رومَن اکھاڑے کے محض تماشائی

(Sami Ullah Malik, )

دنیاکے بیشترممالک کے موجودہ نقشے اورحدودِ اَربَعہ، بیسویں صدی کی عالمگیرجنگوں کے زیرِاثربنے ہیں۔ یقیناًمشرقِ وسطیٰ بھی اس میں شامل ہے۔ اس خطے کے ممالک مگر،تاریخی، جغرافیائی، نسلی، لسانی، تہذیبی،کسی بھی عامل سے زیادہ،سابق استعماری قوتوں کی خواہشات کے تحت میز پر کھینچی گئی لکیروں سے بنے ہیں۔ مثلاً لبنان، شام، اُردن، اسرائیل، عراق، کویت، سعودی عرب، اومان، وغیرہ کے نقشے دیکھیے،لگتا ہے کہ سیدھی سیدھی لکیریں کھینچ کر، یہ نئے ممالک، عالمی نقشے میں ’’کاڑھے‘‘گئے ہیں۔ یہ تمام ممالک، ماضی میں بڑی سلطنتوں کے صوبے یاضلعے ہواکرتے تھے۔ یورپ کی استعماری اقوام خصوصاً برطانیہ اور فرانس نےاپنی استعماری سوچ کے مطابق، یہ نئے ممالک تخلیق کر دیے۔ ان کی تشکیل میں امریکاعملاً شریک نہیں تھا۔

اب تاریخ کاپہیہ ایسے مقام پرآگیاہے کہ آج کی سب سے بڑی استعماری قوت امریکااوراُس کے اتحادی یورپی ممالک اوراسرائیل کو’’نیا مشرقِ وسطیٰ‘‘درکار ہے۔ چنانچہ گزشتہ صدی کے اختتام کے ساتھ ہی نئے عہد اور نئی سرحدوں کا بگل بجا دیا گیا ہے۔ علاقائی عناصر و عوامل کو مارچ کا حکم مل چکا ہے۔ تمام ہرکارے، کارندے، پیادے،فیل و فَرزیں روبوٹس کی طرح حرکت میں آچکے ہیں۔ پرانے زمانے کے راجاؤں اورنوابوں کے شکار کیلئے،جس طرح’ہانکا‘‘لگا کرتا تھا،مشرقِ وسطیٰ میں شکاراورشکاری اوراُن کے ہانکا لگانے والےسبھی اس کھیل کاحصہ بن کر،اپنااپناکرداربخوبی نبھارہے ہیں۔ شاید اگلے ایک عشرے کے اندرہی،مطلوب’’نیا مشرقِ وسطیٰ‘‘تشکیل پاجانے کی خواہش وکوشش ہے۔ ہم ’’اہلِ حرم‘‘حسبِ سابق اِس’’رومَن اکھاڑے‘‘کی سیڑھیوں پربیٹھے،محض تماشائی ہیں جواپنی بھوک اوراِفلاس،اپنا دکھ اورغم غَلط کرنے کیلئے،یہ کھیل دیکھ رہے ہیں، تبصرے کر رہے ہیں یازیادہ سے زیادہ اس میں مُعاون ومددگار بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ اکھاڑے میں جاری کھیل کاجائزہ لیاجائے توچِیدہ چیدہ نکات اس طرح سامنے آتے ہیں:۔
۱۔دنیا کے موجودہ تناظر میں،چارمسلم ممالک ایسے ہیں،جن کے حالات وواقعات ،جن کاعمل اوربے عملی(یابدعملی)،جن کااستحکام یاانہدام اورجن کی قوت ویکجہتی یاکمزوری وانتشارسارے عالمِ اسلام کوسب سے زیادہ متاثرکرسکتاہےاورکرے گا۔ یہ ممالک سعودی عرب، مصر، ترکی اورپاکستان ہیں!!!
۲) اگر یہ چاروں ممالک ہم آہنگ ہوکر،ایک دوسرے کے ہاتھ تھام کراورباہمی اعتمادومشاورت کے ساتھ عالمی بساطِ سیاست پردھیرے دھیرے ہی سہی، لیکن مظبوط قدم رکھتے چلیں،تو مسلم اْمّہ کی بے چارگی و بے بسی میں تیزی سے قابلِ لحاظ کمی آتی جائے گی۔
۳) اِس’’اِتحادِ اَربعہ‘‘کے جْھرمٹ میں کئی اورمسلم اورغیرمسلم ممالک،وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، شامل ہوتے جائیں گے۔ یوں یہ نیا ’’عالمی بلاک‘‘آج کی بے توازن اور بے کل دنیا میں،قدرے توازن و قرار کا ذریعہ بن سکے گا۔
۴) چند برس قبل اللہ نے یہ سنہری گھڑی قریب کردی تھی،جب مصر میں ڈاکٹر محمد مُرسی کی جسٹس پارٹی کی حکومت قائم ہوگئی تھی، اور تُرکی میں اردگان کی"اے کے پی" کی حکومت سے اُس کا بڑا اچھا تعلق پروان چڑھ رہا تھا۔گویا
’’اتحادِ اربعہ‘‘ کیلئےحالات سازگار ہونے جارہے تھے۔
۵) بدقسمتی سے آلِ سعود کے پچھلے بادشاہ اور کچھ شہزادے، امارات کے حکمراں، خصوصاً ان کے موجودہ ولی عہد، اسرائیلی لابی اورمغربی استعمار نے مصر پر، اور امّت پر نہایت اوچھا وار اور تاریخی ظلم کیا۔ یہ گویا سنبھلتی اور قسمت بدلتی مسلم دنیا
کی پیٹھ میں خنجر گھونپ دینے کے مترادف تھا۔
۶) اِسی دوران،شام کے معاملہ میں جوہوا،وہ حکمتِ عملی اوراسٹریٹجی کے لحاظ سے ایک تاریخی بلنڈرتھا۔اسرائیل کی پشت پناہ مغربی قوتوں نے سازش کاجو جال بُنا،بدقسمتی سے اُس میں ترکی،سعودی عرب،قطراوربعض دیگرعرب حکومتیں،یہاں تک کہ شام کے اِخوان بھی،حیرت انگیزطورپربڑی آسانی سے پھنس گئے۔اب اُن کے گلے میں گویا’’چھچھوندر‘‘پڑاہے۔ ۱۹۸۱ء میں بھی شام کی اِخوان، اپنے نوجون عنصرکے دباؤ میں آکر’’خروج‘‘ کی خودکش غلطی کر
چکی تھی۔ جس کا خمیازہ رُبع صدی تک اُسے بھگتنا پڑا۔خدا جانے ہمارے یہ دوست ممالک اس استعماری وصہیونی جال سے بسلامت کیونکرنکل پائیں گے؟
۷) ایک مضبوط رائے رہی ہے کہ شام کواُس کے حال پرہی چھوڑدیناچاہیے تھا۔ بشارالاسد کی’’علوی‘‘یا’’نُصیری‘‘حکومت سے امّتِ مسلمہ کویااتحادِامت کو کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں تھابلکہ دمشق میں’’حماس‘‘کوایک مناسب اور مضبوط ٹھکانامیسرتھا،جو اَب اُس سے چِھن چکا ہے۔ شامی فوج کی صورت میں، اسرائیل کے سامنے ایک مظبوط عسکری قوت بھی موجود تھی، جو کلیتاً تباہ ہو گئی ہے۔ اَربوں ڈالرز میں خریدے ہوئے لڑاکا جہاز، ٹینک، توپیں، میزائل، گولا بارود،یا تو استعماری قوتوں کی بمباری سے تباہ ہوگئے یا اپنے ہی لوگوں سے لڑنے میں ضائع ہوگئے۔ شام، اِس علاقہ میں نسبتاً بہتر فوج رکھتا تھا۔ وہ فوج اسرائیلی نفسیات کو کانٹے کی طرح کھٹکتی تھی۔ خانہ جنگی میں وہ بھی تتر بتر ہو گئی۔
ابتدا ہی سے مجھے شام کا یہ سارا ’’جہاد‘‘سمجھ نہیں آتا تھا۔ اب تو یہ امر اظہر مِن الشمس ہوچکاہے کہ یہ بہت بڑااسٹرٹیجک بلنڈرتھا۔ شام میں، کئی سال سےملّی خودکشی کی’’گلوٹین مشین‘‘مسلسل چل رہی ہے۔ مسلم دنیامیں صدیوں سے موجودسب سے بڑی فرقہ وارانہ(شیعہ،سْنّی) تقسیم زیادہ شدّت سے نمایاں ہوکر، عالمگیر پیمانے پر سامنے آکھڑی ہوئی ہے۔عصرِ رواں کی استعماری قوتوں نےاِس تقسیم کومؤثرطورپربروئے کارلاکراپنے بہت سے منصوبے آگے بڑھائے ہیں اوروہ اس کادائرہ مزید بڑھائیں گی۔ فی الحال اس میں کمی کابظاہر کم ہی امکان ہے۔
۸) یہاں یہ بھی عرض ہے کہ مسلم ممالک میں،عہدِ ماضی والے’’تصورِ خروج‘‘ پرنظرثانی کی ضرورت ہے۔ بالخصوص ایسی دنیامیں جہاں دشمنانِ دین و ملت، ہرقابلِ لحاظ مسلم ملک کاتیاپانچااور’’قیمہ‘‘کرنے کی مہم پرصاف دِکھائی دے رہے ہیں۔ یہ بھی واضح رہے کہ’’خروج‘‘ایک سیاسی اجتہاداور’’فقۂ سیاسیات‘‘ کی ایک اصطلاح ہے۔ یہ نہ ایمانی مسئلہ ہےاور نہ فرائض وواجبات سے اِس کا کوئی تعلق ہے البتہ انسانی تمدّن کے ایک خاص دَورسے متعلق ضروررہاہے۔ (اتفاق سے میں دینی اورعلمِ سیاسیات کاطالب علم بھی ہوں۔)
۹) مصرکوجس طرح عملاً ’’اسرائیلی توَلیّت‘‘میں دے دیاگیاہے،اس عاقبت نااندیش اورملیّ بربادی میں آلِ سعوداورسَلَفی مکتبِ فکرکے کلیدی کردارپرغور کرتاہوں تودل بڑاخراب ہوتاہے۔ کئی بارمیرابڑادل چاہا کہ کچھ صہیونی آلہ کاروں کیلئےقُنوت والی بد دعائیں کروں۔عمرہ پرگیاتووہاں بھی یہی دل چاہامگرمیرے دماغ نے میری زبان پکڑے رکھی۔ اِس بات کوسمجھنا ضروری ہے کہ سعودی عرب کاداخلی انتشار،چاہے وہ شاہی خاندان کے اندرہویاپوری مملکت میں،فی زمانہ ہرگزباعثِ خیرنہ ہوگا۔اِس سے ہمارے دین وملت کوکچھ نہیں ملے گابلکہ اُمّت میں اِس کا نفسیاتی فال آؤٹ ہمارے اندازوں سے کہیں زیادہ ہوگااس لئے حرمین کی حرمت کی وجہ سے ان کے سدھرنے کی دعائیں کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

۱۰) عربستان کے جنوب مغربی کونے پر، یمن میں جو ہو رہا ہے،اس کے دو فعّال ترین فریقین میں ایک طرف ایران ہے، تو دوسری طرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات۔ دونوں فریقوں نے جس عاقبت نااندیشی کا مظاہرہ کیا ہے، اس سے یمن تو برباد ہو ہی رہا ہے،مگر تیل کا جو پیسہ دھواں بن کر اُڑ رہا ہے، اور ملی وجود میں نفرتوں کا جو زہر سرایت کر چکا ہے، اُس کے کامل اثرات آہستہ آہستہ ہی ظاہر ہوں گے۔
۱۱) آنسو کے قطرے جیسے ننھے سے ملک قطر کے خلاف جو ’’چار کا ٹولہ‘‘سامنے آیا ہے، اُس کی حیثیت شکاری شِکرہ سے زیادہ نہیں۔ اصل فیصلہ ساز تو وہ ہاتھ اور ذہن ہے جس نے اِن شِکروں کو ’’قطر کا کبوتر‘‘شکار کرنے پر مامور کیا ہے۔ قطر کےخلاف اقدام کرنے کے بعد، چند ماہ کے اندر ہمارے عرب بھائیوں نے کوئی ڈیڑھ سو اَرب ڈالر(ایک سوسوساٹھ کھرب روپے) کے سودے،صرف امریکا سے اسلحہ خریدنے کیلئےکر لیے ہیں۔ آنے والے برسوں میں اس سے چھ گنا زیادہ خریداری کی نوید بھی دے دی گئی ہے (پاکستان کا کل بیرونی قرضہ ۸۴؍ارب ڈالر ہے)۔یہ اسلحہ کس کے خلاف خریدا جا رہاہے؟ایک دوسرے کے خلاف! صہیونی ریاست، اسرائیل سے مستقبل قریب میں کوئی جنگ ہونی ہے اور نہ اس سے کوئی ’’خطرہ ‘‘باقی رہا ہے۔ جنگ اس لیے نہیں ہونی کہ اسرائیلی مقاصدبغیر کوئی گولی چلائے حاصل ہو رہے ہیں، پھر اُسے عربوں سے لڑنے کی کیا ضرورت ہے ۔ ’’خطرہ‘‘اس لیے نہیں کہ اب اسرائیل سے دوستی کی مسابقت شروع ہو گئی ہے۔ شنید ہے کہ سعودی عرب کا ولی عہد اسرائیل کا خاموش دورہ کر کے آچکا ہے۔ دونوں حکومتوں میں مسلسل رابطہ ہے اور مفاہمت کے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے۔ شاید تین تا چھ ماہ میں کسی باقاعدہ مفاہمت کا اعلان بھی ہو جائے گا۔
۱۲) ایسا لگتا ہے کہ اَب لبنان پر’’حزب اﷲ‘‘کے خاتمے کے نام پر چڑھائی کا ارادہ ہے۔ ایسی یلغار کو امریکا، اسرائیل، مصر اور سعودی عرب کی تائید حاصل ہو گی۔ اس کے بعد ’’حماس‘‘کی باری آئے گی۔ لیکن اُسے غالباً ’’گلا گھونٹ‘‘ کر مارنا طے پایا ہے۔
۱۳) سعودی عرب اور ایران میں تصادم ہو یا زبانی جنگ جاری رہے،دونوں صورتوں میں خطہ، عدم استحکام اور نفرتوں کی آماجگاہ بنا رہے گا۔اس صورت حال کا بڑا گہرا اثر پوری مسلم دنیا پر پڑے گا۔ وہ بھی عدم استحکام اور نفرتوں کی زہرناک فضا کا شکار ہو گی۔
۱۴) ایران بھی، ساسانی سلطنت کے خاتمے کے بعدپہلی بارعروج کے ایسے زینے کو اپنے سامنے دیکھ رہاہے جواُس کیلئے حالات نےاورخوداُس کی حکمت کاری نے ممکن بنادیاہے۔ مشرق میں زاہدان سے لے کر، مغرب میں بیروت تک، اس کو وسیع و کشادہ عمل داری مل رہی ہے۔ مسلم تاریخ میں ایسا پہلی بار ہو رہا ہے۔ خود بغداد پر کسی شیعہ حکومت کا قیام اب سے پہلے کبھی ممکن نہیں ہوا تھا۔ یہ صورتحال مسلمانوں کے سوادِ اعظم (سُنّی دنیا) کیلئےہضم کرنا سہل نہیں۔ اہلِ مغرب اس ذہنی و نفسیاتی و جذباتی تقسیم کو اپنے مقاصد کیلئےاستعمال کر رہے ہیں۔ امریکا اورایران میں غالباً کوئی باقاعدہ مفاہمت نہیں ہےمگر’’سوئے اتفاق‘‘سے دونوں قوتیں، تاریخ کے ایک ہی صفحے پر لاکھڑی کی گئی ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ڈپلومیسی میں بہرحال اہلِ فارس بہت آگے ہیں۔ اس کی شہادت آئے دن کے حالات و واقعات دے رہے ہیں۔
۱۵) سعودی عرب کے حکمراں خاندان میں اِن دنوں جوٹوٹ پھوٹ اورمحلاتی کشمکش جاری ہے،اس سے ملک اورحکمراں طبقے کا داخلی استحکام بری طرح متاثر ہو گا۔ آلِ سعود کی حکومت اب تک ’’باہمی اتفاق و اتحاد‘‘کے پائے پر کھڑی تھی۔
اگریہ پایہ کمزورہوگاتوپورامحل ضعف و انہدام کے خطروں سے دوچارہوجائے گا۔ایسے میں استعماری قوتوں کیلئےاپنے من مانے فیصلے کرواناآسان ہوجاتاہے۔ فی الوقت توآلِ سعود کاحال وہی ہے، جو مغلوں کی حکومت کے آخری سوسالوں میں ہواتھا کہ فرنگیوں سے سازبازکر کے ولی عہد اوربادشاہ تبدیل کروائے جاتے تھے۔
۱۶) دوعشروں سے،مغرب کی دانش گاہوں اورپالیسی سازی کے مراکزمیں دو مسلم اقوام سے’’ہمدردی‘‘کامروڑ اُٹھ رہاہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دوقومیں ایسی ہیں، جنہیں ممالک دستیاب نہیں حالانکہ وہ اپنے لیے،الگ الگ ریاستیں بنانے کا پورا استحقاق رکھتی ہیں۔ یہ دو مسلم قومیں’’کُرد‘‘اور’’بلوچ‘‘ہیں۔ ایک طرف کردستان کی پیدائش کیلئےزمین ہموارکی جارہی ہے تودوسری طرف بلوچستان کیلئےجوڑ توڑ زوروں پر ہے۔ پہلے مشن کے لیے،اسرائیل کواسائنمنٹ دیا گیا ہے،اوردوسرے کی ذمہ داری بھارت کے سپردکی گئی ہے۔ بیک وقت دونوں پر کام جاری ہے لیکن زیادہ تیزی"کردستان" کے معاملے میں دکھائی جارہی ہے۔
اس کے نتیجہ میں ترکی، شام، عراق، ایران بُری طرح متاثر ہوں گے۔ جبکہ گریٹربلوچستان کے مشن کاہدف پاکستان،ایران اورافغانستان کو’’کٹ ٹو سائز‘‘ کرنا ہے لیکن فی الحال ان کیلئے سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان کی فوج ہے۔
۱۷) سعودی عرب، اپنے اثاثے بیچنے کااعلان کرچکاہے۔ اپنے بجٹ کے خسارے پورے کرنے کیلئےاپنا زرِمحفوظ پہلے ہی استعمال کرنا شروع کر چکا ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لینے کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ نیز ایک بہت بڑا پراجیکٹ(NEOM)’’نیوم‘‘کے نام سے اردن،مصراوراسرائیلی سرحد کے قریب شروع کرنے والا ہے۔تبوک میں۲۶۵۰۰/اسکوائرکلومیٹرپرمشتمل یہ ایسا ’’سعودی عرب‘‘ہوگا،جہاں سعودی عرب کی اَقداروروایات اورشرعی قوانین کا داخلہ ممنوع ہوگا۔ یہ پراجیکٹ مکمل ہوسکے گایانہیں، یہ بتانادشوارہے البتہ اس کے نام پرپٹرول کی دولت،پانی کی طرح بہے گی اوربہہ کرمغربی استعماری معیشت کاحصہ بنے گی۔
۱۸) بہت اہم بات جاننے اورسمجھنے کی یہ بھی ہے کہ اِس وقت آٹھ مسلم ممالک، اپنا وجود عملاً کھو چکے ہیں۔ وہ صرف’’اٹلس‘‘پرنظرآتے ہیں۔ حقیقتاًوہ ’’نان ایگزسٹنٹ‘‘ہیں یا’’ناکام ریاستیں‘‘اوروہ ہیں:افغانستان،عراق،شام، لبنان،یمن، لیبیا،صومالیہ اورمالی۔اگر اِس فہرست میں سعودی عرب،ترکی، تیونس، نائیجیریا، الجزائریاکسی کابھی اضافہ ہوجائے تو دین وملت کوکیا فائدہ پہنچے گا؟؟؟
۱۹) صورتحال پرہم اپنے غصّے یا فرسٹیشن کا اظہار ضرور کریں مگر اَحوالِ جہاں اپنے اِرد گِرد کے زمینی حقائق اورچاروں طرف پھیلی’’بارودی سُرنگوں‘‘ کوبھی پیشِ نظررکھیں۔اِنہیں ہرگزنظراندازنہ کریں۔ہم سب کی کوشش ہونی چاہیے کہ سب سے پہلے تواپنی شریانوں سے بہتے لہوکوروکیں،اپنے کمروں اور باورچی خانے سے اُٹھتے شعلوں کوسردکریں اوراپنے ملکوں کوبطور’’پنچنگ بیگ‘‘ Punching Bagاستعمال نہ ہونے دیں۔

یاربّ کریم! ہم پر،اپنے کمزوربندوں پر………اپنے نام لیوابے عمل اوربدعمل مسلمانوں پر،اب رحم فرما،کرم فرما،راہِ نجات دِکھا،اُس پرچلنے ہی کی نہیں، چلانے کی بھی صلاحیت وفراست،عزم وہمت اورسلیقہ وتوفیق دے۔ آمین، یاارحم الرّٰحمین !

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 531 Articles with 225840 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Jan, 2018 Views: 441

Comments

آپ کی رائے