پروین شاکر

(Haya Ghazal, Karachi)

متوسط گھرانے میں پلنے بڑھنے والی پروین شاکر خداداد صلاحیتوں کی مالک تھی.ذہانت خلوص و محبت کے ساتھ ایک گہری اداسی آنکھوں میں لیئے شروع سے ہی مطالعہ اور مشاہدے کی بہت شوقین تھی.وہ ایک چمک دار سیپی کی طرح تھی.جس میں سے گوہر نایاب نکلنے کو بیتاب تھا.گھر سے بہ مشکل اجازت ملنے پر وہ انٹر کرکے جیسے ہی یونیورسٹی پہنچی اس کے جوہر کھلنے لگے.بین الکلیاتی مشاعروں اور مقابلوں میں وہ چونکا دینے والی خوبصورت نظمیں پڑھتی اور اپنی بے حد دلکش شخصیت کی وجہ سے اور بھی دلعزیز ہوتی چلی گئ.اس میں خود اعتمادی پیدا ہوئ تو لوگوں سے بڑی امیدیں وابستہ کرلیں.پڑھے لکھے بظاہر دانشمند نظر آنے والے منافق لوگوں سے اس کا پالا پڑا تو کئ بار اس نے ٹوٹ کر روتے روتے موتی کی لڑی جیسے حسین اشعار بہت تیزی سے لکھے اور خوبصورت ہار پروئے.یہاں تک کہ خوشبو نے اسے نوعمری میں زبردست شہرت کی دہلیز پہ لاکھڑا کیا ایسے میں وہ کچھ رکی کچھ سنبھلی اور پھر اس نے صد برگ جیسی کتاب پیش کی جو سوچتی غزلوں سے بھری پڑی تھی.اور بہت جلد خود کلامی نے اسے ایک گہرائ عطا کی یہاں تک کہ وہ انکار جیسے باغیانہ اشعار تک آپہنچی.وہی لڑکی جو اپنی تعلیمی دور میں حلم و انکسار کا پیکر ہوا کرتی تھی. اپنی نجی زندگی اور دنیا کے نئے نئے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیئے اکیلی ڈٹی کھڑی تھی.جدوجہد کے ان دنوں میں بھی سی ایس ایس میں کامیابی کے باوجود حکومت وقت کی مزاحمت نے اسے فارن سروس میں یا کسی اہم شعبے میں جانے نہ دیا.لیکن شاید یہ اس کے فن کے لیئے اچھا ہوا. بقول خود پروین شاکر کے "میں شاعری سے کمٹمنٹ نہ کرتی تو شاید آج ایک بہترین مصورہ ہوتی"اور ایک جگہ تحریر کرتی ہیں کہ "میں نے اپنی زندگی پر سوائے اپنے کسی کی بالادستی تسلیم نہیں کی" ان کے خطوط کا مطالعہ کیا جائے تو ایک نئ پروین نظر آتی ہے اپنی زندگی اور ارادوں میں مخلص اور مستحکم اور مضبوط اس نے ماں ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے فنکار اور انسان ہونے کے حق سے دست بردار ہونے سے انکار کردیا.طنزیہ نظریں اور تنقید بھرے کاٹ دار جملے سہہ کے بھی اس نے سچائ کا دامن نہیں چھوڑا.وہ جب استاد بنی تو اپنے پیشے سے بھرپور انصاف کیا.اس نے ہمیشہ انگریزی ادب کے جدید رحجانات سے خود کو باخبر رکھا اور جب بنے بنائے رسمی تعلیمی ماحول نے اس کو دل برداشتہ کیا تب بھی حرف شکایت زبان پر نہ لائ.اس کی منزل شاید ستاروں سے بھی آگے تھی. لیکن موت کی رفتار زندگی سےبھی تیز نکلی اور اسے جالیا. یہاں تک کہ وہ خود بھی ایک ستارہ بن گئی-

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Haya Ghazal

Read More Articles by Haya Ghazal: 65 Articles with 58102 views »
I am freelancer poetess & witer on hamareweb. I work in Monthaliy International Magzin as a buti tips incharch.otherwise i write poetry on fb poerty p.. View More
01 Apr, 2018 Views: 487

Comments

آپ کی رائے