مجھے کیا برا تھا مرنا گر ایک بار ہوتا

(Ainee Niazi, Karachi)

روایات ہے کہ حضرت مو سیٰ ؑ نے ایک مر تبہ اﷲ تعا لیٰ سے سوال کر تے ہو ئے پو چھا ’’ یا با ری تعا لیٰ اگر کو ئی بندہ آپ سے دنیا کی سا ری نعمتوں میں سے صرف ایک کا انتخاب کر کے ما نگے تو کیا دعا کر نی چا ہیئے ،، اﷲ تعا لیٰ نے فر ما یا ’ صحت ، اس سے ظا ہر ہو تا ہے کہ دنیا میں سب سے قیمتی شئے تند رستی ہے اگر کسی کے پاس دنیا کی سا ری نعمتیں مو جود ہو ں مگر صحت نہ ہو تو سب چیزیں اس کے لئے بے کا ر ثا بت ہوں گی بیمار ہو نے پر ہمیں کو ئی چیز اچھی نہیں لگتی بے شک اس کی قدروقیمت کا اندازہ بیمار ہونے پر ہو تا ہے ہم سب چا ہتے ہیں کہ جلد از جلد ٹھیک ہو جا ئیں شفا یابی کے لئے ہم ڈاکٹروں کی بھاری فیسیں ادا کر تے ہیں لمبی لمبی قطاروں میں بے بسی سے بیٹھے اپنی با ری کا انتظار کر تے ہیں اسوقت ہم پورے طور پر ڈاکٹروں کے رحم وکرم پر ہو تے ہیں آپ کسی بھی پرا ئیوٹ ہا سپٹل میں چلے جا ئیں ہمارے مسیحا آپ کو کسی بلیک میلر سے کم نظر نہیں آئیں گے مہنگے ٹیسٹ، دوا ئیاں و انجکشن اور ہسپتال میں ایڈمٹ ہو نے پر لمبے چو ڑے خر چے سے آپ نہیں بچ سکتے اگر کسی طرح ان کے نر غے سے نکلنے کی کو شش کریں گے تو وہ صرف ایک جملے سے قا بو کر نے کا گر جانتے ہیں صا حب مر یض کی کنڈیشن ٹھیک نہیں ہے ہم نے تو بلکل ٹھیک تشخیص کی ہے آگے آپ کی مر ضی کل کو کچھ ہو گیا توہما ری ذمہ داری نہیں ہو گی بس جناب ! اب آپ کے پاس ہتیا ر ڈالنے کے علا وہ اور کو ئی چا رہ نہیں رہتاآپ بے چا رگی کے عالم میں اﷲ سے امید لگا ئے ان کی با ت مان لیتے ہیں اب یہ مریض کی قسمت ہے کہ تشخیص اور علاج اسے راس آجا ئے ورنہ اس کے لئے بھی ڈا کٹروں کے پاس مضبوط تو جیہات مو جو د ہو تی ہیں ہم نے توپوری کو شش کی مگر! جو اوپر والے کو منظور تھا ہم بے بس ہیں صبر کر یں۔

علی عباس کی کتاب روایت تمدن قدیم میں درج ہے کہ با بلی تہذیب میں جب کو ئی بیما ر ہو تا تو اس کے اقربا ء اسے لیجا کر شہر کے چوک پر لٹا دیتے رہگذر سے گزر نے والے لوگ مزاج پر سی کر تے انہی میں کو ئی ایسے بھی نکل آتے جوخود اس مر ض میں مبتلا رہ چکے ہو تے وہ مریض کی کیفیت بھا نپ جا تے چنا چہ وہ مر یض کو علاج بتا تے اور مر یض شفا یا ب ہو جا تا۔ایسا محسوس ہو تا ہے ہم آج بھی اسی تمد نی دور سے گز ر رہے ہیں خا ص کر ایک عام آدمی جس کے پاس اور کو ئی چا رہ نہیں کہ جب بیمار ہوتو کسی ہسپتال میں لا وا رثوں کی طر ح جمع ہو جا ئے عزیز و اقارب اس کی عیاد ت کو آئیں توسا تھ اپنا کو ئی ذا تی نسخہ بھی دے جا ئیں مر یض اس پر عمل کر کے اگر خوش قسمتی سے شفا یاب ہو جا ئے تو ٹھیک ور نہ کسی اور ٹو ٹکے کا انتظار کر ئے کیو نکہ آپ ہسپتال میں تو بس اﷲ توکل پر ٹھیک ہو تے ہیں کہ جس قسم کی تشخیص کا چلن اس وقت ہما رے ملک میں ہو رہا ہے اکثر ڈا کٹر مر یض کے تمام ٹیسٹ لینے کے بعد بھی ٹھیک سے مر ض ڈا ئیگنوس نہیں کر پا تے اور غلط سمت علاج اسٹارٹ کر دیتے ہیں اور بہت بعد میں معلو م ہوتا ہے کہ وہ مر ض تو آپ کو لا حق ہی نہیں تھا جس کی دوا ئیں آپ عر صے سے کھا رہے ہیں یہ ر جحان ہم سب کے لئے لمحہ فکر یہ ہے کہ جب آپ کو معلوم ہی نہیں مر ض کیا ہے تو بقول شا عر مر ض بڑھتا گیا جوں جوں دواکی وا لی کیفیت ہو گی اس کا تدارک ہو نا چا ہئے معا لجوں کو اپنی ذمہ دا ری کا احسا س کرنا بہت ضروری ہے اسقدر مہنگا ئی میں علاج و معالجہ کروانا ویسے بھی ہم جیسے غریب ملک کے شہریوں کے لئے کسی بار گراں سے کم نہیں اس وقت پا کستان کے تما م سر کا ری اور مقا می ہسپتالوں میں آنے والے مریض اس با ت کولے کرپریشان نظرآتے ہیں کہ ہم اپنے مر یضوں کو کہاں لے جا ئیں پرا ئیوٹ ہسپتالوں میں بھی طبی سہولتیں نا پید ہیں ڈا کٹرز ، دوائیاں اور مشینری سمیت تما م عملہ ہماری مدد اور رہنما ئی نہیں کر تاسر کا ری ہسپتالوں میں ادویات کی کمی ہو تی ہے یا پھر معیاد مدت ختم ہو چکی ہو تی ہے صفائی کا فقدان ہے وارڈز میں سخت تعفن ہو تا ہے آئے دن ہسپتالوں کی ہڑتا لیں عام سے با ت بن گئی ہیں کبھی نر سیں ،ڈا کٹرز اور کبھی پیرا میڈیکل اسٹاف اپنے مطالبات منوا نے کے لیئے کام بند کر کے بیٹھ جا تے ہیں اس با ت کا قطعی احساس نہیں ہوتا کہ اس سے آنے وا لے مریضوں اور ان کے رشتے داروں کو کس قدر مشکلات ہو تی ہیں یہ وہ بے بس ہو تے ہیں جن کے پاس پرا ئیوٹ اسپتالوں میں جانے کیااستطا عت نہیں ہو تی۔

افسوس کہ آزادی کے ان ستر سالوں میں ہم آج تک ایسا کو ئی سر کا ری ہسپتال یاپرا ئیوٹ ادارہ بھی نہیں بنا سکے جہاں عام آدمی تو کیا ہما رے وزرا اپنا علاج کر وا سکیں یا کم از کم اتنا بھرو سہ ہسپتالوں کی لیب پر ہی ہو کہ ٹھیک تشخیص کی گئی ہو گی یہ سارے وزراء ہمارے دیئے ہو ئے ٹیکس کی آمدنی سے با ہر کے ممالک کے ہسپتالوں میں اپنا اور اپنی فیملی کا علاج کر وانے جا تے ہیں اس وقت بھی بیگم کلثوم نواز با ہر علاج کے لئے ایڈمٹ ہیں ان کے کئی آپریشن ہو چکے مزید ہو نے با قی ہیں پوری قوم کی دعا ہے کہ وہ صحت یا ب ہو کر وا پس آئیں لیکن بات پھر وہیں رہ جا تی ہے اس ملک کے بیس کروڑ عوام کے علاج کی سہولتیں کہاں سے دستیاب ہوں گی ہمارے با با رحمتے جو وا قعی اشفاق احمد کے کردار کی تصویر بنے عوام میں آسانیاں با نٹے کی سعی کرتے نظر آتے ہیں ا نھوں نے بیک وقت کئی کر پشن محا ذ کھولے ہوئے ہیں ہسپتا لوں میں ان کی اچا نک آمد اور سو موٹو ایکشن سے جہاں ہسپتال کاعملہ پشیمان ہو تا ہے وہاں مر یض چیف صا حب کواپنا سچا مسیحا سمجھتے ہیں ا نکے بر وقت ایکشن سے ہی مسا ئل بہتر ہو تے دکھا ئی دینے لگتے ہیں آخر ایساکیوں ہے کہ ہر معا ملے میں چیف صا حب کے سو موٹوکاا نتظار کیا جا ئے کیوں حکو متی نما ئندوں کا فرا ئض بھی چیف جسٹس ادا کر تے نظر آتے ہیں انھوں نے متعدد بار کئی ہسپتالوں کو دورہ کیا وہاں موجود مر یضوں کی شکا یت وبد انتظامی پر بر ہم بھی ہو ئے ہسپتالوں میں ادویات کی عدم فراہمی،طبی آلات و مشینوں کی خرابی اور ڈا کٹروں کی لا پروائی پر سخت نا راضگی کا اظہار کیا یہ وہ کا م ہے جنھیں ووٹ سے الیکٹ ہو کرآنے وا لے نما ئندگا ن کے فرا ئض میں شامل ہو نا چا ہئے لیکن افسوس پا کستان کی تا ریخ میں کبھی ہسپتالوں کی صو رتحا ل درست نہیں رہی بے شک صحت دنیا کی سب سے بڑی دو لت ہے جسے جہاں بھر کے خزانے سے بھی بدلا نہیں جا سکتا لیکن ایک عام آدمی کے پا س نہ تو خزانہ ہے نہ ہی بینک بیلنس ہے اسے تو بیما ر ہو نے پر انہی دو اخا نوں سے شفا کی امید رکھنی ہے مگر صحت تودر کنار وہاں ایک پر سکون موت بھی میسر نہیں کیسی بے بسی ہے میرے ملک میں کہ بقول شاعرــؔؔؔؔ:ـ مجھے کیا برا تھا مرناگر ایک بار ہوتا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ainee Niazi

Read More Articles by Ainee Niazi: 150 Articles with 97937 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Mar, 2018 Views: 892

Comments

آپ کی رائے