” سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے “

(Wajid Nawaz, Bhakkar)

منو بھائی کی یاد میں
تحریر واجد نواز ڈھول
منوبھائی کا شمار پاکستان کے نامور صحافیوں، ادباء، مصنفین، افسانہ نگاروں اور صاحب فہم و فراست افراد میں ہوتا ہے۔ پاکستانی ادب اور صحافت میں منو بھائی کی شبانہ روز کاوشیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ منیر احمد قریشی عرف منو بھائی 6 فروری 1933ءکو پنجاب کے شہر وزیر آباد میں پیدا ہوئے۔ آپ کے دادا میاں غلام حیدر قریشی امام مسجد تھے۔ کتابوں کی جلد سازی اور کتابت ان کا ذریعہ معاش تھا، وہ شاعری بھی کرتے تھے۔

منیر احمد قریشی عرف منو بھائی کے والد گرامی کا نام محمد عظیم قریشی تھا اور وہ ریلوے میں ملازمت کرتے تھے بعدازاں اسٹیشن ماسٹر بن گئے۔

منو بھائی کے خاندانی زائچہ کا مطالعہ کیا جائے تو شاعری ان کی خاندانی میراث ثابت ہوتی ہے، مشہور شاعر شریف کنجاہی اُن کے ماموں تھے ۔

1947ءمیں جب برصغیر کے اندر مسلمانوں کی جدوجہد اپنے بام عروج پر تھی تو منو بھائی میٹرک کا امتحان پاس کرکے گورنمنٹ کالج کیمبل پور ( اٹک ) میں انٹر میں داخلہ لے چکے تھے۔ اسی کالج میں دوران تعلیم منو بھائی نے پنجابی شاعری بھی شروع کردی۔

منیر احمد قریشی المعروف منو بھائی کی پیشہ وارانہ زندگی کا اگر احاطہ کیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ وہ شاعری کے ساتھ ساتھ کالم نگاری میں بھی اپنی دنیا کے بے تاج بادشاہ تھے۔ تعلیم کے بعد 1950ءکی دہائی میں وہ راولپنڈی کے ایک اخبار ” تعمیر “ میں صرف 50 روپے ماہانہ پر نوکری شروع کردی۔ اسی اخبار سے ” اوٹ پٹانگ “ کے عنوان سے کالم نگاری میں بھی قدم رکھ دیا۔

اس وقت کے مشہور اخبار ” امروز “ جس کے مدیر احمد ندیم قاسمی تھے ، اُس میں منو بھائی نے اپنی نظمیں ارسال کرنا شروع کردیں، ایک دن احمد ندیم قاسمی نے منیر احمد قریشی کی نظم پڑھی تو وہ بہت متاثر ہوئے اور اُس نے ©” منو بھائی “ کے قلمی نام سے اُن کی نظم شائع کردی۔ اسی نام سے کالم اور ڈراما نگاری کی۔آہستہ آہستہ منو بھائی اور احمد ندیم قاسمی کے درمیان رابطے تیز ہوتے گئے بالاخر قاسمی صاحب انہیں روزنامہ تعمیر سے امروز میں لے آئے اور ” گریبان “ کے عنوان سے کالم نگاری شروع کردی۔

منو بھائی نے صحافت پر آنے والے اچھے برے وقت دیکھے جب ان سے پوچھا گیا کہ صحافت کرنے والوں کے لئے کس حکمران کا دور بہت سخت رہا تو انہوں نے ایک دم سے ضیا الحق کا نام لیا اور کہنے لگے اس انسان نے جس قدر پاکستان کو نقصان پہنچایا شاید ہی کسی دوسرے حکمران نے پہنچایا ہو اور اس شخص کے دور میں صحافت کرنے والوں /لکھنے والوں پر پابندیاں لگائی گئیں ان پر تشدد کئے گئے ۔

ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں کہا جاتا ہے وہ بھی منو بھائی کی تحریروں کو بڑے غور سے پڑھا کرتے تھے ، یہی وجہ ہے کہ ان کی درخواست پر منو بھائی روزنامہ مساوات میں آئے جہاں 7 جولائی 1970ءکو ان کا پہلا کالج شائع ہوا، مساوات سے منو بھائی روزنامہ جنگ لاہور میں آگئے اور کافی عرصہ اسی جگہ صحافتی فرائض سرانجام دیتے رہے۔

ڈراما نگاری
ڈراما نگاری بھی منو بھائی کی شخصیت کا ایک معتبر حوالہ ہے۔ انہوں نے پی ٹی وی کے لیے سونا چاندی، جھوک سیال، دشت اور عجائب گھر جیسے ڈرامے تحریر کیے۔ کالم نویسی کی طرح اپنے ڈراموں میں بھی انہوں نے ورکنگ کلاس کے لوگوں کی زندگی اور مسائل پیش کیے۔ ٹی وی کے لیے ڈراما نویسی کی طرف انہیں اسلم اظہر لائے، جن کے کہنے پر انہوں نے 65 کی جنگ کے موضوع پر پل شیر خان ڈراما لکھا۔

کتابیں
منوبھائی کی تحریر کردہ مشہور کتابوں میں
1۔ اجے قیامت نئیں آئی
2۔ جنگل اداس ہے
3۔ فلسطین فلسطین
4 ۔ محبت کی ایک سو ایک نظمیں
5۔ انسانی منظر نامہ
6۔ شاعری ترمیم

منو بھائی نے پنجابی میں شاعری کی، ان کی پنجابی زبان میں کئی نظموں کو شہرت و مقبولیت ملی۔ان کا نمونہ کلام پیش خدمت ہے۔
او وی خوب دیہاڑے سن
بھک لگدی سی منگ لیندے ساں
مل جاندا سی کھا لیندے ساں
نہیں سی ملدا تے رو پیندے ساں
روندے روندے سوں رہندے ساں
ایہہ وی خوب دیہاڑے نیں
بھک لگدی اے منگ نیں سکدے
ملدا اے تے کھا نیں سکدے
نیں ملدا تے رو نیں سکد
نہ رویے تے سوں نہیں سکدے

منیر احمد قریشی المعروف منو بھائی کی خدمات کا احاطہ کرنا بہت مشکل ہے پھر بھی اس کا طائرانہ جائزہ لیا جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ منو بھائی نے اپنا ذاتی کتب خانہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کو عطیہ کردیا تھا، یہ کتب خانہ 1 لاکھ 45 ہزار 4 سو 64 کتب پر مشتمل تھا۔

متعدد اخبارات کے ساتھ منسلک رہے، خبر اور کالم میں قلم کی کاٹ سے معاشرے کی اچھایوں اور برایوں کو بے نقاب کیا۔ صحافت اور ادب میں خدمات پر سال 2007 میں تمغہ برائے حسن کارکردگی کے حق دار ٹھرے۔ پنجابی شاعری میں بھی اپنی سوچ اور انداز سے منفرد مقام پایا جبکہ تھیلیسمیا کے بچوں کے لئے اپنی این جی او کے پلیٹ فارم سے رفاہی کام بھی کیا۔ منو بھائی گزشتہ کچھ عرصہ سے دل اور پھپھڑوں کے عارضہ میں مبتلا تھے۔

موت سے کس کو رستگاری ہے انسان دنیا میں جیسے آتا ہے اسی طرح اپنے مقرر شدہ وقت پر واپس چلا جاتا ہے ،بعض لوگ اپنی شخصیت ،صلاحیت اور اچھے کاموں کے باعث ہمیشہ کے لئے امر ہوجاتے ہیں ۔منو بھائی کا شمار انہیں لوگوں میں ہوتا ہے جو اپنی ذات کی صفات کے باعث ہمیشہ زندہ رہیں گے ۔منیر احمد قریشی عرف منو بھائی( معروف دانشور اور صحافی،ادیب ،قلم کار ،ڈرامہ نگار)آج ہم میں نہیں رہے ان کی صحافت ،ڈرامہ نگاری اور شاعری کے لئے خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ، محنت کے بل پر اپنا نام بنانے والے منو بھائی کا کام آنے والوں کے لئے یقینا مشعل راہ ہو گا ۔ان سے ہماری آخر ملاقات بیماری کے دِنوں میں ان کے گھر پر ہوئی اس وقت ہم نے ان سے چند ایک سوالات کئے جس کے انہوں نے ٹھہر ٹھہر کر کچھ یوں جوابات دئیے ۔منو بھائی نہایت ہی زندہ دل انسان تھے وہ ماضی کی باتوں کو ایسے یاد کرکے سناتے کہ سننے والا گزرے ہوئے دور میں پہنچ جاتا ۔

منو بھائی طویل علالت کے بعد 19 جنوری 2018 کو 84 سال کی عمر میں لاہور میں انتقال کرگئے۔ نماز جنازہ اِسی روز ریواز گارڈن میں بوقت عصر ادا کی گئی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: واجد نواز ڈھول

Read More Articles by واجد نواز ڈھول : 57 Articles with 43315 views »
i like those who love humanity.. View More
24 Jan, 2018 Views: 403

Comments

آپ کی رائے