22جمادی الثانی یومِ وفات سید صدیق اکبرؓ

(Tariq Noman, )

نام:عبداﷲ ،کنیت ابوبکر،لقب صدیق اورعتیق ،والد کانام عثمان کنیت ابوقھافہ اوروالدہ کانام سلمیٰ کنیت ام الخیرہے
سیدناصدیق اکبر ؓ573؁ء میں پیداہوئے
سلسلہ نسب کچھ اس طرح ہے ۔عبداﷲ بن ابی قحافہ عثمان بن عامربن عمروبن کعببن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب القرشی التیمی۔مرہ بن کعب پرآپ ؓ کانسب نبی پاک ﷺ سے جاملتاہے
سیدناصدیق اکبرؓ کی ولادت حضور نبی کریم ﷺکی ولادت پاک سے دوسال دوماہ بعدمکۃ المکرمہ میں ہوئی،آپ قریش قبیلہ کی ایک شاخ تمیم سے تعلق رکھتے تھے آپ ؓ کے خاندان کی چار نسلیں اسلام سے مشرف ہوئیں،والد ،والدہ ،خود ،اولاد ،پوتے نواسے سب نے آنحضرت ﷺ کے دست اقدس پراسلام قبول کیا
حلیہ مبارک
آپ کی صاحبزادی ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ب سے کسی نے ان کے والد سیدناصدیق اکبر ؓ کے متعلق پوچھاکہ ان کاحلیہ کیساتھااس پر حضرت عائشہ ؓ نے فرمایاکہ آپ کارنگ سفید تھا ،اکہرابدن ،دونوں رخسار اندر کودبے ہوئے تھے ،پیٹ اتبابڑھاہواتھاکہ آپ ؓ کاازاربنداکثرنیچے کھسک جاتا ،پیشانی ہمیشہ عرق آلود رہتی،چہرے پہ زیادہ گوشت نہ تھا،نظریں ہمیشہ نیچی رکھتے تھے،پیشانی بلند تھی،انگلیوں کی جڑیں گوشت سے خالی تھیں،آپ ؓ مہندی اور کسم کاخضاب لگایاکرتے تھے
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ حضوراکرم ﷺجب مدینہ منورہ تشریف لائے توحضرت صدیق اکبرؓ کے سواکسی صحابی کے بال سفیداورسیاہ مخلوط یعنی کھچڑی نہ تھے چنانچہ آپ ؓ ان کھچڑی بالوں پر مہندی اورکسم کاخضاب لگایاکرتے تھے
قبل اسلام
حضرت ابوبکر صدیق ؓ اسلام سے قبل ایک بڑے تاجر کی حیثیت رکھتے تھے ان کی دیانت ،صداقت ،امانت کاایک خاص شہرہ تھااہل مکہ ان کوعلم ،تجربہ اورحسن اخلاق کے باعث نہایت ہی معززسمجھتے تھے آپ ؓ کی تعلیم وتربیت بھی مکہ میں ہوئی آپ کاشماراپنے قبیلے کے امیرترین لوگوں میں ہوتاتھااورلوگ ہرکام میں آپ ؓ سے مشورے لیاکرتے تھے
منصبِ خلافت
خلیفہ اول:سیدناصدیق اکبرؓ خلفاء راشدین میں سب سے پہلے خلیفہ تھے
منصب خلافت سنبھالنے کے بعد فرمایا:لوگو!میں تمہاراامیربنایاگیاہوں حالانکہ میں تم میں سب سے بہتر انسان نہیں ہوں اگر میں ٹھیک راہ پہ چلوں تو میری اطاعت کرنا اگر کج روی اختیار کروں تومجھے سیدھاکردینا
ـ ’’سچائی امانت ہے اورجھوٹ خیانت‘‘تمہاراضعف فرد بھی میرے نزدیکاس وقت تک قوی ہے جب تک اس کاحق نہ دلوادوں اورتمہاراقوی شخص بھی میرے نزدیک اس وقت تک ضعیف ہے جب تک دوسروں کاحق اس سے واپس نہ لے لوں۔‘‘
یادرکھو!جوقوم جہاد فی سبیل اﷲ کوترک کردیتی ہے اسے خدارسواکردیتاہے اورجس قوم میں بدکاری پھیلتی ہے اس کوخدامصائب میں مبتلاء کردیتاہے
سنو!اگر میں خدااوراس کے رسول ﷺ کی اطاعت کروں توتم بھی میری اطاعت کرنااگر میں خدااوراس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کروں توتم پر میری اطاعت لازم نہیں ۔‘‘
رسول اﷲ ﷺ سے قرابت ورفاقت
سیدناصدیق اکبرؓ کی دیانت اورسچائی رسول اﷲ ﷺ سے قربت کاباعث بنی ۔رسول اﷲ ﷺ اورصدیق اکبرؓ کے درمیان لڑکپن کے زمانے میں دوستی قائم ہوئی اورزندگی بھر بھڑتی رہی
سیدناصدیق اکبرؓ دنیاکے سب سے پہلے بالغ مرد تھے جنہوں نے رسول اﷲ ﷺ کے ہاتھ پہ اسلام قبول کیا انہوں نے یہ کام کسی ہچکچاہٹ کے بغیر انتہائی جوش وکروش سے کیااورایک دفعہ نبی پاک ﷺ نے فرمایا:
’’اﷲ تعالیٰ نے نجھے تمہاری طرف (نبی بناکر)بھیجاتھاتوتم لوگوں نے کہا : تم جھوٹ بولتے ہو، لیکن ابوبکر نے کہاکہ آپ سچے ہیں اورانہوں نے اپنی جان ومال کے ذریعے میری مدد کی تھی۔‘‘
خلیفہ اول سیدناصدیق اکبرؓ انتہائی نرم دل انسان تھے جب بھی کسی مسلمان کوتکلیف میں دیکھتے توجس قدران کے بس میں ہوتااس کی مدد کرتے اسلام قبول کرنے کے بعد اسلام کے لیے انہوں نے کسی قربانی سے دریغ نہ کیاکفار کے بڑے بڑے سردار اپنے مسلمان غلاموں پہ مظالم ڈھاتے کہ اسلام اورمحمدکانام لیناچھوڑ دومگروہ ایسانہ کرنے پہ کمربستہ رہتے چنانچہ انہیں اس جرم کی پاداش میں تپتی ریت پہ لتادیتے مکہ کی گلیوں میں گھسیٹتے ۔ایک قریشی سردار امیہ بن خلف نے اپنے غلام حضرت بلال کوسخت دھوپ میں تپتی ریت پرلٹاکر ان کے سینے پہ بھاری پتھر رکھوادیے تھے سیدناصدیق اکبرؓ نے جب اس حالت میں اس صحابی رسول کودیکھاتوفوراًاس سردارکوپیسے دے کے اس صحابی رسول کواس سے آزاد کروادیااسی طرح جب نبی کریم ﷺ نے لوگوں سے غزوہ تبوک کے لیے مالی تعاون کی اپیل کی توہر کوئی اپنی اپنی استطاعت کے مطابق جوکچھ لاسکتاتھالایا۔حضرت عمرؓ اپنے گھر کے سارے سامان کاآدھاحصہ لے آئے جبکہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پاس رقم سمیت جوکچھ بھی تھا وہ سب ایک کھٹڑی میں باندھ کر لے آئے اورنبی کریم و کے قدموں میں رکھ دیا
نبی کریم ﷺ نے پوچھا:’’ابوبکر!گھروالوں کے لیے بھی باقی کچھ رکھ آئے ہو؟‘‘
آپ ؓ نے جواب دیا:
’’(ہاں)اﷲ اوراس کے رسول کو‘‘
شاعر مشرق علامہ اقبالؒ نے سیدناصدیق اکبرؓ کے اس جواب کویوں بیان کیاہے
پروانے کوچراغ ہے ،بلبل کوپھول بس
صدیق کے لیے ہے خداکارسول بس
وفات سیدنا صدیق اکبرؓ
حضرت ابوبکرصدیق ؓ کی وفات کااصل سبب حضوراکرم ﷺ کی وفات ہے جس کاصدمہدم آخر تک آپ ؓ کے قلب مبارک سے کم نہ ہوااوراس روز سے آپ ؓ کاجسم مبارک دبلاہوتاگیا7جمادی الثانی 13؁ھ کوآپ ؓ نے غسل فرمایا،دن سرد تھابخارہوگیا۔صحابہ کرام ؓ عیادت کے لیے تشریف لائے ۔عرض کرنے لگے اے خلیفہ رسول!اجازت ہوتوہم طبیب کابلائیں جوآپ کودیکھے۔فرمایاکہ طبیب نے تومجھے دیکھ لیا۔انہوں نے دریافت کیاکہ پھرطبیب نے کیاکہا۔فرمایاکہ اس نے کہا،اِنّی فعال لمایرید۔یعنی میں جوچاہتاہوں کرتاہوں ۔مراد یہ تھی کہ حکیم اﷲ تعالیٰ ہے اس کی مرضی کوکوئی ٹال نہیں سکتاجومشیت ہے ضرور ہوگایہ آپ ؓ کاتوکل صادق تھا اوراﷲ پاک کی رضاپہ رضامندی تھی اس بیماری میں آپ ؓ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ وحضرت علی المرتضیٰؓ اورحضرت عثمان ؓ وغیرہم کے مشورے سے حضرت عمرؓ کواپنے بعد خلافت کے لیے نامزد فرمایااور امارت کاتاج صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین کی موجودگی میں حضرت عمرؓ کے سر پہ سجایاآپؓ نے پندرہ روز کی علالت کے بعد 22جمادی الثانی 13؁ھ شب سہ شنبہ کوتریسٹھ سال کی عمرمیں اس دارِناپائیدار سے رحلت فرمائی۔(اناﷲ واناالیہ راجعون)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tariq Noman

Read More Articles by Tariq Noman: 69 Articles with 46427 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Mar, 2018 Views: 395

Comments

آپ کی رائے