شیرون کے جانشین کی بھارت آمد۔۔۔۔کند ہم جنس باہم جنس پرواز

(Asif Khursheed Rana, Islamabad)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے ایسے وقت میں بھارت کا دورہ کیا جا رہا ہے جب بھارت کے اندرونی حالات بہت حد تک عدم استحکام کا شکار ہیں ۔ سپریم کورٹ کے چار ججوں کا چیف جسٹس دیپک مشرا کے خلاف پریس کانفرنس شاید بھارتی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے ۔اسی طرح سہراب الدین جعلی مقابلے جیسے اہم کیس کی تحقیقات کرنے والے جج جسٹس بی ایچ لویا کی پرسرار ہلاکت کا چرچا بھی عام ہے۔ سہراب الدین جعلی مقابلہ کیس میں حکمران جماعت بھارتی جنتا پارٹی کے صدر امیت شاہ مرکزی ملزم ہیں اور اس کیس میں جیل بھی کاٹ چکے ہیں۔جسٹس ایچ بی لویا کے اہل خانہ یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کی ہلاکت پر خاموش رہنے کے بدلے انہیں ایک سو کروڑ کی پیشکش کی گئی جس نے معاملہ کافی متنازعہ بنا دیا۔ دوسری طرف گجرات کے انتخابات ہوئے بھی ابھی کچھ ہی دن گزرے ہیں جس میں بھارتی جنتا پارٹی نے معمولی اکثریت سے اپنی جیت برقرار رکھی ہے ۔ ان دونوں معاملات سے اگرچہ براہ راست اسرائیلی وزیراعظم کے دورہ بھارت سے کوئی تعلق نہیں تاہم یہ دونوں واقعات اس دورے کی وجوہات اور بھارت سے اسرائیل کی بڑھتی ہوئی قربت کا پس منظر سے ضرور آگاہی دیتے ہیں۔یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ اسرائیل بھارت تعلقات ہمیشہ بھارتی جنتا پارٹی کے دور میں مضبوط ہوئے ہیں۔ بھارتی چیف جسٹس دیپک مشرا کے بارے میں کہا جاتا رہا ہے کہ وہ انتہا پسندذہن رکھتے ہیں اور بھارتی جنتا پارٹی سے ان کا تعلق بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں یہی وجہ ہے کہ بابری مسجد کیس، بھارتی مندر کا معاملہ ، مسلمانوں کی طلاق ثلاثہ کیس اور سینماء گھروں میں بھارتی ترانہ پڑھنے کا حکم ( جو مختلف طبقات کے شدید احتجاج کے باعث واپس لیا جا چکا ہے)وغیر ہ وغیرہ ان کی دلچسپی کو ظاہر کرتے ہیں ۔دوسری طرف بابری مسجد کے انہدام میں ملوث مرکزی وزیر اوما بھارتی اور بھارتی جنتا پارٹی کے سینئر رہنما ایل کے ایڈوانی اور ایم ایم جوشی کے خلاف کسی قسم کی کاروائی آگے نہیں بڑھائی جا رہی ۔چیف جسٹس کے ایسے اقدامات سے بہت سے حلقوں میں یہ بات یقین سے کہی جارہی ہے کہ بھارتی انتہاپسند اپنا ہندوتوا کا ایجنڈا انصاف کے نام پر نافذ کررہے ہیں جس میں بھارتی چیف جسٹس ان کی مکمل معاونت کررہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ تین جسٹس صاحبان نے چیف جسٹس کے اقدامات کو جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

1992میں شروع ہونے والے بھارت اسرائیل میں تیزی لانے کا سہرا نریندرا مودی( جسے گجرات میں قصائی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے کیونکہ یہ ہزاروں مسلمانوں کے قتل میں ملوث ہے) کے سر پر ہے ۔دوسری طرف ایریل شیرون کا جانشین نیتن یاہو اس وقت اسرائیل کی قیادت کر رہا ہے ۔اسرائیل اس وقت امریکی صدر ٹرمپ کے ایک انتہائی اقدام کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بن رہا ہے ۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کی امداد بند کرنے کی دھمکیوں کے باوجود دنیا نے اسرائیل کے حق میں ووٹ نہیں دیا جبکہ اسرائیل کی مخالفت میں ووٹ دینے والوں میں بھارت بھی شامل تھا۔ جس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ بھارت اور اسرائیل کے تعلقات ایک خاص نظریے کی بنیاد پر دیکھے جا سکتے ہیں اس کا عالمی تعلقات یا عالمی سطح پر ہونے والے الائنس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ خاص نظریہ جس پر دونوں ممالک اکٹھے ہیں وہ ظلم ، جبر اور مسلمانوں کی نسل کشی اور ان کی زمینوں پر قبضہ کرنا ہے ۔ بھارت میں اس وقت ہندوتوا کی تحریک کو مکمل طور پر سرکاری سرپرستی حاصل ہے ۔ چیف جسٹس سے لے کر آرمی چیف تک سب اسی تحریک کے حامی نظر آتے ہیں ۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ موجودہ آرمی چیف کو بھی سنیارٹی اور میرٹ کو نظر انداز کر کے تعینات کیا گیا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ موصوف آئے دن کبھی چین اور کبھی پاکستان کو دھمکیاں دیتے نظر آتے ہیں ۔ گزشتہ دنوں اس وقت تو دنیا میں بھارت کو سبکی اٹھانا پڑی جب آرمی چیف نے مقبوضہ کشمیر کے دورے کے دوران پاکستان کو نہ صرف ایٹمی حملے کی دھمکی دے دی بلکہ یہ اقرار بھی کر لیا کہ لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ بھارت کی جانب سے کی جاتی ہے ۔ بھارت کے حالات کو دیکھیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہر کوئی بھارتی جنتا پارٹی کے عہدیداروں کی خوشنودی کے لیے انتہائی اقدامات کرنے کے لیے تیار نظر آتاہے۔ بھارت اور اسرائیل کی مشترک میں پہلا مسئلہ مسلمانوں کی جائیداد پر قابض ہونا ہے ۔ کشمیر میں بھارت گزشتہ ستر سالوں سے قابض ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود کشمیر سے قبضہ ختم کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں آتا جبکہ اسرائیل نے فلسطین کی سرزمین پر قبضہ کر رکھا ہے ۔ دونوں ممالک نے اپنا قبضہ برقرار رکھنے کے لیے کئی لاکھ فوج تعینات کر کھی ہے جو وہاں موجود رہائشیوں پر ہر طرح کے ظلم و جبرکو اپنا حق سمجھتے ہیں ۔ اسی طرح مسلمانوں کی آبادی کے خاتمے کے لیے اسرائیل دنیا بھر سے یہودیوں کو لاکر فلسطین میں آباد کررہا ہے ۔ اقوام متحدہ سمیت دنیا کے ہر فورم پر اس کی مخالفت کی جاتی ہے تاہم اسرائیل اس کی پروا کیے بغیر فلسطین میں نئی یہودی بستیاں تعمیر کر رہا ہے ۔ اسی طرح کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی کو کم کرنے کے لیے بھارت بھی مختلف پنڈت بستیوں کی تعمیر میں مصروف ہے ۔ اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کے لیے کیمیائی اور مہلک ہتھیار استعمال کرنے سے دریغ نہیں کرتا یہی کچھ بھارت بھی کشمیر میں کر رہا ہے ۔ پیلٹ گنوں کے استعمال میں تیزی کے علاوہ ایسے آثار بھی پائے گئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت فوج نے ممنوعہ کیمیائی ہتھیار استعمال کریے ہیں ۔اسرائیل بھی اپنے ہمسایہ ممالک کے لیے وبال جان بن چکا ہے اور یہی صورتحال بھارت کے ساتھ بھی ہے کہ کوئی بھی ہمسایہ ملک اس کے شر سے محفوظ نہیں ہے۔

ان حالات میں جب ایک طرف ہندو توا کا نظریہ سرکاری سرپرستی میں پروان چڑھ رہا ہے تو دوسری طرف صہیونی ریاست کے قیام کے لیے بھی ہر طرح کے منفی اقدامات کیے جارہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنے دورے کے دوران واضح طور پر کہا ہے کہ اسرائیل اور انڈیا وہ قدیم تہذیبیں ہیں اور ہمارے رشتے بہت خاص ہیں ، امریکی قرارداد کے حق میں ووٹ نہ دینے کے باوجود ہمارے رشتوں پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا ۔بھارت کے لیے اسرائیل میں کشش اس لیے موجود ہے کہ وہ اسرائیل سے دفاع تعاون چاہتا ہے ۔ اس وقت دینا میں بھارت دنیا میں اسلحہ کی خریداری کے حوالے سے دنیا کی فہرست میں بہت اوپر ہے ۔ جنوبی ایشیا میں سپر پاور بننے کا خواب اسی صورت پورا ہو سکتا ہے جب اسرائیل جیسا ملک بھارت کے وہ دفاعی ہتھیار بھی فراہم کر سکے جو وہ براہ راست امریکہ یا دیگر ممالک سے نہیں لے سکتا۔ دوسری طرف دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور رشتوں میں مضبوطی کی ایک بڑی وجہ کشمیر میں آزادی کی جاری تحریک پر اسرائیل کے تعاون سے قابو پانا ہے ۔برہان وانی کے بعد وادی میں اٹھنے والی آزادی کی نئی لہر نے بھارت کو دنیا بھر میں رسوا کر کے رکھ دیا ۔کشمیر کی تحریک آزادی میں ایسی اٹھان دیکھنے میں آئی کہ دنیا اسے نظر انداز نہ کرسکی اور بھارت کی جانب انگلیاں اٹھنے لگیں۔ پاکستان کا وجود بھی ان دونوں رہنماؤں کا قدر مشترک ہے ۔ دونوں رہنما پاکستان کے وجود سے خائف ہیں ۔ پاکستان جس مضبوطی کے ساتھ فلسطینیوں کے ساتھ شروع دن سے کھڑا ہے اور اسرائیل کے ناجائز وجود کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے وہ شاہد عرب ممالک میں بھی موجود نہیں ۔دوسری جانب جنوبی ایشیا میں سپر پاور بننے کے خواب کے پورا ہونے میں بھی پاکستان ہی بڑی رکاوٹ ہے سو یہ مشترک بھی دونوں رہنماؤں کو ایک ساتھ تعاون کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ اتحاد کس حد تک کامیاب ہو سکتا ہے یہ کہنے کی شاید اتنی ضرورت نہیں تاہم یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ فلسطین اور کشمیر پر مستقل قابض رہنا ان دونوں کے لیے ممکن نہیں کیونکہ ظلم اور طاقت کی بنیاد پر کچھ عرصہ تک تو کسی قوم کی آزادی سلب کی جا سکتی ہے لیکن مستقل ایسا ہونا ممکن نہیں۔اس لیے وہ وقت ضرور آئے گا جب فلسطین و کشمیر کے مجبور مقہور لوگ ان کے مظالم سے چھٹکارا حاصل کر کے آزاد فضا میں سانس لے سکیں گے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Asif Khursheed Rana

Read More Articles by Asif Khursheed Rana: 87 Articles with 32409 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Jan, 2018 Views: 367

Comments

آپ کی رائے