پارلیمانی وفد کا دورہ ترکی …… محبتوں کا سفر

(Abdul Rasheed Turabi, )

اہل کشمیر کے ساتھ ترکی بالخصوص طیب رجب اردگان کی حکومت کی لازوال وابستگی کے پس منظر میں فوجی بغاوت کی ناکامی کے بعد ترک پارلیمان اور حکومت سے اظہار یکجہتی کے لیے سپیکر قانون ساز اسمبلی آزاد جموں وکشمیر شاہ غلام قادر کی قیادت میں ایک وفد کے دورے کا پروگرام گذشتہ برس طے پایا جو سپیکر ترک پارلیمنٹ کی مصروفیات وہاں کے دیگر معاملات کی وجہ سے موخر ہوتا رہا گذشتہ اکتوبر میں ترکی میں منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے بعد سپیکر اسمبلی سمیت حکمران جماعت کے اہم عمائدین سے ملاقاتوں کا موقع ملا(جس کی الگ سے ایک تفصیلی رپورٹ موجود ہے) بہرحال اس موقع پر اسپیکر گرینڈ نیشنل اسمبلی اسماعیل کہرمان سے بھی تفصیلی ملاقات میں اہل کشمیر اور بالخصوص اپنی پارلیمان کی طرف سے ان تک یکجہتی کا پیغام پہنچاتے ہوئے انہیں یاد دلایا کہ ہمارے سپیکر قانون ساز اسمبلی کی قیادت میں ایک وفد کے خیر سگالی دورے کا پروگرام بنایا گیا تھا جس کے حوالے سے انہوں نے اپنے سٹاف سے استفسارکرتے ہوئے فی الفور احکامات صادر کیے کہ وفد کو اولین فرصت میں مدعو کیا جائے چنانچہ دو تین روز بعد میرے ترکی قیام کے دوران میں ہی اسمبلی سیکرٹریٹ نے اطلاع دی کہ دعوت نامہ پہنچ چکا ہے اور وفد میں جانے کے لیے آپ بھی تیار رہیں یوں سپیکر گریند نیشنل اسمبلی ترکی اسماعیل کہرمان کی دعوت پر سپیکر آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی شاہ غلام قادرکی قیادت میں ہمارے پارلیمانی وفد نے ایک ہفتہ کا ترکی کا دورہ کیا ۔

وفد کے دیگر ارکان میں ممبر اسمبلی ملک محمد نواز ، چوہدری مسعود خالد ، کرنل ریٹائرڈ وقار نور اور ڈاکٹر مصطفی بشیر شامل تھے جبکہ ایڈیشنل سیکرٹری اسمبلی امجدعباسی بطور سیکرٹری وفد ہمراہ تھے وفد دس دسمبر ٹرکش ایئر ویز کی فلائٹ سے اسلام آباد سے روانہ ہوا تقریباً ساڑھے پانچ گھنٹے کے فضائی سفر کے بعد استنبول کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترا جلد ہی انقرہ کے لیے Conectingفلائٹ لیتے ہوئے شام مغرب کے قریب انقرہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترے جہاں وی آئی پی لاؤنج میں انقرہ کے ڈپٹی گورنر ، سفیر پاکستان سجاد قاضی ان کے سفارتی عملہ اور پروٹوکول آفیسرز نے استقبال کیا ۔پارلیمنٹ کی طرف سے مسز الیف رابطہ افسر کے طور پر اپنے عملہ کے ساتھ موجود تھیں ۔ لاؤنج ہی میں دورے کے بارے میں تفصیلات پر مشاورت کے بعد پروٹوکول کارروان کے ساتھ ہوٹل روانہ ہوئے جہاں ہماری رہائش کا انتظام کیاگیا تھا ۔ ہلٹن ہوٹل چنکیائی سکوائر میں واقع ہے جو شہر کے بالکل وسط میں ہے ۔ کپڑے تبدیل کیے نہا دوھو کر پاکستانی سفارت خانے کا رخ کیا جہاں سفیر پاکستان کی طرف سے اپنی رہائش گاہ پر وفد کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام کیاگیا تھا، سفارت خانہ اور سفیر کی رہائش گاہ بالکل متصل ہی ہیں ۔ پہلے سفارت خانے میں سفیر پاکستان اور ڈپٹی سفیر نے پاک ترک تعلقات کی مختلف جہتوں اور مسئلہ کشمیر پر ترک حکومت اور حکمران پارٹی کا موقف ، ترکی اور بھارت کے باہمی تجارتی تعلقات کی نوعیت پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے بتایاکہ یوں تو ہر ترکی پاکستانی سے بے پناہ محبت کرتا ہے لیکن طیب اردگان کی سربراہی میں AKپارٹی کی حکومت پاکستان کو دوست سے زیادہ برادر ملک قرار دیتی ہے ۔ کئی سطح پر دو طرفہ تعلقات کے دائرے قائم ہیں جس کے نتیجے میں وقتاً فوقتاً سربراہان کی باہم ملاقاتوں کے علاوہ دفاعی ، صنعتی ، تجارتی ، ثقافتی سطح پر مشترکہ کمشنز کے بھی اجلاس ہوتے رہتے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ ترک دنیا میں پاکستان سے سب سے زیادہ محبت کرنے والی قوم ہونے کی حیثیت سے پاکستان کی ہر خوشی کو اپنی خوشی اور ہر پریشانی یا مصیبت کو اپنی پریشانی سمجھتی ہے ۔محبت کے ان جذبات کے پس منظر کے حوالے سے سفیر نے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ جب برطانیہ کی قیادت میں اتحادی طاقتوں نے ترکی پر حملہ کر دیا اور خلافت عثمانیہ کو تاراج کرنے کی کوشش کی گئی تھی اس موقع پر علی برادران کی قیادت میں جو خلافت تحریک بر صغیر کے مسلمانوں نے برپا کی جس کی حمایت پر گاندھی جیسے متعصب ہندو لیڈر بھی مجبور ہو گئے اور جس طرح علامہ اقبال کی تحریک پر ترکوں کے لیے زیوارات تک بیچ کر چندہ ارسال کیاگیا بر صغیر کے مسلمانوں کا اس کردار کی ( جس کی آج پاکستان نمائندگی کرتا ہے ) ترکی کا بچہ بچہ معترف ہے اور ترک قوم کا یہ کمال ہے کہ انہوں نے اس تاریخی رشتہ کو نسل در نسل منتقل کیا ہے۔انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ارسال کیے گئے اس چندہ کی رقم سے اش ISHبنک کے نام سے ایک بنک قائم کیاگیا تھا جو آج ترکی کے بڑے بنکوں میں شمار ہوتا ہے ۔ یہ امر خوش کن ہے کہ دفاع کے میدان میں پاکستان اور ترکی کئی مشترکہ منصوبہ جات پر کام کر رہے ہیں ۔ ہیلی کاپٹر اور ٹینک ترکی ڈیفنس پراڈکشن میں خاص اہمیت کے حامل ہیں جبکہ پاکستان کے مشاق طیاروں کا بھی ترکی خریدار ہے ترکی اپنا فائر جہاز بنانے کی کوشش کر رہا ہے جو F-17سے بھی برتر ٹیکنالوجی کے حامل ہوں گے۔ ان سارے باہم برادرانہ اور دوستانہ روابط کے باوجود ونوں ملکوں کی باہم تجارت کا حجم محض ساڑھے تین سو ملین تک ہے۔ جبکہ بھارت اور ترکی کی بہم تجارت پانچ ارب ڈالرز سے متجاوز ہو چکی ہے جس میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے ۔ ترک تعمیراتی کمپنیوں کو بھارت میں بڑی ترغیبات دی جا رہی ہیں ۔ بہر حال یہ ایسا پہلو ہے جس پر حکومت پاکستان کو فوری نوٹس لیتے ہوئے جامع حکمت عملی ترتیب دینا چاہیے ۔ خدا نخواستہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا حجم نہ بڑھ پایا اور بھارت اس میدان میں سبقت برقررا رکھنے میں کامیاب ہوا تو یقیناً پاکستان کے حوالے سے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں ۔ وفد کے اراکین کی طرف سے دو طرفہ تجارت بڑھانے ترک تعلیمی اداروں میں کشمیری طلبہ کے لیے زیادہ سے زیادہ وظائف کے حصول کے علاوہ دو طرفہ اوربین الاقوامی فورمز پر مسئلہ کشمیر کی مزید موثر حمایت کا اہتمام کرنے کے بارے میں تجاویز دی گئیں ۔ اس موقع پر اناطولیہ نیوز ایجنسی جو ترکی کی قومی نیوز ایجنسی ہے کے بین الاقوامی امور کے ڈائریکٹر محمود اوغلو نے سپیکر سے تفصیلی انٹرویو کیا ۔ محمود اوغلو اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ ہیں ۔ پاکستان کے حالات سے بھرپور آگاہی رکھنے کے علاوہ تحریک آزادی کشمیر کی پیش رفت سے آگاہ ہیں ۔ زمانہ طالب علمی میں ہماری دعوت پر وہ کئی بار آزادکشمیر کا دورہ بھی کر چکے ہیں اور سیز فائر لائن پر بھارتی شیلنگ سے متاثرین کی حالات زار کا بھی مشاہدہ کر چکے ہیں ۔ اس پس منظر کے ساتھ انہوں نے سپیکر شاہ غلام قادر سے مسئلہ کشمیر کے جملہ پہلوؤں کے حوالے سے تمام اہم سوالات کیے جس کے سپیکر نے تفصیلی جوابات دیتے ہوئے مسئلہ کشمیر کا پس منظر ، کشمیریوں کی جدوجہد و استقامت ، بھارتی ریاستی دہشت گردی ، کالے قوانین ، سیز فائر لائن پر اشتعال انگیز فائرنگ ، بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے اسباب ، ترکی کی او آئی سی میں اہمیت اور اس سے توقعات کے حوالے سے تفصیلی جوابات دیئے۔ یہ انٹرویو تمام الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا میں بہت ہائی لائٹ ہوا جس کے نتیجے میں اگلی ملاقاتوں میں وفد کو مزید پذیرائی ملی ۔ ترکی میں پاکستانی سفیر سائرس سجاد قاضی ایک کہنہ مشق سفارت کار ہیں ۔ انہوں نے تعارف میں بتایا کہ خوش قسمتی سے ماں کی نسبت سے وہ بھی کشمیری ہیں کیونکہ ان کا ننہال بھمبر شہر میں ہے یوں منصبی وا بستگی کے علاوہ کشمیر کاز سے ان کی ذاتی وابستگی کا بھی سفارت خانے کی پوری ٹیم پر ایک واضح نقش موجود تھا ۔ پر تکلف عشائیہ میں سفارتی عملہ کے علاوہ مقامی صحافی اور معززین بھی بڑی تعداد میں شریک ہوئے جن کے ساتھ وفد کے ارکان نے تفصیلی ملاقاتیں کیں ۔

اگلے روز 11دسمبر کو صبح دس بجے سرکاری پروٹوکول کے مطابق مصطفی کمال اتاترک جمہوریہ ترکی کے بانی کے مزار اور شہداء آزادی کی یادگار پر گلدسہ پیش کیاگیا ۔ اس موقع پر میوزم میں اتحادیوں کے قبضے کے خلاف ترکوں کی جنگ آزادی کے مختلف مراحل و مناظر کا مشاہدہ کیاگیا ۔ سپیکر نے مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات ثبت کرتے ہوئے مجاہدین آزادی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے وفد اوراہل کشمیر کے احساسات اور جذبات پہنچائے ۔ اس کے بعد پارلیمنٹ سیکرٹریٹ پہنچے جہاں ڈپٹی سپیکر احمد ایادین اور ان کے رفقاء سے تفصیلی ملاقات ہوئی ۔ انہوں نے وفد کا شاندار الفاظ میں خیر مقدم کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ترک قوم کی تاریخی وابستگی کی تفصیلات رکھیں اور ہر سطح پر بھرپور تعاون کا یقین دلایا ۔ ہمارے وفد کے سربراہ جناب شاہ غلام قادر نے ترک پارلیمنٹ اور حکومت کا شاندار میزبانی پر شکریہ ادا کیا ۔ ترک جمہوریت کے خلاف ہونے والی سازش کی ناکامی اور جمہوریت کے استحکام پر مبارک باد پیش کی ۔ ترکی کی طرف سے مسئلہ کشمیر پر مسلسل حمایت متاثرین زلزلہ کی تاریخی امداد جیسے یقینی بنانے کے لیے جناب طیب اردگان نے دو مرتبہ آزادکشمیر کا دورہ کیا ۔ او آئی سی رابطہ گروپ میں موثر کردار ادا کرنے اور دورہ بھارت کے دوران میں کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی تفصیلات رکھیں اور جنوبی ایشیا میں امن کو مسئلہ کشمیر کے حل سے مشروط قرار دیا ۔ راقم اوروفد کے دیگر ارکان بھی حسب موقع صورت حال کی وضاحت کی ۔ یوں بھائی چارے کی فضا میں ملاقات کا اختتام ہوا اس موقع پر سپیکر اسمبلی جناب اسماعیل کہرمان بھی تشریف لے آئے جو او آئی سی کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے استنبول کے لیے عازم سفر ہونے والے تھے ۔ انہوں نے بھی وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے ترکی کے قومی موقف کو دہرایا اور ہر سطح پر تعاون کا زبردست یقین دلایا اور چند روز میں دوسری ملاقات پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ آپ کا اپنا ملک ہے ہم سب آپ کے لیے دیدہ ودل فرش راہ کیے ہوئے ہیں۔سپیکر اسمبلی طیب اردگان کے قابل اعتماد ساتھیوں میں شمارہوتے ہیں ۔ انہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ گزشتہ جولائی میں حکومت کا تختہ الٹنے کی کاروائی کے موقع پر وہ فی الفور پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کر لیا جس میں فوجی بغاوت کو مسترد کر دیاگیا ۔ ان کی اس جسارت پر سزا دینے کے لیے پارلیمنٹ پر بم باری بھی کی گئی جس کے نتیجے میں درجنوں افراد شہید ہو گئے لیکن سپیکر کی قیات میں اراکین پارلیمنٹ نے تاریخی استقامت دکھاتے ہوئے بغاوت کے اختتام تک اجلاس مسلسل جاری رکھا ۔ اس بغاوت کے خلاف حزب اختلاف تمام جماعتوں نے بھی حکومت کا ساتھ دیا۔ سپیکر قبل ازیں ڈاکٹر نجم الدین اربکان جو سیاسی سفرمیں طیب اردگان کے استاد کی حیثیت رکھتے ہیں کی وزارت عظمی میں سیئر وزیر بھی رہ چکے ہیں ۔ وہ تاریخی طور پر پاکستان سے بڑی جذباتی وابستگی رکھتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ 1965ء کی پاکستان کے خلاف بھارتی جنگ کے موقع پر طالب لیڈر کی حیثیت سے استنبول میں پاکستان زندہ باد ریلی کا اہتمام کیا تھا جس میں ہزاروں طلبہ اور نوجوانوں نے شرکت کر کے پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا تھا۔ اس کے بعد انجینئر برہان کایا ترک چیئرمین ایشین پارلیمنٹری فورم کی طرف سے ظہرانہ دیاگیا ۔ انجینئر برہان انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور سے فارغ ہیں بعد میں ملازمت کے دوران بھی وہ لاہور میں مقیم رہے۔ یوں وہ ہر فورم پر پاکستان کے پشتی بان اور ترجمان سمجھتے جاتے ہیں ۔

گزشتہ پارلیمنٹ میں وہ پاک ترک فرینڈ شپ گروپ کے چیئرمین تھے۔میرے گذشتہ دوروں میں اہم حکومتی راہنماؤں سے ملاقاتوں کا اہتمام کرتے رہے ہیں اس حیثیت میں انہوں نے دو طرفہ تعلقات کے فروغ میں بڑا اہم کردار اد اکیا ۔ ظہرانے کی میزبانی کرتے ہوئے انہوں نے وفد کا خیر مقدم کیا ۔ترک اور پاکستان کی تاریخی دوستی اور بھائی چارے کی تفصیلات رکھیں اپنی طرف سے بھرپور تعاون کا یقین دلایا ۔ وفدکی نمائندگی کرتے ہوئے سپیکر صاحب نے میزبانی پر پارلیمنٹ اور حکومت کا شکریہ ادا کیا ۔ انجینئر برہان کی پاک ترک تعلقات کی پیش رفت اور مسئلہ کشمیر پر بھرپور حمایت پر شکریہ ادا کیا ۔ کشمیر کی تفصیلی صورت حال رکھی اور ترک حکومت ، پارلیمنٹ اور ایشین پارلیمنٹ فورم پر مسئلہ کشمیر زیر بحث لانے کا تقاضا کیا ۔ برہان کایا ترک نے آزا دجموں وکشمیر اسمبلی کو ایشین فورم میں عنصر میں مبصر کا درجہ دینے کی تجویز پر اتفاق کیا اور اس سلسلے میں بھرپور کردار ادا کرنے کا وعدہ کیا ۔ شام کو وزیر اعظم بنالی یلدرم سے ملاقات طے تھی لیکن اگلے روز منعقدہ او آئی سی کے سربراہی اجلاس میں ان کی مصروفیات کی وجہ سے ملتوی ہو گئی ، بہر حال ان کی نیک خواہشات اور حکومت کی طرف سے بھر پور حمایت کے جذبات وفد تک پہنچائے گئے ۔

12دسمبر پارلیمنٹ کے کمیٹی روم برائے امور خارجہ میں امور خارجہ کی پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین ایمبیسڈر وولکان بوزکیر Vokanbozkirاور کمیٹی کے دیگر اراکین جن میں اپوزیشن جماعتوں کے ممبران بھی شامل تھے تفصیلی میٹنگ ہوئی ۔ سپیکر صاحب اور وفد کے اراکین نے اظہار تشکر کے بعد کشمیر کی صورت حال پر تفصیلی بریفنگ دی ۔ ترکی کی حمایت پر شکریہ ادا کیا اور وزارت خارجہ اور بین الاقوامی سطح پر کشمیر پر جاری مظالم بے نقاب کرنے کے لیے مزید موثر کردار ادا کرنے کا تقاضا کیا ۔ بالخصوص او آئی سی اور جنرل اسمبلی میں از سر نو صورت حال کو اجاگر کرنے کے لیے ترکی کے قائدانہ کردار کا مطالبہ کیا ۔ چیئرمین بولکان جو ایک ریٹائرڈ ڈپلومیٹ ہیں اور بین الاقوامی حالات پر گہری نظر رکھتے ہیں راقم کی گذشتہ دوروں میں ان سے تفصیلی ملاقاتیں رہیں جس کا انہوں نے خوشگوار تذکرہ کرتے ہوئے پاکستان ترک تعلقات ، مسئلہ کشمیر پر ترکی کی پوزیشن کی تفصیلی وضاحت کی ۔

13دسمبر پارلیمنٹ ہاؤس میں پاکستان ترک فرینڈ شپ گروپ کے چیئرمین محمد بالٹا کی طرف سے وفد کے اعزاز میں استقبالیہ دیاگیا جس میں گروپ میں موجود دیگر سیاسی جماعتوں کے ممبران بھی شریک ہوئے ۔ پارلیمانی گروپس میں پاک ترک فرینڈ شپ گروپ سب سے بڑا گروپ ہے جس میں پونے دو سو ممبران پارلیمنٹ شامل ہیں ۔ یہ پاکستان کے ساتھ اہل ترک کی محبت کا اظہار ہے ۔ یہاں بھی محمد بالٹا نے بہت پرجوش اور ایمان افروز خطاب کرتے ہوئے کشمیر کو امت مسلمہ کے جسم کا حصہ قرار دیا ۔ ترکی کی طرف سے تاریخی کردار کی وضاحت کرتے ہوئے ہر سطح پر بھرپور تعاون کا یقین دلایا اور یہ اعلان کیا کہ میں محض ترک پارلیمنٹ میں پاکستان ہی نہیں کشمیر کا بھی ترجمان ہوں ۔ ہماری پالیسی یہی ہے کہ حکومت پاکستان ہمیں جو ذمہ داری سونپے گی ہم اسے نبھانے کے لیے تیار ہیں ہم جنوبی ایشیا اور عالمی امن کے استحکام کے لیے مسئلہ کشمیر کے حل کو شاہ کلید سمجھتے ہیں ۔اس موقع پر سپیکر صاحب نے وفد کی ترجمانی کرتے ہوئے بھارتی مظالم اور ریاستی دہشت گردی کو بے نقاب کیا ۔ لائن آف کنٹرول پر یکطرفہ کشیدگی ، نیز خطہ اور مسلم دنیا کے حوالے سے بھارتی عزائم بے نقاب کیے ۔ ترکی صدر کی طرف سے مسئلہ فلسطین پر او آئی سی سربراہی اجلاس کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے تقاضا کیا کہ مسئلہ کشمیر پر بھی اسی نوعیت کا سربراہی اجلاس منعقد ہو جائے ۔ جس کا اہتمام صدر طیب اردگان بطور چیئرمین او آئی سی کر سکتے ہیں ۔اس کے نتیجے میں بھارت پر سفارتی دباؤ بڑھے گا ۔ مقبوضہ کشمیر میں ہمارے مظلوم بھائیوں کے حوصلے بلند ہوں گے اور بھارت مظالم کم کرنے پر مجبور ہوگا ۔ اس موقع پر وفد کے اراکین نے دیگر اراکین پارلیمنٹ سے بھی ملاقاتیں کیں اور انہیں صورت حال سے آگاہ کیا ۔ یہاں سے فراغت کے بعد ہماری تجویز کے مطابق اپوزیشن کے قائدین سے بھی منتظمین نے ملاقات کا اہتمام کیا ۔ یہ پروگرام شیڈول میں طے نہیں تھا لیکن ہم نے مناسب سمجھا کہ پارلیمنٹ ہاؤس آئیں اور اپوزیشن سے ملے بغیر چلے جانا تاثر نہ چھوڑے گا ۔ چنانچہ پروٹوکول کو تجویز دی گئی انہوں نے فوری اس کا اہتمام کرتے ہوئے اپوزیشن گیلری میں پہنچا دیا ۔ جہاں گھنٹہ بھر مختلف اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سینئر اراکین سے خوشگوار ملاقاتیں رہیں ۔ انہوں نے بھی واضح یقین دہانی کرائی کہ پاکستان اور کشمیر کے مسئلے پر ترک میں حکومت اور اپوزیشن کی کوئی تفریق نہیں ہے ۔ پوری قوم اور تمام جماعتیں آپ کے ساتھ ہیں ۔اس موقع پر ترکی کا سالانہ بجٹ بھی پیش ہوا بجٹ سیشن کا مشاہدہ کرنے کے لیے

اگلے روز صبح استنبول روانہ ہوئے ۔ انقرہ ایئرپورٹ پر حسب سابق ڈپٹی گورنر اور سینئر حکام نے الوداع کیا ۔ استنبول میں ڈپٹی گورنر اور پروٹوکول والوں نے استنبول میں استقبال کیا ۔ اگلے دو روز استنبول میں تاریخی مساجد ، حیائے صوفیہ ، توپ کا پی میوزیم ، وغیرہ کی وفد نے سیر کرنے کے علاوہ ملت ٹرسٹ کے چیئرمین محمد جنجے کی دعوت پر ان کے ادارے کا دورہ کیا ۔ یہ ایک بڑا تھینک ٹینک ہے ۔ سمندر کے کنارے ایک تاریخی مقام پر قائم ہے ، محمد جنجے زمانہ طالب علمی میں اسلام پسند طلبہ ترکی کی ایک بڑی تنظیم کے صدر رہ چکے ہیں موجودہ صدر طیب اردگان اور عبداﷲ گل وغیرہ ان کی ٹیم کا حصہ تھے۔

80کی دہائی میں فوجی حکومت نے انہیں موت کی سزاسنائی تھی وہ کسی طرح براستہ ایران پاکستان پہنچ گئے جہاں وہ کئی سال تک قاضی حسین احمد رحمتہ اﷲ علیہ کے مہمان رہے ۔ یوں وہ پاکستان اور کشمیر سے بڑی گہری وابستگی رکھتے ہیں ۔ موجودہ ادارے کے ذریعے ترکی کی نئی نسل کی قائدانہ صلاحتیں اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں ۔ انہوں نے وفد کا استقبال کیا اور ایک پرتکلف ظہرانے کا اہتمام کیا سپیکرصاحب اور وفد کے دیگر اراکین نے شکریہ ادا کیا اور ترکی کے نظام سے متعلق اہم سوالات کیے انہوں نے جن کے شافی جوابات دئیے ۔

وہ ملی ادارہ برائے ترقی و فروغ انسانی وسائل کے چیئرمین ہیں ان کا یہ ادارہ مختلف قومی مسائل پر ریسرچ کا اہتمام کرتے ہوئے حکومت اور اداروں کو اہم فیڈ بیک فراہم کرتا ہے ۔ انہوں نے اپنی خدمات کشمیر کاز کے لیے بھی پیش کیں ۔ NGOsکی سطح پر سفارتی محاذ پر باہم مسائل حل کرنے کے لیے اتفاق رائے ہوا ۔ یوں ایک ہفتے کا یہ دورہ وقت کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے اختتام پذیر ہوا۔ مسز الیف پروٹوکول افسر اور ان کے ساتھی عمر بالتا استنبول تک ہمراہ رہے ۔ وفد کی میزبانی کرنے اور عزت افزائی میں انہوں نے بھرپور خیال رکھا۔ استنبول میں دیگر تاریخی مقامات کی زیارت کے علاوہ تاریخی پیناروما کہ بھی دورہ کیا ۔ جس میں قسطنطنیہ کی فتح کا وہ سارا منظر محفوظ ہے ۔ سلطان محمد فاتح نے خشکی پر سے بحری بیڑا گزارتے ہوئے قسطنطنیہ کے قلعہ کو جس دلیری سے فتح کیا بہت مہارت سے جنگ کے وہ سارے مناظر محفوظ ہیں یہ جنگ جذبہ جہاد ، ٹیکنالوجی اور جنگی مہارت کا بہترین امتزاج ہے۔

وفد کے سارے اراکین اس منظر سے بہت متاثر ہوئے ۔ سب سے زیادہ جذباتی منظر حضرت ایوب انصاری ؓ کے مزار پر حاضری کے موقع پر طاری ہوگیا ۔ صحابی رسول ؐ جو میزبان رسول بھی تھے نوے سال سے زیادہ عمر کے باوجود قسطنطنیہ کی فتح کے لیے نکلنے والے کاروان میں شامل ہو گئے ۔ اس لیے کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ و سلم کی بشارت ہے کہ جو لشکر اور اس کا امیر قسطنطنیہ فتح کرے گا وہ افضل ترین ہوگااور قیام تکے دن میرے ساتھ ہوگا۔ اس سفر کے دوران صحابی رسول ؐ کی بیماری کی وجہ سے انتقال ہوگیا انہوں نے وصیت کی کہ موت کی صورت میں مجھے جس قدر قسطنطنیہ کے قریب لے جا سکتے ہو لے جانا تا کہ میں نبی کریم ؐ کی بشارت کا مستحق بن سکوں ۔ یہ ساتویں صدی کا واقع ہے اور قسطنطنیہ بالآخر 1453میں فتح ہوا گویا سات صدیاں صحابی رسول مجاہدین کے منتظر رہ ے۔ روایت ہے کہ جس رات قسطنطنیہ فتح ہوا اسی رات حضرت ایوب سلطان محمد فاتح کو خواب میں آئے مبارک بادش پیش کی یہ دن دیکھنے کے لیے ہماری آنکھیں ترستی تھیں ۔ یہ سعادت آپ کے حصے میں آئی آپ کو مبارک ہو ۔ خواب میں ہی اپنی قبر کی نشان دہی بھی کی ۔ سلطان فاتح جس نے محض اکیس برس کی عمر میں یہ تاریخی کارنامہ سر انجام دیا ۔ اگلے روز حضرت کی قبر کی تلاش میں نکلا ۔ ان کا جسد خاکی برآمد کیا جو بالکل سالم حالت میں تھا اور اسے موجودہ مقام پر تدفین کرکے ایک یادگار مزار بھی بنا دیا اور ایک عظیم الشان مسجد بھی تعمیر کی یہ دونوں تاریخی عمارات آج بھی اسی حالت میں ہیں ۔ جنہیں ترکی میں حضرت ایوب سلطان کہتے ہیں ۔ شب و روز یہاں زائرین کا تانتا بندھا رہتا ہے ۔ وفد نے بھی حاضری دے کر ایمان تازہ کیا ۔ ملک نواز صاحب کی تو خواہش تھی کہ ہم استنبول میں رہتے ہوئے تمام نمازیں بھی یہاں ادا کریں لیکن ہمارا ہوٹل گرینڈ حیات جہاں ہمیں ٹھہرایا گیا تھاذرا فاصلے پر تھا۔ استنبول امت مسلمہ کی تاریخ کا عظیم مرکز ہے ۔ حیائے صوفیا جو اس دور کے عیسائی دنیا کا روحانی مرکز تھا فتح ہونے کے بعد سلطان فاتح نے اسے مسجد میں تبدیل کر لیا ۔ کمال اتا ترک نے مسجد کی حیثیت فتح کر کے اسے ایک میوزیم میں بدل دیا تھا لیکن موجودہ حکومت نے دوبارہ مسجد کا مقام دے دیا ہے ۔ توپ کاپی میوزیم میں نبی کریم صلی اﷲ علیہ و سلم و صحابہ کرام کے تاریخی نوادرارت محفوظ ہیں ۔ جہاں مسلسل تلاوت کلام پاک ہوتی رہتی ہے ۔ توپ کاپی محل سلطان عثمانیہ کے کئی حکمرانوں کا شاہی محل رہا ہے ۔ انیسویں صدی کے اختتام پر سلطان عبدالحمید نے سمندر کے کنارے ایک نیا عظیم الشان محل ڈولما باچے کے نام سے تعمیر کیا ۔ یہ محل جدید و قدیم طرز تعمیر کا حسین امتزاج ہے ۔ شاہی محل کے امور مہمانداری سے وابستہ پانچ افراد پر مشتمل تھا ۔عثمانی خلافت نے تقریباً پانچ سو برس تک دنیا کی ایک سپر طاقت کی حیثیت سے کردار اداکیا ۔ بالآخر اپنی کمزوریوں اور بین الاقوامی سازشوں کے نتیجے میں یہ دور اختتام کو پہنچا لیکن آج بھی لا شعورمیں ہر ترک اپنے اس تاریخی ورثے پر فخر بھی کرتا ہے اور ان کے دل و دماغ میں وہ قائدانہ صلاحیتیں بھی رچی بسی ہیں جس کا اظہار آج طیب اردگان کی صورت میں ترک قوم ایک مرتبہ بھی امت مسلمہ کے لیے امید کی ایک کرن بنتے ہوئے کررہی ہے ۔

دورہ کے موقع پر ڈاکٹر غلام نبی سے جو ایک اور کانفرنس میں شرکت کے ل یے موجود تھے ۔ سپیکر صاحب کی طرف سے عشائیہ کے موقع پر استنبول میں تفصیلی ملاقات ہوئی ۔ وفد نے ان کی خدمات اور گزشتہ عرصے میں قید و بند کی آزمائش کے موقع پر ان کی استقامت کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے امریکہ میں ہونے والی سفارتی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ کیا اور وہاں انہوں نے بھی پارلیمانی وفد کی سفارتی کوششوں کو سراہاتے ہوئے سلسلہ جاری رکھنے کی تجویز دی ۔ نیز پاکستان کی طرف سے بھیجے جانے والے وفود میں سینیٹر مشاہد حسین کی طرح کے باصلاحیت اور مسئلہ کے جملہ پہلوؤں پر نظر رکھنے والے افراد پر مشتمل وفود تشکیل دینے کی سفارش بھی کی ۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Rasheed Turabi

Read More Articles by Abdul Rasheed Turabi: 4 Articles with 1663 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Feb, 2018 Views: 409

Comments

آپ کی رائے