آئی ایم ناٹ ملالہ

(Arif Ramzan Jatoi, Karachi)

ملالہ پاکستان پہنچی، جذباتی انداز میں خطاب کیا، وطن سے دوری پر رونا بھی آیا سب کو آتا ہے اگرچے کچھ لوگوں نے اس کمال ڈرامے بازی قرار دیا مگر یہ سب ہوا۔ ملالہ سے دوری پر اداس رہنے والوں نے خوشی کا اظہار کیا اور ویلکم ملالہ کے نعرے لگائے۔ مگر کچھ لوگوں نے ملالہ کو قبول کرنے سے قطعی انکار کردیا۔ یہ بات بہت اہم تھی کہ پاکستان کا روشن چہرہ سمجھی جانے والی ملالہ کو ان لوگوں نے قبول کرنے سے انکار کیوں کیا۔ اس کے پیچھے دو وجوہات ہو سکتی ہیں، یا تو وہ پاگل اور ہلے ہوئے لوگ ہیں کہ انہیں ملالہ ہی نہیں بلکہ شرمین اور مختاراں جیسے روشن پاکستان کے چہرے خون اور گندگی کا دھبہ محسوس ہوتے ہیں یا پھر ان متنازع چہروں میں کچھ ایسا ہے کہ جس کی وجہ سے کچھ صاف ستھرے معاشرے کے لوگ انہیں قبول نہیں کر پارہے۔

بطور ایک نیشن ہر قوم کا اپنا ایک نظریہ ہے۔ اب کسی کا نظریہ ہے ’’کپڑے اتار کر جانوروں کی چال چلو‘‘ کہ زمانہ جانوروں کی طرح انہیں بھی بس محسوس کرے دیکھے نہیں ہے۔ کسی کا نظریہ ہے کہ جو چیز بھلی اور طاقت ور محسوس ہو اس کے سامنے لیٹ جاؤ اور اسی کو پوجو، اسی سی مانگو اور بس۔۔ یہ سب اپنے اپنے نظریات کی بات ہے۔ بطور پاکستانی یہاں کے عوام کا بھی یقینا ایک نظریہ ہے، وہ نظریہ اسلام ہے، شرم و حیا اور ایک دوسرے کی عزت و تکریم ہے۔

یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ تین نام ملالہ، شرمین اور مختاراں ملک کے وہ روشن چہرے ہیں جنہوں نے دنیا میں نام روشن کیا، تو پھر ان کی اتنی مخالفت کیوں کی جانے لگی؟ سوال کارآمد ہے کہ یقینا اس کی مخالفت کے بجائے تعریف ہونی چاہیے جو کہ کچھ افراد کر بھی رہے ہیں۔ مگر یہان پر اعتراضات کرنے والوں کا کہنا ہے کہ روشن چہرے ثابت ہوں تو ہی کوئی ان کی تعریف کرے۔ یہ تین یا اس قسم کے کچھ اور لوگ پاکستان کے روشن چہرے نہیں بلکہ بدنما چہرے ہیں۔ اس کی وجوہات بھی بیان کی گئی ہیں۔ گویا انہیں فراہم کیے جانے والے ایوارڈ کے پس پردہ کچھ اور معاملات ہوسکتے ہیں۔

اس قسم کے چہرے گھر کے بھیدی لنک ڈھائے کے مصداق ہوتے ہیں۔ یعنی اپنے مخالفین کو موقع دیا جائے کہ وہ ان بدنمائی پر اپنی دکان چمکائیں۔ برائی برائی ہے اس کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے۔ مگر اگر کسی کے چہرے پر گندگی لگی ہوتو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ دنیا کو دیکھایا جائے کہ یہ دیکھیں میں کتنا گندا ہوں۔ بلکہ اس کو صاف کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہاں پر سوال یہ ہے کہ کیا جو برائیاں وطن عزیز میں ہوئی ہیں کیا وہ دنیا کے کسی دوسرے ملک میں نہیں ہے۔ اگر حقائق دیکھے جائیں تو اس سے کہیں زیادہ شرح دیگر ممالک میں ملے گی۔

ایک لڑکی کے چہرے پر تیزاب پھینکا گیا،ظلم ہوا۔ اس ظلم کی آواز اٹھائی شرمین نے اور اس کی فلم بندی کی اور پوری دنیا میں اس کا تماشہ بنایا۔ اس کے بے نما چہرے کو مزید بدنام کر کے شرمین نے اپنی دکان تو خوب چکمائی مگر اس بیچاری کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔ ظالم نے ظلم کے نام پر ظلم کیا مگر شرمین نے مدد کے نام پر ظلم سے بڑا کام کردیا۔شرمین کی فلم دیکھ کر سب نے پاکستان پر تھو تھو کیا، کچھ نے خود شرمین کو بھی پاکستانی ہونے کا طعنہ دیا جس پر اس نے صرف اتنا کہا میری بدقسمتی ہے (سدافسوس)۔ فلم دیکھ کر سب نے یہ سوچا کہ کراچی کے کورنگی سے لے کر لاہور کے ماڈل ٹاؤن تک اور اسلام آباد کے زیرو پوائنٹ سے لے کر پشاور کے حیات آباد تک سب لڑکیوں کے چہرے پر تیزاب پھینکا جاتا ہے۔ اب اسے عالمی سطح پر شرمین عبید چنائے کا روشن چہرہ پیش کرنا کہا جائے یا بدنما فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔

ایک لڑکی جس کو ایک جاہل معاشرے اور گنواروں کی پنچائیت نے زیادتی کی سولی پر چڑھا دیا۔ اسے بھی بیرون ملک پذیرائی ملی تو یہ کہہ کر کہ بیچاری کے ساتھ پاکستان بھر نے زیادتی کی۔ ایسا لگا دنیا کو جیسے پاکستان کے سینیٹ سے لے کر قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی اور کونسلر تک سب ہی اسی پنچائیت کے فیصلے میں شامل تھے۔ زیادتی کا داغ لیے دنیا گھومنے والی مختاراں مائی کے متعلق اگر یہ کہا جائے کہ اس نے پاکستان کا روشن چہرہ پیش کا تو اس پر ماتم کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ آج وہیں مختاراں ہے کہ جس نے اپنی اجاداری قائم کی ہوئی اور نا ناجانے کتنے گھر اجاڑ چکی ہے اور ابھی یہ سلسلہ جاری ہے۔

تیسری ملالہ تھیں، گولی چلی اسے لگی، یہ گولی روز کہیں نا کہیں چلتی ہے۔ کبھی پاکستان میں ، کبھی افغانستان میں، بھارت میں بھی بہت چلتی ہے۔ کئی گیتائیں جان سے جاتی ہیں۔ زخمی ملالہ کو اعلاج ملا، مگر مکمل علاج کے بیرون ملک جانا پڑا۔ اسپتال میں جس نے بھی دیکھا پوچھا تو بتا یا گیاکہ دنیا کے ان سیو ترین ملک پاکستان میں معصوم بچیاں دہشت گردی کے نشانے پر ہیں۔وہاں پر معصوم طالبات کو گولیوں سے چھلنی کردیا جاتا ہے۔ کچھ پل کو پاکستان ایسا لگا جیسے دنیا میں وہ واحد ملک ہے جہاں بچیوں کو اسکول جانے پر گولیوں سے چھلنی کردیا جاتا ہے۔ ایسا محسوس ہوا کہ جیسے سب لوگ ہاتھ میں گنیں لے کر بچیوں کو مارتے پھر رہے ہیں۔ ایسا لگا ملالہ کو دیکھ کر دہشت گردی کا اصل موجد ہی پاکستان ہے۔یہ تھا وہ روشن چہرہ ملالہ یوسف زائی کا جسے آج ویلکم کیا گیا۔

میں نے پھر سوچا کہ آخرملالہ کو قبول نہ کرنے والے چاہتے کیا ہیں۔ کیا انہیں نہیں عزیز کہ کوئی ان کا اپنا بیرون ملک اچھے اچھے ایوارڈ لے۔ تو کہیں سے کسی نے جواب دیا کہ ملالہ اور شرمین کو قبول نہ کرنے والوں کو شاید اب بھی لگتا ہے کہ وہ ریپیسٹ سوسائٹی کے باسی نہیں بلکہ مہذب معاشرے کے شہری ہیں۔ وہ بتانا چاہتے ہیں کہ ان کا تیزاب پھینکنے والوں سے کوئی تعلق نہیں یہ صرف بدنامی کا دھبہ ہے۔ وہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ وہ دہشت گرد نہیں بلکہ بچیوں کو اسکول خود جاکر چھوڑ آتے ہیں۔ بس یہ پاگل پن ہے ان کا کہ وہ ایک اچھے معاشرے کے اچھے شہری ہیں اور اس پر لگے داغ کو برداشت نہیں کر پارہے۔ شاید ان کا نظریہ بھی انہیں اس کی اجازت نہیں دیتا۔

میں نے پھر سے احتجاج کیا کہ پاکستان کے حکمرانوں نے ویلکم کیا۔ کچھ تو ہے ایسا پھر بھی ملالہ کو قبول نہیں کررہے تو وہیں آواز پھر سنائی دی۔ اب کوئی برا کہے یا پاکستان کے روشن چہرے کو مسخ کرنے کے مترادف قرار دے کیا فرق پڑتا ہے جن کے ضمیر بک چکے ہوں ان کے الفاظ یا سوچ سے کچھ نہیں ہوتا۔ کچھ پل کو سوچو کہ اگر کسی کو ایوارڈ دینے کا اتنا ہی شوق تھا تو انہیں ارفہ کریم رندھاوا کیوں نظر نہیں آئی، مریم مختار کا کارنامہ ہی دکھ جاتا۔ بات صرف اتنی ہے کہ جہاں ملکی سلامتی اور عزت کی بات ہوگی وہاں ایوارڈ دینے کی ضرورت ہی نہیں۔ یہ ایوارڈ تو صرف اسلام اور مسلم مخالفت کا۔ پاکستانیت کی بدنامی کا۔ جو جس قدر بدنام کرے گا اسے اتنا ہی اچھا ایوارڈ ملے گا۔ اب چاہیے وہ ملالہ ہو یا پھر کوئی اور۔۔۔۔

پرائیویٹ اسکولز والوں کو بھی شاید لگتا ہے کہ ملالہ ملک کا چہرہ مسخ کررہی ہے۔ بدنام کررہی ہے۔ انہیں شاید یہ نہیں پسند کہ کوئی ان کے ملک پر انگلی اٹھائے یا بدنامی کا سبب بنے۔ قبل اس کے میں لب کشائی کرتا کوئی بول پڑا۔۔۔ زیادہ حمایتی بننے کی ضرورت نہیں ہے آپ اعداد و شمار اٹھا کر دیکھ لیں پاکستان سے زیادی یورپی ممالک کے اسکولز میں بچیاں اور بچے گولیوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ کوئی ان پر نہیں بولے گا کیونکہ انہیں تو مہذب معاشرہ قرار دیا جا چکا ہے۔

معزز قارئین! میری ہمیشہ ایک کمزوری رہی ہے کہ مجھے اس قدر مشکل باتیں سمجھ ہی نہیں آتیں۔ کچھ دماغ لگا کر سوچا تو اتنا سمجھ آیا کہ یوریپن ممالک میں کتنی ہی ملالائیں رل رہی ہیں ان کے بارے میں سوچنے کے بجائے ہماری ملالہ پر یہ سب اس قدر مہربان ہیں تو کیوں ۔۔ مجھے نہیں سمجھ آرہا سوال آپ پر چھوڑے جارہا ہوں ۔ جواب آپ خود ہی ڈھونڈ لیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Arif Ramzan Jatoi

Read More Articles by Arif Ramzan Jatoi: 79 Articles with 45314 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Apr, 2018 Views: 295

Comments

آپ کی رائے