موٹرسائیکل ہیلمیٹ .

(Shohaib Haneef, Karachi)

(یہ تحریر ان تمام لوگوں کے لیے لکھی ہے میں نے جو بائیک چلاتے ہیں
ہر وہ شخص جو بائیک چلاتا ہے اس تحریر کو ضرور پڑھے. شکریہ)

زبیر آج بیٹا آج ہیلمیٹ مت بھولنا."بیٹا جی ابو جان .اگر بھول بھی گیا تو کیا ہوگا میں تو روز ہی بھول جاتا ہوں .... باپ . "بیٹا جب بھی تم آفس کے لیے نیکلتے ہو مجھے تمہاری بہت فکر ہوتی ہے. باپ ".بیٹا زبیر ایک چوٹی سی حفاظت انسان کو کیسی بھی بڑھے حادثے سے بچا سکتی ہے..اور بیٹا تم تو ہمارے ایک ہی تو بیٹے ہو، اگر تمہیں کچھ ہوگیا تو ہمارا کیا ہوگا.. "بیٹا ابو جان آپ بالقل فکر نہیں کیا کریں. مجھے کچھ نہیں ہوگا ..میں چلتا ہوں ... خُدا حافظ ...زبیر یہ کہ کر آفس کے لیے نکل گیا ..بیٹے کے نکلتے ہی باپ نے دعا کی کے میرا بیٹا ساتھ خیریت کے جاۓ ..اور پھر خُود کسی کام میں لگ گیا ..بیٹا شام کو واپس آرہا تھا تو. بائیک کا چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہوا.اور بیٹے کو ہلکی سے چوٹ آئ.بیٹا شام گھر آتا ہے تو ماں باپ پریشان ہوجاتے ہیں.کہ کیا ہوا.کیوں کے زبیر کے ہاتھ پر پٹی بندھی ہوئی ہوتی ہے ...ماں باپ بہت پوچتھے ہیں. کے کیا ہوا ہے .. لیکن بیٹا یہی کہتا ہے ..کے امی ابو ایسی کوئی بات نہیں ہے.. معمولی سی چوٹ ہے ٹھیک ہو جائے گی ...باپ کہتا ہے. ٹھیک تو ہو جائے گی بیٹا لیکن ،مجھے یہ بات سوچ کر بھی ڈر لگ رہا ہے کہ تم نے آج پھر ہیلمیٹ نہیں پہنا تھا.. اور الله نہ کرے تمہارے سر پر کوئی چوٹ آجاتی تو کیا ہوتا ." زبیر بیٹا سر بہت حساس جگہ ہے میں تمہیں بار بار کہتا ہوں ہیلمیٹ کا استعمال کیا کرو تم میری بات مانتے ہی نہیں ہو، "بیٹا پھر بات کو سیریس نہیں لیتا ..اور کہتا ہے نہیں ابو جان امی جان کچھ نہیں ہوگا مجھے.. آپ فکر نہ کریں ..اور ابو مجھے ہیلمیٹ سے پتا نہیں کیوں چڑ ہے مجھ سے نہیں پہنا جاتا ...باپ بہت سمجھاتا ہے.. بیٹا باپ کی بات کو سیریس نہیں لیتا اور کھانا کھا کر سو جاتا ہے... اگلے دن بیٹا پھر آفس جانے کو تیار ہوتا ہے لیکن پھر ہیلمیٹ نہیں لیتا...باپ پھر بہت سمجھتا ہے بیٹا کل ہی تمہارے ساتھ حادثہ ہوا ہے.. آج تو پہن لو اسے... بیٹا پھر کہتا ہے ابو مجھے دیر ہو رہی ہے ...اچھا ٹھیک ہے میں پہن لونگا ..آپ پریشان نہ ہوں ابو جی.. اور پھر باپ چلا جاتا ہے ..باپ کے جاتے ہی بیٹا پھر ہیلمیٹ چھوڑ کر آفس کے لیے نکل جاتا ہے...باپ جب واپس آ تا ہے تو پھر سے دیکھ کر پریشان ہوتا ہے... کے آج پھر زبیر اپنا ہیلمیٹ گھر چھوڑ گیا .....اور پھر سے دعا کرتا ہے.. کے الله پاک میرے بیٹے کی حفاظت کرنا ..خیر وقت گزر جاتا ہے اور ماں باپ اپنے کام کاج میں لگ جاتے ہیں ...شام ہوتی ہے تو بیٹا آفس سے گھر کے لیے نکلتا ہے.آج زبیر کو دیر ہوجاتی ہے اور اس دیر کی وجہ سے رات ہوجاتی ہے .خیر ماں باپ گھر میں پریشان ہوتے ہیں کے آج دیر کیسے ہوگئی زبیر کو... اور کافی فکر مند بھی ہوتے ہیں ..خیر بیٹا آفس سے گھر کی لیے نکلتا ہے رات کا وقت ہوتا ہے سناٹا ہوتا ہے روڈیں خالی ہوتی ہیں .

بیٹا گھر کی طرف آرہا ہوتا ہے کے راستے میں آج پھر اس کا ایکسیڈنٹ ہوتا ہے. اور اس حادثے میں افسوس کے زبیر کا انتقال ہوجاتا ہے...

.حادثہ کچھ یوں ہوتا ہے ... زبیر اپنے آفس سے گھر کے لیے نکلتا ہے تو راستے میں اتنا رش نہیں ہوتا.. کیوں کے رات کا کافی وقت ہو چکا ہوتا ہے ...خیر بیٹا اپنے گھر کی طرف رواں دوں ہوتا ہے کہ گھر جلدی پوہنچ جاؤں راستہ خالی ہے.. اس لیے وہ بائیک تیز چلاتا ہے. خیر گھر سے کچھ ہی دوری پر زبیر کی بائیک کے سامنے "بلی آجاتی ہے اور زبیر بہت کنٹرل کرنے کی کوشیش کرتا ہے . لیکن کنٹرل نہیں کر پاتا کیوں کے بائیک بہت سپیڈ میں ہوتی ہے بائیک سلپ ہوجاتی ہے.. اور بائیک سیدھی جا کر فٹ پاتھ سے ٹکراتی ہے. اور زبیر کا سر اس فٹ پاتھ پر لگے ایک کھمبے سے اس شدت کا لگتا ہے کہ .. زبیر کی دماگ کی نس پھٹ جانے سے اس کی موت واقعہ ہو جاتی ہے...زبیر کی لاش کو گھر جب پونچایا جاتا ہے تو ماں باپ کی لاش کو دیکھ کر حالت خراب ہو جاتی ہے.اس لیے کے ایک ہی تو بیٹا تھا ان بوڑھے ماں باپ کا سہارا .ماں باپ بہت روتے ہیں...اور آخیر میں باپ کا روتے روتے یہ آخری جملہ ہوتا ہے . بیٹا اگر تو میری بات کو مان لیتا اور اس ہیلمیٹ کو معمولی نہیں سمجھتا ،تو آج شاید تو زندہ ہوتا ......

(کیسی بھی چیز کو معمولی نہیں سمجھنا چاہئیے ...اور خاص کر حفاظت سے تعلق رکھنے والی کسی بھی چیز کو ہلکا نہیں سمجھنا چاہئیے ... موت برحق ہے آنی ہی ہے ایک دن . لیکن ایک چھوٹی سی حفاظت آپ کو کسی بھی بڑھے حادثے سے بچا سکتی ہے . یہ تمام حفاظتی چیزیں اس لیے ہوتی ہیں کے خطرہ کم سے کم ہو...میں یہ بات ہرگز نہیں کہونگا. کے ان حفاظتی اقدامات سے انسان اپنی موت سے بچ جائےگا. نہیں ہرگز نہیں موت برحق ہے کچھ بھی ہوجاۓ آ کر ہی رہے گی. لیکن اگر حفاظت کی جاۓ تو کسی بھی حادثے کی اتنی شدت سے بچا جا سکتا ہے ..اگر یہا دیکھا جاۓ تو اس کہانی میں ویسے تو پوری کہانی اہم ہے لیکن میری اس کہانی میں ٢ اہم ترین باتیں ہیں .پہلی... ایک ماں باپ کی کسی بات کو اگنور نہیں کرو ماں باپ جو جانتے ہیں وہ ہم نہیں جانتے. ماں باپ جو کہتے ہیں اسے غور سے توجہ سے سنو ..دوسری اہم بات یہ ہے کے حفاظت سے تعلق رکھنے والی کسی بھی چیز کو چھوٹا نہ سمجھو ..اس کہانی سے مثال ملتی ہے .کہ حفاظت کتنی اہم ترین ہے . اگر زبیر ہیلمیٹ پہن لیتا تو اس کا ایکسیڈنٹ ہوتا ضرور کیوں کے بائیک بہت تیز چلا رہا تھا . لیکن وہ شاید جان سے نہ جاتا ....ہیلمیٹ پہنا کیجئے . آنکھیں انمول نعمت ہیں خُدا کی جس کی حفاظت بائیک پر بمشکل کچھ لوگ ہی کرتے ہونگے ...انسان کے جسم کا ہر حصہ خُدا کی نعمت ہے انمول ....جس کے پاس آنکھیں یا جسم کی کوئی دوسری نعمت نہیں ہے ان سے پوچھئیے اس کی قدر اور قیمت .ہیلمیٹ اس ڈرسے نا پہنیں کے کوئی ٹرافیک پولیس والا روکے گا نہیں....نہیں اس لیے پہنیں کے آپ کی خُود کی حفاظت ہوگی اس سے .زندگی ایک بار ملتی ہے اس کی قدر کیجئے .جو بھی حفاظت ہو سکے اپنی بھی کریں اور دوسروں کو بھی محفوظ رکھیں .الله پاک سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے امین
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shohaib haneef

Read More Articles by Shohaib haneef: 16 Articles with 20896 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Mar, 2018 Views: 997

Comments

آپ کی رائے