قریش کا نیک سیرت جوان

(Rabi Ul Alam, )

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بعثت نبوی سے قبل اہل مکہ اگرچہ بت پرستی، کفر و شرک، ظلم و ستم، زنا کاری و شراب نوشی، وحشت و بربریت اور ان جیسے کئی معاملاتِ فاسدہ میں گھرے ہوئے تھے مگر اس وقت بھی چند ایسے لوگ تھے جو ان چیزوں کو نہ صرف غلط سمجھتے تھے بلکہ اس کے خلاف حق کی تلاش میں سرگرداں رہتے تھے۔ ان ہی لوگوں میں ایک ایسا نوجوان بھی تھا جس کا شمار قریش کے شرفاء میں ہوتا تھا اور اس کی نیک نامی کی وجہ سے چھوٹے بڑے سب اسکی عزت کیا کرتے تھے۔ ایک دن اس کے ساتھ ایک بڑا عجیب واقعہ پیش آیا اور جس حق کی تلاش میں وہ سرگرداں تھا وہ حق اسے مل گیا اور اس کی زندگی میں انقلاب برپا ہوگیا۔ چنانچہ اس کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کو اسی کی زبانی پڑھیے:
میں کسی اہم کام سے یمن گیا وہاں ایک بوڑھے عالم سے ملاقات ہوگئی اس نے مجھے دیکھ کر کہا: میرا گمان ہے کہ تم حرم (مکہ) کے رہنے والے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں! میں اہل حرم سے ہی ہوں۔ اس نے کہا کہ تم قریش سے ہو؟ میں نے کہا کہ جی ہاں میں اہل قریش سے ہوں۔ اس نے پھر کہا: تم تیمی بھی ہوں؟ میں نے کہا: جی ہاں! میں تیم بن مرہ کی اولاد سے ہوں۔ مگر کیا بات ہے آپ یہ سب کیوں پوچھ رہے ہیں؟ اس نے کہا: مجھے تمہاری ایک خاص علامت کا علم ہے۔ میں نے کہا: وہ کیا؟ اس نے کہا: تم اپنا پیٹ دکھاؤ۔ میں نے کہا: نہیں! تم مجھے پہلے ساری بات بتاؤ پھر میں دیکھاؤںگا۔ اس نے کہا: میں اپنے صحیح اور صادق علم کے ذریعےجانتا ہوں کہ حرم میں اہک نبی مبعوث ہوگا اور دو شخص اس نبی کی مدد کریں گے۔ ان میں سے ایک شخص مہمات کو سر کرنے اور مشکلات کو حل کرنے والا ہوگا اور دوسرا شخص سفید رنگ کا نحیف و کمزور ہوگا اور اس کے پیٹ پر تل ہوگا اور اسکی الٹی ران پر ایک علامت ہوگی۔ میں نے پیٹ سے کپڑا ہٹایا تو اس نے میری ناف کے اوپر ایک سیاہ رنگ کا تل دیکھا۔ اس نے کہا: رب کعبہ کی قسم! تم وہی ہو میں تمہارے پاس خود آنے والا تھا۔ میں نے کہا: کس لیے؟ اس نے کہا: یہ بتانے کے لئے کہ تم راہ ہدایت سے نہ ہٹنا اور اللہ تعالیٰ نے تم کو جو نعمت عطا کی ہے اس کے معاملے میں ڈرتے رہنا۔ جب میں اس سے رخصت ہونے لگا تو اس نے کہا: مجھ سے کچھ شعر سنتے جاؤ۔ اس کے اشعار سن کر جب میں واپس مکۂ مکرمہ پہنچا تو میرے واقف کارچند سردان قریش عقبہ بن ابی معیط، شیبہ، ربیعہ، ابو جہل، ابو البختری وغیرہ ملے۔ انہوں نے کہا۔ تم یمن گئے ہوئے تھے یہاں ایک عظیم واقعہ ہوگیا ہے۔ ابو طالب کے بھتیجے نے یہ دعوی کیا ہے کہ وہ اللہ کا نبی ہے۔ اگر تم نہ ہوتے تو ہم اس معاملے میں انتظار نہ کرتےاور خود ہی کوئی نہ کوئی فیصلہ کر لیتے لیکن اب تم آگئے ہو تو اس کا فیصلہ تم پر موقوف ہے۔ میں نے ان کی بات سن کر ان کو احسن طریقے سے واپس کیا اور پھر (حضرت ) محمد بن عبد اللہ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے متعلق دریافت کیاتو معلوم ہواکہ وہ (حضرت) خدیجہ کے گھرہیں۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو وہ باہر آئے۔ میں نے کہا: اے دوست! آپ نے اپنے آباؤاجداد کا دین کیوں ترک کردیا؟ انہوں نے کہا: میں تمہاری اور تمام کوگوں کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔ تم بھی اللہ پر ایمان لے آؤ۔ میں نے کہا: آپ کی ذات اگرچہ ایسی ہے کہ آپ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور نہایت ہی امانت دار ہیں لیکن ظاہر ہے یہ بہت بڑا دعوٰی ہےاور یقیناً غیر معمولی ثبوت کی حاجت ہوتی ہے اگرچہ مجھے کسی ثبوت کی حاجت نہیں لیکن آپ میرے اطمینان قلبی کے لئے میری ذات سے متعلق کوئی غیر معمولی بات بتائیں۔ انہوں نے کہا: ابھی تم یمن گئے تھے وہاں تم ایک بوڑھے شخص سے ملے تھے۔ میں نے کہا: میں وہاں پر کئی بوڑھوں سے ملا ہوں۔ انہوں نے کہا: نہیں! میں اس بوڑھے کی بات کر رہا ہوں جس نے تمہیں کچھ اشعار سنائے تھے۔ میں نے کہا: آپ کو اس بات کی خبر کس نے دی؟ انہوں نے کہا: مجھے اس معظم فرشتے نے خبر دی ہے جو مجھ سے پہلے آنے والے انبیاء کے پاس بھی آیا کرتا تھا۔ بس یہ سنتے ہی میں حیران و ششدر رہ گیا کہ واقعی اس بات کا تو میرے علاوہ کسی کو بھی علم نہیں تھا۔ یقیناً یہ اللہ تعالٰی کے سچے رسول ہیں۔ میں نے فوراً کہا۔ ’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ بلاشبہ اللہ تعالٰی کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور بے شک آپ اللہ تعالٰی کے سچے رسول ہیں‘‘۔ پھر میں تھوڑی دیر وہاں بیٹھ کر واپس آگیا اور میرے اسلام لانے پر پوری وادی میں خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃ ٌ لِّلْعَالَمِیْن ﷺ سے بڑھ کر کوئی خوش نہیں تھا۔(اسد الغابۃ ، باب العین، عبد اللہ بن عثمان ابو بکر الصدیق)

قارئین کرام!
سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والا قریش کا وہ نیک سیرت نوجوان کوئی اور نہیں بلکہ خلیفہ اول ، یار غار، امیر المؤمنین ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rabi Ul Alam

Read More Articles by Rabi Ul Alam: 15 Articles with 16109 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Mar, 2018 Views: 549

Comments

آپ کی رائے