۲۰۱۸ کے الیکشن اور اٹک کے ممکنہ نتائج

(Nusrat Aziz, Attock)

۲۰۱۳ کے انتخابات میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اٹک کے حلقہ این اے ۵۷ میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے شیخ آفتاب احمد 59638ووٹ حاصل کر کے پہلے نمبر پر رہے اور اٹک کی عوام کے مسائل کے حل کے لیے پانچویں مرتبہ مسیحا اور راہ بر و راہ نما بنے ، 55515ووٹ حاصل کر کے پاکستان تحریک انصاف کے راہ نما ملک امین اسلم دوسرے نمبر پر رہے اور 50878ووٹ حاصل کر کے آزاد امیدوار میجر(ر) طاہر صادق تیسرے نمبر پر رہے ۔ان کے علاوہ شرکت کرنے والے امیدواران میں سے کوئی بھی دس ہزار ووٹوں کے قریب بھی نہ جاسکاجس میں پاکستان پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی ،جمعیت علمائے اسلام اور کچھ آزاد امیدوار تھے ۔

اٹک کے ایک حلقہ این اے ۵۷ کے مذکورہ بالا نتائج کو اگر دیکھا جائے تو جہاں ہمیں ایک اچھا ٹرن آؤٹ نظر آتا ہے وہاں ہی ہمیں میجر(ر) طاہر صادق کو حاصل ہونے والی ووٹوں کا حیران کن نتیجہ بھی نظر آتا ہے کیوں کہ آزاد حیثیت سے الیکشن میں کھڑے ہونے اور کسی پارٹی کا ٹکٹ لے کر الیکشن میں کھڑا ہونے میں بڑا فرق ہے ۔آزاد امیدوار کو ملنے والی ساری کی ساری ووٹیں اس کی شخصیت اور خدمات کی بناء پر ملتی ہیں جب کہ کسی پارٹی کا ٹکٹ لے کر الیکشن میں حاصل ہونے والی ووٹیں دو حصوں کا مجموعہ ہوتیں ہیں ۔ایک حصہ جس پارٹی کاٹکٹ لے کر الیکشن میں کھڑا ہوا جائے اس کی مقبولیت اور دوسرا اس امیدوار کی شخصیت اور خدمات ۔ اس منطق کو بنیاد بنا کر اگر پرکھا جائے تو بھی میجر(ر) طاہر صادق کو ملنے والی شخصی ووٹوں کی تعداد شیخ آفتاب احمد اور ملک امین اسلم خان سے زیادہ ہیں ۔ویسے بھی اگر شیخ آفتاب احمد اور ملک امین اسلم کے ساتھ پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان تحریک انصاف کا لوگویا ٹیگ ہٹا دیا جائے تو میرا نہیں خیال کہ دونوں اصحاب کو ان کی شخصیت اور اٹک کے لیے خدمات کے عوض دس ہزار سے زائد ووٹوں سے عوامی حمایت حاصل ہو۔

اٹک کی عوام خاص کر حلقہ این اے ۵۷ میں پائے جانے والے علاقوں کی عوام اپنے مصائب اور پسماندگی کے حل کے لیے میجر( ر) طاہر صادق اور ملک امین اسلم خان کو ایک ایک مرتبہ جب کہ شیخ آفتاب احمد کو پانچ مرتبہ منصب حکمرانیت پر فائز کرچکی ہے ۔شیخ آفتاب احمد پچھلے ۹ سال اور ۸ ماہ سے اٹک کے حلقہ این اے ۵۷ کے ایم این اے ہونے کے ساتھ ساتھ تین بار وفاقی وزیر بھی بن چکے ہیں مگر اٹک کو خاطر خواہ ترقی نہ دلواسکے یہ ان کی کم زور ی سمجھیں یا نااہلی مگر ایک بات یقینی ہے کہ اس کے باوجود بھی پاکستان مسلم لیگ نواز شیخ آفتاب احمد کے علاوہ کسی اور کو ٹکٹ دینے کے بارے میں سوچتی بھی نہیں ہے اس کی وجہ نواز شریف اپنے جلسوں میں بارہا کر چکے ہیں کہ اٹک قلعہ میں قید و بند کے عرصہ میں محترم نے نواز شریف کی بہت خدمت کی تھی شاید میاں صاحب کی طرف سے شیخ آفتاب احمد کو اٹک کے لیے بار بار ایم این اے کی نشست کے لیے چننے کی ایک وجہ یہ بھی ہے ۔۔۔ویسے کتنا بڑا المیہ ہے کہ عوام کی خدمت کی بنیاد پر چننے کے بجائے پارٹی لیڈر کی خدمت پر انھیں بہ طور امیدوار چنا جاتا ہے ۔۔۔خیر پھر ترقی بھی ویسی ہی ہوتی ہے جیسا چناؤ ہوتا ہے ۔

بہرحال آنے والے الیکشن کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو یہ بات کنفرم ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز اٹک کے ایک حلقہ کے لیے شیخ آفتاب احمد کو ہی ٹکٹ دے گی اس کی ایک وجہ شیخ آفتاب احمد کا مسلسل یہ نشست جیتنا ہے اور دوسری وجہ اوپر بیان کی جاچکی ہے کہ شیخ آفتاب احمد نواز شریف کے وہ باوفا ساتھی ہیں جنھوں نے اٹک قلعہ میں قید وبند کے دوران نواز شریف کی بہت خدمت کی تھی ۔پھر سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز، شیخ آفتاب احمد کے علاوہ کسی اور کو ٹکٹ کس بنیاد پر دے گی؟کیا اس بنیاد پر کہ نیا چہرہ سامنے لایا جائے تو یہ منطق کسی طور پر پاکستانی سیاست کے لیے سود مند نہیں اور عوام کے لیے قابل قبول بھی نہیں ،جو زرداری بھی جانتا ہے نواز شریف بھی اور اب عمران خان بھی سمجھ گیا ہے کیوں کہ عوام کسی نئے چہرے کو قبول ہی نہیں کرتی اسے تجربہ کار چہرے ضرورت ہیں ۔ٹکٹ نہ دینے کی دوسری بنیاد اگر یہ رکھی جائے کہ شیخ آفتاب احمد اتنا عرصہ اٹک پر منصب حکمرانیت پر رہے تو انھوں نے اٹک کو خاطر خواہ ترقی نہ دی تو یہ بنیاد بے بنیاد تب ہے کہ باقی ملک کون سی ترقی کی منزلوں کو چھوا ہے ۔ جہاں باقی ملک میں سڑکیں اور پل ہی بنے تو شیخ صاحب نے بھی کچھ ایسی ہی اٹک کو ترقی دی ہے ۔

۲۰۱۳ ء کے الیکشن میں دوسرے نمبر پر آنے والے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ملک امین اسلم اور تیسرے نمبر پر آنے والے آزاد امیدوار میجر(ر) طاہر صادق جو اب پاکستان تحریک انصاف شامل ہوچکے ہیں کی کل ووٹوں کو جمع کیا جائے تو 106393بنتی ہیں جو شیخ آفتاب احمد کی ووٹوں کے دوگناکے پاس پاس ہیں ۔ اگر شخصی ووٹوں اور پاکستان تحریک انصاف کی ووٹوں کو جمع کیا جائے تو پھر بھی میجر ( ر) طاہر صادق کی کل ووٹوں کی تعداد شیخ آفتاب احمد سے زیادہ بنتی ہے اس لحاظ سے دیکھا جائے تو میجر( ر ) طاہر صادق کو اگر پاکستان تحریک انصاف ملک امین اسلم پر ترجیح دے کر ٹکٹ دیتی ہے تو اٹک کی یہ سیٹ پاکستان تحریک انصاف کے لیے کنفرم سمجھی جارہی ہے مگر اب چوں کہ ضلع اٹک کے قومی اسمبلی کے حلقوں کی تعداد ۳ سے ۲ کر دی گئی ہے تومیجر(ر) طاہر صادق کے لیے حالات کچھ زیادہ متفرق نہیں ہوں گے مگر پھر بھی میجر( ر) طاہر صادق کو تھوڑی سی محنت اور بھاگ دوڑ کرنی پڑے گی کیوں کہ اب جن علاقوں کو ضم کر کے این اے ۶۲ بنایا گیا ہے اس میں حسن ابدال اور اس سے ملحقہ علاقے بھی شامل ہیں جہاں پاکستان مسلم لیگ نواز کافی مضبوط حیثیت رکھتی ہے ۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ سروے یہ بتاتے ہیں کہ ۸ لاکھ پر مشتمل بنائے جانے والے نئے حلقے میں میجر(ر) طاہر صادق کی پوزیشن شیخ آفتاب احمد اور ملک امین اسلم سے کافی مضبوط لگتی ہے اس کی ایک وجہ میجر(ر) طاہر صادق کی اٹک کے عوام کے لیے اپنے ۵سالہ دور میں بے پناہ خدمات ہیں دوسرا ان کا مضبوط برادریوں سے رکھ رکھاؤ ہے جس کی وجہ سے اٹک کی ایک اچھی خاصی عوام ان کے ساتھ ہے جس کا عملی نمونہ ۶ نومبر ۲۰۱۷ کا تاریخی جلسہ تھا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی سٹینڈنگ کمیٹی آنے والے الیکشن کے لیے کس کو اپنا امیدوار چنتی ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ میجر(ر) طاہر صادق اور ملک امین اسلم کے علاوہ کسی تیسرے فرد کو نہیں چنا جائے گا اور ویسے بھی عمران خان اب اس نقطہ کو بھانپ گئے ہیں کہ پاکستانی عوام نئے چہروں پر کسی صورت بھی اعتماد کرنے کو تیار نہ تھی اور نہ ہے لہٰذا ان دونوں امیدواران کے علاوہ بھی پاکستان تحریک انصاف کسی نئے امیدوار کی متحمل نہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک چیز جو مسلم لیگ نواز کے لیے فائدہ مند اور پاکستان تحریک انصاف کے لیے نقصان دہ ہے وہ پاکستان تحریک انصاف کے امیدواران کے درمیان نااتفاقی اور کھینچا تانی ہے جو نہ صرف اٹک بلکہ پورے پاکسان میں موجود ہے۔ہم فرض کرتے ہیں کہ اگر میجر(ر)طاہر صادق کو اٹک سے قومی اسمبلی کے لیے ٹکٹ نہ ملا تو کیا وہ ملک امین اسلم کی حمایت کے لیے ملک امین اسلم کا ساتھ دیں گے یا پھر آزاد حیثیت سے الیکشن میں کھڑے ہوں گے اسی طرح اگر ملک امین اسلم کو پاکستان تحریک انصاف نے قومی اسمبلی کے لیے ٹکٹ نہ دیا تو کیا ملک امین اسلم، میجر(ر) طاہر صادق کا ساتھ دیں گے یا پھر آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لیں گے ؟بالفرض اگر ایسا ہوا تو پھر تو اٹک کی سیٹ پاکستان تحریک انصاف کی جھولی میں آجائے گی لیکن اگر ایسا نہ ہوا کھینچا تانی اور نااتفاقی جاری رہی تو پھر یہ سیٹ ایک مرتبہ پھر پاکستان مسلم لیگ نواز کی جھولی میں چلی جائے گی ۔ لہٰذا اب جہاں پاکستان تحریک انصاف آنے والے الیکشن کی تیاری کررہی ہے وہاں ہی عمران خان کو یہ فیصلہ کرلینا چاہیے کہ کون کہاں سے الیکشن لڑے گا ورنہ تحریک انصاف کے لیے نتائج وہی ہوں گے جو ۲۰۱۳ کے الیکشن میں تھے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Nusrat Aziz

Read More Articles by Nusrat Aziz: 98 Articles with 48307 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Feb, 2018 Views: 275

Comments

آپ کی رائے