بمباری، نسل کشی، قحط اور غزہ کی صبر آزما زندگی
(Khursheed Alam Dawood Qasmi, India)
بمباری، نسل کشی، قحط اور غزہ کی صبر آزما زندگی
از: خورشید عالم داؤد قاسمی
غزہ میں قحط: غزہ کی انسانی صورتِ حال آج دنیا کے سامنے ایک المیہ کے طور پر کھڑی ہے۔ مختلف بین الاقوامی اداروں نے اپنے بیانوں اور رپورٹس میں واضح کیا ہے کہ قابض اسرائیل کے مسلسل محاصرے، پابندیوں اور وسائل کی بلا تعطل بندش کے نتیجے میں، غزہ میں قحط پیدا ہو چکا ہے۔ یہ قحط نہ صرف بنیادی انسانی ضروریات کی کمی کا سبب بن رہا ہے؛ بلکہ روزانہ متعدد فلسطینی شہریوں کی جان لے رہا ہے، جن میں معصوم بچے، بزرگ اور خواتین بھی شامل ہیں۔ اس حقیقت کے باوجود قابض اسرائیل اس المیے کو تسلیم کرنے سے گریز کر رہا ہے اور عالمی مطالبات اور انسانی حقوق کی رپورٹس کو نظر انداز کر رہا ہے۔ عالمی ادارے بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ اگر امداد کی ترسیل کے حوالے سے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے؛ تو یہ انسانی المیہ نہ صرف شدت اختیار کرے گا؛ بلکہ خطے میں دیرپا انسانی بحران کو جنم دے گا۔
ماضی میں قابض اسرائیل نے بے شرمی کے ساتھ غزہ میں قحط کے حوالے سے متعدد رپورٹس کو ماننے سے انکار کرتا رہا ہے۔ اب پھرایک بارغزہ میں قحط کے حوالے سے انروا کے سربراہ کا بیان آیا ہے۔ وہ بیان 27/اگست 2025 کا ہے۔ ان کے بیان سے غزہ کے موجودہ حالات کی جو منظر کشی ہوتی ہے، وہ ہر انسان کے لیے دل دہلانے والا ہے۔آج غزہ میں کچھ انسان نما درندوں کی وجہ سے قحط آچکا ہے۔ ایسے موقع سے عالمی برادری کو کھلے دل سے اس کے ممکنہ تباہ کن نتائج کے بارے میں سوچنا چاہے اور انسان نما درندوں کے خلاف ردّعمل کرنا چاہیے؛ کیوں کہ یہ ان کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے۔
موت اور بھوک کے بیچ زندگی: فلسطینی پناہ گزینوں کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (انروا) کے سربراہ فلیپ لازارینی نے اپنی تازہ گفتگو میں کہا ہے کہ غزہ کے نہتے عوام کی زندگی اب محض دو انتہاؤں کے بیچ محدود ہو کر رہ گئی ہے: ایک طرف اسرائیلی فوج کی اندھی بمباری ہے جو ہر لمحہ موت بانٹ رہی ہے اور دوسری طرف اسرائیلی محاصرہ ہے جو بھوک، پیاس اور قحط کے ذریعے سسکتی ہوئی زندگی کو ختم کر رہا ہے۔لازارینی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر ایک بیان میں اس ہولناک صورتِ حال کو یوں بیان کیا: "غزہ میں کوئی جگہ محفوظ نہیں، کوئی انسان محفوظ نہیں۔" ان کے مطابق سات سو دن کا طویل عرصہ بیت جانے کے باوجود اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ روزانہ بے شمار بے قصور انسان شہید اور زخمی ہو رہے ہیں اور شہر کھنڈر میں بدلتے جا رہے ہیں۔ لازارینی کا کہنا تھا کہ انسانی جانوں کی یہ بے قدری اور مسلسل قتل و غارت اس تلخ حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ عالمی طاقتوں کی بے عملی اور مجرمانہ سکوت نے اسرائیل کو مزید ظلم ڈھانے کی کھلی چھوٹ دے دی ہے۔
بمباری، بھوک اور قحط کا حصار: لازارینی نے کہا کہ غزہ میں ہسپتال، اسکول، پناہ گاہیں اور گھروں پر روزانہ بمباری کی جا رہی ہے۔ صحت کے کارکن، صحافی اور انسانی خدمت کے میدان میں کام کرنے والے افراد ایک ایسی تعداد میں نشانہ بن رہے ہیں جس کی مثال جدید تاریخ کی کسی اور جنگ میں نہیں ملتی۔ اس دعوے میں بہت حد تک سچائی ہے؛ کیوں کہ ابھی چند دنوں قبل، یعنی 25/اگست 2025 کو اسرائیلی قابض افواج نے اپنی درندگی کا ثبوت دیتے ہوئے، خان یونس کے النصر اسپتال پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں پندرہ فلسطینی عام شہری اور پانچ صحافی بیک وقت شہید ہوئے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سات اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں 247 صحافیوں کو قتل کیا گیا ہے؛ جب کہ تقریبا پانچ سو صحافی زخمی ہوئے ہیں اور تقریبا 49 صحافیوں کو قابض اسرائیل اپنی حراست میں لے رکھا ہے۔
لازارینی نے مزید کہا کہ "گویا یہ سب کچھ کافی نہ تھا، اب بھوک ہر فلسطینی کو ایک خاموش اور سست موت کی طرف دھکیل رہی ہے، یا پھر لوگ خوراک کی تلاش میں نکل کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔"ان کا کہنا تھا کہ2/ مارچ کے بعد سے اسرائیل نے غزہ کی تمام گذرگاہیں بند کر رکھی ہیں۔ محض چند ایک قلیل تعداد میں ٹرکوں کو امداد لے جانے کی اجازت دی جاتی ہے، جس نے پورے خطے کو ایک ہلاکت خیز قحط کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ لازارینی کے مطابق یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے جب قابض اسرائیل کو مکمل استثنا اور کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ "تازہ ترین مظالم کو محض افسوسناک حادثات قرار دیا جا رہا ہے اور قحط کی کھلی حقیقت سے انکار کیا جا رہا ہے۔ گویا تل ابیب کی ذمہ داری کا ذکر تک گوارا نہیں کیا جاتا ہے۔"
فوری اقدام کی ضرورت: لازارینی نے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ "فلسطینیوں کی زندگی اور ان کی شناخت پر ہونے والے اتنے سنگین حملوں کو کسی بھی صورت میں جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔" انھوں نے واضح کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا صرف بیانات پر اکتفا نہ کرے؛ بلکہ عملی اقدام کرے، سیاسی جرات کا مظاہرہ کرے اور اس زمینی جہنم کو ختم کرنے کے لیے ٹھوس قدم اٹھائے۔ انھوں نے اپنے بیان کے اختتام پر عالمی برادری سے فوری فائر بندی کے مطالبے کے ساتھ ساتھ یہ اپیل بھی کی کہ ان مجرموں کو عالمی عدالت میں جوابدہ بنایا جائے جو نہتے انسانوں کے خلاف یہ ہولناک جرائم کر رہے ہیں۔
قحط کا دائرہ بڑھ رہا ہے: ہم نے اوپر کی سطروں میں انروا کے باہمت اور حوصلہ مند سربراہ فلیپ لازارینی کا بیان پیش کیا ہے۔ اب دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور کی ترجمان اولگا چیریفکو کا بیان بھی ملاحظہ فرمائیں۔ انھوں نے سخت خدشات کا اظہار کیا ہے کہ قابض اسرائیل کے مسلسل محاصرے اور منظم بھوک کی پالیسی کے نتیجے میں، غزہ میں قحط تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ادارے "آئی پی سی" کی تازہ رپورٹ کے مطابق غزہ شہر میں قحط کی موجودگی واضح طور پر نظر آ رہی ہے۔ اندیشہ ہے کہ اگر حالات جوں کے توں رہے؛ تو ستمبر کے آخر تک اس کا دائرہ دیر البلح اور خان یونس تک پھیل جائے گا، جس سے لاکھوں مزید زندگیاں شدید خطرے میں پڑ جائیں گی۔
قحط روکنے کا واحد راستہ فوری اور وسیع امداد: ترجمان نے مزید کہا ہے کہ یہ نتائج ہمارے لیے حیران کن نہیں ہیں؛ کیوں کہ ہم کئی مہینوں سے اس خطرے کے بارے میں مسلسل متنبہ کر رہے تھے۔ اگر حالات جوں کے توں رہے اور کوئی عملی اقدام نہ کیا گیا؛ تو صورتِ حال مزید بھیانک اور ہولناک شکل اختیار کر لے گی۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ قحط کو روکنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ فوری طور پر بڑے پیمانے پر امدادی سامان غزہ کے شہریوں تک پہنچایا جائے۔ اس مقصد کے لیے تمام رکاوٹیں دور کی جائیں اور ایک محفوظ، باقاعدہ اور پائیدار راستہ فراہم کیا جائے؛ تاکہ امداد براہِ راست مظلوم عوام تک پہنچ سکے اور ان کی زندگیوں کو بچایا جا سکے۔
غزہ میں جاری انسانی المیہ کے حوالے سے کچھ اعداد و شمار: یاد رہے کہ قابض اسرائیل، امریکہ کی مکمل پشت پناہی کے ساتھ، 7 اکتوبر 2023ء سے غزہ پر ایک نسل کشی کی جنگ مسلط کیے ہوئے ہے۔ اس میں بے گناہ شہریوں کا قتل، تباہی، قحط اور جبری ہجرت شامل ہیں۔ قابض اسرائیل نے تمام عالمی مطالبات اور حتیٰ کہ عالمی عدالت انصاف کے احکامات کو بھی نظر انداز کر دیا ہے۔ اب تک اس جنگ میں تقریباً 62,895 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں؛ جب کہ 158,930 افراد کے زخمی ہونے کی خبر ہے اور 9,000 سے زائد لوگ لاپتہ ہیں۔ لاکھوں افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں۔ اب مزید قحط کے نتیجے میں 313 فلسطینی کےشہید ہونے کی خبر ہے۔ان میں 119 معصوم بچے شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار نہ صرف انسانی جانوں کی تباہی کا اظہار کرتے ہیں؛ بلکہ غزہ میں جاری انسانی المیہ کی شدت کو بھی واضح کرتے ہیں۔
غزہ کے عوام کا صبر و استقامت: غزہ کے عوام، ان ہولناک اور غیر انسانی حالات کے باوجود، صبر، حوصلے اور ثابت قدمی کی ایسی مثال قائم کر رہے ہیں جو دنیا کے لیے ایک سبق ہے۔ بمباری، محاصرہ، قحط اور بنیادی سہولیات کی شدید کمی کے باوجود نہتے شہری اپنے گھروں، اپنے بچوں اور اپنی زمین کے ساتھ وفاداری اور عزم کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ان کا صبر و استقامت نہ صرف ذاتی اور کمیونٹی کی طاقت کی عکاس ہے؛ بلکہ انسانی وقار، اخلاق اور انصاف کے اصولوں کا بھی عملی اظہار ہے۔ مگر عالمی برادری اور قابض قوتوں کے لیے یہ واضح ہو جانا چاہیے کہ یہ صبر اور تحمل ایک حد تک ہے۔ اگر ان مظلوم عوام کے صبر کا زیادہ اور مسلسل امتحان لیا گیا؛ تو یہ صبر ٹوٹ سکتا ہے اور انسانی المیہ ناقابلِ تصور حد تک بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے عالمی برادری پر یہ اخلاقی، قانونی اور انسانی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بروقت اور مؤثر اقدامات کرے، فوری امداد پہنچائے اور فلسطینی شہریوں کے بنیادی حقوق اور جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنائے۔ یہ صبر فلسطینی عوام کی داخلی طاقت اور حوصلے کی علامت ہے اور ساتھ ہی دنیا کے لیے ایک پکار ہے کہ انصاف، انسانی حقوق اور عالمی قوانین کا احترام کیا جائے۔ ان کے حوصلے اور صبر کا احترام کرنا صرف انسانی فطرت کی ضرورت نہیں؛ بلکہ عالمی امن اور انسانی وقار کی حفاظت کا لازمی تقاضا بھی ہے۔
غزہ کی پکار اور عالمی ضمیر کی آزمائش: غزہ میں فلسطینی عوام کا المیہ صرف ایک علاقائی تنازعہ نہیں؛ بلکہ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی آزمائشوں میں سے ایک ہے۔ قابض اسرائیل کی مسلسل بمباری، محاصرہ، بھوک اور قحط نے لاکھوں نہتے شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ان شہریوں میں معصوم بچے، بزرگ اور خواتین بھی شامل ہیں۔ ہر دن، ہر لمحہ ان کی زندگی کی قیمت انسانی بے حسی اور عالمی خاموشی کے سامنے کھو جاتی ہے۔ اقوامِ متحدہ، عالمی ادارے اور انسانی حقوق کے محافظ جو آواز بلند کر رہے ہیں، وہ محض اعداد و شمار نہیں؛ بلکہ انسانی جانوں کی پکار ہے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ عالمی برادری صرف الفاظ اور بیانات پر اکتفا نہ کرے؛ بلکہ عملی اقدامات کرے۔ عملی اقدامات یہ ہوں گے کہ فوری فائر بندی، بلا رکاوٹ امدادی سامان کی ترسیل اور ان تمام مجرموں کو عالمی عدالت میں جوابدہ بنانا جائے جنھوں نے یہ ظلم روا رکھا۔
فلسطینی عوام نہ صرف مظلوم ہیں؛ بلکہ صبر، حوصلے اور انسانی وقار کی بہترین مثال بھی ہیں۔ ان کی زندگیوں کی حفاظت، ان کے بنیادی حقوق کی فراہمی اور ان کی شناخت کا احترام ہر انسان، ہر ملک اور ہر عالمی ادارے کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری ہے۔ اگر عالمی برادری بروقت اور مؤثر اقدام نہیں کرتی ہے؛ تو غزہ کا یہ المیہ انسانی تاریخ میں ایک اور تاریک اور ناقابل معافی باب کے طور پر رقم ہو جائے گا۔ غزہ کی پکار صرف فلسطینیوں کی نہیں؛ بلکہ پوری انسانیت کی ہےاور اس پکار کا جواب دینا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ****
|
|