمت ہی کرنی ہے تو پھر ہم میں اور دیگر غیر مسلم ممالک میں کیا فرق رہ گیا ہے۔ پاکستان پرزور، بھرپور اور موثر احتجاج کرے۔ پاکستان کے عوام کی بھی ذمہ اری بنتی ہے کہ بھرپور احتجاج کر کے اپنے حکمرانوں کو اس معاملے میں امریکا کے خلاف سخت احتجاج کرنے کی کوشش کریں۔ ہماری جماعت اس حوالے سے جو ہوسکا کرے گی۔ ہماری مجلس شوریٰ جو فیصلہ کرے گی، اس پر عمل کرتے ہوئے اپنے احتجاجی مظاہروں کو ترتیب دیں گے۔
سیف اﷲ خالد ( صدر ملی مسلم لیگ)
امید ہے کہ امریکی صدر کے اس ظالمانہ فیصلے کے خلاف اب امت مسلمہ بیدار ہوجائے گی اور ظلم کے خلاف کھڑی ہوگی۔ مسلم حکمران بھی غیرت کریں گے اور او آئی سی بھی بیدار ہوگی۔ یو این او کو بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔ اب وقت کا تقاضا ہے کہ امت مسلمہ متحد ہوجائے ، کیونکہ اب ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلمانوں کی غیرت کو للکارا ہے۔ القدس مسلمانوں کے ایمان کا معاملہ ہے۔ پوری دنیا کے مسلمانوں کو القدس کی حفاظت کے لیے اٹھ کھڑے ہوجانا چاہیے۔ پوری دنیا کے مسلم ممالک کی ذمہ داری ہے کہ اجتماعی طور پر بیت المقدس کی حفاظت کی خاطر امریکی انتظامیہ پر پریشر بڑھائیں، تاکہ ٹرمپ اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور ہوجائے۔ بیت المقدس کی حفاظت تمام مسلمانوں کا اجتماعی معاملہ ہے اور اس کی حفاظت تمام مسلمانوں پر فرض ہے۔ بیت المقدس ہمارا ایمانی اور روحانی مرکز ہے، اپنے ایمانی اور روحانی مرکز کی حفاظت کی خاطر مسلمانوں کو کچھ بھی کرنا پڑے، کرنا چاہیے۔ پاکستان ایک اہم مسلم ملک ہے، اس کی ذمہ داری بھی زیادہ بنتی ہے۔ پاکستان بہت کچھ کرسکتا ہے، پاکستان دنیا کی ایک عظیم فوج رکھنے والا ایٹمی اسلامی ملک ہے۔ پاکستان کی قیادت کو چاہیے کہ اپنا کردار ادا کرے۔ پاکستان سفارتی سطح پر امریکا پر دباؤ بڑھائے، ان کا بائیکاٹ کرے اور ہر وہ طریقہ اختیار کرے، جس سے ان پر دباؤ ڈالا جاسکتا ہے۔ پاکستان کے عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں۔ باہر نکلیں، اپنی حکومت کو امریکا اور اسرائیل کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے کے لیے قائل کریں۔ ملی مسلم لیگ ملک بھر میں امریکی صدر کے اس احمقانہ فیصلے کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع کرچکی ہے۔ ہم لوگ دفاع پاکستان کونسل اور ملی مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے پورے ملک میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کریں گے۔ جمعہ کو بھی ہم نے امریکی صدر کے فیصلے کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اور مزید بھرپور احتجاج کریں گے اور تمام مسالک کے مسلمانوں کو متحد کرکے احتجاج کریں ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 426592 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Jan, 2018 Views: 431

Comments

آپ کی رائے