قاضی عبدالودود ایک ہمہ جہت شخصیت

(صابر عدنانی, Karachi)
جہاں قاضی عبدالودودصاحب کو عظیم محقق، تحقیق کا معلم ثانی (معلم اول حافظ محمودشیرانی کو کہا جاتا ہے) اور بت شکن جیسے القاب سے نوازا جاتا ہے وہیں ان کے کچھ ناقدین ان کے تحقیقی کارناموں کو منفی تحقیق، نکتہ چینی اور عیب جوئی پر محمول کرتے ہیں، اور اُن کے خیال میں قاضی صاحب تحقیق سے کم اور دوسروں کی غلطیاں پکڑنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔اسی لیے کہا جاتاہے کہ اُن کی کوئی تصنیف یادگار نہیں ہے، کیوں کہ انھیں دوسروں پر تنقید کرنے سے فرصت ملتی تو کوئی تعمیری کام کرتے۔

تحقیق وتنقید میں قاضی عبدالودود کے نمایاں کاموں میں جہانِ غالب، اشتروزسوزن، عیارستان، اردو شعروادب: چند مطالعے، زبان شناسی، تحقیقاتِ ودود، آوارہ گرد اشعار، اردو میں ادبی تحقیق کے بارے میں، تذکرہ شعرا، قاطعِ برہان، تذکرہ مسرت افزا، دیوانِ جوشش، قطعاتِ دلبر، ارمغان بہار، فرہنگ آصفیہ پر تبصرہ، چند اہم اخبارات و رسائل، دیوان رضا عظیم آبادی، کچھ ابوالکلام آزاد کے بارے میں،کچھ غالب کے بارے میں،میر،محمد حسین آزاد بحےثیت محقق،تعینِ زمانہ، فارسی شعروادب: چند مطالعے، معاصرِ غالب اور بے شمار مضامین مختلف رسائل و اخبارات میں شائع ہوئے۔

قاضی عبدالودو پر لکھی جانے والی کتب ڈاکٹر وہاب اشرفی ”قاضی عبدالودود“، محسن رضا رضوی ”قاضی عبدالودود: ایک مختصر خاکہ“، ڈاکٹرتحریر انجم ”قاضی عبدالودود شخصیت وخدمات“، ڈاکٹر نورالسلام (علیگ) ”قاضی عبدالودود کی علمی اور ادبی خدمات“، ڈاکٹرعطاخورشید نے قاضی عبدالودودپرایک کتابیات مرتب کرکے غالب انسٹی ٹیوٹ دہلی سے شائع کی۔ اس سے پہلے بھی غالب انسٹی ٹیوٹ دہلی نے ”قاضی عبدالودود: تحقیقی وتنقیدی جائزے“ کے نام سے ایک کتاب شائع کی، جسے پروفیسر نذیر احمد نے مرتب کیا۔یہ مضامین جنوری 1987ءمیں غالب انسٹی ٹیوٹ کے میگزین ”غالب نامہ“ میں بھی شائع ہوچکے تھے۔
قاضی صاحب نے ادبی وتحقیقی زندگی میں 13-1912ءمیں قدم رکھا، آپ کا سب سے پہلا مضمون اردو شعرا سے متعلق تھا، یہ مضموں ”گلزار ابراہیم“ مولفہ ابراہیم خاں خلیل کے حوالے سے اس مضمون میں چند تحقیقی امور واضح کیے گئے تھے۔ 1918ءمیں انجمن ترقی اردو کی شاخ پٹنہ میں قائم کی۔1936ءمیں صوبے کی انجمن ترقی اردو کے پلیٹ فارم سے ایک رسالہ ”معیار“ جاری کیا جو آپ کی ناسازی طبع کی وجہ سے پانچ سات شماروں کی اشاعت کے بعد بند ہوگیا۔

قاضی عبدالودود کے یہاں تحقیق کے کچھ اصول ہیں وہ پہلا اصول بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ محقق کو موضوع منتخب کرنے سے قبل اس بات کا تیقن کرلینا چاہیے کہ وہ موضوع کے ساتھ انصاف کرسکے گا یا اس موضوع پر کام کرنے کی اس میں صلاحیت بھی ہے اور اسے اس سے متعلق ضروری وسائل حاصل ہوسکیں گے۔وہ مبالغہ آرائی کو ناپسند کرتے ہیں ، اور راست گفتاری کو بڑی اہمیت دیتے ہیں۔دوسرے اصول میں وہ کہتے ہیں کبھی کبھی ایسے موضوعات بھی آجاتے ہیں جن پر محقق کے لیے غیرجانبداری سے لکھنا بہت مشکل ہوجاتا ہے،ایسی صورت میں اس کے پاس صرف دو ہی راستے رہ جاتے ہیں ایک یہ کہ حق اور سچ کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دے اور غلط بیانی سے کام لے۔دوسرایہ کہ اس موضوع پر کام کرنا چھوڑ دے ۔قاضی صاحب ایسی حالت میں محقق کو دوسری راہ اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ تیسرے اصول کے مطابق محقق موضوع کے ساتھ انصاف کرے۔قاضی صاحب سمجھتے ہیں کہ ایک محقق کو کسی بھی موضوع کو یکساں اہمیت دینی چاہیے۔ کسی بھی تحقیق میں کچھ اہم اجزا ہوتے ہیں اور کچھ کم اہم ، قاضی صاحب کہتے ہیں کہ کبھی کبھی غیر اہم بات بھی اپنے سیاق و سباق کے لحاظ سے اہم ہوجاتی ہے۔ چوتھے اصول میں قاضی صاحب کہتے ہیں کہ تحقیقی عبارت لکھتے وقت سیدھی اور رواں زبان استعمال کرنا چاہیے اور خطابیہ انداز بالکل نہیں استعمال کرنا چاہیے۔ تشبیہات واستعارات کا استعمال اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کے لیے کرنا چاہیے ناکہ عبارت کی آرائش کے لیے۔بات کو واضح اور غیر مبہم ہونا چاہیے۔پانچویں اصول کے بارے میں کہتے ہیں کہ اگر کسی مصنف کی کتاب اس کی زندگی میں متعدد بار شائع ہوئی ہے اور ان اشاعتوں کی عبارت میں اختلاف پایا جاتا ہے تو سب سے زیادہ مستند ایڈیشن وہ ہوگا جو سب سے آخر میں طبع ہوا،بشرطے کہ خود مصنف نے اس میں حک واصلاح اور تغیر وتبدل نہ کیا ہو۔ چھٹا اصول قلمی نسخوں سے متعلق ہے۔ایک ہی تصنیف کے مختلف مخطوطات میں اختلافِ قرات بہت پایا جاتا ہے۔ کبھی تو مصنف خود اس میں وقتاً فوقتاً تبدیلیاں کرتا رہتا ہے اور کبھی کتابت کی غلطیاں درآتی ہیں۔ایسی صورت میں قلمی نسخہ اسے قرار دیا جائے گا جس میں مصنف نے آخری بار اصلاح کی ہو، یا اگر ایسا نہیں ہے تو اس قلمی نسخے کو بنیاد بنانا چاہیے جس میں الحاقی کلام کی گنجائش بہت ہی کم ہو۔قاضی صاحب کے اصول تحقیق کے اور بھی سخت معیارات موجود ہیں۔

جہاں قاضی عبدالودودصاحب کو عظیم محقق، تحقیق کا معلم ثانی (معلم اول حافظ محمودشیرانی کو کہا جاتا ہے) اور بت شکن جیسے القاب سے نوازا جاتا ہے وہیں ان کے کچھ ناقدین ان کے تحقیقی کارناموں کو منفی تحقیق، نکتہ چینی اور عیب جوئی پر محمول کرتے ہیں، اور اُن کے خیال میں قاضی صاحب تحقیق سے کم اور دوسروں کی غلطیاں پکڑنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔اسی لیے کہا جاتاہے کہ اُن کی کوئی تصنیف یادگار نہیں ہے، کیوں کہ انھیں دوسروں پر تنقید کرنے سے فرصت ملتی تو کوئی تعمیری کام کرتے۔

اگردیکھا جائے تو معترضین کی بہت سی باتیں غلط ہوجائیں گی۔ دراصل معترضین کی ناراضی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ قاضی صاحب نے اپنے معاصرین پر بھی کھل کر تنقید کی ہے، اور ان کے تحقیقی کاموں کو ناقص قرار دیا ہے۔ مگراس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ وہ جو گرفت کرتے ہیں تو مضبوط ، مدلل اور مستحکم ہوتی ہے۔ جس کی تردید کرنا کبھی کبھی بہت مشکل بلکہ ناممکن ہوجاتی ہے۔اُن کے یہاںرعایت، درگزر یا معافی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔وہ معمولی سے معمولی غلطی کو بہت بڑی بناکر پیش کرتے ہیں، اسی لیے ان کے ناقدین نے انھیں عیب بیں اور رائی کا پہاڑ بناکر پیش کرنے والا محقق بنادیااور ان کی تحقیق کو منفی اور تخریبی کارروائی قراردے کر ان کی اہمیت کو کم کیا۔لیکن یہ حقیقت ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ اُن کی اہمیت وتوقیر میں اضافہ ہو ا، جہاں اُن کے معترض تھے وہیں ان کے معتقدین کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔
رشیدحسن خان نے قاضی عبدالودود سے متعلق کیا خوب کہا ہے: ”قاضی عبدالودود صاحب کو اردو میں تحقیق کا معلم ثانی کہنا چاہیے۔ میراخیال ہے کہ نئی نسل تحقیق کے آداب اور انداز سے قاضی صاحب کے توسط سے آشنا ہوئی ہے، پچھلے پچیس تیس برسوں میں احتیاط پسندی کا جو رجحان بڑھا ہے، شک کرنے، یا یوں کہیے کہ مضبوط دلیلوں کے بغیر دعووں کو قبول نہ کرنے کا انداز جس طرح فروغ پذیر ہوا ہے اور منطقی استدلال نے جس طرح اہمیت حاصل کی ہے، یا دوسرے لفظوں میں زود یقینی اور خوش اعتقادی نے جس طرح کم اعتباری کی سند پائی ہے، اُس میں قاضی صاحب کی تحریروں کا بہت بڑا حصہ ہے۔ ان کی بے لچک شخصیت، ان کے بے جھجک اندازِ گفتگو اور ان کے سخت گیر احتساب نے، اس زمانے میں، تحقیق کے طالب علموں کی ذہنی تربیت کی ہے اور ان کی تحریروں نے یہ بتایا ہے کہ تحقیق کی زبان اور پیرائے اظہار میں انشاءپردازی، مرصع کاری اور الفاظ کے بے محابا استعمال کی مطلق گنجائش نہیں“۔
قاضی عبدالودود محقق ہی نہیں، بلکہ ادب کے ناقد اور مورخ بھی ہیں۔ انھیں ادب کے ساتھ تاریخ سے بھی دلچسپی تھی، اسی لیے شعرا کے تذکرے بھی ان کے مطالعے کا موضوع رہے۔ان کاسب سے اہم کام ابن امین اللہ طوفان کے تذکرہ شعرا کی تدوین ہے۔ صحیح قرات اور متن کی تفہیم میں آپ نے بڑی دقت نظراورباریک بینی سے کام لیا ۔صحتِ متن ،تعلیقات اور حواشی کا بھی خاص اہتمام کیا۔قاضی صاحب نے دوسرے اہم تذکروں کو بھی اپنا موضوع بنایا ہے جن میں کچھ پر تعارفی مضامین اور کچھ کے محض اقتباسات نقل کرکے رسائل میں شائع کرواے۔یہ اقتباسات حوالے اور مفید معلومات فراہم کرتے ہیں۔جن تذکروں پر جزوی یا کلی کام کیا ان کی فہرست ملاحظہ ہو:(1) آب حیات اور طبقات الشعر ا (2)آب حیات کے دو مآخذ (3) اقتباس سفینہ خوش گو (4)بیدل اور تذکرہ خوشگو (5) تاریخ ادبیات اردو مصنفہ محمد صادق (6)تاریخ ادبیات ہندوی و ہندستانی (7) تذکرہ لابرار(خلاصہ) (8)تذکرہ روزِ روشن (9)تذکرہ شورش (10) تذکرہ مسرت افزا (11) تذکرہ یوسف علی خاں (12) سفینہ ہندی (13)طبقات الشعرائے ہند (14)عمدہ منتخبہ (15)فارسی تذکرے اور ریختہ گو شعرا (16)گلستان سخن(17)گلشن بے خار (18) کریم الدین اور گارساں دتاسی (19) لکھنو کا دبستان شاعری۔

غالب، قاضی صاحب کی محبوب اور عزیز ترین شخصیت ہیں، ان کے ہر پہلو پر انھوں نے نظر ڈالی اور ہر زاویے سے انھیں برتا ہے، ان کے فکروفن کا عمیق مطالعہ کیا ہے، اور غالب کے ہر ہر لفظ کو پڑھا ہے،ایک بار نہیں بلکہ کئی کئی بار ،قاضی صاحب کو دیوان غالب تقریباً پورا ہی ازبر تھا، اور ان کے فارسی کلام پربھی کلی طور پردسترس رکھتے تھے۔جہان غالب ، غالب پر ایک ایسی مستند حوالے کی کتاب ہے جس میں قاضی صاحب نے تحقیق کے ہر ہر پہلو کو پیش نظر رکھا ہے۔ملاحظہ ہو جہانِ غالب سے ایک اقتباس:
”یادگارِ غالب میں کئی حکایتیں ہیں جن سے غالب و آزردہ کے تعلقات پر روشنی پڑتی ہے۔ حالی یہ لکھ کر کہ ”مولانا آزاردہ ، مرزا کی طرز خاص کو جو انھوں نے ابتدا میں اختیار کی تھی، ناپسند کرتے تھے اور جو خیال ابتدا میں خاطر نشین ہوگیا تھا۔ وہ اخیر تک ان کے دل میں کسی نہ کسی قدر باقی رہا۔ چنانچہ مرزا نے ایک فارسی قصیدے میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے کہ مولانا ان کی شاعری کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ غالب کی وفات سے چھ سات برس قبل ایک دن شیفتہ کے یہاں غالب کو اپنے دیوان فارسی کے کچھ اوراق پڑے ہوئے مل گئے اور غالب نے اس تمہید کے ساتھ کہ دیکھیے کسی ایرانی شاعر نے کیا زبردست غزل کہی ہے۔ اپنی ایک غزل پڑھنی شروع کی۔ آزاردہ نے جو مخاطب خاص تھے دو تین شعر تک تو داد دی لیکن قرائن سے یہ سمجھ کر کہ یہ خود غالب کا کلام ہے حسب عادت متبسم ہوکر بولے ”کلام مربوط ہے مگر نوآموز کا معلوم ہوتا ہے“ مقطع کی نوبت آئی تو غالب نے درد ناک آواز میں آزردہ کی طرف خطاب کرکے پڑھا:
تو اے کہ محو سخن گستران پیشینی
مباش منکر غالب کہ در زمانہ تست

آزاردہ، غالب کی طرز کو نام رکھتے تھے، مگر انھوں نے یہ شعر کسی سے سُنا تو ”وجد کرنے لگے“ پوچھ کس کا ہے، اور جب یہ معلوم ہوا کہ غالب کا ہے تو اس بنا پر کہ وہ کبھی غالب کے شعر کی تعرےف نہ کرتے تھے، ''بہ طور مزاح“ کہا اس میں مرزا کی کیا تعریف ہے، یہ تو خاص ہماری طرز کا شعر ہے''۔

مفتی صدرالدین آزاردہ مفتی اعظم ہند تھے، دہلی میں شرےعت کے معاملات میں ان کا فتویٰ حتمی حیثیت کا سمجھا جاتا۔ وہ جنگ آزادی 1857ءمیں ان علماءمیں سے تھے جنھوں نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا تھا۔آپ اردو، فارسی اور عربی تینوں زبانوں میں شعر کہتے تھے۔ اردوشاعری میں اصلاح شاہ نصیر سے لیتے تھے، پھر میرنظام الدین ممنون سے بھی اصلاح لی۔

’ یادگارِ غالب‘ اور’آب حیات‘ دونوں کتابوں میںغالب کے دہلی کالج میں تقرر کی تجویز کے متعلق تو ہے مگر حالی اور آزاد نے کہیں یہ نہیں لکھا کہ غالب ومومن اور صہبائی کا نام کس نے پیش کیا۔کریم الدین کے تذکرے میں ہے کہ یہ مفتی صدر الدین آزاردہ ہی تھے جنھوںنے ان تینوں کے نام پیش کیے۔

قاضی عبدالودود لکھتے ہیں کہ ”آب حیات میں ہے کہ ”ساطع برہان“ کے اخیر میں چند ورق سیدعبداللہ کے نام سے ہیں، وہ بھی مرزا صاحب کے ہیں۔“ ساطع برہان میں سیدعبداللہ کا نام بھی کہیں موجود نہیں۔ یہ کتاب قاطع برہان کے رد میں لکھی گئی تھی، اس کے آخر میں غالب کی کوئی تحریر ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ مےرے علم میں اس نام کا کوئی شخص نہیں جس کے غالب سے تعلقات ہوں“۔ یعنی قاضی صاحب نے محمدحسین آزاد کی اپنے اس دعوے سے نفی کردی۔

تعیّن زمانہ 1995ءمیں خدا بخش اورینٹل لائبریری پٹنہ نے شائع کی تھی۔ تعیّن زمانہ کی یہ سات اقساط” معاصر“ اور” تحقیق“ میں 1951 سے 1963ءکے دوران شائع ہوئیں۔ تقریبًا دوسو شخصیات پر تذکرے موجود ہیں۔

آوارد گرد اشعاریہ کتاب بھی 1995ءمیں خدابخش اورینٹل لائبریری پٹنہ سے شائع ہوئی۔اردو اور فارسی میں کئی کئی طویل، نظمیں ، اشعار ، رباعیات اور قطعات اصل شاعر تو کہیں گم ہوجاتا ہے اور دوسرے شعرا سے منسوب ہوجاتے ہیں۔ اشعار اور شعرا سے متعلق دو مثالیں ملاحظہ ہوں:
اک ٹیس جگر میں اُٹھتی ہے اک درد سا دل میں ہوتا ہے
ہم راتوں کو رویا کرتے ہیں جب سارا عالم سوتا ہے

قاضی صاحب نے اپنی تحقیق سے بتایا ہے کہ یہ شعر ضیا عظیم آبادی ، شاگرد شوق نیموی کا ہے اور ضیا کے دیوان مطبوعہ ”ریاض شاداب“ میں ہے لیکن انتخاب میر شائع کردہ جامعہ ملیہ میں بھی اور عشرت لکھنوی مرحوم نے اپنے ایک مقالے میں جو نیرنگِ خیال لاہور میں چھپا تھا، میر کی طرف منسوب کیا ہے، اس کی کوئی قدیم سند نہیں کہ میرکا ہے اس کا مصنف بے شبہ ضیا ہے۔
چمن میں جام ہے مینا ہے مے ہے
پر اک تو ہی نہیں افسوس ہے ہے

1857ءکی شورش سے کچھ ہی قبل قادر بخش صابر تلمیذ صہبائی کے نام سے شائع ہوا تھا، مگر یہ تیقین ہے کہ ان کے استاد بھی اس کی تصنیف میں شریک ہیں، اس تذکرے میں یہ شعر میر انیس کے نام ہے اور نسّاخ نے سخن شعرا میں ظاہراً اسی کی تقلید کی ہے، مگر یہ شعر ہرگز میرانیس کا نہیں، تذکرہ شوق میں جو میرانیس کی پیدائش سے پہلے لکھا گیا ہے، ایک غیر معروف شاعر مرزا پھلن (یا پھولن) بیگ ملازم آصف الدولہ اس کا مصنف بتایا گیا ہے۔

قاضی عبدالودود بلاشبہ ایک مستند محقق جنھوں نے اردو اور فارسی کے بعض گم شدہ خزانے تلاش کیے اور اِن نکات پر بحث کر کے تحقیق کا حق ادا کردیا۔ان کے خیال میں لفاظی اور انشاپرادزی تحقیق و تنقید کے لیے عیب ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: صابر عدنانی

Read More Articles by صابر عدنانی: 34 Articles with 38821 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Jan, 2018 Views: 1697

Comments

آپ کی رائے