حضرت عمر فاروق ؓاور ہماری مقدس پارلیمینٹ

(Atiq Yousuf Zia, )

قیصر روم نے اپنا ایک ایلچی حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے پاس اِس لیے بھیجا کہ آپؓ کے حالات، خیالات اور انتظاماتِ سلطنت سے واقف اور مستفیض ہو سکے، جب وہ مدینہ منورہ پہنچا تو وہاں کے لوگوں سے دریافت کیا کہ تمہارا بادشاہ کہاں ہے، لوگ کہنے لگے ہمارا تو کوئی بادشاہ نہیں البتہ ایک امیر ہے جو کہیں شہر سے باہر نکلا ہے، وہ قاصد آپؓ کی تلاش میں باہر نکلا تو کیا دیکھتا ہے کہ آپؓ اپنا کوڑا بطور تکیہ رکھے ہوئے ، دھوپ میں گرم ریت پر سو رہے ہیں، آپؓ کی پیشانی سے اِس قدر پسینہ بہہ رہا ہے کہ اُس نے زمین کو تر کر دیا ہے، یہ دیکھ کر وہ سخت متعجب ہوا اور اِس نتیجے پر پہنچا کہ حضرت عمرؓ عدل کرتے ہیں اور بے خوف سو رہے ہیں، ہمارا بادشاہ ظلم کرتا ہے اِس لیے وہ خائف اور بیدار رہتا ہے۔حضرت عمر فاروق ؓمختلف علاقوں کے گورنروں کے حالات پر ہمیشہ گہری نظر رکھتے، ایک دفعہ آپ نے اہل حمص سے دریافت کیا کہ تمارا امیر کیسا ہے؟ عرض کیا اے امیر المومنین! ہمارا امیر نہایت اچھا آدمی ہے، ہم اُس میں صرف ایک نقص پاتے ہیں کہ اُس نے اپنی رہائش کیلئے ایک محل بنوایا ہوا ہے، حضرت عمرؓ یہ سن کر آگ بگولا ہوگئے، اُسی وقت ایک قاصد روانہ کیا اور اُسے حکم دیا کہ امیر کے محل پر پہنچتے ہی لکڑیاں جمع کرکے محل کے دروازے میں آگ لگادے، لوگوں نے فوراً امیر کو اطلاع کی کہ ایک شخص لکڑیاں جمع کرکے دروازے پر آگ لگا رہا ہے، امیر نے کہا لگانے دو، امیرالمومنین حضرت عمر فاروق ؓ کا قاصد ہے، پھر حمص کے گورنر خود قاصد کے پاس آئے، امیرالمومنین حضرت عمر فاروق ؓکا حکم پڑھ کر فوراً مدینہ طیبہ روانہ ہوگئے اور حضرت عمرؓ کی خدمت میں حاضری دی، حضرت عمرؓ نے لوگوں کو حکم دیا کہ اِس امیر کو تین دن دھوپ میں رکھو، چنانچہ اُسے تین دن دھوپ میں رکھا گیا، چوتھے روز حضرت عمرؓ اُسے اپنے ہمراہ سنگستان میں لے گئے، اُس سنگستان میں زکوٰۃ کے اونٹ بندھے ہوئے تھے، حضرت عمرؓ نے گورنر کو پہننے کیلئے ایک کمبل دیا اور امیرانہ لباس اُتروا دیا، پھر حکم دیا کہ اِن تمام اونٹوں کو پانی بھر بھر کر پلاؤ، جب وہ امیر تمام اونٹوں کو پانی پلا چکے تو تھک کر چور ہو چکے تھے، حضرت عمرؓ نے کہا کہ تھک کیوں گئے؟ پہلے بھی تو یہی کام کرتے تھے، گورنر نے عرض کیا، امیرالمومنین! اِس کام کو چھوڑے ہوئے مدت ہوگئی ہے، آپؓ نے فرمایا پھر اِسی لیے تم نے بالا خانہ بنوایا تھا اور دوسرے مسلمانوں سے اونچے ہو ہو کر سوتے تھے، اب اپنے عہدے پر واپس جاؤ اور آئندہ ایسا کام نہ کرنا۔ یہ ہیں ہمارے سلف صالحین، ہمارے لیے مشعل راہ ، مگر آج ہم کیا کر رہے ہیں، ہم نے اپنی امارت، اپنی گاڑیوں، بنگلوں کو اپنا سٹیٹس سمبل بنا لیا ہے، آج اگر ہم دیکھیں پاکستان میں جس پارلیمینٹ کی بات ہو رہی ہے اُس کے وزیروں، مشیروں اور ممبرانِ اسمبلی نے ہمیں کیا دیا ہے، گر اس پاکستان اور پاکستان کے عوام نے اُنھیں بہت کچھ دیا ہے، پاکستان میں سب سے بڑا کاروبار سیاست بن چکا ہے، جیسے جیسے کونسلر سے لیکر ایم پی اے ، ایم این اے اور وزارت سیڑھی طے ہوتی جاتی ہے، مال و دولت میں بھی بے پناہ اضافہ ہمارا طرۂ امتیاز بن چکا ہے، بظاہر کوئی کاروبار نہیں مگر چمچماتی گاڑیاں، بڑے بڑے محلات، جائیدادیں، بینک بیلنس، عیش و عشرت کی زندگی ہمارا اوڑھنا بچھونا بن جاتا ہے مگر یہ سیڑھیاں طے کرتے ہوئے ہمارے ممبرانِ پارلیمینٹ اُ س غریب ،نادار، لاچار عوام کو بھول جاتے ہیں، جن کے ووٹوں کی وجہ سے اُنھیں یہ مقام ملا ہوتاہے، ہمارے عوام کی 80 فیصدآبادی کیلئے پینے کا صاف پانی تک نہیں، خط ِغربت سے نیچے زندگی گزارنے والے بھی اسی ملک کے ووٹر ہیں، جن کے سروں پر پاؤں رکھ کر ایوانِ بالا تک پہنچنے کے بعد اُن پر ہی حاکمیت کرنا اپنا فخر سمجھتے ہیں۔ ناخواندگی کی شرح میں دن بدن اضافہ، بیماریوں کی بہتات میں خوفناک حد تک اضافہ، بیروزگاری کا اژدھا اُسی غریب عوام کو نکلنے کیلئے تیار بیٹھا ہے، اِس ہماری مقدس پارلیمینٹ کے مقدس ممبران نے کیا دیا ہے اُس غریب عوام کو جنھیں ہر الیکشن سے پہلے سبز باغ دکھا کر اُن کے ارمانوں اور مستقبل کے خوابوں کو خریدا جاتا ہے، اسمبلی کے ممبر کا الیکشن لڑنے کیلئے غریب عوام کی غریب بستیوں کے چکر لگائے جاتے ہیں، طرح طرح کے لالچ دئیے جاتے ہیں، اُنھیں روشنی کی امید دکھائی جاتی ہے، اُن کے جذبات سے کھیل کر اُن سے ووٹ حاصل کیے جاتے ہیں، اُن کے جائز ناجائز مطالبے مانے جاتے ہیں، اُن کی غربت کا مذاق اُڑایا جاتا ہے، بھکاریوں کی طرح اُن کی ضروریات کے عوض اُنھیں خریدا جاتا ہے اور یہ سب پاپڑ ووٹ لینے کیلئے بیلے جاتے ہیں، اُن کی زندگی کو بدل ڈالنے ، اُن کی نسلوں کو ترقی کے راستے پر ڈالنے، نوکریاں، تعلیم، صحت کے بلند و بانگ دعوے جیسے دلفریب نعرے صرف اُن کی غربت کا مذاق اُڑانے کیلئے ہوتے ہیں۔ اس مقدس پارلیمینٹ بیٹھنے کے بعد اسب ایک ہی طرح کے ہو جاتے ہیں، وہاں عالم بھی جاتے ہیں اور جاہل بھی مگر ممبر اسمبلی بننے کے بعد سب ایک ہی رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔ غریب کی تنخواہ ہوشربا مہنگائی کے دور میں بھی 14 ہزار سے نہ بڑھ سکی مگر اس غریب کے ووٹ کی طاقت سے اس مقدس پارلیمینٹ تک پہنچنے والے ممبران اپنے پانچ سالہ دورِ اقتدار میں غریب ملک کے غریب عوام کے خزانے سے 85 ارب 44 کروڑ روپے ڈکار جاتے ہیں۔ آج کے پارلیمنٹرین آئین اور جمہوریت کے حق میں نہیں، اپنے حق کیلئے آئین اور جمہوریت کو بچانے کا ڈونگ رچاتے ہیں، قانون سازی عوام کیلئے بلکہ اپنے لیے کروا کر خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جارہاہے، پارلیمینٹ کے ممبران نے پچھلے دنوں قانون سازی کرکے ایک لاکھ بیس ہزار روپے ماہانہ تنخواہ 2لاکھ روپے تک بڑھا لی، آئین سازی کیلئے ملنے والا ماہانہ خرچہ فی ممبر ایک لاکھ روپے تک بڑھا لیا، دفتری اخراجات ایک لاکھ چالیس ہزار سفری اخراجات، اسلام آباد ایک دفعہ جانے اور واپس آنے کے اڑتالیس ہزار، اسمبلی اجلاسوں کے دوران روزانہ ریفریشمنٹ پانچ سو روپے، ٹرین میں درجہ اول کے ٹکٹ مفت، جہازوں میں بزنس کلاس کی ٹکٹ بمعہ فیملی 40 بار مفت، گھر پر بجلی پچاس ہزار یونٹ تک فری، لوکل فون کال چارجز ایک لاکھ 70 ہزار کالز مفت، ایک ایم این اے کا کل سالانہ سرکاری خرچہ تین کروڑ بیس لاکھ روپے بنتا ہے، یہ معمولی بخشیش ہے جو پاکستان کے اسمبلیوں میں پہنچنے والے منتخب اراکین حاصل کرتے ہیں، یہ خود بخود اسمبلیوں میں نہیں گھس جاتے، یہ اُس غریب عوام کو ووٹ کی طاقت سے پہنچتے ہیں جن کی تنخواہ کیلئے قانون سازی کرتے ہوئے 14 ہزار سے آگے نہیں بڑھتے، ان ممبران اسمبلی میں دین کا درس دینے والے علمائے کرام بھی شامل ہیں، ان میں پڑھے لکھے بڑے بڑے جاگیر دار بھی شامل ہیں اور وہ ممبرانِ اسمبلی بھی شامل ہیں جن کے پاس ایسی کوئی کوالیفکیشن جو اُنھیں ایوانِ بالا تک پہنچا دے، صرف اور صرف غریب عوام کے ووٹ کی طاقت ہے، مگر افسوس غریب کی غربت انتہاؤں کو چھو رہی ہے اور ان کے حقوق کا تحفظ کرنے والے ان کے نمائندے امیر سے امیر ہوتے جارہے ہیں۔

کیا یہ ہے مقدس پارلیمینٹ جس کے خلاف کچھ بولنے پر سب ایک ہو کر اس کی حرمت، تقدس کا درس دینا شروع کردیتے ہیں، آج سوچنے کا مقام ہے کہ ہم اسلام کے پیروکار ہیں۔ امام کائنات کے پرچم تلے جنت کے حصول کے دعویدار ہیں، ہم نے اپنی شاندار تاریخ اور روایات کو یکسر نظر انداز کردیا ہے، ہمارے لیے مشعل راہ نبی محترمؐ کی زندگی کے بعد صحابہ کرامؓ خلفائے راشدین کی سیرت اور اُن کے طرزِ حکمرانی بھی ہم پر کچھ اثر انداز نہ ہوسکی، اسی لیے ذلت اور خواری، افراتفری، معاشی ناہمواری، لاقانونیت اور بے سکونی ہمارا اثاثہ بن گئی ہے، جسے ہم نے بدلنا ہوگا اور اپنے سلف صالحین کی شاندار روایات اور طرزِ حکمرانی کو اپنانا ہوگا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Atiq Yousuf Zia

Read More Articles by Atiq Yousuf Zia: 30 Articles with 14466 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Feb, 2018 Views: 486

Comments

آپ کی رائے